المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب · حديث 18503
654 - حدثنا سليمان بن الحسن العطار البصري ثنا عبد الواحد بن غياث ثنا عبد العزيز بن مسلم ثنا عبد الملك بن أبي سليمان عن عطاء عن صفوان بن يعلى عن أبيه يعلى قال Y قلت لعمر بن الخطاب : لوددت أني رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا نزل عليه لوحي قال : فكنا في سفر مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فنزل منزلا وجاءه أعرابي عليه جبة عليها الزعفران فقال : يا رسول الله أني أحرمت بعمرة والناس يسخرون مني فكيف أصنع ؟ فسكت عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم فأنزل الله الوحي فأشار إلي عمر بيده فأدخلت رأسي الخباء فإذا رسول الله صلى الله عليه و سلم محمر عيناه وجبينه فسري عنه فقال : أين السائل عن العمرة ؟ فقال : أنا يا رسول الله فقال : انزع عنك جبتك وما كنت صانعا في حجك فاصنعه في عمرتك
حضرت یعلی فرماتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطاب کی خدمت میں عرض کی: میری خواہش ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں دیکھوں کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ فرماتے ہیں: ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ایک سفر میں تھے۔ آپ ایک مقام (جعرانہ) پر اترے۔ ایک دیہاتی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے اوپر جبہ تھا اور اُس نے زعفران کی خوشبو لگا رکھی تھی۔ اُس نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے جبکہ لوگ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں۔ میں کیا کروں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے کوئی جواب نہ دیا۔ پس اللہ نے آپ پر وحی نازل فرمائی۔ حضرت عمر نے ہاتھ سے میری طرف اشارہ کیا۔ میں نے اپنا سر خیمہ میں داخل کیا۔ (تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا ، ) آپ کی آنکھیں اور پیشانی سرخ ہو گئی تھیں۔ پس جب یہ کیفیت ختم ہو گئی تو فرمایا: عمرہ کے بارے سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ( وہ حاضر ہوا) اُس نے عرض کی : میں ہوں اے اللہ کے رسول ! تو فرمایا: جبہ اتار دے اور اپنے عمرہ میں اسی طرح کر جس طرح تو نے اپنے حج میں کیا۔
أَبِيهِ يَعْلَی ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی ← عَطَاءٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18503
