Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم خديجة وستها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 18935

1086 - حدثنا محمد بن جعفر بن أعين البغدادي حدثنا أبو الأشعث أحمد بن المقدام ثنا زهير بن العلاء ثنا القيسي ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة قال Y تزوج رسول الله صلى الله عليه و سلم خمس عشرة امرأة منهن ست من قريش وواحدة من خلفاء قريش وسبع من سائر العرب وواحدة من بني إسرائيل ولم يتزوج في الجاهلية منهن غير واحدة ولم تلد منهن غيرها فأول من تزوج في الجاهلية خديجة بنت خوليد بن أسد بن عبد العزى بن قصي وكانت قبله عند عتيق بن عائد بن عبد الله بن عمر بن مخزوم ثم خلف عليها بعد عتيق أبو هالة هند بن زرارة بن نباش بن حبيب بن صرد بن سلامة بن جروة بن أسيد بن عمرو بن تميم فولدت له هند بن هند قال زهير : قال يونس بن عبيد : فمر هند بالبصرة مجتازا فهلك بها فلم يقم سوق ولا كلا يومئذ فتزوجها النبي صلى الله عليه و سلم بعدهما فولدت له في الجاهلية عبد مناف وولدت له في الإسلام غلامين وأربع بنات

حضرت قتادہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پندرہ عورتوں سے نکاح فرمایا ‘ان میں سے چھ کا تعلق قبیلۂ قریش سے تھا ‘ایک قریش کے حلیفوں سے تھیں‘سات دیگر عربوں سے اور ایک کا تعلق بنواسرائیل سے تھا ‘زمانۂ جاہلیت میں ایک کے علاوہ کسی سے نکاح نہ کیا اور ان میں سے اسی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولادیں ہوئیں۔ پس زمانۂ جاہلیت میں وہ پہلی عورت جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کیا وہ حضرت خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی ہیں‘اس سے پہلے ان کا نکاح عتیق بن عائذ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم سے تھا‘پھر عتیق کے بعد ابو ہالہ ہند بن زرار بن نباش بن حبیب بن صرد بن سلامہ بن جروه بن اسید سے عمرو بن تمیم سے نکاح ہوا۔ پس ان سے حضرت خدیجہ نے ہند بن ہند کو جنم دیا۔ راوی حضرت زہیر فرماتے ہیں : یونس بن عبید کا قول ہے: پس حضرت ہند ‘بصرہ سے چلتے ہوئے گزرے تو وہاں فوت ہوئے‘پس اس دن کوئی بازار نہ لگا اور ان دونوں کے بعد ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کیا ‘زمانۂ جاہلیت میں حضرت عبد مناف اور اسلام میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں پیدا ہوئیں۔

قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← القيسي ← زهير بن العلاء ← أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ← محمد بن جعفر بن أعين البغدادي

Hadith 18935

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم خديجة وستها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 18936

1087 - حدثنا القاسم بن عبد الله بن محمد الأخميمي المصري ثنا عمي محمد بن مهدي ثنا عنبسة بن خالد بن يزيد حدثني عمي يونس بن يزيد عن ابن شهاب عن أبي أمامة بن سهل عن أبيه قال Y تزوج رسول الله صلى الله عليه و سلم بمكة خديجة بنت خويلد وكانت قبله عند عتيق بن عائذ المخزومي ثم تزوج بمكة عائشة لم يتزوج بكرا غيرها ثم تزوج حفصة بنت عمر وكانت قبله تحت خنيس بن حذافة السهمي ثم تزوج سودة بنت زمعة وكانت قبله تحت السكن بن عمرو أخي بني عامر بن لؤي ثم تزوج أم حبيبة بنت أبي سفيان وكانت قبله عند عبيد الله بن جحش الأسدي أسد خزيمة ثم تزوج أم سلمة بنت أبي أمية وكان اسمها هند وكانت تحت أبي سلمة عبد الله بن عبد الأسد بن عبد العزى ثم تزوج زينب بنت جحش وكانت قبله تحت زيد بن حارثة ثم تزوج ميمونة بنت الحارث وسبى جوبرية بنت الحارث بن أبي ضرار من بني المصطلق من خزاعة في غزوته التي هدم فيها مناة المريسيع وسبى صفية بنت حيي بن أخطب من بني الضير وكانت مما أفاء الله عليه فقسم لها واستسر ريحانة من بني قريظة ثم أعتقها فلحقت بأهلها واحتجبت وهي عند أهلها وطلق رسول الله صلى الله عليه و سلم العالية بنت ظبيان وفارق أخت بني عمرو بن كلاب وفارق أخت بني الجون الكندية من أجل بياض كان بها وتوفيت زينب بنت خزيمة الهلالية و رسول الله صلى الله عليه و سلم حي وبلغنا أن العالية بنت ظبيان تزوجت قبل أن يحرم الله نساءه فنكحت ابن عم لها من قومها وولدت فيهم

حضرت سہل فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا ‘اس سے پہلے وہ عتیق بن عائذ مخزومی کی بیوی تھیں‘پھر مکہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ‘ان کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نکاح کسی کنواری عورت سے نہ ہوا ‘پھر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے ‘وہ پہلے خنیس بن حذافہ سہمی کی بیوی تھیں‘ پھر حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا وہ پہلے بنو عامر بن لؤی کے بھائی سکن بن عمرو کی بیوی تھیں‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نکاح حضرت اُم حبیبہ بنت سفیان سے ہوا ‘اس سے پہلے وہ عبید اللہ بن جحش اسدی کے پاس تھیں‘پھر حضرت اُم سلمہ بنت ابو امیمہ (ان کا اصل نام ہند تھا) سے ہوا ‘اس سے پہلے وہ ابوسلمہ عبداللہ بن عبد الاسد بن عبد العزیٰ کی زوجہ تھیں (وہ آپ کے رضاعی بھائی تھے ) پھر حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے ہوا ‘اس سے قبل وہ زید بن حارثہ کی بیوی تھیں‘پھر حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے ہوا ‘حضرت جویریہ بنت حارث ابوضرار کا تعلق بنو مصطلق (خزاعہ سے) تھا جب اس قبیلہ سے غزوہ ہوا جس میں مریسیع کا بت مناۃ گرایا گیا ‘وہ قید ہو کر آئیں۔ صفیہ بنت حیی بن اخطب ‘بنو نضیر سے قید ہو کر آئیں ‘یہ مال ِغنیمت سے تھیں جو اللہ نے عطا کیا‘پس ان کیلئے تقسیم کی۔ بنو قریظہ سے ریحان کو لونڈی بنایا‘پھر اسے آزاد کر دیا‘پس وہ اپنے گھر والوں سے جاملی ‘پردہ کر لیا ‘اس حال میں کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس تھی ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عالیہ بنت ظبیان کو طلاق دے دی اور بنو عمرو بن کلاب کی ایک عورت کو جدا کیا اور بنو جون کی ایک عورت کند یہ کو اس کی سفیدی (برص) کی وجہ سے جدا ہ کیا۔ اور حضرت زینب بنت خزیمہ ہلالیہ کا وصال ہوا جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ظاہری دنیا پر موجود تھے اور ہمیں یہ خبر بھی پہنچی ہے کہ عالیہ بنت ظبیان نے شادی کی ‘اس سے پہلے کہ اللہ تعالٰی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کو (اُمت) پر حرام کیا ۔ پس اس نے اپنی قوم سے اپنے چچا کے بیٹے سے نکاح کیا اور اولا د بھی ہوئی۔

أَبِيهِ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عمي يونس بن يزيد ← عنبسة بن خالد بن يزيد ← عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ ← القاسم بن عبد الله بن محمد الأخميمي المصري

Hadith 18936

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم خديجة وستها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 18937

1088 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن يحيى بن أبي كثير قال Y أول امرأة تزوجها رسول الله صلى الله عليه و سلم خديجة ثم تزوج سودة بنت زمعة ثم نكح عائشة بمكة وبنى بها بالمدينة ونكح بالمدينة زينب بنت خزيمة الهلالية ثم نكح أم سلمة ثم نكح جورية بنت الحارث فكانت مما أفاء الله عليه ثم نكح ميمونة بنت الحارث وهي التي وهبت نفسها للنبي صلى الله عليه و سلم ثم نكح صفية بنت حيي وهي مما أفاء الله عليه يوم خيبر ثم نكح زينب بنت جحش وكانت امرأة زيد بن حارثة وتوفيت زينب بنت خزيمة عند النبي صلى الله عليه و سلم و خديجة أيضا توفيت بمكة ونكح امرأة من بني كلاب من بني ربيعة يقال لها العالية بنت ظبيان فطلقها حين أدخلت عليه

حضرت یحیٰی بن ابو کثیر فرماتے ہیں: سب سے پہلی عورت جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نکاح ہوا وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں‘پھر حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا‘پھر مکہ میں ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا‘لیکن رخصتی مدینہ منورہ میں ہوئی ‘مدینہ میں حضرت زینب بنت خزیمہ ہلالیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا ‘پھر حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا ‘پھر حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا ‘یہ مال ِغنیمت میں سے تھیں جو اللہ نے عطا کیا‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا یہ وہی ہیں جنہوں نے اپنا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے وقف کر دیا ‘پھر حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے ہوا یہ خیبر کے مال ِغنیمت میں سے ہیں‘پھر حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے ہوا یہ پہلے حضرت زید بن حارثہ کی بیوی تھیں‘حضرت زینب بنت خزیمہ کا وصال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہوا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہی) مکہ میں فوت ہوئیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنور بیعہ سے تعلق رکھنے والی بنو کلاب کی عالیہ بنت ظبیان نامی ایک عورت سے نکاح کیا ‘پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے طلاق دے دی جب اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل کیا گیا۔

يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Hadith 18937

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم خديجة وستها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 18938

1089 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري Y أن أزواج رسول الله صلى الله عليه و سلم خديجة بنت خوليد و عائشة بنت أبي بكر و أم سلمة بنت أبي أمية و حفصة بنت عمر و أم حبيبة بنت أبي سفيان و جويرية بنت الحارث و ميمونة بنت الحارث و زينب بنت جحش و سودة بنت زمعة و صفية بنت حيي حتى اجتمعن عنده تسعة بعد خديجة و الكندية من بني الجون و العالية بنت ظبيان من بني عامر بن بني كلاب و زينب بنت خزيمة امرأة من بني هلال قال الزهري : أخبرني عروة بن الزبير قال : لما أدخلت الكندية على النبي صلى الله عليه و سلم قالت : أعوذ بالله منك فقال : لقد عذت بعظيم الحقي بأهلك

حضرت امام زہری سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات ہیں: خدیجہ بنت خویلد ‘عائشہ بنت ابو بكر ‘اُم سلمہ بنت ابو امیہ ‘حفصہ بنت عمر ‘اُم حبیبہ بنت ابوسفیان ‘جویریہ بنت حارث ‘میمونہ بنت حارث ‘زینب بنت جحش ‘سودہ بنت زمعہ ‘صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہن‘حتی ٰکہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نو بیویاں ایک وقت میں موجود تھیں۔ کندی کا تعلق بنو جون سے ‘عالیہ بنت ظبیان بنو عامر بن بنو کلاب سے ‘زینب بنت خزیمہ بنو ہلال سے تھیں ۔ حضرت امام زہری فرماتے ہیں: مجھے حضرت عروہ بن زبیر نے خبر دی‘فرمایا: جب کند یہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس نے بولا : ’’اعوذ باللہ منك‘‘تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تُو نے عظیم ذات کی پناہ مانگی ہے ‘جا! اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا ۔

الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Hadith 18938

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم خديجة وستها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 18939

1090 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري أنا عبد الرزاق أنا ابن جريج قال Y قال ابن أبي مليكة و عمرو بن دينار : اجتمع عند رسول الله صلى الله عليه و سلم تسع نسوة مع صفية بعد خديجة مات عنهن كلهن قال : وزاد عثمان بن أبي سليمان امرأتين سوى التسع من بني امر بن صعصعة كلتاهما جمع وكانت إحداهما تدعى أم المساكين وكانت خير نسائه للمساكين ونكح امرأة من بني الجون فلما جاءته استعاذت منه فطلقها ونكح امرأة من كندة ولم يجمعها فتزوجت بعد النبي صلى الله عليه و سلم ففرق عمر بينهما وضرب زوجها فقالت : اتق الله يا عمر إن كنت من أمهات المؤمنين فاضرب علي الحجاب وأعطني ما أعطيتهن فقال : أما هنالك فلا قالت : فدعني أنكح لا ولا نعمة ولا أطمع في ذلك أحدا

حضرات ابن ابو ملیکہ اور عمرو بن دینار فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت خدیجہ کے بعد حضرت صفیہ سمیت نو بیویاں تھیں‘وہ زندہ تھیں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کالم کا وصال ہوا۔ راوی حضرت عثمان بن ابوسلیمان ان نو کے علاوہ دو عورتوں کا اضافہ بتایا ہے جن کا تعلق بنو عامر بن صعصہ سے تھا ‘ان دونوں میں سے ہر ایک کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اکٹھا کیا ‘ان میں سے ایک کو اُم المساکین کہا جاتا تھا ‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج میں سے مسکینوں کے ساتھ بہتر سلوک کرتی تھیں‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو جون کی ایک عورت سے بھی نکاح کیا‘پس جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے استعاذہ کیا‘تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے طلاق دے کر بنو کندہ کی ایک عورت سے نکاح کیا ‘اس سے ہمبستر نہ ہوئے ‘پس اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نکاح کیا تو حضرت عمر نے ان کے درمیان جدائی کروا دی اور اس کے خاوند کو کوڑے مارے۔ عورت نے کہا: اے عمر ! اللہ سے ڈرو! اگر میں اُمہات المؤمنین سے ہوں تو مجھ پر پردہ کروائیں اور جو آپ نے ان کو دیا وہ مجھے بھی دیں۔ فرمایا: تیرا وہ مقام نہیں ہے۔ اس نے کہا: پھر مجھے نکاح کرنے دیں۔ فرمایا : نہیں ! کوئی نعمت نہیں اور اس میں کسی کو طمع نہ کرنے دوں گا۔

ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Hadith 18939

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم خديجة وستها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 18940

1091 - حدثنا علي بن عبد العزيز حدثنا الزبير بن بكار قال Y وأم بني رسول الله صلى الله عليه و سلم وبناته غير إبراهيم خديجة بنت خوليد وكانت تدعى في الجاهلية الطاهرة بنت أسد بن عبد العزى بن قصي وأمها فاطمة بنت زائدة بنت جندب وهو الأصم بن صخر بن عبد معيص بن عامر بن لؤي وأمها هالة بنت عبد مناف بن الحارث بن منقذ بن عمرو بن معيص بن عمرو بن لؤي وأمها العرقة واسمها قلابة بنت سعد بن سهم بن عمرو بن هصيص بن كعب بن لؤي و حبان بن عبد مناف أخو هالة لأبيها وأمها هو الذي رمى سعد بن معاذ رحمه الله يوم الخندق فقال : خذها وأنا ابن العرقة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عرق الله وجهك في النار فأصاب أكحل سعد رحم الله سعدا فمات شهيدا وكانت خديجة بنت خويلد قبل رسول الله صلى الله عليه و سلم عند عتيق بن عائذ بن عبد الله بن عمرو بن مخزوم فولدت له هند بن عتيق ثم خلف عليها أبو هالة مالك بن نباش بن زرارة بن وفدان بن حبيب بن سلامة بن عدي من بني أسيد بن عمرو بن تميم حليف بني عبد الدار بن قصي فولدت له هند بن أبي هالة فهند بن عتيق و هند و هالة ابنا أبي هالة مالك بن نباش بن زرارة أخوة ولد رسول الله صلى الله عليه و سلم من خديجة بنت خويلد من أمهم

حضرت زبیر بن بکار فرماتے ہیں: رسول کریم کے بیٹوں اور بیٹیوں کی ماں سوائے حضرت ابراہیم کے‘ حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں ان کو طاہرہ بنت اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے نام سے پکارا جاتا تھا ‘ان کی والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ بنت جندب تھا جبکہ وہ اصم بن صخر بن عبد معیص بن عامر بن لؤی تھے۔ ان کی ماں ھالہ بنت عبد مناف بن حارث بن منتقد بن عمرو بن معیص بن عمر و بن لؤی ہے ‘ان کی ماں عرفہ ہے ‘جن کا اصل نام قلا بہ بنت سعد بن سہم بن عمرو بن ھصیص بن کعب بن لؤی ہے ‘اور حبان بن عبد مناف ‘ہالہ کے ماں اور باپ کی طرف سے بھائی ہے ‘یہ وہی ہے جس نے خندق کے دن حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ پر تیر پھینکا تھا اور کہا: اسے پکڑ لو! میں عرقہ کا بیٹا ہوں‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تیرا چہرہ دوزخ میں ڈال دے‘ حضرت سعد کو فصد والی رگ میں تیر لگا (اللہ ان پر رحم فرمائے ) پس شہید ہوئے۔ حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے عتیق بن عائذ بن عبداللہ بن عمرو بن مخزوم کے پاس تھیں ‘ان سے ہند بن عقیق کی ولادت ہوئی پھر ابو ہالہ مالک بن نباش بن زرارہ بن وفدان بن حبیب بن سلامہ بن عدی سے ہوا ‘جن کا تعلق عبدالدار بن قصی کے حلیف قبیلہ بنو اسید بن عمرو بن تمیم سے تھا۔ ہند بن ہالہ کی ولادت ہوئی‘پس ایک عتیق کے بیٹے ہند ہیں اور ہند اور ہالہ ‘ابو مالک بن نباش بن زرارہ کے بیٹے اور (ماں کی طرف سے ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد جو حضرت خدیجہ سے ہوئی ‘ان کے بھائی ہیں۔

الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 18940

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم خديجة وستها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 18941

1092 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا الزبير بن بكار حدثني محمد بن الحسن المخزومي عن أسامة بن حفص وغيره عن يونس عن ابن شهاب قال Y تزوج رسول الله صلى الله عليه و سلم خديجة بمكة وهي أول امرأة تزوج وكانت قبله عند أبي هالة التميمي وتزوجها رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو ابن إحدى وعشرين سنة وتوفيت لسبع مضين من بعثته قال الزبير وحدثني عمر بن أبي بكر الموملي أن عمرو بن أسد زوج خديجة رسول الله صلى الله عليه و سلم وتزوجها رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو ابن خمس وعشرين سنة وقريش تبني الكعبة قال الزبير : وحدثني محمد بن حسن عن خالد بن إسماعيل عن ابن جريج قال : نكح رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو ابن سبع وثلاثين سنة قال الزبير : وحدثني محمد بن حسن عن عبد الله بن محمد بن يحيى بن عروة عن أبيه قال : قال عمرو بن أسد : محمد بن عبد الله يخطب خديجة بنت خويلد هذا الفحل لا يقرع أنفه قال الزبير : وحدثني محمد بن حسن عن محمد بن فليح عن يزيد بن عياض عن ابن شهاب قال : كانت خديجة بنت خويلد عند رسول الله صلى الله عليه و سلم قبل أن ينزل عليه القرآن ثم نزل عليه القرآن وهي عنده وهي أول من صدق النبي صلى الله عليه و سلم وآمنت به وتوفيت بمكة قبل أن يخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى المدينة بثلاث سنين

حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور یہ پہلی عورت ہیں جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شادی کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے وہ ابو ہالہ تمیمی کے پاس تھیں‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر اکیس سال تھی اور ان کا وصال رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے ساتھیوں سال ہوا۔ حضرت زبیر فرماتے ہیں: مجھے حضرت عمر بن ابو بکر موصلی نے حدیث سنائی کہ حضرت عمرو بن اسد نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکاح کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچیسں سال کی عمر میں ان سے نکاح کیا‘اس وقت قریش کعبہ تعمیر کر رہے تھے۔ حضرت زبیر فرماتے ہیں: مجھے محمد بن حسن نے حدیث بیان کی ‘انہوں نے حضرت خالد بن اسماعیل سے ‘انہوں نے ابن جریج سے روایت کی: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ستائیس سال کی عمر میں نکاح کیا۔ حضرت زبیر ایک اور سند سے فرماتے ہیں: عمرو بن اسد نے کہا: حضرت محمد بن عبدالله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کیلئے نکاح کا پیغام دے رہے ہیں جبکہ اس مرد کی ناک کے بال نہیں اُگے۔ ایک اور سند سے حضرت زبیر فرماتے ہیں : حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں: حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھیں‘اس سے پہلے کہ قرآن نازل ہو‘پھر قرآن نازل ہونا شروع ہوا ‘اس حال میں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھیں اور یہی پہلی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی ‘آپ پر ایمان لائیں‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے تین سال قبل مکہ میں ہی فوت ہوئیں۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← أسامة بن حفص وغيره ← محمد بن الحسن المخزومي ← الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 18941

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم خديجة وستها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 18942

1093 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا يونس بن بكير عن ابن إسحاق قال Y لم يتزوج رسول الله صلى الله عليه و سلم على خديجة حتى ماتت

حضرت ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے وصال مبارک تک کسی اور عورت سے شادی نہیں کی ۔

ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 18942

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم خديجة وستها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 18943

1094 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم عن عبد الرزاق عن معمر قال سمعت الزهري يقول Y لم يتزوج النبي صلى الله عليه و سلم على خديجة حتى ماتت

حضرت زہری فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے وصال مبارک تک کوئی اور شادی نہیں فرمائی۔

لم يتزوج النبي صلى الله عليه و سلم على خديجة حتى ماتت ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Hadith 18943

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم خديجة وستها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 18944

1095 - حدثنا إسحاق عن عبد الرزاق عن معمر عن هشام بن عروة عن أبيه قال Y توفيت خديجة قبل مخرج النبي صلى الله عليه و سلم إلى المدينة بثلاث سنين أو نحو ذلك وتزوج عائشة قريبا من موت خديجة ولم يتزوج على خديجة حتى ماتت

حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا وصال ‘حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مدینے کی طرف ہجرت کرنے سے تین سال پہلے ہوا یا اس کے قریب ‘حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے وصال کے قریب ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا ‘حضرت خدیجہ کے وصال مبارک تک کسی اور زوجہ سے شادی نہیں کی۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ

Hadith 18944

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم خديجة وستها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 18945

1096 - حدثنا محمد بن جعفر بن أعين البغدادي ثنا أبو الأشعث أحمد بن المقدام ثنا زهير بن العلاء ثنا سعيد بن أبي عروة عن قتادة بن دعامة قال Y توفيت خديجة بمكة قبل الهجرة بثلاث سنين وهي أول من آمن بالنبي صلى الله عليه و سلم من النساء والرجال ولم يتزوج في الجاهلية غيرها ولم تلد له من المهاير غيرها

حضرت قتادہ بن دعامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بن حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا وصال مکہ میں ہوا ‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہجرت کرنے سے تین سال پہلے ‘آپ پہلی عورت ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں‘عورتوں اور مردوں سے پہلے ‘جاہلیت کے زمانے میں‘آپ کے علاوہ کسی اور سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شادی نہیں کی‘آپ کے علاوہ کسی اور سے اولاد نہیں ہوئی (سوائے حضرت ابراہیم کے) ۔

قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي عُرْوَةَ، ← زهير بن العلاء ← أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ← محمد بن جعفر بن أعين البغدادي

Hadith 18945

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم خديجة وستها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 18946

1097 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا أبو أسامة ثنا هشام بن عروة عن أبيه قال Y توفيت خديجة قبل أن يخرج النبي صلى الله عليه و سلم بثلاث سنين

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا وصال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے تین سال پہلے ہوا۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 18946

chevron_left Previous
1…39404142
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
364. Chapter
365. Chapter
366. Chapter
367. Chapter
368. Chapter
369. Chapter
370. Chapter
371. Chapter
372. Chapter
373. Chapter
374. Chapter
375. Chapter
376. Chapter
377. Chapter
378. Chapter
379. Chapter
380. Chapter
381. Chapter
382. Chapter
383. Chapter
384. Chapter
385. Chapter
386. Chapter
387. Chapter
388. Chapter
389. Chapter
390. Chapter
391. Chapter
392. Chapter
393. Chapter
394. Chapter
395. Chapter
396. Chapter
397. Chapter
398. Chapter
399. Chapter
400. Chapter
401. Chapter
402. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter
611. Chapter
612. Chapter
613. Chapter
614. Chapter
615. Chapter
616. Chapter
617. Chapter
618. Chapter
619. Chapter
620. Chapter
621. Chapter
622. Chapter
623. Chapter
624. Chapter
625. Chapter
626. Chapter
627. Chapter
628. Chapter
629. Chapter
630. Chapter
631. Chapter
632. Chapter
633. Chapter
634. Chapter
635. Chapter
636. Chapter
637. Chapter
638. Chapter
639. Chapter
640. Chapter
641. Chapter
642. Chapter
643. Chapter
644. Chapter
645. Chapter
646. Chapter
647. Chapter
648. Chapter
649. Chapter
650. Chapter
651. Chapter
652. Chapter
653. Chapter
654. Chapter
655. Chapter
656. Chapter
657. Chapter
658. Chapter
659. Chapter
660. Chapter
661. Chapter
662. Chapter
663. Chapter
664. Chapter
665. Chapter
666. Chapter
667. Chapter
668. Chapter
669. Chapter
670. Chapter
671. Chapter
672. Chapter
673. Chapter
674. Chapter
675. Chapter
676. Chapter
677. Chapter
678. Chapter
679. Chapter
680. Chapter
681. Chapter
682. Chapter
683. Chapter
684. Chapter
685. Chapter
686. Chapter
687. Chapter
688. Chapter
689. Chapter
690. Chapter
691. Chapter
692. Chapter
693. Chapter
694. Chapter
695. Chapter
696. Chapter
697. Chapter
698. Chapter
699. Chapter
700. Chapter
701. Chapter
702. Chapter
703. Chapter
704. Chapter
705. Chapter
706. Chapter
707. Chapter
708. Chapter
709. Chapter
710. Chapter
711. Chapter
712. Chapter
713. Chapter
714. Chapter
715. Chapter
716. Chapter