Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ الحسين بن علي عن فاطمة · حديث 18875

1026 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا جندل بن والق ثنا محمد بن عمر المازني عن عباد الكلبي عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي بن حسين عن فاطمة الصغرى عن حسين بن علي عن أمه فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم قالت Y خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم عشية عرفة فقال : إن الله باهى بكم وغفر لكم عامة و لعلي خاصة وإني رسول الله إليكم غير محاب لقرابتي هذا جبريل يخبرني إن السعيد حق السعيد من أحب عليا في حياته وبعد موته وأن الشقي كل الشقي من أبغض عليا في حياته وبعد موته

حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ‘اُنہوں نے حضرت فاطمہ صغریٰ رضی اللہ عنہا سے ‘انہوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے اپنی والدہ محترمہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے روایت کیا‘آپ فرماتی ہیں: عرفات کی شام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ‘فرمایا: بے شک اللہ نے تم پر فخر فرمایا ہے اور تم سب کی مغفرت فرما دی ہے اور حضرت علی کی خاص کر کے اور میں تمہیں خبر پہنچانے والا ہوں سوائے اس کے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں سے محبت کرنے والا ہوں ‘یہ حضرت جبریل موجود ہیں جو مجھے خبر دے رہے ہیں کہ سعید ( خوش بخت ) حق ہے ‘سعید وہ ہے جو حضرت علی کی زندگی میں اور ان کی موت کے بعد بھی ان سے محبت کرے اور شقی ( بد بخت) پر وہ بد بخت ہے جو حضرت علی کی زندگی اور ان کی وفات کے بعد ان سے بغض رکھے۔

خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم عشية عرفة ← أمه فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← فَاطِمَةَ الصُّغْرَى ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← عَبَّادٍ الْكَلْبِيِّ، ← محمد بن عمر المازني ← جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18875

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ عبد الله بن عباس عن فاطمة · حديث 18876

1027 - حدثنا أحمد بن يحيى الحلواني ثنا سعيد بن سليمان عن عباد بن العوام عن هلال بن خباب عن عكرمة عن ابن عباس قال Y لما نزلت { إذا جاء نصر الله والفتح } دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إنه قد نعيت إلي نفسي فبكت فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تبكي فإنك أول أهلي لحوقا لاحقا بي : فضحكت فرآها بعض أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فقال لها : رأيتك بكيت وضحكت قالت : إنه قال لي : نعيت إلي نفسي فبكيت فقال : لا تبكين فإنك أول أهلي لاحق بي فضحكت

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب یہ سوره اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا‘ فرمایا: مجھے میرے وصال کی خبر دی گئی ہے۔ تو آپ رضی اللہ عنہا رو پڑیں‘حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کو فرمایا: تم نہ رؤو کیونکہ میرے خاندان میں سے سب سے پہلے تم مجھے ملو گی ۔ فرماتی ہیں کہ پس میں ہنس پڑی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض ازواج نے دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نے آپ کو روتے ہوئے اور مسکراتے ہوئے دیکھا‘آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے وصال کے متعلق بتایا تو میں رو پڑی تھی ‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نہ رؤو کیونکہ میرے گھر والوں میں سب سے پہلے تم مجھے ملوگی‘ تو میں مسکرائی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18876

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ أنس بن مالك رضي الله عنه عن فاطمة رضي الله عنها · حديث 18877

1028 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن ثابت البناني عن أنس بن مالك Y أن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت يا أبتاه من ربه ما أدناه يا أبتاه إلى جبريل أنعاه يا أبتاه جنة الفردوس مأواه

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال پر روئیں ‘عرض کی: اے میرے ابا جان! آپ اپنے رب کے پاس ہیں‘اے ابا جان ! حضرت جبریل نے وصال کی خبر دی ‘اے ابا جان! آپ کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے۔

ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18877

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ أنس بن مالك رضي الله عنه عن فاطمة رضي الله عنها · حديث 18878

1029 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم ثنا حماد بن زيد عن أنس أن فاطمة قالت Y يا أنس كيف طابت أنفسكم أن تحثوا على رسول الله صلى الله عليه و سلم التراب وا أبتاه من ربه ما أدناه وا أبتاه جنة الفردوس مأواه وا أبتاه إلى جبريل ننعاه وا أبتاه أجاب ربا دعاه

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے انس! تمہارے دلوں نے کیسے گوارا کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مٹی ڈالو۔عرض کی : اے میرے ابا جان! آپ اپنے رب کے پاس ہیں ‘اے ابا جان ! حضرت جبریل نے آپ کے وصال کی خبر دی ‘اے ابا جان! آپ کی دعا ‘اللہ تعالیٰ نے قبول کی ہے۔

أَنَسٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمٌ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18878

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما روت عائشة أم المؤمنين عن فاطمة رضي الله عنهما · حديث 18879

1030 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا محمد بن عبيد المحاربي ثنا عبد الكريم بن يعقوب عن جابر عن أبي الطفيل قال : قالت عائشة Y اشتكى رسول الله صلى الله عليه و سلم في بيتي فأتته فاطمة تمشي والذي نفس عائشة بيده كأن مشيتها مشية رسول الله صلى الله عليه و سلم فسارها رسول الله صلى الله عليه و سلم فبكت ثم سارها فضحكت فقلت : ما رأيت كاليوم ضحكا أقرب من بكاء فقلت : يا فاطمة أخبريني ما قال لك ؟ قالت : ما كنت أفعل وقد رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم مكانك فلما توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم سألها فقالت : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن جبريل كان يعارضني بالقرآن في كل سنة مرة وقد عارضني به العام مرتين ولا أراني إلا مدعوا به فأجيب فاتقي الله قالت : فجزعت ثم سارني فقال : أما ترضين أن زوجك أول المسلمين إسلاما وأعلمهم علما فإنك سيدة نساء أمتي كما سادت مريم نساء قومها

حضرت ابو الطفیل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیماری کی شکایت میرے گھر میں ہوئی‘حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں‘قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں عائشہ کی جان ہے! ان کی چال رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح تھی ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کان میں کوئی بات کی تو آپ رو پڑیں‘پس آپ مٹی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کان میں کوئی بات کی تو آپ ہنس پڑیں۔ پس میں نے اُن سے کہا: میں نے آج کی طرح کبھی ہنسنے کو رونے کے اتنا قریب نہیں دیکھا۔ میں نے کہا: اے فاطمہ! مجھے بتاؤ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ سے کیا فرمایا؟ فرمایا: میں نہیں بتاؤں گی اس حال میں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہیں۔ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو ان سے پوچھا گیا‘حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک حضرت جبریل علیہ السلام ہر سال میرے ساتھ قرآن کا دور ایک بار کیا کرتے تھے اس سال انہوں نے دوبار کیا ہے ‘میرا خیال یہی ہے کہ میرا بلاوا آ گیا ہے اور میں اسے قبول کرتا ہوں‘پس تم تقویٰ کو نہ چھوڑنا۔ فرماتی ہیں: میں رو پڑی پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے سرگوشی کی ‘فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ تیرا خاوند سب مسلمانوں سے پہلے اسلام لایا اور سب سے بڑا عالم ہے! بے شک آپ میری اُمت کی عورتوں کی سردار ہیں جس طرح حضرت مریم اپنی قوم کی عورتوں کی سردار تھیں ۔

أَبِي الطُّفَيْلِ، ← جَابِرٍ ← عبد الكريم بن يعقوب ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18879

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما روت عائشة أم المؤمنين عن فاطمة رضي الله عنهما · حديث 18880

1031 - حدثنا يحيى بن أيوب العلاف المصري ثنا سعيد بن أبي مريم ثنا نافع بن يزيد حدثني عمارة بن غزية عن محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان أن أمه فاطمة بنت حسين حدثته أن عائشة كانت تقول Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم في مرضه الذي قبض فيه قال لفاطمة : يا بنية أحني علي فأحنت عليه فناجاها ساعة ثم انكشفت فيه وهي تبكي و عائشة حاضرة ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد ذلك بساعة : أحني علي يا بنية فأحنت عليه فناجاها ساعة ثم انكشفت عنه فضحكت قالت عائشة : فقلت : أي بنية أخبريني ماذا ناجاك أبوك ؟ فقالت فاطمة : ناجاني على حال سر ظننت أني أخبر بسره وهو حي ؟ فشق ذلك على عائشة أن يكون سرا دونها فلما قبضه الله قالت عائشة ل فاطمة : يا بنية ألا تخبريني بذلك الخبر ؟ قالت : أما الآن فنعم ناجاني في المرة الأولى فأخبرني أن جبريل صلى الله عليه و سلم كان يعارضه بالقرآن في كل عام مرة وأنه عارضه بالقرآن العام مرتين وأخبرني : أنه أخبره أنه لم يكن نبي إلا عاش نصف عمر الذي قبله وأنه أخبرني : أن عيسى بن مريم عاش عشرين ومائة سنة ولا أراني إلا ذاهبا على رأس الستين فأبكاني ذلك وقال : يا بنية إنه ليس من نساء المسلمين امرأة أعظم رزية منك فلا تكوني أدنى من امرأة صبرا وناجاني في المرة الآخرة فأخبرني : أني أول أهله لحوقا به وقال : إنك سيدة نساء أهل الجنة إلا ما كان من البتول مريم بنت عمران فضحكت بذلك

حضرت محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن عثمان سے مروی ہے کہ ان کی والدہ ٔمحترمہ حضرت فاطمہ بنت حسین نے انہیں حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی کرتی تھیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جس مرض میں وصال ہوا ‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اے میری بیٹی! میرے اوپر جھک جاؤ ۔ پس وہ آپ پر جھک گئیں‘پس ایک گھڑی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے سرگوشی فرمائی‘پھر وہ روتی ہوئی سامنے آئیں جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وہاں موجود تھی‘پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ایک گھڑی بعد فرمایا : اے میری بیٹی ! میرے اوپر جھک جائیں۔ پس وہ جھک گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گھڑی ان سے مناجات کی ‘پھر وہ سامنے آئیں تو ہنس پڑیں۔ میں نے کہا: اے بیٹی! مجھے بتائیں! تیرے باپ نے تیرے ساتھ کیا سرگوشی کی ہے؟ پس حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرگوشی میں راز کی بات کی ہے ‘آپ کا کیا گمان ہے کہ میں ان کی زندگی میں ان (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے راز کی خبر دے دوں؟ پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر یہ بات گراں گزری کہ ان کے سامنے بھی راز ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے بیٹی ! کیا اب وہ خبر مجھے بتا دے گی؟ فرمایا: اب ! پس ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی بار مجھ سے سرگوشی کی‘پس مجھے خبر دی کہ حضرت جبریل علیہ السلام ان سے سال میں ایک بار قرآن کا دور کرتے تھے ‘اس سال دو بار دور کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا کہ ہر نبی اپنے سے پہلے نبی سے آدھی عمر زندہ رہا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا کہ حضرت عیسی علٰی نبینا علیہ الصلوٰۃ ولا سلام ایک سو بیسں سال زندہ رہے ‘میرا خیال ہے کہ میں ساٹھ سال کے آخر میں جانے والا ہوں‘پس اس بات نے مجھے رُلا دیا ۔ اور فرمایا: اے بیٹی ! مسلمانوں کی عورتوں میں سے کسی عورت کی اولاد تجھ سے زیادہ نہ ہوگی‘پس تُو کسی عورت سے کم صبر والی نہ ہونا‘اور آخری بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے سر گوشی فرمائی تو مجھے بتایا کہ میرے گھر والوں میں سے تو سب سے پہلے مجھے ملے گی اور فرمایا: تُو جنتی عورتوں کی سردار ہے مگر بتول مریم بنت عمران ۔ پس میں یہ سن کر ہنس پڑی۔

عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18880

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما روت عائشة أم المؤمنين عن فاطمة رضي الله عنهما · حديث 18881

1032 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا زكريا بن أبي زائدة عن فراس عن الشعبي عن مسروق عن عائشة قالت Y أقبلت فاطمة تمشي كان مشيتها مشية رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : مرحبا يا بنتي فأجلسها عن يمينه أو عن شماله ثم أسر إليها حديثا فبكت فقلت لها : استخصك رسول الله صلى الله عليه و سلم بحديثه لم تبكين ثم أسر إليها حديثا فضحكت فقلت : ما رأيت كاليوم فرحا أقرب من حزن فسألتها عما قال فقالت : ما كنت لأفشي سر رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى إذا قبض سألتها فقالت : إنه أسر إلي فقال : إن جبريل كان يعارضني القرآن كل سنة مرة وأنه عارضني العام مرتين فلا آراه إلا قد حضر أجلي وأنك أول أهل بيتي لحاقا بي ونعم السلف أنا لك فبكت لذلك ثم قال : ألا ترضين أن تكوني سيدة نساء الأمة أو نساء المسلمين ؟ فضحكت لذلك

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں گویا ان کی چال رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چال کے مشابہ تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری بیٹی کو خوش آمدید! پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنی دائیں طرف بٹھایا ‘یا بائیں طرف۔ پھر ان کے کان میں ایک بات کہی‘پس آپ رضی اللہ عنہا رو پڑیں۔ میں نے (بعد میں) ان سے کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات کیلئے آپ کو مخصوص فرمایا ہے‘پھر آپ رو رہی ہیں (واہ ! بیٹی ! یہ کیا طریقہ ہے؟ ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کان میں ایک بات کی تو آپ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں۔ میں نے (بعد میں ) کہا : آج کی طرح میں نے کبھی خوشی کو غم کے اتنا قریب نہیں دیکھا ہے۔ پس میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا ؟ پس انہوں نے کہا: میری طاقت نہیں ہے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راز افشاء کروں ‘یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو میں نے ان سے پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا: بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے سرگوشی کی ‘فرمایا : حضرت جبریل علیہ السلام مجھ سے سال میں ایک بار قرآن کا دور کیا کرتے تھے ‘اس سال دو بار کیا ہے ‘میرا خیال ہے کہ میرے وصال کا وقت قریب آ گیا ہے اور میرے اہل بیت سے تُو سب سے پہلے مجھ سے ملے گی ‘میں تیرے لیے کتنا اچھا پہلے جانے والا ہوں ۔ پس اس وجہ سے میں رو پڑی ‘پھر فرمایا : کیا تُو اس بات سے خوش نہیں ہے کہ تو اُمت کی عورتوں کی سردار ہو ‘یا فرمایا: مسلمانوں کی عورتوں کی۔ تو اس وجہ سے میں ہنس پڑی۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسٍ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18881

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما روت عائشة أم المؤمنين عن فاطمة رضي الله عنهما · حديث 18882

1033 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا سهل بن بكار ثنا أبو عوانة عن فراس عن عامر عن مسروق عن عائشة قالت Y اجتمع نساء رسول الله صلى الله عليه و سلم لم تغادر منهن امرأة فجاءت فاطمة تمشى ما تخطى مشيتها من مشية أبيها صلى الله عليه و سلم فقال : مرحبا يا بنتي فأقعدها عن يمينه أو عن شماله فسارها بشيء فبكت ثم سارها فضحكت فقلنا لها : خصك رسول الله صلى الله عليه و سلم من بيننا لسر وتبكين ؟ فلما قام رسول الله صلى الله عليه و سلم قلت لها : أخبريني بما سارك قالت : ما كنت لأفشي على رسول الله صلى الله عليه و سلم سره فلما توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم قلت لها : أسألك بما لي عليك من الحق لما أخبرتيني فقالت : أما الآن فنعم سارني فقال لي : إن جبريل كان يعارضني القرآن في كل سنة مرة وأنه عارضني العام مرتين ولا أرى ذلك إلا عند اقتراب أجلي فاتقي الله واصبري فنعم السلف أنا لك فبكيت ثم سارني فقال : أما ترضين أن تكوني سيدة نساء المؤمنين أو قال نساء هذه الأمة ؟ فضحكت

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاک بیویاں اکٹھی ہوئیں‘ان میں سے کوئی عورت پیچھے نہ رہی‘پس حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی چلتی ہوئی آئیں‘جو قدم وہ اُٹھاتی تھیں‘ان کی چال رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چال تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میری بیٹی ! خوش آمدید۔ پس ان کو اپنے دائیں یا بائیں بٹھایا‘پس ان سے سرگوشی کی تو انہیں رونا آ گیا‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے سرگوشی کی تو وہ ہنسیں ۔ پس ہم سب نے ان سے کہا: ہم سب میں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو اپنا راز بتانے کیلئے خاص فرمایا اور آپ رو رہی ہیں۔ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُٹھ گئے تو میں نے ان سے کہا: مجھے بتاؤ ! جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم سے سرگوشی کی ہے؟ کہا: میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راز افشاء نہیں کر سکتی۔ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکا وصال ہوا تو میں نے ان سے کہا : میرا جو حق آپ پر ہے اس کا واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتی ہوں کہ مجھے وہ بات بتا دو۔ فرمایا: بہر حال اب ہاں ( بتاتی ہوں )‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے سرگوشی کی تو مجھ سے فرمایا: بے شک جبریل علیہ السلام ہر سال میرے ساتھ ایک بار قرآن کا دور کیا کرتے تھے اور اس سال دو بار کیا ہے ‘میرا خیال ہے کہ یہ میرے وصال کے قریب ہونے کے سبب ہے ‘پس تُو پر ہیز گاری اختیار کیے رکھنا اور صبر سے کام لینا‘پس میں بہترین آگے جانے والا ہوں۔ پس میں روپڑی ‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے سر گوشی کی ‘فرمایا : کیا تُو راضی نہیں ہے کہ تُو مؤمنوں کی عورتوں کی سردار ہو‘یا فرمایا: اس اُمت کی عورتوں کی۔ پس میں ہنس پڑی۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← عَامِرٍ، ← فِرَاسٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18882

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما روت عائشة أم المؤمنين عن فاطمة رضي الله عنهما · حديث 18883

1034 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) وحدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا منجاب بن الحارث قالا ثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن عائشة قالت Y قلت لفاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم : رأيتك أكببت على النبي صلى الله عليه و سلم في مرضه فبكيت ثم أكببت عليه ثانية فضحكت قالت : أكببت عليه فأخبرني : أنه ميت فبكيت ثم أكببت عليه فأخبرني : أني أول أهل بيته لحوقا به وأني سيدة نساء أهل الجنة إلا ما كان من مريم بنت عمران فضحكت

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کے دوران ان پر جھک گئیں‘اس کے بعد روئیں پھر دوسری بار آپ پر جھکیں تو ہنسیں۔ فرمایا: میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھکی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا کہ آپ کا وصال ہونے والا ہے تو میں روئی‘پھر میں آپ پر جھکی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں میں سے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملوں گی اور بتایا کہ میں جنتی عورتوں کی سردار ہوں مگر مریم بنت عمران ۔ تو میں ہنسی۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18883

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما روت عائشة أم المؤمنين عن فاطمة رضي الله عنهما · حديث 18884

1035 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبو كامل الجحدري ثنا روح بن عطاء بن أبي ميمونة ثنا علي بن زيد بن جدعان عن أم محمد عن عائشة قالت Y بينما أنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في بيت يلاعبني وألاعبه إذ دخلت علينا فاطمة فأخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم بيدها فأقعدها خلفه وناجاها بشيء لا أدري ما هو فنظر إلى فاطمة تبكي ثم أقبل إلي رسول الله صلى الله عليه و سلم فحدثني ولاعبني ثم أقبل عليها فلاعبها وناجاها بشيء فنظرت إلى فاطمة وإذا هي تضحك فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فخرج فقلت لفاطمة : ما الذي ناجاك به رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قالت : ليس كلما أسر إلي رسول الله صلى الله عليه و سلم أخبرك به قلت : أذكرك الله والرحم قالت : أخبرني : أنه مقبوض قد حضر أجله فبكيت لفراق رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم أقبل إلي فناجاني : أني أول من لحق به من أهل بيته فضحكت للقاء رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اسی دوران کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں تھی‘اس گھر میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے محبت کے ساتھ پیش آتے تھے اور میں آپ سے محبت و پیار کا اظہار کرتی تھی ۔ اچانک حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہمارے پاس آئیں‘پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پیچھے بٹھایا اور ان سے سرگوشی کی ‘مجھے معلوم نہ ہوا کہ وہ کیا تھی۔ میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو روتے ہوئے دیکھا‘پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف متوجہ ہو کر محبت و پیار سے باتیں کرنے لگے ‘پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر ان سے پیار کیا اور کسی چیز کے بارے میں سرگوشی کی تو میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھا‘اچانک وہ ہنس رہی ہیں ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُٹھ کر تشریف لے گئے تو میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ سے کیا سرگوشی کی ہے؟ فرمایا: ایسا نہیں ہے کہ جب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے سرگوشی فرمائی ہے تو میں نے اس کی آپ کو خبر دی ہے۔ میں نے کہا: میں آپ کو اللہ کی یاد دلاتی ہوں (اللہ کا واسطہ دیتی ہوں ) اور قریبی تعلق کا ‘انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا کہ آپ وصال فرمانے والے ہیں‘آپ کے وصال کا وقت آن پہنچا ہے ‘میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی میں رو پڑی ‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے تو آپ سرگوشی فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں میں سے ‘میں سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملوں گی‘میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کی خوشی میں ہنس پڑی۔

بَيْنَمَا ← عَائِشَةَ ← أُمِّ مُحَمَّدٍ ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← رَوْحُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18884

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما روت عائشة أم المؤمنين عن فاطمة رضي الله عنهما · حديث 18885

1036 - حدثنا الحسن بن علي المعمري ثنا محمد بن حميد الرازي ثنا سلمة بن الفضل عن محمد بن إسحاق عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبيه عن عائشة قالت Y دخلت فاطمة بنت النبي صلى الله عليه و سلم فسارها بشيء فبكت ثم دعاها بشيء فضحكت فلما توفي قلت : أخبريني ما الذي أبكاك ثم أضحكك ؟ قالت : نعيت إليه نفسه فبكيت ثم سارني فقال : إنك أول أهلي لحوقا بي فضحكت قالت عائشة : فما عاشت بعده إلا ستة أشهر

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: حضرت فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کسی بات کے ساتھ سرگوشی کی تو وہ رو پڑیں‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے ان کو کسی بات کے ساتھ بلایا تو وہ ہنس پڑیں‘پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو میں نے کہا:آپ مجھے بتائیں کہ کس چیز نے آپ کو رونے پر مجبور کر دیا ‘پھر کس چیز نے آپ کو ہنسایا ؟ فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وصال کی خبر دی تو میں رو پڑی ‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے سرگوشی کی تو فرمایا: میرے گھر والوں میں سے تُو سب سے پہلے مجھے ملے گی ‘تو میں ہنس پڑی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا صرف چھ ماہ زندہ رہیں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18885

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما روت عائشة أم المؤمنين عن فاطمة رضي الله عنهما · حديث 18886

1037 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ثنا سليمان بن داود الهاشمي ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني قالا ثنا إبراهيم بن سعد عن أبيه عن عروة بن الزبير عن عائشة قالت Y دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم فاطمة في مرضه فسارها فبكت ثم سارها فضحكت فسألتها عن ذلك ما الذي رأيت الذي سارك فبكيت ثم سارك فضحكت ؟ فقالت : أخبرني رسول الله صلى الله عليه و سلم بموته فبكيت ثم أخبرني أني أول من يتبعه من أهله فضحكت

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان سے سرگوشی کی تو وہ رو دیں‘ پھر سر گوشی کی تو وہ ہنس دیں۔ پس میں نے ان سے اس بارے سوال کیا کہ آپ نے کیا دیکھا‘رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کریم نے آپ سے سرگوشی کی تو آپ رو پڑیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھ سے سر گوشی کی تو آپ ہنس پڑیں۔ فرمایا : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے وصال کا بتایا تو میں روئی‘پھر بتایا کہ ان کے گھر والوں میں سے کون (سب سے پہلے ) ان کے پیچھے جائے گا ‘تو میں ہنس پڑی۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18886

chevron_left Previous
1…353637…42
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter