المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم خديجة وستها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 18935
1086 - حدثنا محمد بن جعفر بن أعين البغدادي حدثنا أبو الأشعث أحمد بن المقدام ثنا زهير بن العلاء ثنا القيسي ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة قال Y تزوج رسول الله صلى الله عليه و سلم خمس عشرة امرأة منهن ست من قريش وواحدة من خلفاء قريش وسبع من سائر العرب وواحدة من بني إسرائيل ولم يتزوج في الجاهلية منهن غير واحدة ولم تلد منهن غيرها فأول من تزوج في الجاهلية خديجة بنت خوليد بن أسد بن عبد العزى بن قصي وكانت قبله عند عتيق بن عائد بن عبد الله بن عمر بن مخزوم ثم خلف عليها بعد عتيق أبو هالة هند بن زرارة بن نباش بن حبيب بن صرد بن سلامة بن جروة بن أسيد بن عمرو بن تميم فولدت له هند بن هند قال زهير : قال يونس بن عبيد : فمر هند بالبصرة مجتازا فهلك بها فلم يقم سوق ولا كلا يومئذ فتزوجها النبي صلى الله عليه و سلم بعدهما فولدت له في الجاهلية عبد مناف وولدت له في الإسلام غلامين وأربع بنات
حضرت قتادہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پندرہ عورتوں سے نکاح فرمایا ‘ان میں سے چھ کا تعلق قبیلۂ قریش سے تھا ‘ایک قریش کے حلیفوں سے تھیں‘سات دیگر عربوں سے اور ایک کا تعلق بنواسرائیل سے تھا ‘زمانۂ جاہلیت میں ایک کے علاوہ کسی سے نکاح نہ کیا اور ان میں سے اسی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولادیں ہوئیں۔ پس زمانۂ جاہلیت میں وہ پہلی عورت جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کیا وہ حضرت خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی ہیں‘اس سے پہلے ان کا نکاح عتیق بن عائذ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم سے تھا‘پھر عتیق کے بعد ابو ہالہ ہند بن زرار بن نباش بن حبیب بن صرد بن سلامہ بن جروه بن اسید سے عمرو بن تمیم سے نکاح ہوا۔ پس ان سے حضرت خدیجہ نے ہند بن ہند کو جنم دیا۔ راوی حضرت زہیر فرماتے ہیں : یونس بن عبید کا قول ہے: پس حضرت ہند ‘بصرہ سے چلتے ہوئے گزرے تو وہاں فوت ہوئے‘پس اس دن کوئی بازار نہ لگا اور ان دونوں کے بعد ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کیا ‘زمانۂ جاہلیت میں حضرت عبد مناف اور اسلام میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں پیدا ہوئیں۔
قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← القيسي ← زهير بن العلاء ← أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ← محمد بن جعفر بن أعين البغدادي
Hadith 18935
