المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا الحجاج أبو الحجاج الثمالي · حديث 18791
942 - حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرق الحمصي ثنا محمد بن مصفى حدثنا بقية بن الوليد عن أبي بكر بن أبي مريم عن الهيثم بن مالك عن عبد الرحمن بن عائذ الأزدي عن أبي الحجاج الثمالى قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقول القبر للميت حين يوضع فيه : ويحك ابن آدم ما غرك بي ؟ ألم تعلم أني بيت الفتنة وبيت الظلمة وبيت الوحدة وبيت الدود ؟ ما غرك بي ؟ إذا كنت تمر بي فدادا فإن كان مصلحا أجاب عنه مجيب القبر فيقول : أرأيت إن كان ممن يأمر بالمعروف وينهي عن المنكر ؟ فيقول القبر : إذا أعود إليه خضراء ويعود جده نور ويصعد روحه إلى رب العالمين فقال رجل : يا أبا الحجاج وما العداد ؟ قال : الذي يقدم رجلا ويؤخر أخرى كمشيتك يا ابن أخي أحيانا وهو يومئذ يلبس ويتهيأ
حضرت ابو حجاج ثمالی فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو قبر میت سے کہتی ہے: اے ابن آدم! تجھے افسوس! کس چیز نے تجھے دھوکے میں رکھا؟ کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میں آزمائش، تاریکی ، تنہائی اور کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ؟ اگر وہ مصلح آدمی ہو گا تو قبر کو جواب دینے والا ، جواب دے گا اور کہے گا: تیرا کیا خیال ہے اگر اُس کا تعلق ان لوگوں سے ہو جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں؟ پس قبر کہے گی: پھر تو میں تو اُس کے سرسبز و شاداب بن جاؤں گی اور اُس کا جسم نور بن جائے گا اور اُس کی روح رب العالمین کی طرف چڑھ جائے گی۔ ایک آدمی نے کہا: اے ابو حجاج! فدّاد ( کرخت آواز والا ) کون ہے؟ فرمایا: وہ آدمی جو ایک آدمی کو آگے کرے اور کبھی دوسرے کو پیچھے کرے تیرے چلنے کی طرح اے میرے بھائی کے بیٹے ! جبکہ وہ اُس دن لباس پہن کر خوب تیار ہوا۔
أبي الحجاج الثمالي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ ← الْهَيْثَمِ بْنِ مَالِكٍ ← أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18791
