المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ عطاء بن أبي رباح عن ابن عمر ] · حديث 13633
13602 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا محمد بن عبد الأعلى الصنعاني ثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن حنش عن عطاء عن عبد الله بن عمر Y قال : هجرت الرواح إلى النبي صلى الله عليه و سلم فجاء أبو الحسن فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ( ادن يا أبا الحسن ) فلم يزل يدنيه حتى التقم أذنه فأتى نبي الله صلى الله عليه و سلم ليساره حتى رفع رسول الله صلى الله عليه و سلم رأسه كالفزع فقال : ( فزع الخبيث يسمعه الباب ) فقال : ( انطلق يا أبا الحسن فقده كما تقاد الشاة إلى حالبها ) فإذا أنا بعلي قد جاء بالحكم آخذا بأذنه ولهازمه جميعا حتى وقفه بين يدي النبي صلى الله عليه و سلم فلعنه نبي الله صلى الله عليه و سلم ثلاثا ثم قال نبي الله صلى الله عليه و سلم لعلي : ( اجلس ناحية ) حتى راح إلى نبي الله صلى الله عليه و سلم ناس من المهاجرين والأنصار ثم دعا به نبي الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : ( ها إن هذا سيخالف كتاب الله وسنة نبيه ) ( ويخرج من صلبه فتن يبلغ دخانها السماء ) فقال رجل من المسلمين : صدق الله ورسوله هو أقل وأذل من أن يكون منه ذلك قال : ( بلى وبعضكم [ وبعضهم ] يومئذ شيعته )
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف شام کے وقت گیا تو حضرت کا ابوالحسن آئے ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے ابوالحسن! میرے قریب ہو۔ پس مسلسل وہ قریب ہوتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھبرا کر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ان کے سننے کے سبب خبیث نے دروازہ کھٹکھٹایا ‘ فرمایا: اے ابوالحسن! اس کی قیادت کرو جس طرح بکری کو پکڑ کر اس کے دوھنے والے کی طرف لایا جاتا ہے‘ پس اچانک میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو وہ حکم کو اس کی گردن اور اس کے کانوں سے پکڑ کر لائے ۔ یہاں تک کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا ‘ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تین بار لعنت فرمائی۔ پھر نبی کریم صلی علیہ السلام نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ایک کونے میں بیٹھ جائیے۔ یہاں تک کہ مہاجرین و انصار میں سے چند لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو بلایا ‘ پھر فرمایا: جان لو! یہ عنقریب اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کی مخالفت کرے گا اور اس کی صلب سے فتنے نکلیں گے حتی کہ ان کا دھواں آسمان تک جائے گا۔ پس مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ‘ یہ اس سے کم ہے ‘ وہ اس سے زیادہ ہوں گے ۔ فرمایا: ہاں ! تم میں بعض اور ان میں سے بعض اس کے شیعہ ہوں گے۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَطَاءٍ، ← حنش ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13633
