Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ الشعبي عن ابن عباس ] · حديث 12613

12586 - حدثنا أبو حصين محمد بن الحسين القاضي ثنا أحمد ابن يونس ثنا زهير عن جابر عن عامر عن ابن عباس Y قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يحتجم ثلاثا في الأخدعين أو بين الكتفين يحجمه غلاما له لبني بياضه يقال له أبو هند وكان يؤدي إلى أهله كل يوم مادا ونصفا فشفع له رسول الله صلى الله عليه و سلم فوضعوا عنه نصف مد وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد يعطي الحجام أجره ولو كان حراما لم يعطه

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی دو پوشیدہ رگوں والی دونوں طرفوں میں پچھنا لگوایا اور کندھے اور گردن کی جڑ کے درمیان کے حصے کو پچھنا لگوایا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَامِرٍ، ← جَابِرٍ ← زُهَيْرٍ ← أحمد ابن يونس، ← أَبُو حَصِينٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12613

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ الشعبي عن ابن عباس ] · حديث 12614

12587 - حدثا إدريس بن عبد الكريم الحداد ثنا خلف بن هشام البزار ثنا أبو عوانة عن جابر عن الشعبي عن ابن عباس Y قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم احتجم في الأخدعين والكاهل

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پچھنا لگواتے تھے ‘بنو بیاضہ کا غلام آپ کو پچھنا لگاتا تھا ‘آپ اس کو مزدوری دیتے تھے ‘اگر یہ مزدوری حرام ہوتی تو آپ اس کو مزدوری نہ دیتے۔

كان النبي صلى الله عليه و سلم احتجم في الأخدعين والكاهل ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← جَابِرٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ← إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12614

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ الشعبي عن ابن عباس ] · حديث 12615

12588 - حدثنا طالب بن قرة الأذني ثنا محمد بن عيسى الطباع ثنا شريك و أبو عوانة عن جابر عن الشعبي عن ابن عباس Y قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يحتجم في الأخدعين والكاهل

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب کھڑا ہوا تو آپ نے مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا۔

كان النبي صلى الله عليه و سلم يحتجم في الأخدعين والكاهل ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← جَابِرٍ ← شريك و أبو عوانة ← محمد بن عيسى الطباع ← طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12615

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ الشعبي عن ابن عباس ] · حديث 12616

12589 - حدثنا محمد بن عبدوس بن كامل ثنا مخلد بن خالد الشعيري ثنا إبراهيم بن خلف ثنا رباح بن زيد عن معمر عن عاصم بن سليمان عن الشعبي عن ابن عباس Y قال : احتجم رسول الله صلى الله عليه و سلم حجمه مولى لنبي بياضة وأعطاه أجره ولو كان حراما لم يعطه إياه

حضرت حصین فرماتے ہیں: ایک سوالی نے سوال کیا اس حال میں کہ آپ نماز میں تھے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: اے سائل ! اس نے عرض کی میں حاضر ہوں! فرمایا: کیا تُو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟ اُس نے عرض کی: جی ہاں! فرمایا: کیا تُو پانچ (نمازیں) پڑھتا ہے؟ اُس نے عرض کی: جی ہاں! آپ نے فرمایا: کیا تُو رمضان کے روزے رکھتا ہے؟ اُس نے عرض کی: جی ہاں ! فرمایا: ہم پر حق ہے کہ ہم تیرے ساتھ صلہ رحمی کریں ‘پس اُس نے جو کپڑے پہنے ہوئے تھے وہ اتار دیئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے کپڑے پہنائے ‘پھر اس وقت فرمایا: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہر وہ مسلمان جس نے دوسرے مسلمان کو کپڑے پہنائے تو وہ اللہ کی حفاظت میں ہوتا ہے جب تک اس لباس سے کوئی ٹکڑا باقی رہے گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← مَعْمَرٌ، ← رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَلَفٍ، ← مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدُوسَ بْنِ كَامِلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12616

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ سميع الزيات عن ابن عباس ] · حديث 12617

12590 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن الثوري عن الأعمش عن سميع الزيات عن ابن عباس Y قال : قمت إلى جنب النبي صلى الله عليه و سلم إلى شماله فأدارني فجعلني عن يمينه

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل حدیث روایت کرتے ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ ← الْاَعْمَشِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12617

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ حصين عن ابن عباس ] · حديث 12618

12591 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا خالد بن طهمان أبو العلاء الخفاف عن حصين Y قال : سأل سائل و ابن عباس في الصلاة فقال له ابن عباس : يا سائل قال : لبيك قال : تشهد أن لا إله إلا الله ؟ قال : نعم قال : وتصلي الخمس ؟ قال : نعم قال : وتصوم رمضان ؟ قال : نعم قال : حق علينا أن نصلك فنزع ثوبا عليه فكساه إياه ثم قال عند ذلك : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( أيما مسلم كسا مسلما ثوبا كان في حفظ الله ما بقيت عليه منه رقعة )

حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں: ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے تو سات آدمی آئے ‘یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ تندرست تھے یعنی آنکھیں سلامت تھیں۔ اُنہوں نے عرض کی : اے ابن عباس! اُٹھ کر ہمارے ساتھ چلو ‘یا آپ نے فرمایا: اے لوگو! خلوت میں ہو جاؤ ‘فرمایا: بلکہ میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوتا ہوں۔ پس آپ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ پس ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ اُنہوں نے کیا عرض کی۔ (ہم نے دیکھا) وہ کپڑے جھاڑتا ہوا ‘اُف اُف کرتا واپس لوٹا۔ ایک ایسے مرد کے بارے میں ان کو اعتراض ہوا ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جو میں ابھی آپ لوگوں کے سامنے کہنے والا ہوں۔ کیا حضرت علی بن ابو طالب کے بارے میں اعتراض ہے ‘حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ضرور ایک ایسے آدمی کو بھیجوں گا جس کو اللہ رسوا نہیں کرے گا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا جبکہ وہ چکی میں آٹا پیس رہے تھے ‘تم میں سے کوئی ایک آٹا نہیں پیستا۔ پس لوگ ان کو لے کر آئے اس حال میں کہ ان کی آنکھیں خراب تھیں۔ اُنہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں تو دیکھ بھی نہیں سکتا ‘پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں پھونک ماری اور جھنڈے کو تین بار ہلایا ‘پھر ان کے حوالے کر دیا تو اللہ نے ان کو فتح دی۔ پس وہ ( مالِ غنیمت میں ) حضرت صفیہ بنت حیی کو لے کر آئے ‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچازاد بھائیوں کو کہا: تم میں سے کون دنیا و آخرت میں میرا مددگار ہوگا ‘تین بار ‘یہاں تک کہ سب کے پاس سے گزرے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں آپ کی دنیا و آخرت میں مدد کروں گا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا و آخرت میں تُو میرا مددگار ہے۔ راوی کا بیان ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو سورۂ توبہ دے کر بھیجا اور ان کے پیچھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا (معاہدہ کے خاتمہ کا اعلان کرنے ) تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے علی ! شاید اللہ اور اس کا نبی میرے اوپر ناراض ہو گئے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں ! (آپ پر کوئی ناراض نہیں ہوا) بلکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مناسب ہے کہ میری طرف سے یہ خبر ( کفارِ مکہ) کو وہ پہنچائے جو میرا قریبی رشتہ دار ہو اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قریبی ہوں۔ راوی کا بیان ہے: اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات علی ‘فاطمہ ‘حسن اور حسین رضی اللہ عنہم پر اپنی چادر ڈالی اور کہا: ’’ اے نبی کے گھر والو! (تمہیں نصیحتیں اس لیے کی جا رہی ہیں کہ ) اللہ یہی چاہتا ہے کہ ہر قسم کی ناپاکی کو تم سے دور رکھے اور ( ظاہر و باطن کے لحاظ سے )تمہیں خوب پاک رکھے۔ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد تمام لوگوں سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ ایمان لائے۔ فرمایا: اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کو تج دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پہن لیے پھر (جنگ میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہو گئے۔ (فرمایا:) جبکہ مشرکین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیر اندازی کر رہے تھے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے۔ عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میری طرف حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جیسی ہستی آپ کو اللہ کا نبی گمان کر رہی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بئر میمون کی طرف تشریف لے گئے ہیں ‘وہاں جا کر ان سے ملیں تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں داخل ہو گئے ‘حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پتھر پھینکنے شروع کر دیئے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پتھر مارتے تھے حالانکہ وہ سخت بھوک کی حالت میں تھے ‘اُنہوں نے اپنا سر کپڑے میں لپیٹ رکھا تھا اور صبح ہونے تک سر نہ نکالا ‘پھر جب صبح ہوئی تو اپنے سرسے کپڑا ہٹایا تو کافروں نے آپ کو نازیبا کلمات کہے اور کہا: آپ کا ساتھی ہم پر پتھر برسا رہا تھا ‘اسے تو بھوک لگی ہوئی نہیں تھی حالانکہ آپ بھوک سے بلبلا رہے ہیں۔ ہم نے اس کو اچھا نہیں جانا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ہمراہ غزوۂ تبوک کی طرف تشریف لے چلے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: کیا میں آپ کے ساتھ چلوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ! تو حضرت علی رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا آپ راضی نہیں کہ تیرا مقام ‘میرے ہاں وہی ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھا ‘لیکن آپ نبی نہیں ہیں کیونکہ مناسب یہی ہے کہ میرے جانے کے بعد آپ میرے نائب ہوں۔ راوی کا بیان ہے اور انہیں فرمایا کہ میرے بعد آپ ہر مؤمن کے ولی ہیں۔ فرمایا: اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے سارے دروازے سوائے علی کے دروازے کے بند کر دیئے ‘پس وہ جنبی حالت میں مسجد میں داخل ہو سکتے تھے کیونکہ ان کا راستہ مسجد سے گزرتا تھا اور ان کا کوئی راستہ نہ تھا۔ راوی کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: پس اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہمیں بتایا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہو ا یعنی درخت والوں سے ‘(اور فرمایا: اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے۔ پس کیا اس کے بعد کوئی ایسی آیت نازل ہوئی جس میں اللہ نے ان پر ناراضگی کا اظہار کیا ہو؟ ( کوئی آیت نہیں ‘سب صحابہ کرام کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے پہلا اور آخری مژدہ یہی ہے کہ وہ ان سے راضی ہے) ۔ راوی کا بیان ہے: بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا جب اُنہوں نے عرض کی: کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں حاطب کی گردن اُتار دوں؟ تو فرمایا: کیا آپ ایسا کرتے ہیں؟ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدری صحابہ کے دلوں کی کیفیت پر مطلع ہو کر فرمایا: جو چاہو عمل کرو ( میں تم سے راضی ہوں اور تمہارے لیے جنت ہے) ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عند ذلك ← حق علينا أن نصلك فنزع ثوبا عليه فكساه إياه ثم ← نَعَمْ ← وَتَصُومُ رَمَضَانَ؟ ← نَعَمْ ← وتصلي الخمس ← نَعَمْ ← تشهد أن لا إله إلا الله ← لَبیَّکَ ← له ابن عباس يا سائل ← سأل سائل و ابن عباس في الصلاة ← حُصَيْنٍ ← خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو الْعَلَاءِ الْخَفَّافُ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12618

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ حصين عن ابن عباس ] · حديث 12619

12592 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا محمد بن عوف الحمصي ثنا محمد بن يوسف الفريابي ثنا سفيان الثوري عن كامل أبي العلاء عن حصين عن ابن عباس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے دروازے بند کرنے کا حکم دیا سوائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← حُصَيْنٍ ← كَامِلٍ أَبِي الْعَلاَءِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الْحِمْصِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12619

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ عمرو بن ميمون عن ابن عباس ] · حديث 12620

12593 - حدثنا إبراهيم بن هاشم البغوي ثنا كثير بن يحيى ثنا أبو عوانة عن أبي بلج عن عمرو بن ميمون Y قال : كنا عند ابن عباس فجاءه سبعة نفر وهو يومئذ صحيح قبل أن يعمى فقالوا : يا ابن عباس قم معنا أو قال : أخلوا يا هؤلاء قال : بل أقوم معكم فقام معهم فما ندري ما قالوا فرجع ينفض ثوبه ويقول : أف أف وقعوا في رجل قيل فيه ما أقول لكم الآن وقعوا في علي بن أبي طالب وقد قال نبي الله صلى الله عليه و سلم : ( لأبعثن رجلا لا يخريه الله ) فبعث إلى علي وهو في الرحى يطحن وما كان أحدكم ليطحن فجاؤوا به أرمد فقال : يا نبي الله ما أكاد أبصر فنفث في عينه وهز الراية ثلاث مرات ثم دفعها إلى ففتح له فجاء بصفية بنت حيي ثم قال لبني عمه : ( أيكم يتولا ني في الدنيا والآخرة ؟ ) ثلاثا حتى مر على آخرهم فقال علي : يانبي الله أنا وليك في الدنيا وفي الآخرة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( أنت وليي في الدنيا والآخرة ) قال : وبعث أبا بكر بسورة التوبة وبعث عليا على أثره فقال أبو بكر : يا علي لعل الله ونبيه سخطا علي فقال علي : لا ولكن نبي الله صلى الله عليه و سلم قال : ( لا ينبغي أن يبلغ عني إلا رجل مني وأنا منه ) قال : ووضع نبي الله صلى الله عليه و سلم ثوبه على علي و فاطمة و الحسن و الحسين و قال ( إنما يريد الله أن يذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا ) وكان أول من أسلم بعد خديجة من الناس قال : وشرى علي نفسه لبس ثوب النبي صلى الله عليه و سلم ثم قام مكانه قال : وكان المشركون يرمون رسول الله صلى الله عليه و سلم فجاء أبو بكر فقال : إلي يا رسول الله و أبو بكر يحسبه نبي الله فقال علي : إن نبي الله صلى الله عليه و سلم قد انطلق نحو بئر ميمون فأدركه فانطلق أبو بكر فدخل معه الغار وجعل علي يرمى بالحجارة كما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يرمى وهو يتضور قد لف رأسه في الثوب لا يخرجه حتى أصبح ثم كشف عن رأسه حين أصبح فقالوا : إنك للئيم كان صاحبك نرميه بالحجارة فلا يتضور وأنت تضور وقد استنكرنا ذلك قال : ثم خرج بالناس في غزاة تبوك فقال له علي : أخرج معك ؟ فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ( لا ) فبكى علي فقال له نبي الله صلى الله عليه و سلم : ( أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنك لست بنبي إنه لا ينبغي أن أذهب إلا وأنت خليفتي ) قال : وقال له : ( أنت ولي كل مؤمن بعدي ) قال : وسد رسول الله صلى الله عليه و سلم أبواب المسجد غير باب علي فيدخل المسجد جنبا وهو طريقه ليس له طريق غيره قال : وقال : ( من كنت مولاه فعلي مولاه ) قال ابن عباس : فأخبرنا الله في القرآن أنه قد رضي عنهم عن أصحاب الشجرة يعلم ما في قلوبهم فهل حدثنا أنه سخط عليهم بعده ؟ وقال : إن نبي الله صلى الله عليه و سلم قال لعمر حين قال : أتأذن لي فأضرب عنقه يعني حاطبا فقال : ( أفكنت فاعلا ؟ وما يدريك لعل الله أطلع على أهل بدر فقال أعملوا ما شئتم ؟ )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنو عامر قبیلہ کا ایک آدمی ‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا جبکہ وہ دوائی کرتا تھا اور معالج تھا تو اُس نے عرض کی : اے محمد! بے شک آپ کئی چیزیں بتاتے ہیں ‘پس کیا آپ اجازت دیں گے کہ میں آپ کو دوائی دوں ؟ رادی کا بیان ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اللہ کو ماننے کی دعوت دی۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں کوئی معجزہ نہ دکھاؤں؟ جبکہ آپ کے پاس کھجور اور درخت تھا۔ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اس حال میں کہ وہ سجدے کر رہا تھا اور کبھی سر اُٹھاتا تھا یہاں تک کہ (اس حال میں ) وہ آپ تک پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تُو اپنی جگہ لوٹ جا۔ پس وہ اپنی جگہ لوٹ گیا۔ حضرت عامری نے کہا: قسم بخدا! میں کبھی بھی آپ کو نہیں جھٹلاؤں گا۔ پھر کہا: اے بنو صعصعہ کی اولا د! قسم بخدا! میں ان کو کبھی بھی نہیں جھٹلاؤں گا ‘جو بات بھی وہ کریں گے۔

كنا عند ابن عباس فجاءه سبعة نفر وهو يومئذ صحيح قبل ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي بَلْجٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12620

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ عمرو بن ميمون عن ابن عباس ] · حديث 12621

12594 - حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا مسكين بن بكير ثنا شعبة عن أبي بلج عن عمرو بن ميمون عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر بالأبواب كلها فسدت إلا باب علي رضي الله عنه

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اسی دوران کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دے رہے تھے کہ ایک آدمی نے آکر دروازہ کھٹکھٹایا ‘اُس نے کہا: میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آج مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا موقعہ دے دو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس آدمی کو اندر آنے دو اور اس کے ذمہ کام یہ لگاؤ کہ وہ پردے کے پیچھے سے ہمیں پانی پکڑاتا رہے ‘پس ہم نے اسے اندر آنے دیا تو وہ ہمیں پانی دیتا رہا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم بخدا! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک بوسہ نہ دوں گا جب تک کوئی دوسرا آدمی میرے ساتھ نہ ہو۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے گھر سے آنے والی آواز کو سنا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قمیض نہ اُتارنا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي بَلْجٍ ← شُعْبَةُ، ← مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12621

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ( سالم بن أبي الجعد عن ابن عباس ) · حديث 12622

12595 - حدثنا خلف بن عمرو العكبري و محمد بن يوسف التركي قالا : ثنا عبيد الله بن عائشة ثنا عبد الواحد بن زياد ثنا الأعمش عن سالم بن أبي الجعد عن ابن عباس Y قال : جاء رجل من بني عامر إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان يداوي ويعالج فقال : يا محمد إنك تقول أشياء فهل لك أن أداويك ؟ قال : فدعاه رسول الله إلى الله عز و جل ثم قال : ( هل لك أن أريك آية ؟ ) وعنده نخل وشجرة فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم عذقا منها فأقبل إليه وهو يسجد ويرفع رأسه حتى انتهى إليه فقام بين يديه فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ارجع إلى مكانك ) فرجع إلى مكانه قال العامري : والله لا أكذبك بقول أبدا ثم قال : يا أل عامر بن صعصعة والله لا أكذبه بشيء يقوله أبدا

حضرت سالم بن ابو جعفر فرماتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘جب ایک آدمی ان کے پاس آیا عرض کی: آپ کیا فرماتے ہیں: اس آدمی کے بارے میں جس نے جان بوجھ کر قتل کیا ‘پھر توبہ کی ‘ایمان لایا اور نیک اعمال کیے ‘پھر ہدایت پر رہا؟ فرمایا: اس کیلئے توبہ کہاں ہے؟ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن اللہ کے عرش کے قریب ترین وہ مؤمن ہو گا جس کو ظلماً قتل کیا گیا ہو گا ‘اس حال میں کہ اس کا سر ‘اس کی دائیں طرف ہوگا اور اس کا قاتل اس کی بائیں طرف جبکہ اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا۔ عرض کرے گا: اے میرے رب! اس آدمی سے پوچھ! اس نے مجھے کیوں قتل کیا ؟ یہ آدمی میرے اور میری نماز کے درمیان کیوں رکاوٹ بنا ‘یعنی اگر میں زندہ رہتا تو نمازیں پڑھتا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عبيد الله بن عائشة ← خلف بن عمرو العكبري و محمد بن يوسف التركي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12622

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ( سالم بن أبي الجعد عن ابن عباس ) · حديث 12623

12596 - حدثنا محمد بن الفرج الأصبهاني قال وجدت في كتابي عن إسماعيل بن عمرو البجلي عن الصباح بن يحيى المديني عن عمار الدهني عن سالم بن أبي الجعد عن ابن عباس Y قال : بينما نحن نغسل رسول الله صلى الله عليه و سلم فجاء رجل فدق الباب فقال : أذكر كرم الله إلا أعطيتموني اليوم نصيبا من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال علي : أدخلواه واجعلوه من وراء الستر يناولنا الماء فأدخلناه فكان يناولنا الماء وقال علي : والله ما كنت أقلبه إلا كان معي آخر يقلبه قال : وسمعت في البيت : لا تنزعوا منه القميص

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وفد عبدالقیس نے نبیذ کے بارے سوال کیا ‘جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ‘اُنہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم زمین پر ہیں ‘ہمیں سبزیاں حاصل ہوتی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پینے کا حکم دیا لیکن فرمایا کہ پانی کے برتنوں (یا مشکیزوں) میں نبیذ بناؤ ‘مٹکے میں نہ بناؤ ‘دباء ‘ مزفت اور نظیر میں بھی نہ بناؤ کیونکہ مجھے شراب ‘جوأ اور کوبہ (ڈھول ڈھمکہ ) سے منع کیا گیا اور کوبہ سے مراد طبل ہے ‘ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ‘عرض کی: اے اللہ کے رسول ! پس جب وہ خوب پک جائے۔ فرمایا: اس پر پانی ڈا ل لو۔ اُنہوں نے عرض کی : پھر جب وہ سخت ہو جائے تو فرمایا: پانی ڈال لیا کرو ‘تیسری یا چوتھی بار میں فرمایا : اسے گرا دو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← الصباح بن يحيى المديني ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← وَجَدْتُ فِي کِتَابِي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الأَصْبَهَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12623

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ( سالم بن أبي الجعد عن ابن عباس ) · حديث 12624

12597 - حدثنا محمد بن علي المروزي ثنا مطهر بن الحكم المروزي ثنا علي بن الحسين بن واقد عن أبيه قال أخبرني ليث بن أبي سليم عن سالم بن أبي الجعد Y قال : كنت جالسا عند عبد الله بن عباس إذ جاءه رجل فقال : أرأيت من قتل مؤمنا متعمدا ثم تاب وآمن وعمل عملا صالحا ثم اهتدى قال : وأنى له التوبة وقد سمعت نبيك صلى الله عليه و سلم يقول : ( إن أقرب الخلائق من عرش الرحمن يوم القيامة المؤمن الذي قتل مظلوما رأسه عن يمينه وقاتله عن شماله وأوداجه يشخب يقول : رب سل هذا فيم قتلني ؟ فيم حال بيني وبين الصلاة ؟ )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثِ اسرائیل کی مثل حدیث روایت کرتے ہیں۔

كنت جالسا عند عبد الله بن عباس ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← ليث بن أبي سليم ← أَبِيهِ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ← مُطَهَّرُ بْنُ الْحَكَمِ الْمَرْوَزِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12624

chevron_left Previous
1…242526…114
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter