المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ سعيد بن جبير عن ابن عباس · حديث 12409
12382 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا جمهور بن منصور ثنا عمرو بن عبد الغفار ثنا الأعمش ثنا حسان أبو الأشرس عن سعيد بن جبير عن ابن عباس في قوله Y { إنا أنزلناه في ليلة القدر } قال : أنزل القرآن جملة واحدة حتى وضع في بيت العزة في السماء الدنيا ونزله جبريل عليه السلام على محمد صلى الله عليه و سلم بجواب كلام العباد وأعمالهم
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انصاریوں نے آپس میں بات کی کہ اگر ہو سکے تو ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے مال جمع کریں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ کھلا ہو جائے ‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور اس مال کے درمیان کوئی آدمی حائل نہ ہو۔ پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہمارا ارادہ ہے کہ ہم آپ کیلئے اپنے مالوں میں سے کچھ نہ کچھ لا کر جمع کر دیں ‘تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’ فرما دیجئے ! میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا مگر قریبی رشتہ داروں کی محبت ‘‘۔ پس وہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے )پاس سے نکلے اس حال میں کہ ان کے نظریات ایک دوسرے سے جدا تھے۔ پس ان میں سے بعض نے کہا: کیا تم نے غور نہیں کیا اس کی طرف جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؟ اور ان میں سے بعض نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات صرف اس لیے فرمائی ہے کہ ان کی اہل بیت کیلئے ہم جنگ کریں اور ان کی مدد کریں ‘تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’ کیا کافر یہ کہتے ہیں کہ نبی عربی نے اللہ پر جھوٹا بہتان باندھا ہے‘‘۔ اللہ کے اس فرمان تک ’’ اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے‘‘۔ پس ان کیلئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بہ کو پیش فرمایا ‘اللہ کے اس فرمان تک ’’ اور ان لوگوں کی دعا ( توبہ ) قبول کرتا ہے ‘جو ایمان لائے اور اُنہوں نے نیک عمل کیے اور اپنے فضل سے انہیں زیادہ انعام دیتا ہے ‘‘یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے یہ کہا کہ تم اللہ سے توبہ کرو۔
أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ} ← ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حسان أبو الأشرس ← الْاَعْمَشِ ← عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ، ← جُمْهُورُ بْنُ مَنْصُورٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12409
