المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا العريان أبو العريان السلمي · حديث 18779
930 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا أبو خلدة قال Y سألت ابن سيرين قلت أصلي وما أدري ركعتين صليت أو أربعا قال حدثني أبو العريان أن النبي صلى الله عليه و سلم صلى يوما ودخل البيت وكان في القوم رجل طويل اليدين وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يسميه ذو اليدين فقال ذو اليدين : يا رسول الله قصرت الصلاة أم نسيت ؟ قال : لم تقصر ولم أنس قال : بل نسيت الصلاة قال : فتقدم فصلى بهم ركعتين ثم سلم ثم كبر فسجد مثل سجوده أو أطول ثم كبر ورفع رأسه ثم كبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم كبر ورفع رأسه ولم يحفظ محمد سلم بعد أم لا
حضرت ابو خلدہ فرماتے ہیں: میں حضرت ابن سیرین سے سوال کیا؟ میں نے کہا: میں نماز پڑھتا ہوں اور (بھول جاتا ہوں) مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ میں نے دو پڑھی ہیں یا چار؟ فرمایا: مجھے حضرت ابو عریان نے حدیث بیان ل کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن نماز پڑھ کر گھر تشریف لے گئے جبکہ قوم میں ایک لمبے ہاتھوں والا آدمی تھا، جس کا نام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ’’ذوالیدین‘‘ پکارا کرتے تھے۔ پس ذوالیدین نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے؟ فرمایا: نہ نماز کم ہوئی اور نہ میں بھولا۔ فرمایا: بلکہ تو نماز میں بھول گیا۔ راوی کا بیان ہے؛ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگے ہو کر لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی پھر سلام پھیر کر تکبیر کہہ کر دوسرے سجدے کے برابر یا اس سے تھوڑا المبا سجدہ کیا پھر تکبیر کہہ کر سر سجدے سے اُٹھا لیا پھر تکبیر کہہ کر دوسرے سجدے کے برابر یا اس سے تھوڑا لمبا سجدہ کیا پھر تکبیر کہہ کر سر سجدے سے اُٹھا لیا۔ راوی حضرت محمد کو یہ بات یاد نہ رہی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد سلام پھیرایا نہیں۔
أَبُو الْعُرْيَانِ ← سألت ابن سيرين قلت أصلي وما أدري ركعتين صليت أو أربعا ← أَبُو خَلْدَةَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18779
