المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ أمامة بنت أبي العاص بن الربيع بن عبد العزى بن عبد شمس بن عبد مناف و أمامة بنت زينب بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 18923
1074 - حدثنا أحمد بن رشدين المصري ثنا أحمد بن صالح ثنا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن سعيد بن أبي هلال عن ابن المقبري عن عمرو بن سليم الزرقي أنه سمع أبا قتادة يقول Y بينما نحن جلوس في المسجد ننتظر الصلاة خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم على عاتقه بنت بنته أمامة بنت أبي العاص بن الربيع و أمها زينب يحملها على عاتقه يكبر وهي على عاتقه فإذا ركع وضعها بالأرض وإذا قام أعادها على عاتقه حتى قضى صلاته وهو يفعل ذلك
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسی اثناء میں کہ ہم مسجد میں بیٹھے نماز با جماعت کا انتظار کر رہے تھے ‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو حضرت امامہ بنت ابوالعاص آپ کے کندھے پر تھیں‘ان کی ماں حضرت زینب رضی اللہ عنہا تھیں‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اُٹھاتے تکبیر کہتے اس حال میں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے پر ہوتیں‘پس جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کرتے تو زمین پر ان کو اُتار دیتے ‘جب سجدہ کر کے کھڑے ہوتے تو دوبارہ پکڑتے اور اپنے کندھے پر بٹھاتے حتٰی کہ نماز مکمل کی جبکہ اسی طرح کر رہے تھے۔
أَبَا قَتَادَةَ، ← عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ ← ابْنِ الْمَقْبُرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ
Hadith 18923
