Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا الحجاج أبو الحجاج الثمالي · حديث 18791

942 - حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرق الحمصي ثنا محمد بن مصفى حدثنا بقية بن الوليد عن أبي بكر بن أبي مريم عن الهيثم بن مالك عن عبد الرحمن بن عائذ الأزدي عن أبي الحجاج الثمالى قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقول القبر للميت حين يوضع فيه : ويحك ابن آدم ما غرك بي ؟ ألم تعلم أني بيت الفتنة وبيت الظلمة وبيت الوحدة وبيت الدود ؟ ما غرك بي ؟ إذا كنت تمر بي فدادا فإن كان مصلحا أجاب عنه مجيب القبر فيقول : أرأيت إن كان ممن يأمر بالمعروف وينهي عن المنكر ؟ فيقول القبر : إذا أعود إليه خضراء ويعود جده نور ويصعد روحه إلى رب العالمين فقال رجل : يا أبا الحجاج وما العداد ؟ قال : الذي يقدم رجلا ويؤخر أخرى كمشيتك يا ابن أخي أحيانا وهو يومئذ يلبس ويتهيأ

حضرت ابو حجاج ثمالی فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو قبر میت سے کہتی ہے: اے ابن آدم! تجھے افسوس! کس چیز نے تجھے دھوکے میں رکھا؟ کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میں آزمائش، تاریکی ، تنہائی اور کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ؟ اگر وہ مصلح آدمی ہو گا تو قبر کو جواب دینے والا ، جواب دے گا اور کہے گا: تیرا کیا خیال ہے اگر اُس کا تعلق ان لوگوں سے ہو جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں؟ پس قبر کہے گی: پھر تو میں تو اُس کے سرسبز و شاداب بن جاؤں گی اور اُس کا جسم نور بن جائے گا اور اُس کی روح رب العالمین کی طرف چڑھ جائے گی۔ ایک آدمی نے کہا: اے ابو حجاج! فدّاد ( کرخت آواز والا ) کون ہے؟ فرمایا: وہ آدمی جو ایک آدمی کو آگے کرے اور کبھی دوسرے کو پیچھے کرے تیرے چلنے کی طرح اے میرے بھائی کے بیٹے ! جبکہ وہ اُس دن لباس پہن کر خوب تیار ہوا۔

أبي الحجاج الثمالي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ ← الْهَيْثَمِ بْنِ مَالِكٍ ← أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18791

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا عبيد أبو عبيد مولى رفاعة بن رافع · حديث 18792

943 - حدثنا عمر بن عبد العزيز بن مقلاص ثنا أبي ثنا ابن وهب أنا عبد الله بن عياش بن عباس عن عبد الله بن الأسود عن أبي معقل عن أبي عبيد مولى رفاعة بن رافع Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ملعون من سأل بوجه الله وملعون من سئل بوجه الله فمنع سائله

حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت ابو عبید فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ملعون ہے، جو اللہ کی ذات کا واسطہ دے کر گدا گری کرتا ہے اور ملعون ہے، جس سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگا جائے اور وہ سائل کو کچھ نہ دے۔

أبي عبيد مولى رفاعة بن رافع ← أَبِي معقل ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ عَیَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18792

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا نحيلة أبو نحيلة · حديث 18793

944 - حدثنا إبراهيم بن هاشم البغوي ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا عبد الرحمن بن مهدي ثنا سفيان عن الأعمش عن أبي وائل عن أبي نحيلة من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم Y أنه رمي بسهم فقيل له : انزعه فقال : اللهم انقص من الوجع ولا تنقص من الأجر فقيل له : ادع فقال : اللهم اجعلني من المقربين واجعل أمي من الحور العين

صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو نحیلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اُن کو تیر مار کر کہا گیا: اسے کھینچ لو! فرمایا: اے اللہ ! درد کم کر دے، لیکن اجر کم نہ کرنا۔ اُن سے عرض کی گئی: دعا کریں۔ کہا : اے اللہ ! مجھے مقربین سے بنا دے اور میری ماں کو حورعین بنا دے۔

أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18793

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا عطية أبو عطية · حديث 18794

945 - حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرق الحمصي ثنا محمد بن مصفى ثنا بقية بن الوليد ثنا بحير بن سعد عن خالد بن معدن قال قال أبو عطية Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جلس فحدث أن رجلا توفي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل رآه أحد منكم على عمل من أعمال الخير ؟ فقال رجل : نعم خرجت معه ليلة في سبيل الله فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم ومن معه فلما أدخل القبر حثا رسول الله صلى الله عليه و سلم بيده من التراب ثم قال : إن أصحابك يظنون أنك من أهل النار و أنا أشهد أنك من أهل الجنة ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعمر بن الخطاب : لا تسل عن أعمال الناس ولكن سل عن الفطرة

حضرت ابو عطیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے۔ پس بات ہوئی کہ ایک آدمی فوت ہو گیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے اسے کوئی اچھا کام کرتے ہوئے دیکھا ایک آدمی نے عرض کی : ہاں۔ اُس نے ایک رات میرے ساتھ اللہ کی راہ میں چوکیداری کی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے ساتھی اُٹھے (اور نماز جنازہ پڑھی۔) پس جب اُسے قبر میں داخل کر دیا گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس پر مٹی ڈالی پھر فرمایا: (اے فلاں ) تیرے دوست تجھے ناری گمان کرتے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تو جنتی ہے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب سے فرمایا: لوگوں کے اعمال کے بارے مت سوال کیا کرو بلکہ ان کی فطرت کے بارے دریافت کیا کرو۔

أبو عطية ← خالد بن معدن ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18794

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ أخو خزيمة بن ثابت له صحبة · حديث 18795

946 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ثنا ابو اليمان أنا شعيب عن الزهري حدثني عمارة بن خزيمة أن عمه حدثه وهو من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم Y أن النبي صلى الله عليه و سلم ابتاع فرسا من أعرابي فتقدمه ليعطيه ثمن فرسه فأسرع النبي صلى الله عليه و سلم المثنى وأبطأ الأعرابي فطفق رجال يعترضون الأعرابي ويساومونه بالفرس ولا يشعرون أن النبي صلى الله عليه و سلم ابتاعه حتى زاد بعضهم الأعرابي في السوم على ثمن الفرس الذي ابتاعه النبي صلى الله عليه و سلم فنادى الأعرابي النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إن كنت مبتاعا هذا الفرس فابتعه وإلا بعته فقال النبي صلى الله عليه و سلم حين سمع نداء الأعرابي : أوليس قد ابتعته ؟ قال : لا والله ما بيمناك فقال النبي صلى الله عليه و سلم : بلى قد ابتعته فطفق الناس يلوذون بالنبي صلى الله عليه و سلم والأعرابي وهما يتراجعان فطفق الأعرابي يقول : هلم شهيدا يشهد أني بايعتك فمر رجل من المسلمين قال للأعرابي : ويلك إن النبي صلى الله عليه و سلم لم يكن ليقل إلا حقا حتى جاء خزيمة فاستمع لمراجعة النبي صلى الله عليه و سلم ومراجعة الأعرابي فطفق الأعرابي يقول : هلم شهيد أني بعتك فقال خزيمة : أنا أشهد أنك قد بعته فأقبل النبي صلى الله عليه و سلم على خزيمة فقال : بم تشهد ؟ قال : بتصديقك يا رسول الله فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم شهادة خزيمة بشهادة رجلين

حضرت عمارہ بن خزیمہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ ان کے چچا نے انہیں یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دیہاتی سے گھوڑا خریدا اور آگے بڑھے تاکہ اُسے گھوڑے کی قیمت عطا فرما ئیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز چلے، لیکن دیہاتی آہستہ آہستہ چلنے لگا۔ دیہاتی کے پاس لوگ آ کر گھوڑے کی قیمتیں لگانے لگے، انہیں معلوم نہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس خرید لگا چکے ہیں یہاں تک کہ ایک نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خریدے ہوئے گھوڑے کی زیادہ نہ قیمت لگا دی۔ دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ندا دیکر کہا: اگر آپ نے یہ گھوڑا خریدنا ہے تو خرید لو ورنہ میں بیچنے لگا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیہاتی کی آواز سن کر فرمایا : کیا میں پہلے ہی اسے خرید نہیں چکا ہوں؟ دیہاتی نے جواب دیا: نہیں بخدا! میں نے آپ کو نہیں بیچا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں۔ میں خرید چکا ہوں۔ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اعرابی کے پاس اکٹھے ہونے لگے جبکہ بحث جاری تھی۔ اعرابی کہنے لگا: گواہ لاؤ! جو گواہی دے کہ میں نے آپ کے ہاتھ بیچا ہے۔ مسلمانوں میں سے جو بھی آتا، اعرابی کو یہی کہتا : تجھے افسوس ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ہمیشہ سچ بولتے ہیں یہاں تک کہ حضرت خزیمہ آئے ، سنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اعرابی کی بحث جاری تھی۔ اعرابی بار بار کہے جا رہا تھا: گواہ پیش کرو کہ میں نے آپ بیچا ہے۔ حضرت خزیمہ نے آکر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیچا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خزیمہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تو نے کس بنیاد پر گواہی دی ہے؟ عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کی تصدیق کی وجہ سے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمانا شروع کر دیا: حضرت خزیمہ کی گواہی دو آدمیوں کے برابر ہے۔

وهو من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ أَنَّ عَمَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18795

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ أبو أبي الخريف · حديث 18796

947 - حدثنا الحسين بن السميدع النطاكي ثنا موسى بن أيوب النصيبي قال حدثنا عبد العزيز بن الزبير عن عمر بن قيس عن صعصعة بن السواي عن ابن أبي الخريف عن أبيه عن جده قال Y أتيت أنا وأخي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو في مسجد الخيف يصلي وقد صليا المكتوبة في البيت فلم نصل معهم فقال : ما منعكما أن تصليا معا ؟ قلنا : قد كنا صلينا المكتوبة في البيت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا صلى الرجل المكتوبة في البيت ثم أدرك جماعة فليصل معهم فتكون صلاته في بيته نافلة

حضرت ابو خریف فرماتے ہیں: میں اور میرا بھائی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد خیف میں نماز پڑھا رہے تھے اور ہم اپنے گھر میں فرض نماز پڑھ چکے تھے تو ہم نے لوگوں کے ساتھ نماز نہ پڑھی۔

أَتَيْتُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← ابن أبي الخريف ← صعصعة بن السواي ← عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، ← عبد العزيز بن الزبير ← مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ ← الحسين بن السميدع النطاكي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18796

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا هلال أبو هلال التيمي · حديث 18797

948 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي و ورد بن أحمد بن لبيد قالا ثنا صفوان بن صالح ثنا الوليد بن مسلم حدثني من سمع علقمة بن هلال من بني تيم الله يحدث عن أبيه عن جده Y أنه قدم على رسول الله صلى الله عليه و سلم في رجل من قومه وهو بالمدينة بعد مهاجره إليها فوافيناه يضرب أعناق أسارى على ماء قليل فقتل عليه حتى سفح الدم الماء قال صفوان سفح يعني غطى الماء

بنو تیم اللہ میں سے حضرت علقمہ بن ہلال اپنے والد گرامی سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کے ایک آدمی کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری دی جبکہ مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینے میں تھے۔ پس ہم نے آپ کے پاس اچانک آئے۔ آپ تھوڑے پانی پر قیدیوں کی گردنیں اتارتے حتٰی کہ خون پانی پر غالب آ گیا۔ حضرت صفوان کا قول ہے : سَفَحَ بمعنی غَطّٰیہے۔

أَبِيهِ ← علقمة بن هلال من بني تيم الله ← مَنْ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← أحمد بن المعلى الدمشقي و ورد بن أحمد بن لبيد

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18797

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا وهب أبو وهب الجشمي · حديث 18798

949 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا هشام بن سعد ثنا محمد بن مهاجر حدثني عقيل بن شبيب عن أبي وهب الجشمي وكانت له صحبة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تسموا باسم الأنبياء أحب الأسماء إلى الله عبد الله و عبد الرحمن وأصدقها حارث و هشام وأقبحها حرب و مرة وارتبطوا الخيل وامسحوا بنواصيها وأعجازها أو قال وأكفالها وقلدوها ولا تقلدوها الأوتار وعليكم بكل كميت أغر محجل أو أشقر أغر محجل أو أدهم أغر محجل

حضرت ابو وہب الجشمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیاء کے نام پر نام رکھو‘ اللہ کو پسندیدہ نام ’’عبداللہ اور عبدالرحمٰن‘‘ ہیں اور زیادہ سچے نام ’’حارث اور ہمام ‘‘ ہیں اور بُرے نام ’’حرب (جنگ) اور مرہ (کڑوا)‘‘ ہیں‘ گھوڑے باندھ کے رکھو اور ان کی پیشانیوں اور پشتوں پر ہاتھ پھیرا کرو یا اعجاز کی جگہ اکفال کا لفظ استعمال فرمایا اور انہیں قلا دے پہناؤ، لیکن اُن کو کمان کی تانتیں نہ پہناؤ۔ تم پر لازم ہے کہ سفید پیشانی والے کمیت پنج کلان گھوڑے یا سفید پیشانی والے بھورے رنگ والے پنج کلان گھوڑے یا سفید پیشانی والے سیاہ رنگ پنچ کلان گھوڑے پسند کرو۔

أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ وَکَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ← عَقِيلِ بْنِ شَبِيبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18798

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا سود أبو سود التميمي · حديث 18799

950 - حدثنا محمد بن حاتم المروزي ثنا سويد بن نصر و حيان بن موسى قالا ثنا عبد الله بن المبارك عن معمر قال حدثني شيخ من بن تميم عن أبي سود قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول Y اليمين الذي يقتطع بها الرجل مال أخيه لتعقم الرحم أبو سود هو وكيع بن أبي سود

حضرت ابوسود تمیمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: وہ قسم جس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال لیا جائے تاکہ رحم با ہنجھ ہو جائے (رحمی رشتے ٹوٹ جائیں) ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سُودٍ ← شيخ من بن تميم ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← سويد بن نصر و حيان بن موسى ← مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18799

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا عمرو أبو عمرو الأنصاري بدري · حديث 18800

951 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا عبادة بن زياد الأسدي ثنا عبد الرحمن بن محمد بن عبيد الله العرزمي ثنا جعفر بن محمد عن أبيه عن محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة عن محمد بن الحنفية قال Y رأيت أبا عمرو الأنصاري وكان بدريا عقبيا أحديا وهو صائم يتلوى من العطش وهو يقول لغلام له : ويحك ترسني فترسه الغلام حتى تسرع بسهم نزعا ضعيفا حتى رمى بثلاثة أسهم ثم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من رمى بسهم في سبيل الله فقصر أو بلغ كان ذلك له نورا يوم القيامة فقيل قتل غروب الشمس

حضرت محمد بن حنفیہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابو عمر و انصاری کو دیکھا جبکہ وہ بدر، عقبہ اور احد کے دن میں حاضر تھے اس حال میں کہ وہ پیاس سے نڈھال ہو رہے تھے اور وہ غلام سے فرما رہے تھے: تجھے افسوس! مجھے ڈھال پہناؤ۔ پس غلام نے انہیں ڈھال پہنائی حتی کہ انہوں نے کمزوری کے باوجود تیر نکالا حتی کہ تین تیر پھینکے پھر فرمایا: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ کی راہ میں ایک بھی تیر پھینکا۔ پس وہ راستے میں رہا یا نشانے تک پہنچا، وہ قیامت کے دن اُس کے لیے نور ہو گا۔ ایک قول کے مطابق سورج غروب ہونے سے پہلے انہیں شہید کر دیا گیا۔

مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ ← محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← عبد الرحمن بن محمد بن عبيد الله العرزمي، ← عُبَادَةُ بْنُ زِيَادٍ الْأَسَدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18800

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ أبو عمرو غير منسوب · حديث 18801

952 - حدثنا عمر بن عبد العزيز بن مقلاص ثنا أبي ثنا ابن وهب عن عمر بن صهبان عن زامل بن عمرو عن أبيه عن جده Y أن النبي صلى الله عليه و سلم خرج يوم الفطر إلى العيد وعن يمينه أبي بن كعب وعن يساره عمر أو قال ابن عمر فلما فرغ مر على باب أبي كثير أو أبي كبير واللحامون بفنائها والناس حديثوا عهد بجاهلية فقال لهم : كيف تبيعون ؟ قالوا : كذا وكذا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بيعوا كيف شئتم و لا تخلطوا ميتة بمذبوحة على الناس أيها الناس احفظوا لا تحتكروا ولا تناجشوا ولا تلقوا السلع ولا يبيع حاضر لباد ولا يبيع الرجل على بيع أخيه ولا يخطب على خطبة أخيه حتى يأذن له ولا تسأل المرأة طلاق الأخرى لتكتفيء إناءها ولتنكح فإن رزق الله على الله عز و جل

حضرت زامل بن عمر اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر کے دن عید گاہ کی طرف نکلے جبکہ آپ کے دائیں طرف حضرت ابی بن کعب اور بائیں طرف حضرت عمر تھے یا فرمایا: ابن عمر تھے ۔ پس جب فارغ ہوئے تو باب ابوکثیر یا ابوکبیر پر سے گزرے اور قصاب اس کے صحن میں تھا۔ لوگوں کا زمانہ ٔجاہلیت ابھی قریب تھا۔ ان سے کہا: تم کیسے بیچتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: ایسے ایسے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جیسے چاہو بیچو ، لیکن لوگوں کے لیے ذبح شدہ کے ساتھ مردار کو نہ ملاؤ۔ اے لوگو! یاد کر لو! ذخیرہ مت کرو۔ ملاوٹ مت کرو ۔ مشابہ کو مشابہ سے مت ملاؤ (مرچوں میں اینٹ یا چینی میں پتھر پیس کر ) شہری دیہاتی سے آگے جا کر بیع نہ کرے۔ ایک آدمی بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے۔ اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیگام نہ دے یہاں تک کہ اُسے اجازت دی جائے ۔ ایک عورت دوسری عورت کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تا کہ اس کے برتن کو الٹ دے اور خود اس آدمی سے نکاح کر لے، کیونکہ اس کا رزق اللہ عز و جل کے ذمے ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← زامل بن عمرو ← عُمَرُ بْنُ صُهْبَانَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18801

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا الورد أبو الورد · حديث 18802

953 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا جبارة بن مقدس ثنا ابن المبارك عن حميد عن ابن أبي الورد عن أبيه قال Y رآني النبي صلى الله عليه و سلم فرآني رجلا أحمر فقال : أنت أبو الورد

حضرت ابوورد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا اور ایک آدمی سرخ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ابو الورد (گلاب کا باپ) ہے۔

أنت أبو الورد ← رآني النبي صلى الله عليه و سلم فرآني رجلا أحمر ← أَبِيهِ ← ابن أبي الورد ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← جبارة بن مقدس ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18802

chevron_left Previous
1…282930…42
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter