المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ سعيد بن جبير عن ابن عباس · حديث 12373
12347 - حدثنا محمد بن إبراهيم العسال الأصبهاني ثنا إسماعيل بن عمرو البجلي ثنا أبو مريم حدثني حبيب بن أبي ثابت عن سعيد بن جبير عن ابن عباس رضي الله عنهما Y قال : دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم الكعبة فصلى بين الساريتين ركعتين ثم خرج فصلى بين باب البيت وبين الحجر ركعتين ثم قال : ( هذه القبلة ) ثم دخل مرة أخرى فقام يدعو ولم يصل
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اپنی خالہ (اُم المؤمنین ) حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اُٹھے ‘پانی مانگا اور وضو فرمایا ‘پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: ” بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش ‘‘سورت کے آخر تک ‘پھر سورۂ بقرہ کو پڑھنا شروع کیا تو اس کا ایک ایک حرف تلاوت فرمایا یہاں تک کہ اسے ختم کیا ‘پھر رکوع کیا ‘اس میں سبحان ربی العظیم پڑھا پھر سجدہ کیا اور اس میں سبحان ربی الاعلیٰ پڑھا ‘پھر اپنے سر کو اُٹھایا تو دونوں سجدوں کے درمیان پڑھا: ’’ رب اغفر لي وارحمنى الٰى آخرہٖ ‘‘پھر کھڑے ہو کر دوسری رکعت میں سورۂ آل عمران پڑھی یہاں تک کہ مکمل پڑھ دی ‘پھر رکوع و سجود کیا ‘پھر اسی طرح کیا جس طرح پہلی میں کیا تھا ‘پھر لیٹ گئے ‘پھر پریشانی کے عالم میں اُٹھے تو ایسے کیا جیسے پہلی دو میں کیا تھا ‘پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرف حرف پڑھا یہاں تک کہ آٹھ رکعتیں ادا کیں ‘ہر دو کے درمیان لیٹ جاتے پھر فجر کی دو رکعت پڑھیں ‘پھر دعا کی: ’’ اللّٰهم اجعل في نفسى نورًا الٰى آخرہٖ ‘‘۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← أَبُو مَرْيَمَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12373
