Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن شجرة · حديث 18491

642 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا فهد بن عوف أبو ربيعة ثنا أبو عوانة عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد عن يزيد بن شجرة أنه قال Y يا أيها الناس إن الدنيا قد أصبحت وأمست من بين أخضر وأحمر وأصفر وفي البيوت ما فيها فإذا لقيتم العدو فقدما قدما فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما تقدم رجل خطوة في سبيل الله إلا اطلعن إليه الحور العين وإن تأخر استحيين منه واستترن منه فإن استشهد كانت أول شجرة من دمه كفارة لخطاياه وتنزل إليه ثنتان من الحور العين فتنفضان التراب عن وجهه وتقولان مرحبا قد أنى لك ويقول هو مرحبا بكما

حضرت یزید بن شجرہ سے مروی ہے : آپ نے فرمایا: اے لوگو! بیشک دنیا سبز اور سرخ اور زرد کے درمیان صبح اور شام ہونے کا نام ہے اور گھروں میں جو کچھ ہے۔ اور جب تم دشمن سے جنگ کرتے ہو اور آگے بڑھو تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس جب آدمی اللہ کی راہ میں ایک قدم آگے بڑھاتا ہے تو موٹی آنکھوں والی حوریں اُسے جھانکتی ہیں اور جب وہ پیچھے ہٹتا ہے تو وہ اُس سے حیا کرتی ہوئی چھپ جاتی ہیں۔ پس اگر وہ شہادت حاصل کرتا ہے تو - وہ پہلا قطرہ جو اس کے خون سے گرتا ہے تو اس کے گناہ معاف کروا دیتا ہے اور حوروں میں سے اُس کی دو بیویاں اُس کے پاس اتر کر اُس کے چہرے سے مٹی جھارتی ہیں اور عرض کرتی ہیں: خوش آمدید! ہم تیری ہیں اور دو کہتا ہے: تم دونوں کو خوش آمدید!

يَزِيدَ بْنِ شَجَرَةَ ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← فَهْدُ بْنُ عَوْفٍ أَبُو رَبِيعَةَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 18491

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن زمعة القرشي الأسدي استشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين · حديث 18492

643 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة Y في تسمية من استشهد يوم حنين مع رسول الله صلى الله عليه و سلم من قريش من بني أسد بن عبد لعزى يزيد بن زمعة هكذا قال ابن لهيعة وهو عندي هم

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حنین کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قریش اور بنی اسد بن عبد العریٰ میں سے یزید بن زمعہ شہید ہوئے تھے‘ ابن لہیعہ نے اسی طرح فرمایا: یہ میرے نزدیک وہم ہے۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Hadith 18492

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن زمعة القرشي الأسدي استشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين · حديث 18493

644 - حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق Y في تسمية من استشهد يوم حنين مع رسول الله صلى الله عليه و سلم من قريش ثم من بني أسد يزيد بن زمعة بن الأسود بن المطلب جمح به فرس يقال له الجناح فقتله

حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ حنین کے دن قریش اور بنی اسد میں سے جو شہید ہوئے اُن کے ناموں میں سے ایک نام یزید بن زمعہ بن اسود بن مطلب ہے‘ آپ کے گھوڑے نے سرکشی کی (وہ بے قابو ہو گیا ) ‘ جس کا نام ’’جناح‘‘ تھا‘ اس آپ کو مار دیا۔

مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Hadith 18493

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن زمعة القرشي الأسدي استشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين · حديث 18494

645 - حدثنا الحسن بن هارون بن سليمان الأصبهاني ثنا محمد بن إسحاق المسيبي ثنا محمد بن فليح عن موسى بن عقبة عن ابن شهاب Y في تسمية من استشهد يوم حنين مع رسول الله صلى الله عليه و سلم من قريش ثم من بني أسد يزيد بن زمعة

حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ حنین کے دن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قریش اور بنی اسد میں سے جو شہید ہوئے‘ اُن کے ناموں میں ایک نام یزید بن زمعہ کا بھی ہے۔

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 18494

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن سيف بن جارية اليربوعي · حديث 18495

646 - حدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا أبو يوسف القلوسي ( ح ) وحدثنا أحمد بن محمد بن صدقة و أحمد بن مابهرام الايذجي قالاثنا محمد بن محمد بن مرزوق قالا ثنا الصلت بن محمد أبو همام الخاركي ثنا مودود بن الحارث بن يزيد بن سيف بن جارية اليربوعي عن أبيه عن جده أنه أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال Y يا رسول الله إن رجلا من بني تميم ذهب بمالي كله فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس عندي مال أعطيكه ثم قال : هل لك أن تعرف على قومك أو - ألا أعرفك على قومك ؟ قلت : لا قال : أما أن العريف يدفع في النار دفعا

حضرت یزید بن سیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے‘ عرض کی: یارسول اللہ بنو تمیم کا ایک آرومی میرا سارا مال لے گیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: میرے پاس مال نہیں ہے کہ تجھے دوں۔ پھر فرمایا: کیا تمہاری اپنی قوم میں کوئی نجومی ہے ؟ یا فرمایا: کیا میں تیری قوم کے خلاف تیرا نجومی بن سکتا ہوں؟ میں نے عرض کی: نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں ہے کہ عریف ( نجومی) کو دھکے دے کر جہنم رسید کر دیا جائے گا۔

Hadith 18495

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن ركانة بن عبد يزيد بن هاشم توفي في خلافة معاوية · حديث 18496

647 - حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا يعقوب بن حميد بن كاسب ثنا حسين بن زيد بن علي عن جعفر بن محمد عن أبيه عن يزيد بن ركانة Y أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا صلى على الميت كبس أربعا ثم قال : اللهم عبدك وابن أمتك احتاج إلى رحمتك وأنت غني عن عذابه فإن كان محسنا فزد في إحسانه وإن كان مسيئا فتجاوز عنه ثم يدعو بما شاء الله أن يدعو

حضرت یزید بن رُکانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھاتے تو چار تکبیریں کہتے پھر یہ دعا کرتے : ’’اللّٰھم عبدل وابن امتک الٰی آخرہٖ‘‘ پھر جو اللہ چاہتا آپ دعا کرتے تھے۔

يزيد بن ركانة ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ

Hadith 18496

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسند يعلى بن أمية صفوان بن يعلى عن أبيه · حديث 18497

648 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري أنا عبد الرزاق أنا ابن جريج عن عطاء قال أخبرني صفوان بن يعلى بن أمية عن يعلى بن أمية قال Y غزوت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم غزوة العسرة وكان يعلى يقول : تلك الغزوة أوثق عملي عندي وكان لي أجير فقاتل إنسانا فعض أحدهما الآخر فانتزع المعضوض يده من العاض فانتزع إحدى ثنيتيه فأنبأ النبي صلى الله عليه و سلم فأهدر ثنيته وحسبت أنه قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : فيدع يده في فيك تقضمها كأنها في في فحل يقضمها

حضرت یعلیٰ بن امیہ فرماتے ہیں: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں غزوہ عسرہ کیا اور حضرت یعلی کہا کرتے تھے کہ میرے نزدیک یہ غزوہ میرا با اعتماد عمل ہے۔ میرا ایک مزدور تھا۔ اُس نے ایک آدمی سے لڑائی کی تو اُن میں سے ایک دوسرے کا ہاتھ منہ میں لے لیا تو دوسرے نے اُس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے سامنے کے دو دانتوں میں سے ایک ٹوٹ گیا۔ میرا گمان ہے، اُس نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ( تیرا کیا خیال ہے ) کہ وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں چھوڑ دیتا اور تو اسے چباتا رہتا جیسے وہ نر اونٹ کے منہ میں ہو اور وہ اسے چباتا رہے۔

يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Hadith 18497

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسند يعلى بن أمية صفوان بن يعلى عن أبيه · حديث 18498

649 - حدثنا أو خليفة الفضل بن الحباب ثنا إبراهيم بن بشار الرمادي ثنا سفيان ثنا ابن جريج عن عطاء عن صفوان بن يعلى عن أبيه قال Y غزوت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم غزوة تبوك على بكر صعب فكان أوثق أعمالي في نفسي واستأجرت أجيرا فقاتل أجيري رجلا فعض يده فانتزع ثنيته فخاصمه إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأهدرها وقال : أتدع يده في فيك تقضمها كقضم الفحل

حضرت یعلی فرماتے ہیں: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں بنو بکر کے خلاف غزوہ تبوک کیا اور میرے نزدیک یہ غزوہ میرا با اعتماد عمل ہے۔ میرا ایک مزدور تھا۔ اس نے ایک آدمی سے لڑائی کی تو ان میں سے ایک دوسرے کا ہاتھ منہ میں لے لیا تو دوسرے نے اُس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اُس کے سامنے کے دو دانتوں میں سے ایک ٹوٹ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ضائع قرار دیا اور فرمایا: (تیرا کیا خیال ہے ) کہ وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں چھوڑ دیتا اور تو اونٹ کے چبانے کی طرح اسے چباتا رہتا۔

أَبِيهِ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أو خليفة الفضل بن الحباب

Hadith 18498

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسند يعلى بن أمية صفوان بن يعلى عن أبيه · حديث 18499

650 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا محمد بن بدر البصري ثنا سفيان بن عيينة ثنا عمرو بن دينار و ابن جريج عن عطاء عن صفوان بن يعلى عن أبيه قال Y غزوت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم غزوة تبوك على بكر صعب ومعي أجير لي فقاتل أجيري رجلا فعضه فنزع يده من فيه فسقطت ثنيته فأتى به النبي صلى الله عليه و سلم فقال له : أتدع يده في فيك تقضمها كما يقضم الفحل فأهدرها

حضرت یعلی فرماتے ہیں: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں بنو بکر کے خلاف غزوہ تبوک کیا اور میرے نزدیک یہ غزوہ میرا با اعتماد عمل ہے۔ میرا ایک مزدور تھا۔ اُس نے ایک آدمی سے لڑائی کی تو اُن میں سے ایک دوسرے کا ہاتھ منہ میں لے لیا تو دوسرے نے اُس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے سامنے کے دو دانتوں میں سے ایک ٹوٹ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (تیرا کیا خیال ہے) کہ وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں چھوڑ دیتا اور تو اونٹ کے چبانے کی طرح اسے چباتا رہتا اور اسے ضائع قرار دیا۔

أَبِيهِ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی ← عَطَاءٍ، ← عمرو بن دينار و ابن جريج ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← محمد بن بدر البصري ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Hadith 18499

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسند يعلى بن أمية صفوان بن يعلى عن أبيه · حديث 18500

651 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ( ح ) وحدثنا محمد بن يحيى القزاز ثنا حفص بن عمر الحوضي ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا شيبان بن فروخ ثنا همام ثنا عطاء بن أبي رباح عن صفوان بن يعلى عن منية عن أبيه قال Y أتى النبي صلى الله عليه و سلم رجل قد عض يد رجل فانتزع يده فسقطت ثنية الذي عضه فأبطلها النبي صلى الله عليه و سلم وقال : أردت أن تقضمها كما يقضم الفحل

حضرت یعلی فرماتے ہیں: ایک آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جس نے ایک دوسرے آدمی کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر چبایا۔ تو دوسرے نے اُس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اُس کے سامنے کے دو دانت ٹوٹ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے باطل قرار دیا اور فرمایا: تیرا کیا خیال ہے کہ تو اونٹ کے چبانے کی طرح اسے چباتا رہتا۔

أَبِيهِ ← منية ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← هَمَّامٌ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 18500

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسند يعلى بن أمية صفوان بن يعلى عن أبيه · حديث 18501

652 - حدثنا إدريس بن جعفر العطار ثنا يزيد بن هارون أنا محمد بن إسحاق عن عطاء بن أبي رباح ( ح ) وحدثنا أحمد بن رشدين المصري و الحسين بن إسحاق التستري قالا ثنا زكريا بن يحيى كاتب العمري قال ثنا رشدين عن يونس بن يزيد عن محمد بن إسحاق عن خالد بن كثير اهمداني عن عطاء بن أبي رباح عن صفوان بن يعلى عن أبيه و عمه سلمة بن أمية Y أنهما خرجا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة تبوك ومعنا صاحب لنا فقاتله رجل من الناس فعضه فانتزع صاحبنا يده من فيه فطرح بعض فيه فذهب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فسأله العقل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يذهب أحدكم إلى أخيه يعضه عض الفحل ثم يأتي يسأل العقل فأبطلها رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت یعلی اور ان کے چچا حضرت سلمہ بن امیہ فرماتے ہیں کہ وہ دونوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں غزوہ تبوک میں نکلے اور ( فرماتے ہیں) ہمارے ساتھ ایک ساتھی بھی تھا۔ اس سے لوگوں میں سے ایک آدمی نے لڑائی کی تو اس کا ہاتھ منہ میں لے لیا تو دوسرے نے اُس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے سامنے کے منہ سے کوئی ایک دانت ٹوٹ کر گر گیا۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں گیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک دوسرے کے پاس اس لیے جاتا ہے کہ وہ اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر کاٹ دے پھر اس کی دیت مانگتا ہوا آ جائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ضائع قرار دیا۔

صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← خالد بن كثير اهمداني ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← رشدين ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، كَاتِبُ الْعُمَرِيِّ ← أحمد بن رشدين المصري و الحسين بن إسحاق التستري ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ

Hadith 18501

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب · حديث 18502

653 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ( ح ) وحدثنا محمد بن يحيى بن المنذر القزاز ثنا حفص بن عمر الحوضي قالا ثنا همام بن يحيى قال سمعت عطاء بن أبي رباح يقول ثنا صفوان بن يعلى بن أمية عن أبيه Y أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم وهو بالجعرانة وعليه جبة وعليه أثر خلوق قال همام أو قال أثر صفرة فقال : كيف تأمرني أن أصنع في عمرتي ؟ قال : وأنزل على النبي صلى الله عليه و سلم الوحي فستر بثوب قال : وكان يعلى يقول : وددت أني رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يوحى إليه فقال لي عمر : أيسرك أن تنظر إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد أنزل عليه الوحي فرفع طرف الثوب فنظرت إليه وله غطيط قال همام : أني أحسبه أيضا عال كغطيط البكر فلما سري عنه قال : أين السائل عن العمرة ؟ اخلع الجبة واغسل عنك أما قال أثر الخلوق وأما قال أثر الصفرة شك همام واصنع في عمرتك ما صنعت في حجك

حضرت یعلی فرماتے ہیں: ایک آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ کے مقام پر تھے اور اس کے اوپر جبہ تھا اور اُس نے خوشبو لگا رکھی تھی۔ رادی حدیث حضرت ھمام فرماتے ہیں یا کہا: زردی کے نشانات تھے۔ عرض کی: آپ مجھے کیسے حکم دیتے ہیں کہ میں اپنے عمرہ میں کیا کروں ؟ راوی کا بیان ہے‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی تھی اور آپ پر کپڑے سے پردہ کیا گیا تھا۔ راوی کا بیان ہے؛ حضرت یعلی فرماتے ہیں: میری خواہش تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں دیکھوں کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ حضرت عمر نے مجھے فرمایا: کیا تجھے یہ بات خوش کرتی ہے کہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں دیکھے کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو؟ فرماتے ہیں: پس آپ نے کپڑے کا کنارہ اُٹھایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا، نیند میں خراٹے مارنے کی طرح آواز تھی۔ حضرت ھمام فرماتے ہیں : میرا گمان بھی یہی ہے۔ فرماتے ہیں: یا: غطیط البکر“ کے الفاظ استعمال کیے۔ پس جب یہ کیفیت ختم ہو گئی تو فرمایا: عمرہ کے بارے سوال کرنے والا کہاں ہے؟ (وہ حاضر ہوا تو فرمایا :) جبہ اتار دے اور (اسے) اپنے سے دھو ڈال یا فرمایا: خوشبو کا نشان یا فرمایا: زردی کا نشان۔ حضرت ھمام کو شک ہے۔ اور اپنے عمرہ میں اسی طرح کر جس طرح تو نے اپنے حج میں کیا۔

أَبِيهِ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 18502

chevron_left Previous
12345…42
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter