Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ يزيد بن الاصم عن ابن عباس ] · حديث 13033

13003 - حدثنا محمد بن عبدوس بن كامل ثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأموي ثنا أبي ثنا سفيان الثوري عن أبي فزارة عن يزيد بن الأصم عن ابن عباس Y قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لم أومر بتشييد المساجد ) ولم يذكر ليثا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : جو اللہ چاہے جو آپ چاہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تُو نے اللہ کے مقابلہ میں ٹھہرایا ‘بلکہ تُو کہہ : جو اکیلا اللہ چاہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← أَبِي فَزَارَةَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدُوسَ بْنِ كَامِلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13033

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ يزيد بن الاصم عن ابن عباس ] · حديث 13034

13004 - حدثنا أحمد بن يحيى الحلواني ثنا سعيد بن سليمان عن أبي شهاب الحناط عن ليث عن أبي فزارة عن يزيد بن الأصم عن ابن عباس Y قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ثلاث من لم يكن فيه واحدة منهن فإن الله يغفر له ماسوى ذلك لمن يشاء من مات لايشرك بالله شيئا ولم يكن ساحرا يتبع السحرة ولم يحقد على أخيه )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : جو اللہ چاہے جو آپ چاہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تُو نے اللہ کے مقابلہ میں ٹھہرایا ‘بلکہ تُو کہ: جو اکیلا اللہ چاہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← أَبِي فَزَارَةَ ← لَيْثٌ، ← أبي شهاب الحناط ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13034

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ يزيد بن الاصم عن ابن عباس ] · حديث 13035

13005 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن الأجلح عن يزيد بن الأصم عن ابن عباس Y قال قال رجل للنبي صلى الله عليه و سلم : ماشاء الله وشئت قال : ( جعلت لله ندا بل ماشاء الله وحده )

حضرت یزید بن اصم سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گوہ کا ذکر ہوا تو آپ کے پاس بیٹھنے والوں میں سے بعض نے کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں گوہ لائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ اسے حلال فرمایا اور نہ حرام کہا۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم کتنی بُری بات کہہ رہے ہو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حلال و حرام سمجھانے کیلئے ہی تو تشریف لائے ہیں۔ اُم حفید بن حارث ‘اپنی بہن ‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ بنت حارث کی ملاقات کرنے کیلئے آئیں ‘تو لوگ آئے ‘ان کے پاس کھانا تھا جس میں گوہ کا گوشت تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں اس وقت تشریف لائے جب رات کی تاریکی چھا چکی تھی۔ پس حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! بے شک یہ گوہ کا گوشت ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے رُک گئے۔ حضرت میمونہ بھی اس کو کھانے سے رک گئیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اور اس کو ان لوگوں نے کھایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ‘اگر گوہ کا گوشت حرام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو منع فرما دیتے اور فرمایا: یہ ہمارے علاقے میں نہیں ہوتی ہے اور ہم اس سے خالی ہیں۔

جعلت لله ندا بل ماشاء الله وحده ← رجل للنبي صلى الله عليه و سلم ماشاء الله وشئت ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← الأَجْلَحِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13035

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ يزيد بن الاصم عن ابن عباس ] · حديث 13036

13006 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن يزيد بن الأصم عن ابن عباس Y قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ماشاء الله وشئت قال : ( جعلتني عدلا قل ماشاء الله )

یزید بن اصم فرماتے ہیں: ہمیں ایک آدمی نے بلایا اور ہمارے پاس تیرہ گوہ لے کر آیا ‘پس جب میں نے صبح کی تو میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا ‘پس میں نے ان کے سامنے اس کا ذکر کیا ‘پس ان کے پاس بیٹھنے والوں نے اس بات میں مزید اضافہ کیا حتیٰ کہ بعض نے کہا: بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ میں اسے حلال قرار دیتا ہوں اور نہ حرام کہتا ہوں۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کس قدر بُرا ہے جو تم نے کہا۔ بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو آئے ہی حلال و حرام بتانے کیلئے ہیں ‘بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھے جبکہ ان کے پاس فضل بن عباس ‘خالد بن ولید ‘ایک عورت اور حضرت میمونہ تھیں ‘پس دستر خوان لایا گیا جس پر روٹی اور گوہ کا گوشت تھا ‘پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ روک لیا اور فرمایا: یہ گوشت ہے جس کو میں نہیں کھاتا ہوں لیکن تم کھاؤ۔ پس حضرت خالد بن ولید ‘فضل بن عباس اور اس عورت نے کھایا۔ پس حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میں تو وہ کھانا کبھی نہ کھاؤں گی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کھایا۔ پس حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے نہ کھایا۔

جعلتني عدلا قل ماشاء الله ← ماشاء الله وشئت ← جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← الأَجْلَحِ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13036

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ يزيد بن الاصم عن ابن عباس ] · حديث 13037

13007 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا جعفر بن برقان عن يزيد بن الأصم أن الضب ذكر عند عبد الله بن عباس Y فقال بعض جلسائه : أتي به رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يحله ولم يحرمه فقال ابن عباس : بئسما تقولون : إنما بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم محلا ومحرما إنما جاءت أم حفيد بنت الحارث تزور أختها ميمونة بنت الحارث زوج النبي صلى الله عليه و سلم فجاؤوا معهم بطعام فيه لحم ضب فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم بعدما أغسق يعني أظلم فقالت ميمونة : يارسول الله إنه لحم ضب فأمسك عنه فأمسكت عنه ميمونة قال ابن عباس : وأكله من كان عنده ولو كان حراما نهاهم عنه وقال : ( إنه ليس بأرضنا ونحن نعافه )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ‘عرض کی: یا رسول الله ! کیا میں اپنے والد صاحب کی طرف سے حج کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں ! کرو ‘اگر تُو اس کے لیے نیکی کا اضافہ نہیں کر سکتا ہے تو بُرائی کا اضافہ تو نہ کر۔

يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13037

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ يزيد بن الاصم عن ابن عباس ] · حديث 13038

13008 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة ثنا سليمان الشيباني عن يزيد بن الأصم Y قال : دعانا رجل وأتانا بثلاثة عشر ضبا فلما أصبحت أتيت ابن عباس فذكرت ذلك له فأكثر جلساؤه في ذلك القول حتى قال بعضهم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( لا أحله ولا أحرمه ) فقال ابن عباس : بئسما قلتم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما بعث محلا ومحرما إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان عند ميمونة ومعه الفضل بن العباس و خالد بن الوليد وامرأة و ميمونة فأتي بخوان عليه خبز ولحم ضب فأمسك يده وقال ( هذا لحم لم آكله ولكن كلوا ) فأكل خالد بن الوليد و الفضل بن العباس و المرأة فقالت ميمونة لا آكل طعاما لم يأكل منه النبي صلى الله عليه و سلم فلم تأكل ميمونة

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھنبی ‘من سے ہے ‘اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاء ہے۔

يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13038

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ يزيد بن الاصم عن ابن عباس ] · حديث 13039

13009 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا أبي أنا عبد الرزاق أنا سفيان الثوري عن الشيباني عن يزيد بن الأصم عن ابن عباس Y أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يارسول الله أحج عن أبي ؟ فقال : ( نعم إن لم تزده خيرا لم تزده شرا )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو کوئی آدمی اپنا نسب بدلے یا کوئی غلام اپنے آقا بدلے تو جس نے اس کو آزاد کیا ‘اس پر اللہ اور فرشتوں کی لعنت ہوگی قیامت کے دن تک ‘اس کے فرض و نفل قبول نہیں کیے جائیں گے۔

«نَعَمْ إِنْ لَمْ تَزِدْهُ خَيْرًا لَمْ تَزِدْهُ شَرًّا» ← أَبِي ← يارسول الله أحج ← ابن عباس أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه و سلم ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← الشَّيْبَانِيِّ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13039

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ شهر بن حوشب عن ابن عباس ] · حديث 13040

13010 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عبد الله بن عون الخراز ثنا أبو عبيدة ثنا عبد الجليل بن عطية عن شهر بن حوشب عن ابن عباس Y قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( الكمأة من المن وماؤها شفاء للعين )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک دن یہودیوں کا ایک گروہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ‘کہا: اے ابو القاسم! چند باتوں کے بارے ہم آپ سے پوچھتے ہیں ‘آپ ہمیں بتائیں جن کے بارے صرف اللہ کا نبی ہی جانتا ہے۔ فرمایا: جو چاہو پوچھو لیکن میرے لیے اللہ کا ذمہ بناؤ اور جو وعدہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے لیا ‘اگر میں تمہیں کوئی چیز بیان کروں اور تم اسے پہچان ( اور جان) لو تو تم میری پیروی کرو ‘اُنہوں نے کہا: پس وہ آپ کیلئے ہوا۔ اُنہوں نے کہا: چار چیزیں ہیں جن کے بارے میں ہم آپ سے پوچھیں گے ‘آپ ہمیں خبر دیں کہ وہ کون سا کھانا ہے جو بنو اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کیا ‘اس سے پہلے کہ تورات نازل ہو؟ آپ ہمیں بتائیں کہ عورت کا پانی ‘مرد کے پانی سے کیسے ہوتا ہے؟ اور اس سے مونث و مذکر کیسے ہوتا ہے؟ آپ ہمیں بتائیں کہ یہ نبی اُمّی اپنی قوم میں کیسے ہے؟ اور ملائکہ میں سے کون اس کا ولی ہے؟ فرمایا: تم پر وعدۂ الہٰی لازم ہے ‘اگر میں تم کو خبر دوں تو تم میری پیروی کرو گے ‘پس تم اسے دو جو وعدہ اور میثاق اُس نے چاہا۔ فرمایا: میں تم کو اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات اُتاری! کیا تم جانتے ہو کہ بنو اسرائیل ایک سخت مرض میں مبتلا ہوئے تھے اور ان کی بیماری لمبی ہو گئی تو اُنہوں نے ایک نذر مانی ‘اگر اللہ ان کو عافیت دے بیماری سے تو وہ اپنے اوپر حرام کر لیں گے وہ پینا اور کھانا جو ان کو سب سے زیادہ پسند ہے اور ان کو اونٹ کا گوشت کھانا اور ان کا دودھ پینا سب سے زیادہ پسند تھا ؟ اُنہوں نے کہا : جی ہاں! فرمایا : اے اللہ! ان پر گواہ رہنا! فرمایا: میں تم کو قسم دیتا ہوں اس ذات کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ مرد کا پانی گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد اور نرم ہوتا ہے ‘پس ان میں سے جو غالب آ جائے تو بچہ وہ ہوتا ہے اور اللہ کے حکم سے اسی کے مشابہ ‘اگر مرد کا پانی غالب آئے تو اللہ کے حکم سے مذکر اور اگر عورت کا پانی غالب آئے تو اللہ کے حکم سے مونث ہوتا ہے۔ اُنہوں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: اے اللہ! ان پر گواہ رہنا! فرمایا: میں تمہیں قسم دیتا ہوں اس ذات کی جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی ! کیا تم جانتے ہو کہ اُمّی نبی یہ ہے جس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن اس کا دل نہیں سوتا ہے۔ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے اللہ ! گواہ رہنا! اُنہوں نے کہا: آپ اب ہمیں بتائیں کہ فرشتوں میں سے آپ کا ولی کون ہے؟ پس اس سوال پر ہم آپ سے اتفاق یا جدائی اختیار کریں گے۔ فرمایا: میرا ولی حضرت جبریل علیہ السلام ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا ہے وہی اُس کے ولی ہوئے ہیں۔ پس اُنہوں نے کہا: اس پر ہم آپ سے جدائی اختیار کرتے ہیں ‘اگر فرشتوں میں سے کوئی دوسرا آپ کا ولی ہوتا تو ہم آپ کی پیروی کرتے اور ہم آپ کو سچا مانتے۔ فرمایا: اس کی تصدیق کرنے سے تم کو کون سی چیز روکتی ہے؟ اُنہوں نے کہا: وہ ہمارا دشمن ہے۔ پس اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” جو حضرت جبریل کا دشمن ہے تو اس نے قرآن کو آپ کے دل پر اللہ کے حکم سے اُتارا ہے ‘تصدیق کرنے والا ہے جو سامنے ہے اور ہدایت اور خوشخبری ہے ‘ایمان والوں کیلئے جو دشمن ہے اللہ کا ‘‘اس آیت تک ’’ ان کی پیٹھوں کے پیچھے گویا کہ وہ نہیں جانتے“۔ پس اس پر آکر وہ اللہ کے غضب پر غضب کے حقدار بن گئے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ الْجَلِيلِ بْنِ عَطِيَّةَ ← أَبُو عُبَيْدَةَ ← عبد الله بن عون الخراز ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13040

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ شهر بن حوشب عن ابن عباس ] · حديث 13041

13011 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى ( ح ) وحدثنا محمد بن الربيع بن شاهين نثا أبو الوليد الطيالسي قالا : ثنا عبد الحميد بن بهرام عن شهر بن حوشب Y قال قال ابن عباس : أيما رجل أدعى إلى غير والديه أو تولى غير مواليه الذين أعتقوه فإن عليه لعنة الله والملائكة إلى يوم القيامة لا يقبل منه صرف ولا عدل

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کر کے آنے والی مؤمن عورتوں کے علاوہ سے منع فرمایا۔ فرمایا: ”آپ کیلئے اس کے بعد عورتیں حلال نہیں ہیں ‘‘اللہ کے اس فرمان تک : ”اور وہ مؤمن عورت ‘اگر اپنی جان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کرے ( بغیر مہر کے ) ‘‘اور اللہ تعالیٰ اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین رکھنے والی عورت کی حرمت فرما دی ‘فرمایا: ” اور جو ایمان کے بدلے کفر کرے گا تو اس کے اعمال برباد ہوں گے ‘‘آیت مکمل۔ ’’ اے نبی ! ہم نے آپ کیلئے بیویاں حلال کی ہیں ‘‘اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک : ’’ ایمان والے مرد ‘‘۔عورتوں کی قسموں میں سے اس کے علاوہ سب کو حرام کیا اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے ایک یہودی عورت سے نکاح کیا اور حضرت حذیفہ بن یمان نے ایک عیسائی عورت سے نکاح کیا تو حضرت عمر سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ ان دونوں پر جھپٹنے کا ارادہ فرمایا ‘اُنہوں نے عرض کی: ہم طلاق دیتے ہیں ‘آپ غصہ نہ ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر ان کو طلاق دینا جائز ہے تو پھر ان سے نکاح بھی جائز ہے بلکہ ہم ضرور ان کی چاندی وغیرہ کو بھی ان سے چھین لیں گے۔

شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ← محمد بن الربيع بن شاهين نثا أبو الوليد الطيالسي ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13041

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ شهر بن حوشب عن ابن عباس ] · حديث 13042

13012 - حدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم ثنا محمد ابن يوسف الفريابي ثنا عبد الحميد بن بهرام ثنا شهر بن حوشب عن عبد الله بن عباس Y قال : حضرت عصابة من اليهود نبي الله صلى الله عليه و سلم يوما فقالوا : يا آبا القاسم حدثنا عن خلال نسألك عنهن لا يعلمهن إلا نبي قال : ( سلوني عما شئتم ولكن اجعلوا لي ذمة الله وما أخذ يعقوب على بنيه لئن أنا حدثكم شيئا فعرفتموه لتتابعني ) قالوا : فذلك لك [ قال ] : أربع خلال نسألك عنها أخبرنا أي الطعام حرم إسرائيل على نفسه من قبل أن تنزل التوراة ؟ وأخبرنا كيف ماء المرأة من ماء الرجل ؟ وكيف يكون الأنثى من والذكر ؟ وأخبرنا كيف هذا النبي الأمي في القوم ومن وليه من الملائكة ؟ قال : ( فعليكم عهد الله لئن أنا أخبرتكم لتتابعني ) فأعطوه ماشاء في عهد وميثاق قال : ( فأنشدكم بالذي أنزل التوراة على موسى هل تعلمون أن إسرائيل مرض مرضا شديدا فطال سقمه فنذر نذرا لئن عافاه الله من سقمه ليحرمن أحب الشراب إليه وأحب الطعام إليه وكان أحب الطعام إليه لحمان الأبل وأحب الشراب إليه ألبانها ؟ قالوا : اللهم نعم قال : ( اللهم أشهد عليهم قال فأنشدكم بالله الذي لا إله إلا هو هل تعلمون أن ماء الرجل غليظ وأن ماء المرأة أصفر رقيق فأيهما علا كان الولد والشبه بإذن الله إن علا ماء الرجل كان ذكرا بإذن الله وإن علا ماء المرأة كان أنثى بأذن الله ؟ ) قالوا : اللهم نعم قال : ( اللهم أشهد عليهم قال فأنشدكم بالذي أنزل التوراة على موسى هل تعلمون أن النبي الأمي هذا تنام عيناه و لاينام قلبه ؟ ) قالوا : اللهم نعم قال : ( اللهم أشهد عليهم ) قالوا : أنت الآن فحدثنا من وليك من الملائكة ؟ فعندنا نجامعك أو نفارقك قال : ( فإن ولي جبريل عليه السلام ولم يبعث الله عز و جل نبيا قط إلا وهو وليه ) قالوا : فعندها نفارقك لو كان وليك سواه من الملائكة لاتبعناك وصدقناك قال : ( فما يمنعكم أن تصدقوه ؟ ) قالوا : هو عدونا فعند ذلك قال الله عز و جل { قل من كان عدوا لجبريل فإنه نزله على قلبك بإذن الله مصدقا لما بين يديه وهدى وبشرى للمؤمنين * من كان عدوا لله وملائكته ورسله } إلى { وراء ظهورهم كأنهم لا يعلمون } فعند ذلك باؤوا بغضب على غضب

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کی ایک عورت جس کا نام سودہ تھا ‘اس کو نکاح کا پیغام بھیجا ‘وہ بچوں والی تھی ‘اس کی پانچ بچیاں تھیں یا چھ بچے تھے ان کا شوہر فوت ہو گیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: مجھ سے نکاح کرنے سے کیا رکاوٹ ہے؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! مجھے آپ سے نکاح کرنے کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں تھی میں تو ہر چیز سے بڑھ کر آپ سے محبت کرتی ہوں ‘سوائے اس کے کہ آپ کی عزت کرتی ہوں ‘اس بات سے کہ صبح و شام یہ بچے آپ کے سر کے پاس شور کریں گے۔ فرمایا: اس کے علاوہ تجھے مجھ سے کوئی چیز نہیں روکتی۔ عرض کی : جی نہیں! اللہ کی قسم ! پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ! بے شک عورتوں میں سے سب سے بہتر وہ ہیں جو اونٹوں کی پیٹھوں پر سوار ہوں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ← محمد ابن يوسف الفريابي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13042

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ شهر بن حوشب عن ابن عباس ] · حديث 13043

13013 - حدثنا أبو خليفة الفضل بن الحباب ثنا أبو الوليد الطيالسي ثنا عبد الحميد بن بهرام عن شهر بن حوشب Y قال قال ابن عباس نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن النساء إلا ما كان من المؤمنات المهاجرات قال { لا يحل لك النساء من بعد } الآية إلى قوله { وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي } وحرم كل ذات دين غير الإسلام قال { ومن يكفر بالإيمان فقد حبط عمله } الآية { يا أيها النبي إنا أحللنا لك أزواجك } إلى قوله { المؤمنين } ورحم ماسوى ذلك من أصناف النساء وقد نكح طلحة ابن عبد الله يهودية ونكح حذيفة بن اليمان نصرانية فغضب عمر غضبا شديدا حتى هم أن يسطو عليهم فقالوا : نحن نطلق ولا تغضب فقال عمر : لئن حل طلاقهن لقد حل نكاحهن ولكن لننزعهن صغرة قملة قال ابن عباس : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الذبيحة أن تفرس قبل أن تموت

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے شراب پی وہ چالیس دن تک نا پاک رہے گا ‘اگر توبہ کی تو توبہ قبول کی جائے گی ‘اگر دوبارہ پی تو دوبارہ ناپاکی لوٹ آئے گی ‘اگر توبہ کر لی تو توبہ قبول ہوگی ‘اگر تیسری مرتبہ دوبارہ پی تو چالیس دن تک نا پاک رہے گا ‘اگر توبہ کر لی تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا ‘اگر پھر پی تو اللہ پر حق ہے کہ اس کو جہنم والوں کی چربی اور پیپ پلائے۔ اُنہوں نے عرض کی: ردغة الخبال سے مراد کیا ہے؟ فرمایا: جہنم والوں کی چربی اور ان کی پیپ۔

شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← اَبُوْ خَلِیْفَۃَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13043

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ شهر بن حوشب عن ابن عباس ] · حديث 13044

13014 - حدثنا أبو خليفة ثنا أبو الوليد ثنا عبد الحميد بن بهرام ثنا شهر بن حوشب حدثني عبد الله بن عباس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم خطب امرأة من قومه يقال لها سودة وكانت مصبية وكانت لها خمسة صبية أو ستة من بعل لها مات فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( مايمنعك مني ؟ ) قالت : والله يا نبي الله مايمنعني منك إلا أن تكون أحب البرية إلي ولكني أكرمك أن تصغو هؤلاء الصبية عند رأسك بكرة وعشية قال : ( أما يمنعك مني شيء غير ذلك ؟ ) قالت : لا والله فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يرحمك الله إن خير نساء ركبن أعجاز الأبل صالح نساء قريش أحناه على ولد في صغره وأرعاه على بعل في ذات يده )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ‘ان میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی اور کچھ بھی نہیں پڑھا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13044

chevron_left Previous
1…596061…114
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter