Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو حاضر عن ابن عباس ] · حديث 12973

12943 - حدثنا محمد بن يحيى المروزي ثنا سعيد بن سليمان الواسطي ثنا عباد بن العوام عن أبي السوار السلمي عن أبي حاضر عن ابن عباس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم احتجم بالقاحة وهو محرم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (گھر سے) نکلتے ہوئے فرمایا: دین کو اوندھا کر دینے ‘اُلٹنے پلٹنے کی ایک نشانی یہ ہے کہ پوشیدہ چیزوں میں نظر رکھنا یا غور و فکر کرنا اور لوگوں کا شہروں میں محلات بنانا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي حَاضِرٍ، ← أبي السوار السلمي ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12973

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو جمرة عن ابن عباس ] · حديث 12974

12944 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد ابن سلمة عن أبي جمرة عن ابن عباس Y قال : أقام رسول الله صلى الله عليه و سلم بمكة ثلاث عشرة سنة يوحى إليه وبالمدينة عشرا ومات وهو ابن ثلاث وستين

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمامہ باندھا کرو کیونکہ اس کے ذریعہ بردباری میں اضافہ ہوتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← حماد ابن سلمة ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12974

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو جمرة عن ابن عباس ] · حديث 12975

12945 - حدثنا أسلم بن سهل الواسطي ثنا محمد بن صالح بن مهران ثنا عمران بن تمام ثنا أبو جمرة نصر بن عمران عن ابن عباس Y قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يقول : ( من إكفاء الدين تصفح النبط واتخاذهم القصور في الأمصار )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عربی قبیلہ کی طرف تحریر فرمایا کہ آپ ان کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں تو اُس قبیلے کے لوگوں نے خط کو قبول نہ کیا اور (خط لے جانے والے) لوگ ‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہر حال اگر میں یہ خط ‘عمان کے کنارے ‘بنو ازد قبیلہ شنوءہ اور اسلم لوگوں کی طرف بھیجتا ‘تو وہ ضرور قبول کرتے ‘پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جُلندی کی طرف بھیجا اور انہیں اسلام کی طرف دعوی دی تو اس قبیلے نے (بسر و چشم ) اسے قبول کیا اور اسلام لائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تحفہ بھیجا لیکن جس وقت وہ حاضر ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا تھا ‘پس حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس تحفہ کو وراثتِ (رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) قرار دے کر حضرت فاطمہ اور لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔

من إكفاء الدين تصفح النبط واتخاذهم القصور في الأمصار ← خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أبو جمرة نصر بن عمران ← عمران بن تمام ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ مِهْرَانَ ← أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12975

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو جمرة عن ابن عباس ] · حديث 12976

12946 - حدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ثنا هلال بن بشر ثنا عمران بن تمام عن أبي جمرة عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( اعتموا تزدادوا حلما )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ‘قبیلہ دوس والوں کی طرف سے چار سوار آئے ‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوش آمدید! لوگوں میں چہرے کے لحاظ سے اچھے ‘منہ کے میٹھے اور امانت کے لحاظ سے بڑے ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← عمران بن تمام ← هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12976

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو جمرة عن ابن عباس ] · حديث 12977

12947 - حدثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي ثنا عمر بن صالح الأزدي ثنا أبو جمرة نصر بن عمران عن ابن عباس Y قال : كتب رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى حي من العرب يدعوهم إلى الأسلام فلم يقبلوا الكتاب ورجعوا إلى النبي صلى الله عليه و سلم وأخبروه فقال : ( أما أني لو بعثت به إلى قوم بشط عمان من أزد شنوءة وأسلم لقبلوه ) ثم بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الجلندى يدعوه إلى الإسلام فقبله وأسلم وبعث إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بهدية فقدمت وقد قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم فجعل أبو بكر الهدية مورثا فقسمها بين فاطمة وبين الناس

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عبد القیس کا وفد ‘جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو فرمایا: کون سی قوم ہے؟ اُنہوں نے عرض کی : بنو ربیعہ۔ فرمایا : خوش آمدید! اس وفد کو ‘نہ ان کو کوئی رسوائی ہے اور نہ شرمندہ ہونے والے ہیں۔ اُنہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم ربیعہ کے قبیلہ سے ہیں اور ہم آپ کے پاس بہت دور سے آئے ہیں اور آپ کے اور ہمارے درمیان یہ بنو مضر کفار کا قبیلہ رکاوٹ ہے ‘ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے کسی مہینہ میں ہی پہنچ سکتے ہیں ‘ہم لوگوں کو کوئی فیصلہ کن بات ارشاد فرما دیں جس کی طرف آپ ہم کو اور ہم اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو دعوت دیں اور اس کے وسیلے ہم جنت میں داخل ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں ‘میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں ‘کلمہ پڑھ کر گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ‘کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایمان کیا ہے؟ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ‘نماز قائم کرنا ‘زکوٰۃ ادا کرنا ‘روزے رکھنا اور یہ کہ تم اپنے مالِ غنیمت سے پانچواں حصہ دو۔ اور میں تمہیں چار چیزوں سے منع کرتا ہوں: (۱) کدو کی تو نبی (۲) سبز لاکھی گھڑا (۳) چوبیں برتن (۴) رال ملے ہوئے برتن۔ راوی کا بیان ہے اور کبھی مقیر کا لفظ فرمایا ‘ان کو یاد کر کے ‘اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو ان کی طرف دعوت دو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أبو جمرة نصر بن عمران ← عُمَرُ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ← سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12977

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو جمرة عن ابن عباس ] · حديث 12978

12948 - حدثنا إسماعيل بن قيراط الدمشقي ثنا سليمان بن عبد الرحمن ثنا عمر بن صالح الأزدي ثنا أبو جمرة عن ابن عباس Y قال : قدم على رسول الله صلى الله عليه و سلم أربع مئة من دوس فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( مرحبا أحسن الناس وجوها وأطيبهم أفواها وأعظمهم أمانة )

حضرت ابو جمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ قبیلہ عبد قیس کا وفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کی: اے اللہ کے رسول ! بے شک اس قبیلہ کا تعلق بنو ربیعہ سے ہے آپ کے اور ہمارے درمیان بنو مضر قبیلہ کے کافر رہتے ہیں ‘تو ہم صرف حرمت والے مہینوں میں ہی آپ کی خدمت میں حاضری دے سکتے ہیں ‘پس ہمیں کوئی ایسا حکم دیں جس پر ہم عمل کریں اور اپنے پچھلوں کو اس کی خبر دیں۔ فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں سے منع کرتا ہوں : کدو کی تو نبی ‘سبز لاکھی گھڑا ‘چوبیں برتن ‘رال ملے ہوئے برتن۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو جَمْرَةَ، ← عُمَرُ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنَ قِيرَاطٍ الدِّمَشْقِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12978

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو جمرة عن ابن عباس ] · حديث 12979

12949 - حدثنا يوسف القاضي و محمد بن محمد التمار قالا : ثنا عمرو بن مرزوق ( ح ) وحدثنا أبو مسلم الكشي ثنا عمرو بن حكام قال عمرو بن مرزوق وأخبرنا شعبة وقال عمرو بن حكام ثنا شعبة عن أبي جمرة عن ابن عباس Y أن وفد عبد القيس لما قدموا على رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( من القوم ؟ ) قالوا : ربيعة قال : ( مرحبا بالوفد غير الخزايا ولا النادمين ) قالوا : يارسول الله إنا هي من ربيعة وإنا نأتيك من شقة بعيدة وإنه يحول بيننا وبينك هذا الحي من كفار مضر وإنا لانصل إليك إلا في شهر حرام فمرنا بأمر فصل تدعو إليه وندعو إليه من وراءنا وندخل به الجنة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( آمركم بأربع وأنهاكم عن أربع آمركم بالايمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله أتدرون ما الإيمان شهادة أن لا إله إلا الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصوم رمضان وأن تعطوا من الغنائم الخمس وأنهاكم عن أربع عن الدباء والحنتم والنقير والمزفت قال وربما قال - والمقير احفظوهن وادعوا إليهن من وراءكم )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء ‘مزفت ‘نقیر اور حنتم ( برتنوں میں) نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يوسف القاضي و محمد بن محمد التمار

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12979

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو جمرة عن ابن عباس ] · حديث 12980

12950 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال و عارم أبو النعمان ( ح ) وحدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا شهاب بن عباد العبدي قالوا : ثنا حماد بن زيد عن أبي جمرة قال سمعت ابن عباس Y يقول : قدم وفد عبد القيس على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يارسول الله إن هذا الحي من ربيعة قد حال بيننا وبينك كفار مضر فلسنا نخلص إليك إلا في شهر حرام فمرنا بآمر نآخذ به وندعو إليه من وراءنا قال : ( آمركم بأربع وأنهاكم عن أربع الإيمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله - وعقد بيده - وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصوم رمضان وأن تؤدوا خمس ماغنمتم وأنهاكمعن الدباء والحنتم والنقير والمزف ت )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد ‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا تو عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کے اور ہمارے درمیان بنو مضر کفار کا قبیلہ ہے ‘ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں ہی حاضر ہو سکتے ہیں ‘پس ہمیں کوئی ایسا حکم ارشاد فرمائیں جو انتہائی ہو اور ہم پیچھے رہ جانے والوں کو اس کی طرف دعوت دیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار چیزیں ہیں: (۱) اس بات کی گواہی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں (۲) نماز قائم کرنا (۳) زکوۃ ادا کرنا (۴) رمضان شریف کے روزے رکھنا۔ مالِ غنیمت میں سے خمس (پانچواں حصہ) دینا اور میں تمہیں دباء ‘حنتم ‘نقیر اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع کرتا ہوں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ ← حجاج بن المنهال و عارم أبو النعمان ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12980

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو جمرة عن ابن عباس ] · حديث 12981

12951 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي قالا : ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة عن أبي جمرة عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن الدباء والمزفت والنقير والحنتم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا ‘اُنہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم یہ قبیلہ ‘بنو ربیعہ سے ہیں ‘تحقیق ہمارے اور آپ کے درمیان بنو مضر قبیلہ کے کافر موجود ہیں ‘ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آپ تک پہنچ سکتے ہیں ‘پس ہمیں کوئی ایسا کلمہ ارشاد فرمائیں جو انتہائی ہو اور ہم پیچھے رہ جانے والوں کو اس کی طرف دعوت دیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار چیزیں ہیں ‘اس بات کی گواہی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں ‘نماز قائم کرنا ‘زکوٰۃ ادا کرنا ‘رمضان شریف کے روزے رکھنا ‘مالِ غنیمت میں سے خمس ( پانچواں حصہ) دینا اور میں تمہیں دباء ‘حنتم ‘نقیر اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع کرتا ہوں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12981

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو جمرة عن ابن عباس ] · حديث 12982

12952 - حدثنا محمد بن حيان المازني ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا أبو معشر البراء ثنا سعيد بن عبد الرحمن ثنا أبو جمرة عن ابن عباس رضي الله عنهما Y قال : قدم وفد عبد القيس إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا : يارسول الله إن بيننا وبينك كفار مضر وإنا لانصل إليك إلا في أشهر الحرم فمرنا بأمر ننتهي إليه وندعو إليه من وراءنا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أربع وأربع شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصوم رمضان وخمس ماغنمتم وأنهاكم عن نبيذ الدباء والحنتم والنقير والمزفت )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وفد کو خوش آمدید! اُنہوں نے عرض کی: ہم بنو ربیعہ کا قبیلہ ہیں۔ ہمارے آپ کے درمیان بنو مضر کے کافر ہیں۔ ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں ہی آسکتے ہیں ‘پس آپ ہمیں کوئی ایسا حکم دیں جس پر ہم خود عمل کریں اور اپنے پچھلوں کو اس کی طرف دعوت دیں۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں کچھ چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں: اللہ پر ایمان لاؤ ‘اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ‘اللہ کے رسول ہیں ‘نماز قائم کرو ‘زکوٰة دو ‘مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ دو اور چار برتنوں دباء ‘حنتم ‘نقیر اور مزفت سے منع کرتا ہوں۔

يارسول الله إن بيننا وبينك كفار مضر ← قدم وفد عبد القيس إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو جَمْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12982

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو جمرة عن ابن عباس ] · حديث 12983

12953 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا عباد بن عباد ثنا أبو جمرة عن ابن عباس رضي الله عنهما Y قال : قدم وفد عبد القيس على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا : يارسول الله إنا هذا الحي من ربيعة قد حال بيننا وبينك كفارة مضر ولا نخلص إليك إلا في شهر حرام فمرنا بأمر نعمل به وندعو إليه من وراءنا قال : ( آمركم بأربع وأنهاكم عن أربع الايمان - وفسرها لهم - شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وأن تؤدوا خمس ماغنمتم وأنهاكم عن الدباء والحنتم والنقير والمقير )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عبد قیس کا وفد ‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا تو عرض کی: اے اللہ کے رسول ! بے شک ہمارے اور آپ کے درمیان بنو مضر کے کفار ہیں ‘ہم طاقت نہیں رکھتے کہ جب بھی ہم چاہیں آپ کی خدمت میں آئیں ‘پس آپ ہمیں آگاہ فرمائیں کہ ہمارے لیے کیا حلال ہے اور ہم پر کیا حرام ہے؟ فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں: (۱) نماز قائم کرو (۲) زکوٰۃ ادا کرو (۳) رمضان شریف کے روزے رکھو (۴) مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرو اور میں تمہیں منع کرتا ہوں: (۱) دباء (۲) حنتم (۳) نقیر (۴) مزفت۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو جَمْرَةَ، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12983

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو جمرة عن ابن عباس ] · حديث 12984

12954 - حدثنا حفص بن عمر بن الصباح ثنا أبو معمر المقعد ثنا عبد الوارث عن أبي التياح عن أبي جمرة عن ابن عباس Y أن وفد عبد القيس قدموا على النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ( مرحبا بالوفد ) قالوا : يارسول الله إنا حي من ربيعة وإن بيننا وبينك كفار مضر ولا نخلص إليك إلا في شهر حرام فمرنا بأمر نأخذ به وندعو إليه من وراءنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( آمركم بأربع وأنهاكم عن أربع الايمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وأن تؤدوا خمس ماغنمتم وأنهاكم عن الدباء والنقير والحنتم والمزف ت )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عبدالقیس قبیلے ‘کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ‘عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہمارے اور آپ کے درمیان بنو مضر قبیلہ کے کفار ہیں ‘ہم آپ تک صرف حرمت والے مہینوں میں ہی پہنچ سکتے ہیں ‘پس آپ ہمیں حکم دیں جو چیزیں ہمارے لیے حلال ہیں اور جو چیزیں حرام ہیں۔ فرمایا: میں تمہیں حکم دیتا ہوں اور منع کرتا ہوں چار چیزوں سے ‘میں تمہیں حکم دیتا ہوں: اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کی گواہی دینے کا ‘نماز ادا کرنے کا ‘زکوٰۃ دینے اور رمضان شریف کے روزے رکھنے کا اور اس بات کا کہ تم مالِ غنیمت سے پانچواں حصہ دو اور میں تمہیں کدو کی تو نبی ‘سبز لاکھی گھڑا ‘چوبیں برتن اور رال ملے ہوئے برتن سے منع کرتا ہوں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← أَبِي التَّيَّاحِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12984

chevron_left Previous
1…545556…114
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter