المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا الزوائد أبو الزوائد اليماني · حديث 18743
894 - حدثنا محمد بن أحمد بن نضر أبو جعفر الترمذي ثنا بكر بن عبد الوهاب المدني ثنا زياد بن نصر ثنا سليم بن مطير عن أبيه عن أبي الزوائد قال Y كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع فخطب الناس فجعل يقول لهم : افعلوا كذا وافعلوا كذا واجتنبوا كذا واجتنبوا كذا ثم يقول لهم : هل بلغت ؟ فيقولون : نعم فيرفع يديه ثم يقول : اللهم اشهد قالها ثلاثا وسمعته يقول فيما يقول : خذوا العطاء ما كان عطاء فإذا تكافحت قريش الملك فيما بينها فكان العطاء رشوة على دينكم فلا تأخذوه
حضرت ابو زوائد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حجتہ الوداع کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا‘ آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا‘ آپ ان کو فرمانے لگے: اس طرح کیا کرو‘ اس طرح کیا کرو‘ اس سے بچو‘ اس سے بچو۔ پھر ان سے فرماتے: کیا میں نے پہنچا دیا ؟ وہ جواب دیتے: جی ہاں! پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہاتھ اُٹھا کر دعا کرتے : اے اللہ ! گواہ رہنا۔ ( میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا۔) تین بار یہ بات کہی۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے، میں نے اُس میں ایک بات یہ بھی سنی : عطیات، اُسی وقت تک وصول کرو جب تک وہ عطیات رہیں۔ پس جب قریش سلطنت کو آپ میں آپس میں بانٹ لیا تو عطیہ (عطیہ نہیں ہو گا بلکہ ) تمہارے دین کے بدلے رشوت بن جائے گا۔ پس اسے مت لینا۔
أبي الزوائد ← أَبِيهِ ← سليم بن مطير ← زياد بن نصر ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْمَدَنِيُّ، ← محمد بن أحمد بن نضر أبو جعفر الترمذي
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18743
