المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ الحسين بن علي عن فاطمة · حديث 18875
1026 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا جندل بن والق ثنا محمد بن عمر المازني عن عباد الكلبي عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي بن حسين عن فاطمة الصغرى عن حسين بن علي عن أمه فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم قالت Y خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم عشية عرفة فقال : إن الله باهى بكم وغفر لكم عامة و لعلي خاصة وإني رسول الله إليكم غير محاب لقرابتي هذا جبريل يخبرني إن السعيد حق السعيد من أحب عليا في حياته وبعد موته وأن الشقي كل الشقي من أبغض عليا في حياته وبعد موته
حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ‘اُنہوں نے حضرت فاطمہ صغریٰ رضی اللہ عنہا سے ‘انہوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے اپنی والدہ محترمہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے روایت کیا‘آپ فرماتی ہیں: عرفات کی شام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ‘فرمایا: بے شک اللہ نے تم پر فخر فرمایا ہے اور تم سب کی مغفرت فرما دی ہے اور حضرت علی کی خاص کر کے اور میں تمہیں خبر پہنچانے والا ہوں سوائے اس کے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں سے محبت کرنے والا ہوں ‘یہ حضرت جبریل موجود ہیں جو مجھے خبر دے رہے ہیں کہ سعید ( خوش بخت ) حق ہے ‘سعید وہ ہے جو حضرت علی کی زندگی میں اور ان کی موت کے بعد بھی ان سے محبت کرے اور شقی ( بد بخت) پر وہ بد بخت ہے جو حضرت علی کی زندگی اور ان کی وفات کے بعد ان سے بغض رکھے۔
خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم عشية عرفة ← أمه فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← فَاطِمَةَ الصُّغْرَى ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← عَبَّادٍ الْكَلْبِيِّ، ← محمد بن عمر المازني ← جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18875
