Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ شهر بن حوشب عن ابن عباس ] · حديث 13045

13015 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا عمرو بن عثمان ثنا بقية بن الوليد حدثني عتبة بن أبي حكيم حدثني شهر بن حوشب عن ابن عباس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( من شرب الخمر كاعن نجسا أربعين يوما فإن تاب منها تاب الله عليه فإن عاد عاد نجسا فإن تاب تاب الله عليه فإن عاد عاد نجسا أربعين يوما فإن تاب الله منها تاب الله عليه فإن رجع منها كان حقا على الله أن يسقيه من ردغة الخبال ) قالوا : يا أبا العباس وما ردغة الخبال ؟ قال : شحوم أهل النار وصديدهم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ چیزوں کا حکم دیا اور دس چیزوں سے منع کیا: سر کی مانگ نکالنے ‘مسواک کرنے ‘مونچھیں چھوٹی کروانے ‘ناک میں پانی ڈالنے اور کُلّی کرنے کا حکم دیا اور کسی عورت سے نکاح کرنے کے بعد اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ‘دو عورتوں کو ایک کپڑے (نکاح) میں جمع کرنے ‘نکاح شغار ‘کتے کی خرید و فروخت ‘لونڈی کی کمائی سے ‘حجام کی کمائی سے ‘درندوں کی کھالوں ‘ہر قسم کا ریشم استعمال کرنے اور نر کی باری کا بدلہ لینے سے منع کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عتبة بن أبي حكيم ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13045

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ شهر بن حوشب عن ابن عباس ] · حديث 13046

13016 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا محمد بن طريف ثنا القاسم بن مالك عن حنظلة بن أبي سفيان عن شهر بن حوشب عن ابن عباس Y قال : صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ركعتين قرأ فيهما بأم الكتاب لم يزد عليهما شيئا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر بال منڈوانا ضروری نہیں بلکہ وہ بالوں کو قصر کر لیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ← الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13046

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ مسلم بن المحرز عن ابن عباس ] · حديث 13047

13017 - حدثنا أبو زيد الحوطي ثنا أبو اليمان ثنا إسماعيل بن عياش عن ثعلبة بن مسلم الخثعمي عن مسلم بن أبي المحرز عن ابن عباس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم أمر بخمس ونهى عن عشر أمر بفرق الرأس والسواك وقص الشارب والاستنشاق والمضمضة ونهى أن تنكح المرأة على عمتها أو خالتها أو أن يجتمع امرأتان في ثوب واحد وعن الشغار وعن بيع الكلب ومهر البغي وكسب الحجام وجلود السباع ولبس القسي وعن عسب الفحل

حضرت اُم فضل اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے ‘وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ایک رات اُٹھے اور کہا : اے اللہ ! کیا میں نے ( تیرا پیغام )پہنچا دیا ! تین بار کہا ‘پس حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ‘پس آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جی ہاں! پس آپ بہت حریص (ہمارے نفع کے ) ہوئے ‘بہت کوشش کی اور خالص اللہ کی رضا کیلئے کام کیا ‘پس آپ (ایمان والوں کیلئے ) زیادہ حریص ہوئے ‘کوشش کی اور خالص اللہ کی رضا پیش نظر رکھی ‘پس یہ حال ہو گیا ہے کہ ( عرض کی : ) ایمان ‘غالب ہوا یہاں تک کہ کفر اپنے وطن کی طرف لوٹ گیا ‘اسلام کے ساتھ سمندر موجیں مار رہے ہیں ‘لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا جس میں لوگ ‘قرآن کی تعلیم حاصل کریں گے ‘اس کے بعد لوگوں کو سکھائیں گے اور پڑھیں ( پڑھائیں) گے پھر اپنے منہ سے بول کر کہیں گے: تحقیق ہم نے قرآن پڑھا اور (لوگوں کو ) سکھایا ‘پس کون ہے جو تم سے بہتر ہے؟ پس ( تم بتاؤ ! ) ان لوگوں میں کوئی بہتری ہے؟ صحابہ نے عرض کی نہیں ! اے اللہ کے رسول ! وہ کون ہیں؟ فرمایا: وہ تم میں سے ہیں اور وہی دوزخ کا ایندھن ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مسلم بن أبي المحرز ← ثعلبة بن مسلم الخثعمي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← أَبُو زَيْدٍ الْحَوْطِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13047

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أم عثمان عن ابن عباس ] · حديث 13048

13018 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا مسلم بن سلام ثنا أبو بكر بن عياش عن يعقوب بن عطاء عن صفية بنت شيبة عن أم عثمان عن ابن عباس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( ليس على النساء حلق إنما على النساء التقصير )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرماتے ہیں: ”وہ لوگ آپ سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ‘آپ فرما دیجئے ! اُن کیلئے اصلاح کا کام ہی بہتر ہے“۔ اور یہ فرمان اس آیت سے پہلے نازل ہوا: ”بے شک وہ لوگ جو یتیموں کے مالوں کو ظلم کرتے ہوئے کھاتے ہیں ‘بے شک وہ اپنے پیٹوں میں آگ ڈالتے (کھاتے ) ہیں اور بھڑکتی آگ میں ڈالے جائیں گے ‘‘۔ مسلمانوں نے یتیموں کے ساتھ مل جل کر کھانے کو نا پسند کیا اور ان کو کسی شی میں خلط مل کرنے میں حرج سمجھا ‘پس اُنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو اللہ نے یہ آیت فرمائی : ’’ تم فرما دو کہ ان کیلئے (ان کے مالوں میں تجارت کے ذریعے ) بھلا کر بہتر ہے اور اگر تم ان (کے خرچ ) کو اپنے (خرچ کے )ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے (دینی) بھائی ہیں اور اس بھلائی ( کا دعویٰ کرنے )والوں میں فساد ( کی نیت ) والوں کو (خوب) جانتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو ( ملانے کی اجازت نہ دے کر ) تمہیں مشقت میں ڈال دیتا“۔ فرماتا ہے: تم پر تنگی کر دیتا لیکن اُس نے وسعت دی اور آسانی پیدا فرمائی۔ اور فرمایا: ’’ اور جو شخص ضرورت مند نہ ہو تو اُسے (ان کے مال سے ) بچنا چاہیے اور جو ضرورت مند ہو تو وہ ضرورت کی حد تک ہی کھائے ‘‘۔ فرماتے ہیں: ضرورت مند کھائے جب یتیم کے مال کا والی بنے ‘صرف اتنی مقدار جتنی اس کے مال کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے نفع کا خیال رکھتا ہے جب تک اسراف نہ ہو۔

ليس على النساء حلق إنما على النساء التقصير ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أُمِّ عُثْمَانَ ← صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ← يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13048

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ هند بنت الحارث الخثعمية عن ابن عباس ] · حديث 13049

13019 - حدثنا محمد بن نصر الصائغ ثنا إبراهيم بن حمزة الزبيري ثنا عبد العزيز ثنا بن أبي حازم عن يزيد بن عبد الله بن الهاد حدثتني هند بنت الحارث الخثعمية امرأة عبد الله بن شداد عن أم الفضل و عبد الله بن عباس Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قام ليلة مكة من الليل فقال : ( اللهم هل بلغت ؟ ) ثلاث مرار فقام عمر بن الخطاب وكان أواها فقال : اللهم نعم فحرصت وجهدت ونصحت اللهم نعم فحرصت وجهدت ونصحت فأصبح فقال : ( ليظهرن الأيمان حتى يرد الكفر إلى مواطنه وليخاض البحار بالاسلام وليأتين على الناس زمان يتعلمون فيه القرآن فيعلمونه ويقرؤونه ثم يقولون قد قرأنا وعلمنا فمن ذا الذي هوخير منا ؟ فهل في أولئك من خير ؟ ) قالوا : لا يا رسول الله ومن أولئك ؟ قال : ( أولئك منكم وأولئك هم وقود النار )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے : ” اور جب آپ ان میں موجود ہوں تو اُن کو نماز آپ ہی پڑھا ئیں ‘تو چاہیے کہ ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہو‘‘۔ پس یہ خوف کے وقت پڑھی جانے والی نماز ہے ‘امام کھڑا ہوتا ہے ‘لوگوں میں سے ایک گروہ امام کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے جبکہ دوسرا گروہ اسلحہ لے کر دشمن کے سامنے کھڑا ہوتا ہے ‘پس ان کو امام ایک رکعت پڑھاتا ہے پھر اپنی حالت پر بیٹھ جاتا ہے۔ پس وہ لوگ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنی دوسری رکعت خود پڑھتے ہیں جبکہ امام بیٹھا ہوتا ہے ‘پھر وہ لوٹ جاتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کے پاس آکر ان کی جگہ کھڑے ہو جاتے ہیں پھر دوسرے آتے ہیں تو امام ان کو دوسری رکعت پڑھاتا ہے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اسی طرح وادیٔ نخلہ کے دن نماز پڑھائی تھی۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13049

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ علي بن أبي طلحة عن ابن عباس ] · حديث 13050

13020 - حدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن صالح ثنا معاوية بن صالح عن علي بن طلحة Y عن ابن عباس في قوله { يسألونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير } وذلك قبل أن ينزل { إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما إنما يأكلون في بطونهم نارا وسيصلون سعيرا } كره المسلمون مؤاكلة اليتامى وتحرجوا إن خالطوهم في شيء فسألوا رسول الله صلى الله عليه و سلم فأنزل الله عز و جل { قل إصلاح لهم خير وإن تخالطوهم فإخوانكم والله يعلم المفسد من المصلح ولو شاء الله لأعنتكم } يقول لضيق عليكم ولكنه وسع ويسر فقال { من كان غنيا فليستعفف ومن كان فقيرا فليأكل بالمعروف } يقول : يأكل الفقير إذا ولي مال اليتيم بقدر قيامه على ماله ومنفعته مالم يسرف

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ عزوجل کے ارشاد: ’’ تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو کی تفسیر کرتے ہیں کہ تم پر کوئی حرج نہیں ہے خریدنے اور فروخت کرنے میں ‘احرام سے پہلے اور بعد میں ‘بہر حال احرام میں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کرنے اور کروانے سے منع کیا ‘یا قربانی کرنے کے بعد تک احرام نہ کھولا جائے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ ← علي بن طلحة، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13050

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ علي بن أبي طلحة عن ابن عباس ] · حديث 13051

13021 - حدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن صالح حدثني معاوية ابن صالح عن علي بن أبي طلحة Y عن ابن عباس في قوله { وإذا كنت فيهم فأقمت لهم الصلاة فلتقم طائفة منهم معك } فهذا الصلاة عند الخوف يقوم الأمام ويقوم معه طائفة معهم وطائفة يأخذون أسلحتهم ويقفون بأزاء العدو فيصلي الأمام بمن معه ركعة ثم يجلس على هيأته فيقومون فيصلون لأنفسهم الركعة الثانية والأمام جالس ثم ينصرفون حتى يأتوا أصحابهم فيقفون موقفهم ثم يقبل الآخرون فيصلي لهم الأمام الركعة الثانية فهكذا صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بالناس يوم بطن نخلة

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں مروی ہے : ’’ (یعنی) ان لوگوں کو (جنت دے) جو بڑے گناہوں (جن کی دنیا یا آخرت میں سزا بتائی گئی ) سے اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں‘‘۔ فرمایا: سب سے بڑا گناہ ‘اللہ کے ساتھ شرک ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا: ’’ جو اللہ کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھہرائے تو یقیناً اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ‘‘۔ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا۔ اللہ نے فرمایا: ’’ اللہ کی رحمت سے نا اُمید نہ ہونا بے شک حال یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے کافر لوگ ہی نا اُمید ہوتے ہیں ‘‘اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہونا ( پیچھے رہنا) ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ اللہ کی خفیہ تدبیر سے صرف خسارے والے ہی بے خوف ہوتے ہیں‘‘۔ ان میں سے ایک والدین کی نافرمانی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کو جبر کرنے والا بد بخت قرار دیا ہے۔ جان کو قتل کرنا جو اللہ نے حرام فرمایا ہے مگر حق کے ساتھ کیونکہ اللہ نے فرمایا:’’ اس کا بدلہ جہنم ہے ‘‘آیت مکمل۔ پاکدامنوں پر تہمت لگانا کیونکہ اللہ نے فرمایا: ’’ دنیا اور آخرت میں ان پر (اللہ کی طرف سے) لعنت کر دی گئی اور ان کیلئے بڑا عذاب (تیار) ہے‘‘۔ یتیم کا مال کھانا ‘کیونکہ اللہ فرماتا ہے: ’’ وہ اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھرتے ہیں اور وہ عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے ‘‘۔ لشکر میں سے بھاگ نکلنا کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے: ” اور جو شخص اس دن (میدان جنگ میں) ان ( کافروں) کو پیٹھ دے گا ‘اس شخص کے ساتھ جو لڑائی کی چال چلنے والا ہو ( کہ پلٹ کر حملہ کرے گا ) یا وہ اپنی جماعت میں جا شامل ہونے والا ہو (ان کے سوا جو بھی کافروں کو پیٹھ دے گا) تو بے شک وہ اللہ کے غضب میں پلٹا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ کیا ہی بُرا ٹھکانہ ہے ‘‘۔ سود کھانا ‘کیونکہ اللہ فرماتا ہے: ’’ جو لوگ سود کھاتے ہیں ‘(قیامت کے دن ) ایسے ہی کھڑے ہوں گے جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان (آسیب) نے چھو کر پاگل بنادیا ہو‘‘۔ جادو ‘کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور بے شک اُنہوں نے جان لیا کہ بے شک جس نے اس (جادو ) کو خریدا ‘( یعنی سیکھا اور اس پر عمل کیا ) اس کیلئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور یقیناً وہ (جادو) کس قدر بُری چیز ہے۔ زنا ‘کیونکہ اللہ فرماتا ہے: ’’ وہ (اپنے) گناہ ( کی سزا ) سے جا ملے گا“۔ ”قیامت کے دن اس کیلئے عذاب دو گنا کیا جائے گا اور وہ عذاب میں ہمیشہ ذلت سے پڑا رہے گا‘‘۔ یمین غموس ‘کیونکہ اللہ فرماتا ہے: ’’ بے شک (اہلِ کتاب )کتاب میں سے جو لوگ (آخری نبی پر ایمان لانے کے بارے میں اپنے پیغمبروں کے ذریعے کیے گئے )اللہ کے عہد اور اپنی (جھوٹی) قسموں کے بدلے (دنیا کی )حقیر قیمت لیتے ہیں آیت مکمل۔ خیانت کرنا ‘کیونکہ اللہ فرماتا ہے : ” اور جو خیانت کریں ‘وہ قیامت کے دن ‘اس چیز کو (اپنی گردن پر اُٹھا کر ) لے آئے گا۔ فرض زکوٰۃ نہ دینا ‘کیونکہ اللہ فرماتا ہے : ” پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں (سب) داغے جائیں گے ‘‘۔ جھوٹی گواہی دینا ‘کیونکہ اللہ فرماتا ہے : ” اور جو گواہی چھپائے گا تو بے شک اس کا دل گناہ گار ہے‘‘۔ شراب پینا ‘کیونکہ اللہ نے ان کے بدلے بتوں کو پھیر دیا ‘جان بوجھ کر نماز چھوڑ دینا یا وہ چیز چھوڑنا جسے اللہ نے فرض فرمایا ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جس نے جان بوجھ کر چھوڑا ‘ اس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ بَری ہو گیا ‘معاہدہ توڑنا اور قریبی رشتہ داروں سے بائیکاٹ کرنا۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← معاوية ابن صالح ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13051

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ علي بن أبي طلحة عن ابن عباس ] · حديث 13052

13022 - حدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن صالح حدثني معاوية ابن صالح عن علي بن أبي طلحة Y عن ابن عباس في قوله { ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم } فهو لا حرج عليكم في الشري والبيع قبل الاحرام وبعده فأما الاحرام فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى أن يتزوج أو يزوج أن ينحر حتى يفرغ من إحرامه

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مُردوں کو تلقین کرو کلمۂ شہادت کی کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ‘پس جس آدمی نے اپنی موت کے وقت یہ کلمہ پڑھ لیا ‘اُس کیلئے جنت واجب ہو گئی۔ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! پس جس نے تندرستی کی حالت میں یہ کلمہ پڑھا ( اُس کے لیے کیا ہے)؟ فرمایا: وہی واجب ہوگی اور وہی (جنت ہی) واجب ہوگی۔ پھر فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر تمام آسمانوں اور زمینوں کو لایا جائے ‘جو کچھ ان میں ہے جو ان کے درمیان ہے اور جوان کے نیچے ہے ‘اس کو (لاکر ) میزان کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور دوسرے پلڑے میں کلمۂ شہادت (کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں .... )تو یہ پلڑا بھاری ہوگا۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← معاوية ابن صالح ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13052

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ علي بن أبي طلحة عن ابن عباس ] · حديث 13053

13023 - حدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن صالح حدثني معاوية ابن صالح عن علي بن طلحة Y عن ابن عباس في وقوله { والذين يجتنبون كبائر الإثم والفواحش } قال : أكبر الكبائر الأشراك بالله لأن الله قال ( ومن يشرك بالله فقد حرم الله عليه الجنة ) واليأس من روح الله قال الله ( ولاييأس من روح الله إلا القوم الكافرون ) والأمن لمكر الله لأن الله عز و جل يقول { فلا يأمن مكر الله إلا القوم الخاسرون } ومنها عقوق الوالدين لأن الله عز و جل جعل العاق جبارا شقيا وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق لأن الله تبارك وتعالى يقول { فجزاؤه جهنم } الآية وقذف المحصنات لأن الله جل ذكره يقول ( لعنوا في الدنيا والآخرة ولهم عذاب عظيم ) وأكل مال التيم لأن الله عز و جل يقول { إنما يأكلون في بطونهم نارا وسيصلون سعيرا } والفرار من الزحف لأن الله تعالى يقول { ومن يولهم يومئذ دبره إلا متحرفا لقتال أو متحيزا إلى فئة فقد باء بغضب من الله ومأواه جهنم وبئس المصير } وأكل الربا لأن الله يقول { الذين يأكلون الربا لا يقومون إلا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس } والسحر لأن الله تعالى يقول ( ولقد علموا لمن اشتراه ماله في الآخرة من خلاق ) والزنى لأن الله يقول { يلق أثاما * يضاعف له العذاب يوم القيامة ويخلد فيه مهانا } واليمين الغموس الفاجرة لأن الله يقول { إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا } الآية والغلول لأن الله تعالى يقول { ومن يغلل يأت بما غل يوم القيامة } ومنع الزكاة المفروضة لأن الله تعالى قال { فتكوى بها جباههم وجنوبهم وظهورهم } وشهادة الزور لأن الله تعالى قال { ومن يكتمها فإنه آثم قلبه } وشرب الخمر لأن الله عز و جل عدل بها الأوثان وترك الصلاة متعمدا أو شيئا مما فرض الله لأن الرسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( من ترك الصلاة متعمدا فقد برئت منه ذمة الله وذمة رسوله ) ونقض العهد وقطيعة الرحم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: ’’ پس ان میں سے کچھ بدبخت اور کچھ خوش بخت ہیں ‘‘اور قرآن کی اس جیسی دیگر آیاتِ قرآنی کے حوالے سے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس بات کے حریص تھے کہ تمام لوگ ایمان لائیں اور راہِ ہدایت پر چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ ایمان صرف وہی لائے گا ‘اوّل ذکر میں جس کے حصے میں پہلے خوش بختی لکھی ہے اور گمراہی کی راہ ‘وہی اختیار کرے گا جس کے بارے میں اوّل ذکر میں بدبختی پہلے لکھی ہوئی ہے۔ پھر اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: (اے حبیب!) شاید تم اپنی جان ہلاک کر دو گے کہ وہ ( کافر لوگ ) اگر مؤمن نہ بنیں۔ اللہ فرماتا ہے: ”اگر ہم چاہیں تو اُن پر آسمان سے ایک نشانی اُتاریں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں‘‘۔

ابن عباس في وقوله ← علي بن طلحة، ← معاوية ابن صالح ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13053

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ علي بن أبي طلحة عن ابن عباس ] · حديث 13054

13024 - حدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن صالح حدثني معاوية ابن صالح عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس Y قال قال صلى الله عليه و سلم : ( لقنوا موتاكم شهادة أن لا إله إلا الله فمن قالها عند موته وجبت له الجنة قالوا : يارسول الله فمن قالها في صحة قال : ( تلك أوجب وأوجب ) ثم قال : ( والذي نفسي بيده لو جيء بالسماوات والأرضين ومن فيهن وما بينهن وما تحتهن فوضعت في كفة الميزان ووضعت شهادة أن لا إله إلا الله في الكفة الأخرى لرجحت بهن )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ عزوجل کے ارشاد: ’’ آپ فرما ئیں! میں تم سے اس پر کوئی اُجرت نہیں مانگتا سوائے اپنے قریبیوں کی مؤدت کے ‘‘۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی سارے قریش والے تھے ‘جب اُنہوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کی اتباع کرنے سے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قوم! تم بتاؤ کہ جب تم میری اتباع کرنے سے انکار کرو تو تم میرے قریبیوں کی حفاظت کرنا ‘عرب میں تمہارے علاوہ میری زیادہ حفاظت اور مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے تم سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← معاوية ابن صالح ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13054

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ علي بن أبي طلحة عن ابن عباس ] · حديث 13055

13025 - حدثنا بكر ثنا عبد الله ثنا معاوية عن علي بن أبي طلحة Y عن ابن عباس { فمنهم شقي وسعيد } ونحو هذا من القرآن قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يحرص أن يؤمن جميع الناس ويتابعوه على الهدى فأخبره الله أنه لايؤمن إلا من سبق له من السعادة في الذكر الأول ولا يضل إلا من سبق له من الشقاء في الذكر الأول ثم قال عز و جل لنبيه صلى الله عليه و سلم { لعلك باخع نفسك أن لا يكونوا مؤمنين } يقول { إن نشأ ننزل عليهم من السماء آية فظلت أعناقهم لها خاضعين }

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے : ” وہ ایسے لوگ ہیں جب ان کو کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ کیلئے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ‘انہیں لوگوں پر ان کے رب کی طرف سے درود اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں‘‘۔ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا کہ مؤمن ‘جب اللہ کے امر کو تسلیم کر لے اور رجوع کرے تو مصیبت کے وقت پڑھے : ’’ انا للّٰه و انا اليه راجعون“ تو اللہ بھلائی کی تین خوبیاں لکھتا ہے: (۱) درود (۲) رحمت (۳) ہدایت کے راستے پر ثابت کر دینا۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مصیبت کے وقت’’ انا للّٰه و انا اليه راجعون ‘‘پڑھا تو اللہ تعالیٰ اس کے نقصان کو پورا کر دیتا ہے اور اس کا انجام اچھا کر دیتا ہے اور اس کا نیک خلف بناتا ہے ‘جس سے وہ راضی ہوتا ہے۔

ابن عباس فمنهم شقي وسعيد ونحو هذا من القرآن ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← بَكْرٌ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13055

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ علي بن أبي طلحة عن ابن عباس ] · حديث 13056

13026 - حدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن صالح حدثني معاوية ابن صالح عن علي بن أبي طلحة Y عن ابن عباس { قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى } قال : كان لرسول الله صلى الله عليه و سلم قرابة في جميع قريش فلما كذبوه فأبوا أن يتابعوه قال : ( ياقوم أرأيتم [ إذا أبيتم ] أن تتابعوني فاحفظوا قرابتي فيكم ولايكون غيركم من العرب أولى بحفظي ونصرتي عنكم )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے مروی ہے : ” تاکہ وہ اپنے ایمانوں کے ساتھ از روئے ایمان زیادہ ہوں‘‘۔ فرمایا: بے شک اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی گواہی کے ساتھ مبعوث فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ‘پس جب ان لوگوں نے تصدیق کی تو ان کے لیے حج کا اضافہ فرمایا ‘جب اس کی تصدیق کی تو ان کیلئے جہاد زیادہ کیا ‘پھر آہستہ آہستہ ان کے دین کو مکمل فرمایا ‘تو فرمایا: ’’ آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کی‘‘۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پس اللہ نے آسمانوں اور زمینوں والوں کا ایمان پکا کیا اور اس کو سچا کیا اور اس کی تکمیل کی ‘اس بات کی گواہی نے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← معاوية ابن صالح ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13056

chevron_left Previous
1…606162…114
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter