Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ عطاء بن أبي رباح عن ابن عمر ] · حديث 13633

13602 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا محمد بن عبد الأعلى الصنعاني ثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن حنش عن عطاء عن عبد الله بن عمر Y قال : هجرت الرواح إلى النبي صلى الله عليه و سلم فجاء أبو الحسن فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ( ادن يا أبا الحسن ) فلم يزل يدنيه حتى التقم أذنه فأتى نبي الله صلى الله عليه و سلم ليساره حتى رفع رسول الله صلى الله عليه و سلم رأسه كالفزع فقال : ( فزع الخبيث يسمعه الباب ) فقال : ( انطلق يا أبا الحسن فقده كما تقاد الشاة إلى حالبها ) فإذا أنا بعلي قد جاء بالحكم آخذا بأذنه ولهازمه جميعا حتى وقفه بين يدي النبي صلى الله عليه و سلم فلعنه نبي الله صلى الله عليه و سلم ثلاثا ثم قال نبي الله صلى الله عليه و سلم لعلي : ( اجلس ناحية ) حتى راح إلى نبي الله صلى الله عليه و سلم ناس من المهاجرين والأنصار ثم دعا به نبي الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : ( ها إن هذا سيخالف كتاب الله وسنة نبيه ) ( ويخرج من صلبه فتن يبلغ دخانها السماء ) فقال رجل من المسلمين : صدق الله ورسوله هو أقل وأذل من أن يكون منه ذلك قال : ( بلى وبعضكم [ وبعضهم ] يومئذ شيعته )

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف شام کے وقت گیا تو حضرت کا ابوالحسن آئے ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے ابوالحسن! میرے قریب ہو۔ پس مسلسل وہ قریب ہوتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھبرا کر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ان کے سننے کے سبب خبیث نے دروازہ کھٹکھٹایا ‘ فرمایا: اے ابوالحسن! اس کی قیادت کرو جس طرح بکری کو پکڑ کر اس کے دوھنے والے کی طرف لایا جاتا ہے‘ پس اچانک میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو وہ حکم کو اس کی گردن اور اس کے کانوں سے پکڑ کر لائے ۔ یہاں تک کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا ‘ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تین بار لعنت فرمائی۔ پھر نبی کریم صلی علیہ السلام نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ایک کونے میں بیٹھ جائیے۔ یہاں تک کہ مہاجرین و انصار میں سے چند لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو بلایا ‘ پھر فرمایا: جان لو! یہ عنقریب اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کی مخالفت کرے گا اور اس کی صلب سے فتنے نکلیں گے حتی کہ ان کا دھواں آسمان تک جائے گا۔ پس مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ‘ یہ اس سے کم ہے ‘ وہ اس سے زیادہ ہوں گے ۔ فرمایا: ہاں ! تم میں بعض اور ان میں سے بعض اس کے شیعہ ہوں گے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَطَاءٍ، ← حنش ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13633

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ عطاء بن أبي رباح عن ابن عمر ] · حديث 13634

13603 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا محمد بن عبد الأعلى ثنا معتمر عن أبيه عن حنش عن عطاء عن ابن عمر Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( من ولي شيئا من أمر المسلمين لم ينظر الله في حاجته حتى ينظر في حوائجهم )

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمانوں میں سے کسی کام کا ولی بنے تو اللہ اس کی حاجت کی طرف نظر نہیں فرمائے گا جب تک وہ مسلمانوں کی ضرورت پوری نہ کرے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءٍ، ← حنش ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13634

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ عطاء بن أبي رباح عن ابن عمر ] · حديث 13635

13604 - حدثنا الحسين بن إسحاق ثنا محمد بن عبد الأعلى ثنا معتمر عن أبيه عن حنش عن عطاء عن ابن عمر Y قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو قائل بكفه هكذا كأنه يشبر شيئا : ( من فارق جماعة المسلمين شبرا خرج من عنقه ربقه الاسلام والمخالفين بألويتهم يتناولونها يوم القيامة من وراء ظهورهم ومن مات من غير إمام جماعة مات ميتة جاهلية )

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا‘ آپ اپنی ہتھیلی کے اشارے سے بات کر رہے تھے ‘ گویا آپ بالشت سے کسی چیز سے ناپ رہے ہیں‘ جو مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہوا ایک بالشت بھی اُس نے اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتارا ‘ مخالفین اس کو ان کی پشت کے پیچھے سے قیامت کے دن پکڑیں گے اور جو امام کی جماعت سے علیحدہ ہوا وہ جاہلیت کی موت مرا۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءٍ، ← حنش ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13635

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ عطاء بن أبي رباح عن ابن عمر ] · حديث 13636

13605 - حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا يحيى بن عبد الله البابلتي ثنا أيوب بن نهيك الحلبي قال سمعت عطاء بن أبي رباح يقول سمعت عبد الله بن عمر Y يقول سمعت نبي الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( لاتسبوا أمواتكم فإنه لايحل سبهم )

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم اپنے مردوں کو گالی نہ دو کیونکہ ان کو گالی دینا جائز نہیں ہے۔

لاتسبوا أمواتكم فإنه لايحل سبهم ← نبي الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أيوب بن نهيك الحلبي ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13636

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ عطاء بن أبي رباح عن ابن عمر ] · حديث 13637

13606 - حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا يحيى بن عبد الله البابلتي ثنا أيوب بن نهيك قال سمعت عطاء يقول : سمعت ابن عمر [ يقول ] Y سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول وعاد أبا سلمة وهو وجع فسمع قول أم سلمة وهي تبكي فنكل نبي الله عن الدخول حين سمعها تبكيه بكتاب الله تقول { وجاءت سكرة الموت بالحق ذلك ما كنت منه تحيد } فدخل ثم سلم ثم قال : ( أخلف الله عليك ياأم سلمة ) فلما خرج ومعه أبو بكر قال له : رأيتك يارسول الله كرهت الدخول لأنهم ينوحون قال : ( لست أدخل دارا فيها نوح ولا كلب أسود )

حضرت عطا فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کی جو دردمند تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بھی سنی ‘ اس حال میں کہ وہ رو رہی تھیں ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے نکلنے کا ارادہ ترک کر دیا ‘ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو قرآن کی آیت پڑھتے ہوئے روتے سنا ‘ وہ پڑھ رہی تھیں: ”اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آئی ‘ یہ ہے وہ موت جس سے تو بھاگتا تھا (ق:۱۹)۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر داخل ہو کر سلام کیا‘ پھر فرمایا: اے ام سلمہ! اللہ تعالیٰ آپ کو اچھا نا ئب عطا فرمائے گا‘ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو حضرت ابو بکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ‘ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میں نے خیال کیا کہ آپ اندر داخل ہونا پسند نہیں کر رہے تھے کیونکہ وہ نوحہ کر رہے تھے ‘ فرمایا: میں کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتا جس میں نوحہ اور کالا کتا ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13637

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ عطاء بن أبي رباح عن ابن عمر ] · حديث 13638

13607 - حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا يحيى بن عبد الله البابلتي ثنا أيوب بن نهيك قال سمعت عطاء بن أبي رباح يقول سمعت ابن عمر Y يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم وأتى صاحب بز فاشترى منه قميصا بأربعة دراهم فخرج وهو عليه فإذا رجل من الأنصار فقال : [ يا ] رسول الله صلى الله عليه و سلم اكسني قميصا كساك الله من ثياب الجنة فنزع القميص فكساه إياه ثم رجع إلى صاحب الحانوت فاشترى منه قميصا بأربعة دراهم وبقي معه درهمان فاذا هو بجارية في الطريق تبكي فقال : ( ما يبكيك ؟ ) فقالت يارسول الله دفع إلي أهلي درهمين أشتري بهما دقيقا فهلكا فدفع النبي صلى الله عليه و سلم إليها الدرهمين الباقيين ثم ولت وهي تبكي فدعاها فقال : ( مايبكيك وقد أخذت الدرهمين ؟ ) قالت : أخاف أن يضربوني فمشى معها إلى أهلها فسلم فعرفوا صوته ثم عاد فسلم ثم عاد فسلم ثم عاد فثلث فردوا فقال : ( أسمعتم أول السلام ؟ ) قالوا : نعم لكن أحببنا أن تزيدنا من السلام فما أشخصك بأبينا وأمنا ؟ قال : ( أشفقت هذه الجارية أن تضربوها ) قال صاحبها : فهي حرة لوجه الله لممشاك معها فبشرهم نبي الله صلى الله عليه و سلم بالخير والجنة ثم قال : ( لقد بارك الله في العشرة كسا الله نبيه قميصا ورجلا من الأنصار قميصا وأعتق الله منها رقبة وأحمد الله هو الذي رزقنا هذا بقدرته )

حضرت عطاء بن ابور باح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا ‘ وہ فرماتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ‘ کپڑے والا آیا۔ پس اس سے آپ نے چار درہم کے بدلے قمیص خریدی‘ پس وہ نکلا اس حال میں کہ وہ ایک قمیص کے اوپر تھا‘ پس اچانک ایک انصاری نظر آیا‘ عرض کی: اے اللہ کے رسول ! قمیص مجھے پہنا دیجئے ! اللہ تعالی ٰآپ کو جنت کے کپڑے پہنائے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قمیض اُتار کر اسے پہنا دی ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سے زیادہ قمیض بعض اوقات او پر نیچے پہنا کرتے تھے ) پھر دُکان والے کی طرف لوٹے اور اس سے چار درہم کے بدلے ایک قمیض خریدی اور دو درہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باقی رہ گئے ‘ راستے میں ایک لونڈی رو رہی تھی ۔ فرمایا: کیوں روتی ہے؟ اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرے گھر والوں نے مجھے دو درہم دیئے تھے ‘ میں نے ان کے بدلے آٹا خرید ا لیکن وہ ضائع ہو گیا ہے ( گر گیا ہے )۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی دو درہم اس کو دے دیئے ‘ پھر وہ لوٹی تو رو رہی تھی‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: کیوں روتی ہے؟ حالانکہ تو نے دو درہم بھی لے لیے ہیں۔ اس نے عرض کی : مجھے ڈر ہے کہ گھر والے مجھے ماریں گے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ چل پڑے ‘ اس کے گھر والوں تک گئے‘ پس سلام کیا‘ گھر والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آوز پہچان لی پھر دوبارہ سہ بارہ سلام کیا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا ‘ فرمایا: کیا تم نے پہلا سلام نہیں سنا تھا؟ عرض کی : جی ہاں! لیکن ہم نے پسند کیا کہ آپ ہم پر زیادہ سے زیادہ سلام فرمائیں‘ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! کیا کام ہے؟ فرمایا: یہ لونڈی ڈر رہی تھی کہ وہ مجھے ماریں گے۔ اس کے مالک نے کہا: ( آج کے بعد ) اللہ کے واسطے یہ آزاد ہے ‘ اس لیے کہ اس کے ساتھ آپ آئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھلائی اور جنت کی خوشخبری دی ‘ پھر فرمایا: دس میں اللہ برکت فرمائے ! اللہ نے اپنے نبی کو قیض پہنائی تو ایک انصاری نے قمیض لے لی ‘ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری قمیض خریدی) ان میں سے اللہ نے لونڈی کو آزاد فرمایا ‘ میں اللہ کی حمد کرتا ہوں جس نے اپنی قدرت سے ہمیں یہ رزق دیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13638

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ عطاء بن أبي رباح عن ابن عمر ] · حديث 13639

13608 - حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا يحيى بن عبد الله البابلتي ثنا أيوب بن نهيك قال سمعت عطاء بن أبي رباح يقول سمعت ابن عمر Y يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( من يذهب بكتابي هذا إلى طاغية الروم ؟ ) فعرض ذلك عليهم ثلاث مرات فقال عند ذلك : ( من يذهب وله الجنة ؟ ) فقال رجل من الأنصار يدعى عبيد الله بن عبد الخالق : أنا أذهب به ولي الجنة إن هلكت دون ذلك قال : ( نعم لك الجنة إن بلغت وإن قتلت وإن هلكت فقد أوجب الله لك الجنة ) فانطلق بكتاب النبي صلى الله عليه و سلم حتى بلغ الطاغي فقال : أنا رسول رسول رب العالمين فأذن له فدخل فعرف طاغية الروم أنه قد جاء بالحق من عند نبي مرسل ثم عرض عليه كتاب النبي صلى الله عليه و سلم فجمع الروم عنده ثم عرضه عليهم فكرهوا ما جاء به وآمن به رجل منهم فقتل عند إيمانه ثم إن الرجل رجع إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره بالذي كان منه وما كان من قتل الرجل فقال النبي صلى الله عليه و سلم عند ذلك : ( يبعثه الله أمة وحده ) لذلك الرجل المقتول

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : میرا یہ خط طاغیہ روم کی طرف کون لے جائے گا؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر یہ بات تین بار دہرائی ‘ اس کے بعد فرمایا: جو لے جائے گا ‘ اس کیلئے جنت ہے۔ ایک انصاری آدمی نے عرض کی: میں لے جاؤں گا ‘ اس سے پہلے اگر میں مر گیا تو میرے لیے جنت ہو گی۔ اس کا نام عبید اللہ بن عبد الخالق تھا ؟ فرمایا: ہاں! اگر تو پہنچ گیا یا (راستے میں ) فوت ہو گیا تو تیرے لیے جنت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے جنت واجب فرما دی ہے۔ پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط لے کر سرکش روم تک پہنچا۔ اس نے کہا: میں رب العالمین کے رسول کا قاصد ہوں۔ پس اس نے ملاقات کی اجازت دی ‘ وہ اس کے پاس گئے ‘ پس طاغیہ روم پہچان گیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حق اور سچ لے کر آئے ہیں۔ پھر اس کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پیش کیا ‘ پس اس نے رومیوں کو اپنے پاس اکٹھا کیا پھر ان پر خط پیش کیا تو انہوں نے نا پسند کیا ‘ اس چیز کو جو وہ لائے ‘ ان میں سے ایک آدمی ایمان لایا تو اس کے ایمان لاتے ہی اسے قتل کر دیا گیا۔ پھر وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا اور آ کر خبر دی اس بات کی جو اس کی طرف سے سامنے آئی اور آدمی کے قتل ہونے والا واقعہ بھی بتایا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن ) اس ایک مقتول کو پوری اُمت بنا کر اُٹھائے گا۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13639

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ عطاء بن أبي رباح عن ابن عمر ] · حديث 13640

13609 - وباسناده قال سمعت ابن عمر Y يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( مامن عبد مؤمن يتوب إلى الله قبل الموت بشهر إلا قبل الله منه وأدنى من ذلك وقبل موته بيوم أو ساعة يعلم الله منه التوبة والاخلاص إلا قبل الله منه )

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو کوئی آدمی مرنے سے ایک ماہ پہلے تو بہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ‘ اس سے کم مدت کی بھی‘ جو ایک دن یا ایک گھڑی مرنے سے پہلے تو بہ کرتا ہے اخلاص سے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← وَبِإِسْنَادِهِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13640

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ عطاء بن أبي رباح عن ابن عمر ] · حديث 13641

13610 - حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا يحيى بن عبد الله البابلتي ثنا أيوب بن نهيك قال سمعت عطاء بن أبي رباح يقول سمعت ابن عمر Y يقول سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يوم ( أدخل رجل في قبره فأتاه ملكان فقالا له : إنا ضاربوك ضربة فقال لهما : على م تضرباني ؟ فضرباه ضربة أمتلأ قبره منها نارا فتركاه حتى أفاق وذهب عنه الرعب فقال لهما : على م ضربتماني ؟ فقالا : إنك صليت صلاة وأنت على غير طهور ومررت برجل مظلوم ولم تنصره )

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ایک آدمی کو قبر میں رکھا گیا‘ اُس کے پاس دو فرشتے آئے ‘ دونوں نے اس کو کہا: ہم دونوں تجھے ماریں گے ‘ اُس نے ان دونوں سے کہا: اس نے کہا: میری کسی غلطی پر تم مجھے مارو گے؟ پس انہوں نے اسے ایک ایسی ضرب لگائی جس سے اس کی قبر آگ سے بھر گئی۔ پس انہوں نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ اسے افاقہ ہوا اور ڈر ختم ہو گیا تو اس نے ان سے کہا: کس بات پر تم نے مجھے مارا ہے؟ انہوں نے کہا: ایک دن تو نے بغیر وضو کے نماز پڑھی اور ایک مظلوم کے پاس سے گزرا لیکن تو نے اس کی امداد نہ کی ۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13641

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ عطاء بن أبي رباح عن ابن عمر ] · حديث 13642

13611 - حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا يحيى بن عبد الله البابلتي ثنا أيوب بن نهيك قال سمعت عطاء بن أبي رباح يقول سمعت ابن عمر Y يقول سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يوم الجمعة وصلى بالناس العصر وهو قاعد في الركعتين الأوليين فمر كلب ليقطع عليه صلاته فأشفق أن يمر عليه فدعا سعد بن أبي وقاص على الكلب فأهلكه الله بقدرته فلما فرغ النبي صلى الله عليه و سلم من صلاته ونظر إلى الكلب قد هلك قال : ( من الداعي منكم على هذا الكلب ؟ ) فلم يتكلم أحد فأعاد نبي الله صلى الله عليه و سلم فقال سعد عند ذلك : أنا الداعي عليه يارسول الله بأبي أنت و أمي أشفقت أن يقطع عليك صلاتك فدعوت عليه فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ( كيف دعوت عليه ياسعد ؟ ) فقال سعد : سبحانك لاإله إلا أنت ياذا الجلال والاكرام أهلك هذا الكلب أن يقطع على نبيك صلاته فقال نبي الله صلى الله عليه و سلم : ( يا سعد لقد دعوت في يوم وساعة بكلمات لو دعوت على من بين السماوات لاستجيب لك فأبشر ياسعد )

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ جمعہ کا دن تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی اس حال میں کہ آپ دو رکعتوں میں بیٹھنے والے تھے کہ ایک کتا گزرا تا کہ آپ کی نماز توڑ دے ‘ پس ڈر تھا کہ وہ گزرے گا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کتے کو بددعا دی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اسے قتل کر دیا۔ پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ‘ کتے کی طرف دیکھا کہ وہ مرگیا ہے۔ فرمایا: تم میں سے کس نے اس کتے کے خلاف دعا کی؟ کسی نے کلام نہ کیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں اس پر آواز لگانے والا تھا ‘ اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! مجھے ڈر لگا کہ وہ آپ کی نماز توڑ دے گا تو میں نے اس کے خلاف دعا کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے سعد ! نے کیسے (کن الفاظ میں ) اس کے خلاف دعا کی ؟ پس حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ’’ تو پاک ہے ‘ تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں‘ اے بزرگی اور عزت والے! اس کتے کو ہلاک کر دے ‘ ایسا نہ ہو کہ یہ تیرے نبی کی نماز توڑ دے ‘‘ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سعد! تو نے دن میں کسی گھڑی میں ان کلمات کے وسیلے سے دعا کی ہے ‘ اگر تو دعا کرتا ان کے خلاف جو آسمانوں کے درمیان ہیں تو قبول کی جاتی ‘ اے سعد! تجھے خوشخبری ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13642

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ عطاء بن أبي رباح عن ابن عمر ] · حديث 13643

13612 - حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا يحيى بن عبد الله البابلتي ثنا أيوب بن نهيك قال سمعت عطاء بن أبي رباح يقول سمعت ابن عمر Y يقول سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : ( إن كل جارية بها حبل حرام على صاحبها حتى تضع مافي بطنها وإن كل حمار يعتمل عليه حرام لحمه وإن الثوم حرام ) ثم إن النبي صلى الله عليه و سلم أحل الثوم وأمر من أكله أن لا يخرج إلى المسجد حتى يذهب ريحه إنه أذى فلا يقرب من أكله المسجد

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: وہ لونڈی جو حاملہ ہو ‘ وہ اپنے مالک پر حرام ہے حمل جننے تک ‘ اور ہر وہ گدھا جس سے کام کروایا جائے (یعنی پالتو گدھا) اس کا گوشت حرام ہے ‘ یعنی گھر یلو پالتو گدھا حرام اور جنگلی گدھا حلال ہے)۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13643

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ عطاء بن أبي رباح عن ابن عمر ] · حديث 13644

13613 - حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا يحيى بن عبد الله البابلتي ثنا أيوب بن نهيك قال سمعت عطاء بن أبي رباح يقول سمعت ابن عمر Y يقول سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : ( إذا مات أحدكم قلا تحبسوه وأسرعوا به إلى قبره وليقرأ عند رأسه بفاتحة الكتاب وعند رجليه بخاتمة البقرة في قبره )

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اس کو اپنے پاس نہ روکے رکھو ‘ اس کو جلدی دفن کر دو اور اس کے سر کے پاس سورہ فاتحہ اور پاؤں کے پاس سورۃ بقرہ کی آخری آیتیں تلاوت کرو۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13644

chevron_left Previous
1…109110111…114
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter