Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ومن مناقب فاطمة رضي الله عنها · حديث 18863

1014 - حدثنا جعفر بن هارون النوفلي المدني ثنا عبد العزيز بن عبد الله الأويسي قال ثنا عبد الله بن جعفر المخرمي عن أم بكر بنت المسور عن أبيها Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن فاطمة شجنة مني يغضبني ما أغضبها ويبسطني ما أبسطها

حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا (میری شاخ) ہے ‘جو چیز اس کو تکلیف دیتی ہے ‘وہ مجھے تکلیف دیتی ہے اور جو چیز اس کو راحت دیتی ہے ‘وہ مجھے راحت دیتی ہے۔

أَبِيهَا ← أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← جعفر بن هارون النوفلي المدني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18863

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ومن مناقب فاطمة رضي الله عنها · حديث 18864

1015 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا أبو الجواب الأحوص بن جواب عن سليمان بن قرم عن هارون بن سعد عن حرة عن أسماء بنت عميس قالت Y خطبني علي بن أبي طالب فبلغ ذلك فاطمة فأتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : إن أسماء متزوجة عليا فقال : ما كان لها أن تؤذي الله ورسوله

حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ‘یہ بات حضرت سیّدہ کائنات فاطمہ رضی اللہ عنہا تک پہنچی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائیں اور عرض کی: اسماء حضرت علی سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے یہ حق نہیں ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دے۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ← حُرَّةَ، ← هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ← أَبُو الْجَوَّابِ الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18864

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ومن مناقب فاطمة رضي الله عنها · حديث 18865

1016 - حدثنا محمد بن حيان المازني ثنا كثير بن يحيى ثنا سعيد بن عبد الكريم بن سليط و أبو عوانة عن داود بن أبي عوف أبي الجحاف عن عبد الرحمن بن أبي زناد أنه سمع عبد الله بن الحارث بن نوفل يقول ثنا أبو سعيد الخدري Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دخل على فاطمة ذات يوم و علي نائم وهي مضطجعة و أبناؤها إلى جنبها فاستسقى الحسن فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى لقحة فحلب لهم فأتى به فاستيقظ الحسين فجعل يعالج أن يشرب قبله حتى بكى فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أخاك استسقى قبلك فقالت فاطمة : إن الحسن آثر عندك قال : ما هو بآثر عندي منه وإنما هما عندي بمنزلة واحدة وإني وإياك وهما وهذا النائم لفي مكان واحد يوم القيامة

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے تھے اور آپ رضی اللہ عنہا پہلو کے بل لیٹی ہوئی تھیں جبکہ آپ کے بیٹے آپ کے پہلو میں تھے۔ اتنے میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اُٹھنے ‘دودھ دینے والی اونٹنی کی طرف گئے اور ان سب گھر والوں کیلئے دودھ نکال کر لائے۔ اتنے میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بھی جاگ اُٹھے‘پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے پہلے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو دودھ پلانے لگے یہاں تک کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ رو پڑے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تیرے بھائی نے تجھ سے پہلے مانگا ہے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بولیں : گویا آپ حضرت حسن کو ترجیح دیتے ہیں؟فرمایا: میرے نزدیک وہ اس سے ترجیح یافتہ نہیں ہیں‘بس میرے نزدیک یہ دونوں ایک ہی مقام پر ہیں‘قیامت والے دن ‘میں ‘تُو ‘یہ دونوں اور یہ سونے والا سب ایک ہی جگہ ہوں گے۔

أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← عبد الرحمن بن أبي زناد أنه ← داود بن أبي عوف أبي الجحاف ← سعيد بن عبد الكريم بن سليط و أبو عوانة ← كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18865

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ومن مناقب فاطمة رضي الله عنها · حديث 18866

1017 - حدثنا محمد بن حيان المازني ثنا كثير بن يحيى ثنا سعيد بن عبد الكريم بن سليط الحنفي عن عمرو بن أبي المقدام عن أبيه عن أبي فاتحة عن علي قال Y دخل علينا النبي صلى الله عليه و سلم وأنا نائم فاستسقى الحسن فقام إلى مسحة لنا نكيه فيض منها ثم جاء بالإناء فقام إليه الحسين يستسقيه فقال : أخوك استسقى قبلك يشرب ثم تشرب فقالت فاطمة : كأنه أحبهما إليك ما هو بأحبهما إلي وإنهما عندي لبمكان واحد فإني وإياك وهما وهذا الراقد لفي مكان واحد

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آئے جبکہ میں سویا تھا‘پس ہی حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا‘پس آپ نے ہماری اونٹنی کی طرف جا کر اس کا دودھ نکالا ‘پھر برتن لائے تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ اُٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگنے لگے ۔ فرمایا: تیرے بھائی نے تجھ سے پہلے مانگا ہے ‘پہلے وہ پئے گا پھر آپ پئیں گے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کی عرض کی : گویا آپ کو وہ (حسن) زیادہ پیارا ہے۔ فرمایا : وہ مجھے زیادہ پیارا نہیں ہے ‘یہ دونوں میرے نزدیک ایک جگہ پر ہیں کیونکہ میں‘آپ یہ دونوں اور یہ جو سویا ہوا ہے ( جنت میں) ایک ہی جگہ ہوں گے۔

دخل علينا النبي صلى الله عليه و سلم ← عَلِيٍّ، ← أبي فاتحة ← أَبِيهِ ← عمرو بن أبي المقدام ← سعيد بن عبد الكريم بن سليط الحنفي ← كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18866

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ومن مناقب فاطمة رضي الله عنها · حديث 18867

1018 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي و الحسين بن إسحاق التستري قالا ثنا أبو كريب ثنا معاوية بن هشام عن عمرو بن غياث عن عاصم عن زر عن عبد الله بن مسعود قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن فاطمة حصنت فرجها فحرمها الله وذريتها على النار

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ‘اللہ نے آپ رضی اللہ عنہا پر اور آپ کی اولاد پر جہنم کی آگ حرام کر دی۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← عمرو بن غياث ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← محمد بن عبد الله الحضرمي و الحسين بن إسحاق التستري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18867

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ومن مناقب فاطمة رضي الله عنها · حديث 18868

1019 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثنا شيبان بن فروخ ثنا داود بن أبي الفرات ثنا علياء بن أبي أحمد عن عكرمة عن ابن عباس رضي الله عنه قال Y خط رسول الله صلى الله عليه و سلم في الأرض أربعة خطوط فقال : أتدرون ما هذا ؟ قالوا الله ورسوله أعلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل نساء أهل الجنة مريم بنت عمران و آسية بنت مزاحم و خديجة بنت خويلد و فاطمة بنت محمد صلى الله عليه و سلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین پر چار خط کھینچے ‘فرمایا: تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کی افضل عورتیں مریم بنت عمران ‘آسیہ بنت مزاحم ‘خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ← أتدرون ما هذا ← خط رسول الله صلى الله عليه و سلم في الأرض أربعة خطوط ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← علياء بن أبي أحمد ← دَاوٗدَ بْنِ اَبِیْ الْفُرَاتِ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18868

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج فاطمة رضي الله عنها · حديث 18869

1020 - حدثنا علي بن سعيد الرازي و عبد الرحمن بن الحسين الصابوني التستري قالا ثنا إسماعيل بن موسى السدي ثنا بشر بن الوليد الهاشمي ثنا عبد النور بن عبد الله المسمعي عن شعبة بن الحجاج عن عمرو بن مرة عن إبراهيم قال حدثني مسروق عن عبد الله بن مسعود قال Y سأحدثكم بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم أزل أطلب الشهادة للحديث فلم أرزقها سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة تبوك يقول ونحن نسير معه : إن الله أمرني أن أزوج فاطمة من علي ففعلت : قال جبريل عليه السلام : إن الله بنى جنة من لؤلؤة قصب بين كل قصبة إلى قصبة لؤلؤة من ياقوت مشذرة بالذهب وجعل سقوفها زبرجدا أخضر وجعل فيها طاقات من لؤلؤ مكللة بالياقوت ثم جعل عليها غرفا لبنة من فضة ولبنة من ذهب ولبنة من در ولبنة من ياقوت ولبنة من زبرجد ثم جعل فيها عيونا تنبع في نواحيها وحفت بالأنهار وجعل على الأنهار قبابا من در قد شعبت بسلاسل الذهب وحفت بأنواع الشجر وبنى في كل غصن قبة وجعل في كل قبة أريكة من درة بيضاء غشاؤها السندس والاستبرق وفرش أرضها بالزعفران وفتق بالمسك والعنبر وجعل في كل قبة حوراء والقبة لها مائة باب على كل باب حارسان وشجرتان في كل قبة مفرش وكتاب مكتوب حول القباب آية الكرسي قلت لجبريل : لمن بنى الله هذه الجنة ؟ قال : بناها لابنتك فاطمة و علي بن أبي طالب سوى جنانها تحفة أتحفها وأقر عينيك يا رسول الله

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آپ لوگوں کو ایک حدیث سناؤں جو میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی‘پس لگا تار میں اس حدیث کیلئے گواہی تلاش کرتا رہا لیکن مجھے گواہی میسر نہ آئی ‘غزوہ تبوک کے موقعہ پر میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اس حال میں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں چل رہے تھے‘ بے شک اللہ تعالٰی نے مجھے حکم صادر فرمایا کہ میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی ‘حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کر دوں‘پس میں نے کردی۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک جنت بنائی ہے جس کے محلات موتیوں کے بنے ہوئے ہیں‘ایک محل سے دوسرے محل تک کے درمیان یاقوت کے ایسے موتی ہیں جن کے یل درمیان سونے کے ٹکڑے لگے ہوئے ہیں‘ان کی چھتیں سبز زبرجد ( ایک پتھر ہے) کی بنائی ہیں ان میں طاق ( محراب ) ایسے موتیوں کے بنائے جو یا قوت سے آراستہ کئے ہوئے ہیں۔ پھر ان کے اوپر بالا خانے بنائے جن کی ایک اینٹ چاندی کی ‘ایک سونے کی ‘ایک موتی کی ‘ایک یا قوت کی اور ایک زبرجد کی ہے‘پھر ان میں چشمے بنائے جو ان کے کناروں میں چلتے ہیں (پھوٹتے ہیں) وہ نہروں ہی سے گھرے ہوئے ہیں‘نہروں کے کناروں پر چاندی کے پیالے ہیں جو سونے کی زنجیروں سے باندھے ہوئے ہیں ‘چاروں اطراف سے قسم قسم کے درختوں نے اسے گھری رکھا ہے ‘ہر شاخ میں ایک قبر ( گنبد ) بنایا ‘ہر قبہ میں سفید موتیوں کا پلنگ رکھا ‘ان کے پردے سندس اور استبرق (ریشم کی قسمیں) کے ہیں‘اس کی زمین زعفران کی بنائی ‘اس میں مشک و عنبر کی خوشبو تیز کرنے والی چیز ملائی ‘ہر قبہ میں موٹی آنکھوں والی حور ہے ‘قبّہ کے سو دروازے ہیں‘ہر دروازے پر دو چوکیدار اور دو درخت ہیں‘ہر قبہ میں بستر لگا ہوا ہے ‘قبوں کے اردگرد آیت الکرسی لکھی ہوئی ہے۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے یہ جنت کس کیلئے بنائی ہے؟ عرض کی: آپ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ اور حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما کیلئے ہے ‘یہ باقی جنتوں کے علاوہ ایک تحفہ ہے جو اللہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بطورِ تحفہ عطا کی ہے اور آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا ہے ‘اے اللہ کے رسول ۔

سَأُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← عبد النور بن عبد الله المسمعي ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْهَاشِمِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، ← علي بن سعيد الرازي و عبد الرحمن بن الحسين الصابوني التستري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18869

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج فاطمة رضي الله عنها · حديث 18870

1021 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا الحسن بن حماد الحضرمي ثنا يحيى بن يعلى الأسلمي عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن عن أنس بن مالك قال Y جاء أبو بكر إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقعد بين يديه فقال : يا رسول الله قد علمت مناصحتي وقدمي في الإسلام وإني وإني قال : وما ذاك ؟ قال : تزوجني فاطمة فسكت عنه أو قال : فأعرض عنه فرجع أبو بكر إلى عمر فقال : هلكت و أهلكت قال : وما ذاك ؟ قال : خطبت فاطمة إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأعرض عني فقال : مكانك حتى آتي النبي صلى الله عليه و سلم فأطلب مثل الذي طلبت فأتى عمر النبي صلى الله عليه و سلم فقعد بين يديه فقال : يا رسول الله قد علمت مناصحتي وقدمي في الإسلام وإني وإني قال : وما ذاك ؟ قال : تزوجني فاطمة فأعرض عنه فرجع عمر إلى أبي بكر فقال : إنه ينتظر أمر الله فيها انطلق بنا إلى علي حتى نأمره أن يطلب مثل الذي طلبنا قال علي : فأتياني وأنا في سبيل فقالا : بنت عمك تخطب فنبهاني لأمر فقمت أجر ردائي طرف على عاتقي وطرف آخر في الأرض حتى أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقعدت بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله قد علمت قدمي في الإسلام ومناصحتي وإني وإني قال : وما ذاك يا علي ؟ قلت : تزوجني فاطمة قال : وما عندك ؟ قلت : فرسي وبدني يعني درعي قال : أما فرسك فلا لك منه وأما درعك فبعها فبعتها بأربعمائة وثمانين فأتيت بها النبي صلى الله عليه و سلم فوضعتها في حجره فقبض منها قبضة فقال : يا بلال أبغنا بها طيبا وائمرهم أن يجهزوها فجعل لها سريرا مشرطا بالشريط ووسادة من أدم حشوها ليف وملأ البيت كثيبا يعني رملا وقال : إذا أتتك فلا تحدث شيئا حتى آتيك فجاءت مع أم أيمن فقعدت في جانب البيت وأنا في جانب فجاء النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ههنا أخي ؟ فقالت أم أيمن : أخوك وقد زوجته بنتك فدخل فقال لفاطمة ائتيني بماء فقامت إلى قعب في البيت فجعلت فيه ماء فأتته به فمج فيه ثم قال لها : قومي فنضح بين ثدييها وعلى رأسها ثم قال : اللهم أعيذها بك وذريتها من الشيطان الرجيم ثم قال لها : ادبري فأدبرت فنضح بين كتفيها ثم قال : اللهم أعيذها بك من الشيطان الرجيم ثم قال : ائتيني بماء فعملت الذي يريده فملأت القعب ماء فأتيته به فأخذ منه بفيه ثم مجه فيه ثم صب على رأسي وبين يدي ثم قال : اللهم إني أعيذه وذريته من الشيطان الرجيم ثم قال : ادخل على أهلك بسم الله والبركة

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت ابو بکر آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے ‘عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کو میرا اخلاص اور اسلام میں پہلے ہونا معلوم ہے اور بے شک میں اور میں ۔ فرمایا: وہ کیا؟ عرض کی: میرا نکاح حضرت فاطمہ سے کر دیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے‘یا راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعراض کیا۔ پس حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ لوٹ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: میں اور تُو ہلاک ہوئے۔ کہا: وہ کیا بات ہے؟ کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت فاطمہ کے نکاح کا پیغام دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منہ پھیر لیا۔ انہوں نے کہا: اپنی جگہ پر ٹھہرو حتیٰ کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کی طرح مطالبہ کروں۔ پس حضرت عمر آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے ‘عرض کی: اے اللہ کے رسول ! آپ کو میرا اخلاص اور اسلام میں مقدم ہونا معلوم ہے اور تحقیق میں اور میں۔ فرمایا: کیا بات ہے؟ عرض کی: میرا نکاح حضرت فاطمہ سے کر دیں۔ (فرماتے ہیں :)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعراض کیا۔ پس حضرت عمر‘حضرت ابو بکر کی طرف آئے ‘کہا: بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے حکم کے انتظار میں ہیں‘ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں حتی کہ انہیں اپنے طلب کرنے کی طرح طلب کرنے کا مشورہ دیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دونوں حضرات میرے پاس آئے جبکہ میں راستے میں تھا۔ کہا: آپ چچازاد کی بیٹی کیلئے نکاح کا پیغام دیا گیا۔ پس انہوں نے مجھے معاملے سے آگاہ کیا‘پس میں اپنی چادر کھینچتا ہوا یا اُٹھا ‘ایک کنارہ میرے کندھے پر تھا اور دوسرا زمین پر حتی ٰ کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا‘میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میرے اسلام میں مقدم ہونے اور میرے اخلاص کو آپ جانتے ہیں اور میں‘تحقیق میں ہوں۔ فرمایا: کیا بات ہے؟ اے علی ! میں نے عرض کی : آپ حضرت فاطمہ سے میرا نکاح کر دیں ۔ فرمایا: تیرے پاس کیا ہے؟ میں نے عرض کی : میرا گھوڑا اور میری زرہ ۔ فرمایا: تجھے گھوڑے کی تو زیادہ کیا ضرورت ہے لیکن اپنی زرہ کو بیچ دو۔ پس میں نے چار سو راسّی درہم میں وہ زرہ بیچ دی ‘میں وہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ‘میں نے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں رکھ دیئے‘پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے ایک مٹھی بھر کر فرمایا: اے بلال! اس کے بدلے خوشبو لاؤ اور انہیں (گھر والوں کو) کہو کہ تیاری کریں (جہیز کی)۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کیلئے ایک چار پائی بنوائی جو رسّی سے بنی ہوئی تھی‘چمڑے کا ایک تکیہ جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے ‘گھر میں ریت بچھائی اور فرمایا: جب وہ (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ) تیرے پاس آئے تو میرے آنے تک اس سے بات نہ کرنا۔ پس وہ اُم ایمن کے ساتھ آئیں اور گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئیں اور میں ایک کونے میں تھا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ‘فرمایا: یہاں میرا بھائی ہے۔ پس حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہا نے عرض کی: (اگر وہ تیرا بھائی ہے تو ) آپ نے اس کی شادی اپنی بیٹی سے کر دی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر فرمایا: میرے پاس پانی لاؤ۔ پس وہ اُٹھ کر بڑے پیالہ کی طرف گئیں جو گھر میں موجود تھا‘اس میں پانی ڈال کر لے آئیں‘پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں کُللّی کی‘پھر فرمایا : اُٹھو! اور اسے اپنے سینے اور سر پر چھڑ کو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی: ’’اللّٰہم انى اعیذہ و ذریتہ من الشیطان الرجیم ‘‘پھر فرمایا: پیچھے ہو جاؤ! آپ رضی اللہ عنہا پیچھے ہوگئیں‘پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: پانی لاؤ !پس اُنہوں نے وہی کام کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے ۔ پس اُنہوں نے پیالہ پانی سے بھرا اور اسے لے آئے‘پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ کے ساتھ پانی لے کر اس میں کُلّی کی پھر اُن کے سر اور ہاتھوں کے درمیان انڈیلا ‘پھر فرمایا: ’’ اللّٰہم انى اعیذہ و ذریتہ من الشیطان الرجیم ‘‘ پھر فرمایا: اللہ کے نام اور برکت سے اپنے گھر والوں کے پاس چلے جاؤ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18870

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج فاطمة رضي الله عنها · حديث 18871

1022 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن يحيى بن العلاء عن عمه شعيب بن خالد عن حنظلة بن سبرة بن المسيب بن نجية عن أبيه عن جده عن ابن العباس قال Y كانت فاطمة تذكر لرسول الله صلى الله عليه و سلم فلا يذكرها أحد إلا صدعته حتى يئسوا منها فلقي سعد بن معاذ عليا فقال : إني والله ما أرى رسول الله صلى الله عليه و سلم يحبسها إلا عليك فقال له علي : فلم ترى ذلك فوالله ما أنا بأحد الرجلين ما أنا بصاحب دنيا يلتمس ما عندي وقد علم ما لي صفراء ولا بيضاء وما أنا بالكافر الذي يترفق بها عن دينه - يعني يتألفه بها - إني لأول من أسلم فقال سعد : فإني أعزم عليك لتفرجنها عني فإن لي في ذلك فرجا قال : أقول ماذا ؟ قال : تقول جئت خاطبا إلى الله ورسوله فاطمة بنت محمد قال : فانطلق علي وهو ثقيل حصر فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : كأن لك حاجة يا علي ؟ قال : أجل جئتك خاطبا إلى الله ورسوله فاطمة بنت محمد فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : مرحبا كلمة ضعيفة ثم رجع إلى سعد بن معاذ فقال له : قد فعلت الذي أمرتني به فلم يزد على أن رحب بي كلمة ضعيفة فقال سعد : أنكحك والذي بعثه بالحق إنه خلف الآن ولا كذب عنده وأعزم عليك لتأتينه غدا فلتقولن يا نبي الله متى تبنيني ؟ فقال علي : هذه أشد علي من الأولى أولا أقول يا رسول الله حاجتي قال كما أمرتك فانطلق علي فقال يا رسول الله متى تبنيني ؟ قال : الليلة إن شاء لله ثم دعا بلالا فقال : يا بلال إني قد زوجت ابنتي ابن عمي وأنا أحب أن يكون من سنة أمتي الطعام عند النكاح فائت الغنم فخذ شاة وأربعة أمداد واجعل لي قصعة لعلي أجمع عليها المهاجرين والأنصار فإذا فرغت فآذني فانطلق ففعل ما أمره به ثم أتاه بقصعة فوضعها بين يديه فطعن رسول الله صلى الله عليه و سلم في رأسها وقال : أدخل الناس علي زقة زقة ولا تغادرون زقة إلى غيرها يعني إذا فرغت زقة فلا تعودون ثانية فجعل الناس يردون كلما فرغت زقة وردت أخرى حتى فرغ الناس ثم عمد النبي صلى الله عليه و سلم إلى ما فضل منها فتفل فيها وبارك وقال : يا بلال احملها إلى أمهاتك وقل لهن كلن وأطعمن من غشيكن ثم قام النبي صلى الله عليه و سلم حتى دخل على النساء فقال : إني زوجت بنتي من ابن عمي وقد علمتن منزلتها مني وأنا دافعها إليه فدونكن ابنتكن فقمن النساء فغلفنها من طيبهن وألبسنها من ثيابهن وحلينها من حليهن ثم إن النبي صلى الله عليه و سلم دخل فلما رأينه النساء ذهبن وبينهن وبين النبي صلى الله عليه و سلم ستر وتخلفت أسماء بنت عميس فقال لها النبي صلى الله عليه و سلم : على رسلك من أنت ؟ قالت : أنا التي أحرس ابنتك إن الفتاة ليلة تبنى بها لابد لها من امرأة تكون قريبة منها إن عرضت لها حاجة أو أرادت شيئا أفضت بذلك إليها قال : فإني أسأل الهي أن يحرسك من بين يديك ومن خلفك وعن يمينك وعن شمالك من الشيطان الرجيم ثم صرخ بفاطمة فأقبلت فلما رأت عليا جالسا إلى النبي صلى الله عليه و سلم حصرت وبكت فأشفق النبي صلى الله عليه و سلم أن يكون بكاؤها لأن عليا لا مال له فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ما يبكيك ؟ فما ألوتك في نفسي وقد أصبت لك خير أهلي وأيم الذي نفسي بيده لقد زوجتك سعيدا في الدنيا وإنه في الآخرة لمن الصالحين فلان منها فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا أسماء ائتيني بالمخضب فاملئيه ماء فأتت أسماء بالمخضب فملأته فمج النبي صلى الله عليه و سلم فيه ومسح فيه وجهه وقدميه ثم دعا فاطمة فأخذ كفا من ماء فضرب به على رأسها وكفا بين ثدييها ثم رش جلده وجلدها ثم التزمها فقال : اللهم إنها مني وأنا منها اللهم كما أذهبت عني الرجس وطهرتني فطهرها ثم دعا بمخضب آخر ثم دعا عليا فصنع به كما صنع بها ثم دعا له كما دعا لها ثم قال لهما : قوما إلى بيتكما جمع الله بينكما وبارك في سيركما وأصلح بالكما ثم قام فأغلق عليهما بابه بيده قال ابن عباس : فأخبرتني أسماء بنت عميس أنها رمقت رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يزل يدعو لهما خاصة لا يشركهما في دعائه أحدا حتى توارى في حجرته صلى الله عليه و سلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا جاتا (یعنی منگنی کا پیغام) جس نے بھی ذکر کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روک دیا حتٰی کہ لوگ اس سے مایوس ہو گئے ۔ پس حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ‘حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملے ‘کہا: بخدا! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو صرف آپ کیلئے روک رکھا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے یہ خیال کیوں کیا ؟ بخدا! میں دو (ابو بکر و عمر ) میں سے ایک نہیں ہوں‘میں دنیا کا مالک نہیں ہوں جسے میرے پاس تلاش کیا جائے‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ نہ میرے پاس چاندی ہے نہ سونا ہے ‘میں ایسا کا فرنہیں ہوں جو اس سے مانوس اور اپنے دین سے متنفر ہو جائے ‘بے شک میں وہ پہلا آدمی ہوں جو اسلام لایا۔ پس حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہے کہا: بے شک میں آپ کو قسم دیتا ہوں ‘یہ بات (مال والی ) مجھ پر چھوڑ دو کیونکہ مجھے کشادگی حاصل ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کیا کہوں؟ کہا: آپ کہنا کہ میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حضرت فاطمہ بنت محمد کے نکاح کی درخواست پیش کرنے کیلئے آیا ہوں۔ فرماتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے اس حال میں کہ وہ بو جھل اور رُکنے والے تھے (جب حاضر ہوئے) پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے علی ! لگتا ہے آپ کو کوئی کام ہے؟ عرض کی : ہاں! میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حضرت فاطمہ بنت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح کی درخواست پیش کرنے کیلئے آیا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: خوش آمدید! یہ بات دو چند ہے۔ پھر واپس حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ‘کہا: میں نے وہ کام کر دیا ہے جو آپ نے کہا تھا‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دُہرے کلمہ سے مجھے خوش آمدید کہنے کے علاوہ کچھ نہیں کہا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارا نکاح کر دیا ہے ‘قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اب وعدہ خلافی نہ ہوگی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں جھوٹ کی گنجائش ہے ‘میں آپ کو قسم دے کر کہتا ہوں کہ کل پھر ضرور جانا اور عرض کرنا: اے اللہ کے نبی ! میری رخصتی کب ہو گی؟ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بات کہنا میرے لیے پہلی بات سے زیادہ مشکل ہے ‘پہلے میں عرض کروں گا : اے اللہ کے رسول ! میرا کام؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اسی طرح کہنا جس طرح میں نے آپ کو بتایا ہے۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے تو عرض کی : اے اللہ کے رسول ! رخصتی کب ہوگی؟ فرمایا: ان شاء اللہ ! آج رات۔ پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا: اے بلال! بے شک میں نے اپنی بیٹی کا نکاح اپنے چچا کے بیٹے سے کر دیا ہے اور میں پسند کرتا ہوں کہ میری اُمت کا طریقہ ‘نکاح کے وقت کھانا ہو ‘بکریوں کے باڑے میں جا کر ایک بکری اور چار چھریاں لے آؤ اور ایک بڑا پیالہ میرے سامنے رکھو ‘ممکن ہے کہ میں تمام مہاجرین و انصار کو اکٹھا کروں‘فراغت کے وقت مجھے آگاہ کرنا۔ پس انہوں نے جا کر ویسے ہی کیا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا ‘پھر بڑا پیالہ لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی چوٹی پر نیزہ گاڑ دیا۔ فرمایا: لوگوں کو میرے پاس گروہ در گروہ لے آ ۔ پس ایک گروہ دوسرے سے پیچھے نہ رہے ‘یعنی جب ایک گروہ فارغ ہو جائے تو دوسری بار نہ لوٹے‘پس لوگ آنا شروع ہوگئے ‘جب بھی ایک ٹولی فارغ ہو جاتی تو دوسری آ جاتی ‘حتٰی کہ لوگ فارغ ہو گئے پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے ہوئے کو دیکھنے کا ارادہ کیا‘پس اس میں لعاب دہن ڈال کر بابرکت بنایا اور فرمایا: اے بلال! اس کو اُٹھا کر اپنی ماؤں (دینی ماؤں) کی طرف لے جا کر کہہ: خود بھی کھاؤ اور اپنے پاس والیوں (اور پڑوسنوں) کو بھی کھلاؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُٹھ کر عورتوں کی طرف آئے اور فرمایا: میں نے اپنی بیٹی کی شادی اپنے چچا کے بیٹے سے کر دی ہے ‘میری بیٹی کا میرے نزدیک جو مقام ہے وہ تمہیں خوب معلوم ہے ‘اس کے باوجود میں اپنے چچازاد کو دے رہاہوں‘پس تم اپنی بیٹی وک لے جاؤ۔ عورتوں نے اُٹھ کر انہیں خوشبو لگائی انہیں کپڑے پہنائے ‘اپنے زیورات میں سے انہیں زیور پہنائے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے‘پس جب عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو چلی گئیں ۔ عورتوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان پر دہ تھا‘صرف حضرت اسماء بنت عمیس پیچھے رہ گئیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اپنی جگہ ٹھہرو ‘تم کون ہو؟ یعنی تمہارا یہاں کیا کام ہے؟ عرض کی: میں آپ کی بیٹی کی محافظ ‘بے شک رات کو جس بچی کی رخصتی ہوتی ہے تو اس کے پاس ایک عورت کا ہونا ضروری ہے جو اس کے نزدیک تر موجود رہے ‘اگر اسے کوئی ضرورت پیش آ جائے یا کوئی چیز طلب کرے تو وہ لے کر حاضر ہو۔ فرمایا: (اے میری بیٹی !) میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ ! آپ کی سامنے ‘پیچھے ‘وائیں اور بائیں سے شیطان مردود سے حفاظت فرمائے ۔ پھر حضرت فاطمہ بلند آواز لگاتی ہوئی آئیں‘پس جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا تو رُک کر رونے لگیں‘پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے رونے سے ڈر لگا کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس مال نہ تھا‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آپ کو کس چیز نے رُلایا‘پس میں نے اپنے تئیں کوئی کمی نہیں چھوڑی‘میں نے آپ کیلئے اپنے رشتہ داروں میں سے بہترین کا انتخاب کیا ہے‘قسم ہے اس ذات کی میں نے آپ کی شادی اس شخص سے کی ہے جو دنیا میں سعادت مند اور آخرت میں صالحین کی جماعت سے ہے ‘پس آپ ان سے نرمی کے ساتھ پیش آئیں ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اسماء! میرے پاس بڑا پیالہ پانی سے بھر کر لاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں گلی کی اس میں ان کے چہرے اور دونوں پاؤں پر ہاتھ پھیرا‘پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا‘پس آپ نے ہاتھ پر پانی لگایا اور ان کے سر اور سینے پر لگایا ‘پھر حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کی جلد پر چھڑ کا‘پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے سے چمٹا کر دعا کی: اے اللہ ! یہ دونوں مجھ سے اور میں ان سے ہوں ‘اے اللہ ! جیسے مجھ سے پلیدی کو دور رکھا ہے ‘ان سے بھی پلیدی کو دور رکھ اور جس طرح مجھے پاک وصاف رکھا ہے ان کو بھی پاک وصاف رکھ۔ پھر ایک دوسرا پیالہ منگوایا‘پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان کے ساتھ وہی کیا جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کیا تھا اور ان کیلئے بھی وہی دعا کی جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کیلئے کی تھی‘پھر ان دونوں سے فرمایا: اُٹھ کر اپنے گھر چلے جاؤ ‘اللہ تمہارے درمیان اتحاد پیدا فرمائے تمہاری چال میں برکت دے اور تمہارے دلوں کو درست رکھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور اپنے ہاتھ سے ان دونوں پر دروازہ بند کر دیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حضرت اسماء بنت عمیس نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھے رہی تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل خاص کر کے ان دونوں کیلئے دعا کرتے رہے‘جس دعا میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کیا حتٰی کہ اپنے حجرہ مبارک میں پہنچ گئے۔

ابن العباس ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← حَنْظَلَةَ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ نَجِيَّةَ، ← عَمِّهِ شُعَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، ← يحيى بن العلاء ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18871

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت فاطمة رضي الله عنها علي بن أبي طالب عن فاطمة عليهما السلام · حديث 18872

1023 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا سعيد بن منصور ثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي بن جعفر بن محمد عن أبيه عن جابر بن عبد الله قال Y دخل علي بن أبي طالب على فاطمة فرآها قد اكتحلت ولبست صبيغا يعني في حجهم مع النبي صلى الله عليه و سلم فقال لها : من أمرك بهذا ؟ قالت : رسول الله صلى الله عليه و سلم قال علي فانطلقت محرشا على فاطمة مستفتيا لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صدقت صدقت

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ‘آپ نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہا نے سرمہ لگایا ہوا ہے اور رنگ دار کپڑے پہنے ہوئے ہیں ‘یعنی جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ کو یہ کرنے کا کس نے حکم دیا؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں چلا اس حال میں کہ حضرت فاطمہ پہ ناراض تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھنا چاہتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت فاطمہ نے سچ کہا، حضرت فاطمہ نے سچ کہا۔

لَهَا مَنْ أَمَرَكِ بِهَذَا ← لبست صبيغا يعني في حجهم مع النبي صلى الله عليه و سلم ← دخل علي بن أبي طالب على فاطمة فرآها قد اكتحلت ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي بن جعفر بن محمد ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18872

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ عبد الله بن مسعود رضي الله عنه عن فاطمة رضي الله عنها · حديث 18873

1024 - حدثنا بكر بن مقبل البصري ثنا الخليل بن أسد النوشجاني ثنا رويم بن يزيد المقري ثنا سوار بن مصعب الهمداني عن عمرو بن قيس الملائي عن سلمة بن كهيل عن شقيق بن سلمة عن ابن مسعود قال Y جاء رجل إلى فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا ابنة رسول الله ترك رسول الله صلى الله عليه و سلم عندك شيئا تطرفينيه ؟ فقالت : يا جارية هاتي تلك الجريدة فطلبتها فلم تجدها فقالت : ويحك اطلبيها فإنها تعدل عندي حسنا و حسينا فطلبتها فإذا هي رمتها في قمامتها فإذا فيها قال محمد صلى الله عليه و سلم : ليس من المؤمنين من لم يأمن جاره بوائقه من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليسكت والله يحب الحيي الحليم الضعيف المتعفف ويبغض الفاحش البذيء السائل الملحف إن الحياء من الإيمان والإيمان في الجنة وإن الفحش من البذاء والبذاء في النار

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ‘عرض کی: اے اللہ کے رسول کی صاحبزادی! کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے پاس کوئی چیز رکھی تھی تا کہ آپ اس کی حفاظت کریں (وہ آپ کے پاس موجود ہے)؟ پس آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے لونڈی ! وہ کاغذ کا ٹکڑا میرے پاس لاؤ۔ لونڈی نے تلاش کیا لیکن اسے نہ ملا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تجھ پر افسوس ! اسے ضرور تلاش کر کیونکہ وہ مجھے حسن و حسین کی طرح پیارا ہے۔ پس اس نے دوبارہ تلاش کیا تو اچانک اس کی نگاہ پڑی تو اس لونڈی نے اسے جھاڑو دے کر کوڑا کرکٹ میں ڈال دیا تھا۔ پس اس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: مؤمنین سے اس آدمی کا کوئی تعلق نہیں ہے جس کی تکلیفوں سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو ‘جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے ‘جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے‘ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے ‘اللہ تعالیٰ شرمیلے ‘بردبار ‘کمزور ‘پاکدامن آدمی کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالی مخش گفتگو کرنے والے ‘بد اخلاق ‘لپٹ کر سوال کرنے والے کو نا پسند کرتا ہے ‘حیاء ایمان کا جزء ہے اور ایمان جنت میں ہے ‘بے ہودہ گفتگو بُرے اخلاق سے ہے اور بداخلاقی دوزخ میں ہے۔

جاء رجل إلى فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، ← سوار بن مصعب الهمداني ← رُوَيْمُ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← الخليل بن أسد النوشجاني ← بَكْرُ بْنُ مُقْبِلٍ الْبَصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18873

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ الحسين بن علي عن فاطمة · حديث 18874

1025 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا الحكم بن موسى ثنا يحيى بن حمزة عن الحكم عن عبد الله الأيلي أنه سمع محمد بن علي بن حسين يقول Y خرج الحسين وهو يريد أرضه التي بظاهر الحرة ونحن نمشي إذ أدركنا النعمان بن بشير على بغلة فنزل فقربها إلى الحسين فقال : اركب يا عبد الله فكره ذلك فلم يزل ذلك من إقسام النعمان عليه حتى أطاع له الحسين بالركوب قال : أما إذ أقسمت فقد كلفتني ما أكره فاركب على صدر دابتك فسأردفك فإني سمعت فاطمة بنت محمد صلى الله عليه و سلم تقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الرجل أحق بصدر دابته وصدر فراشه والصلاة في منزله إلا إماما يجمع الناس عليه فقال النعمان : صدقت بنت محمد رسول الله سمعت أبي بشيرا يقول كما قالت فاطمة وقال رسول الله : إلا من أذن فركب حسين على السرج وردفه الأنصاري

حضرت عبداللہ ایلی سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت محمد بن علی بن حسین رضی اللہ عنہم کو فرماتے ہوئے سنا: حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نکلے جبکہ ہم چل رہے تھے ‘اچانک ہم نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو خچر پر سوار دیکھا‘پس وہ اُترے تو انہوں نے اسے حضرت امام حسین رضی اللہ عن کے قریب کیا۔ عرض کی: اے عبداللہ! یا اس پر سوار ہو جائیں۔ پس انہوں نے اسے ناپسند کیا۔ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ لگا تار اس پر قسمیں اُٹھاتے رہے حتی ٰکہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ قائل ہو گئے۔ فرمایا: بہر حال جب آپ نے قسم اُٹھائی تو مجھے ایک ایسی بات ماننے پر مجبور کر دیا‘جسے میں ناپسند کر رہا تھا‘پس آپ سواری پر آگے سوار ہوں‘پس عنقریب میں آپ کو پیچھے بٹھالوں گا کیونکہ میں نے حضرت فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آدمی سواری اور اپنے بستر پر آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہوتا ہے ‘اپنے گھر میں نماز وہ امام پڑھائے جس پر لوگ متفق ہوں۔ پس حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی نے سچ فرمایا۔ میں نے حضرت ابو بشیر کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا جس طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے ‘اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مگر جو اجازت دیدے ‘پس حضرت حسین رضی اللہ عنہ زمین پر سوار ہوئے جبکہ آپ کے پیچھے ایک انصاری تھے ۔

عبد الله الأيلي ← الْحَكَمِ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18874

chevron_left Previous
1…343536…42
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter