المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن شجرة · حديث 18491
642 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا فهد بن عوف أبو ربيعة ثنا أبو عوانة عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد عن يزيد بن شجرة أنه قال Y يا أيها الناس إن الدنيا قد أصبحت وأمست من بين أخضر وأحمر وأصفر وفي البيوت ما فيها فإذا لقيتم العدو فقدما قدما فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما تقدم رجل خطوة في سبيل الله إلا اطلعن إليه الحور العين وإن تأخر استحيين منه واستترن منه فإن استشهد كانت أول شجرة من دمه كفارة لخطاياه وتنزل إليه ثنتان من الحور العين فتنفضان التراب عن وجهه وتقولان مرحبا قد أنى لك ويقول هو مرحبا بكما
حضرت یزید بن شجرہ سے مروی ہے : آپ نے فرمایا: اے لوگو! بیشک دنیا سبز اور سرخ اور زرد کے درمیان صبح اور شام ہونے کا نام ہے اور گھروں میں جو کچھ ہے۔ اور جب تم دشمن سے جنگ کرتے ہو اور آگے بڑھو تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس جب آدمی اللہ کی راہ میں ایک قدم آگے بڑھاتا ہے تو موٹی آنکھوں والی حوریں اُسے جھانکتی ہیں اور جب وہ پیچھے ہٹتا ہے تو وہ اُس سے حیا کرتی ہوئی چھپ جاتی ہیں۔ پس اگر وہ شہادت حاصل کرتا ہے تو - وہ پہلا قطرہ جو اس کے خون سے گرتا ہے تو اس کے گناہ معاف کروا دیتا ہے اور حوروں میں سے اُس کی دو بیویاں اُس کے پاس اتر کر اُس کے چہرے سے مٹی جھارتی ہیں اور عرض کرتی ہیں: خوش آمدید! ہم تیری ہیں اور دو کہتا ہے: تم دونوں کو خوش آمدید!
يَزِيدَ بْنِ شَجَرَةَ ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← فَهْدُ بْنُ عَوْفٍ أَبُو رَبِيعَةَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Hadith 18491
