المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ مجاهد عن ابن عمر ] · حديث 13597
13566 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن ابن مجاهد عن أبيه عن ابن عمر Y قال : جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم رجلان أحدهما من الأنصار والآخر من ثقيف فسبقه الأنصاري فقال النبي صلى الله عليه و سلم للثقفي : ( ياأخا ثقيف سبقك الأنصاري ) فقال الأنصاري : أنا [ أبدره ] يا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال له : ( ياأخا ثقيف سل عن حاجتك وإن شئت أن أخبرك عما جئت به تسأل عنه ) قال : فذاك أعجب إلي أن تفعل قال : ( فإنك تسألني عن صلاتك وعن ركوعك وعن سجودك وعن صيامك وتقول : ماذا لي فيه ؟ ) قال : إي والذي بعثك بالحق قال : ( فصل أول الليل وآخره ونم وسطه ) قال : فإن صليت وسطه قال : ( فأنت إذن قال فإذا قمت إلى الصلاة فركعت فضع يدك على ركبتيك وفرج بين أصابعك ثم ارفع رأسك حتى يرجع كل عضو إلى مفصله وإذا سجدت فامكن جبهتك من الأرض ولا تنقر وصم الليالي البيض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة ) ثم أقبل على الأنصاري فقال : ( سل عن حاجتك وإن شئت أخبرتك ) قال : فذلك أعجي إلي قال : فإنك جئت تسألني عن خروجك من بيتك تؤم البيت الحرام وتقول ماذا لي فيه ؟ [ وجئت تسأل عن وقوفك بعرفة وتقول : ماذا لي فيه ؟ ] وعن رميك الجمار وتقول : ماذا لي فيه ؟ وعن طوافك بالبيت وتقول : ماذا لي فيه ؟ وعن حلقك رأسك وتقول : ماذا لي فيه ؟ ) قال : إي والذي بعثك بالحق قال : ( أما خروجك من بيتك تؤم البيت الحرام فإن لك بكل وطأة تطأها راحلتك يكتب الله لك بها حسنة ويمحو عنك بها سيئة وأما وقوفك بعرفة فإن الله عز و جل ينزل إلى السماء الدنيا فيباهي بهم الملائكة فيقول : هؤلاء عبادي جاؤوني شعثا غبرا من كل فج عميق يرجون رحمتي ويخافون عذابي ولم يروني فكيف لو رأوني ؟ فلو كان عليك مثل رمل عالج أومثل أيام الدنيا أ ومثل قطر السماء ذنوبا غسلها الله عنك وأما رميك الجمار فإنه مذخور لك وأما حلقك رأسك فإن لك بكل شعرة تسقط حسنة فإذا طفت بالبيت خرجت من ذنوبك كيوم ولدتك أمك )
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں دو آدمی آئے ‘ ان میں سے ایک انصاری تھا اور دوسرا بنو ثقیف سے تھا۔ پس انصاری نے اس سے سبقت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقفی سے فرمایا: اے ثقیف کے بھائی ! انصاری (بھائی) نے تجھ سے سبقت لے لی ہے؟ انصاری نے عرض کی: میری دونوں ٹانگوں کے درمیان فاصلہ اس سے زیادہ ہے ‘ اے اللہ کے رسول ! پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے ثقفی ! اپنے کام کے بارے سوال کر اور اگر تو چاہتا ہے کہ میں تجھے خبر دوں اس چیز کے بارے میں جو تجھے لائی ہے اور تو اس کے بارے پوچھتا ہے۔ اس نے عرض کی: وہ میرے نزدیک خوش ترین ہے کہ آپ کریں۔ فرمایا: کیونکہ تو مجھ سے اپنی نماز ‘ اپنے رکوع ‘ اپنے سجود اور اپنے روزے کے بارے پوچھتا ہے اور تو کہتا ہے کہ میرے لیے اس میں کیا اجر ہے؟ اس نے عرض کی: جی ہاں ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ فرمایا: رات کی ابتداء اور انتہاء میں نماز پڑھ اور اس کے درمیان میں نیند پوری کر۔ اس نے عرض کی: جب میں درمیان میں بھی نماز پڑھوں۔ فرمایا: پھر تو تو ہی ہے (تیری مرضی ہے)۔ فرمایا: جب تو نماز کیلئے کھڑا ہو اور رکوع کرے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھ اور اپنی انگلیوں کو کھول کے رکھ پھر اپنا سر اُٹھا یہاں تک کہ ہر عضو اپنے جوڑ کی طرف لوٹ آئے (یعنی نماز مطمئن ہو جائے ‘ یہی اطمینان فی الارکان ہے ) اور جب تو سجدہ کرے تو تیری پیشانی زمین سے پوری طرح لگ جائے اور تو ٹھونگے نہ مارے ‘ روشن راتوں یعنی تیرھویں‘ چودھویں اور پندرھویں کے روزے رکھ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصاری کی طرف متوجہ ہوئے ‘ فرمایا: تو اپنی ضرورت کے حوالے سے سوال کر اور تو چاہتا ہے کہ میں تجھے بتاؤں۔ اس نے عرض کی : پس یہ میرے لیے تعجب خیز ہے۔ فرمایا: تو مجھ سے یہ سوال کرنے کیلئے آیا ہے کہ تو اپنے گھر سے بیت اللہ کا ارادہ کرتے ہوئے نکلے اور تو کہتا ہے کہ اس میں میرے لیے کیا ہے؟ اور اپنی رمی جمار کے بارے پوچھتا ہے اور تو کہتا ہے: اس میں میرے لیے کیا ہے؟ اور تو اپنے بیت اللہ کے طواف کے بارے پوچھتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں میرے لیے کیا ہے؟ اور تو اپنے سر کا حلق ( منڈوانا ) کروانے کے بارے پوچھتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں میرے لیے کیا ہے؟ اس نے عرض کی: جی ہاں! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ فرمایا: بہر حال تیرا اپنے گھر سے بیت الحرام کے ارادے سے نکلنا تو تیرے ہر قدم پر جو تیری سواری زمین پر رکھے ‘ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ دس نیکیاں لکھے گا اور دس گناہ مٹائے گا اور جہاں تک تعلق ہے تیرے عرفات میں ٹھہرنے کا تو اللہ کی رحمت آسمان دنیا پر اترتی ہے اور وہ ملائکہ کے سامنے فجر سے ان کا تذکرہ کرتا ہے ( جو وہاں ٹھہرتے ہیں ) ‘ پس اللہ فرماتا ہے۔ یہ میرے وہ بندے ہیں جو میرے پاس اس حال میں آئے ہیں کہ ان کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور ان پر گردو غبار پڑی ہوئی ہے ‘ ہر گہری وادی سے ‘ یہ میری رحمت کے اُمیدوار ہیں‘ میرے عذاب سے ڈرتے ہیں حالانکہ انہوں نے مجھے (اور میرے عذاب کو ) دیکھا نہیں۔ پس ان کا کیا حال ہو ‘ اگر مجھے دیکھ لیں‘ پس اگر تیرے اوپر ٹیلے کی ریت کے برابر یا دنیا کے دنوں کے برابر (جب سے دنیا بنی ہے اور جب ختم ہو گی ) یا بادلوں کے قطروں کے برابر (جب سے بادل پیدا کیے گئے جتنی بار برسے یا برسیں گے ) گناہ ہوں تو اللہ تعالی ٰان کو تیرے اوپر سے دھو دے گا اور رہا تیرا جمرات کو کنکریاں مارنا تو یہ تیرے لیے ذخیرہ (آخرت) ہے ‘ تیرا اپنے سر کا حلق کروانا تو تیرے لیے ہر بال جو گرتا ہے اس کے بدلے میں نیکی ہے‘ پس جب تو حج کا طواف کر کے فارغ ہوتا ہے تو اس طرح گناہوں سے نکل جاتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن تیری ماں نے تجھے جنا۔
الْأَنْصَارِيُّ، ← الْآخَرُ مِنْ ثَقِيفٍ، فَسَبَقَهُ الْأَنْصَارِيُّ ← جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم رجلان أحدهما من الأنصار ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ مُجَاهِدٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13597
