Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا كبشة أبو كبشة الأنماري · حديث 18719

870 - حدثنا محمد بن علي بن حبيب الطرائفي الرقي ثنا علي بن ميمون الرقي ثنا أبو خليد عتبة بن حماد عن سعيد عن بني كنانة عن أبي كبشة النماري أن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y مثل أمتي أربعة نفر رجل رزقه الله مالا يعمل فيه بطاعة الله فرآه رجل فقال : لو كان لي مثل ماله عملت فيه مثل ما عمل فهما في الأجر سواء ورجل رزقه الله مالا فخبط فيه وأفسده فرآه رجل فقال : لو كان لي مثل ماله عملت فيه مثل ما عمل فهما في الإثم سواء

حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس امت کی مثال چار آدمیوں سے دی ہے۔ ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ ٰ نے مال عطا فر مایا اور وہ اپنے مال میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے مطابق خرچ کرے تو دوسرا وہ آدمی ؛ جو اُ سے دیکھ کر کہا: جسے اللہ علم تو عطا کرے، لیکن اُسے مال نہ دے تو وہ کہے: اگر اللہ تعالیٰ ٰ مجھے اس کے برابر دیتا جو اس کو دیا ہے تو میں اس میں اسی طرح کرتا ، جس طرح وہ کرتا ہے تو یہ دونوں اجر میں برابر ہیں۔ وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا۔ پس وہ بغیر علم کے اپنے مال میں سرکشی کا شکار ہو جائے اور اُسے ضائع کرتا ہے۔ ایک آدمی اسے دیکھ کر کہتا ہے: اگر اللہ نے مجھے اُس آدمی کی طرح مال دیا ہوتا تو میں اس میں وہی کام کرتا ( ناجائز خرچ) جیسے وہ کرتا ہے تو یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں۔

أبي كبشة النماري ← بني كنانة ← سَعِيدٌ، ← أَبُو خُلَيْدٍ عُتْبَةُ بْنُ حَمَّادٍ، ← علي بن ميمون الرقي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَبِيبٍ الطَّرَائِفِيُّ الرَّقِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18719

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا مويهبة أبو مويهبة مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 18720

871 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عمر بن عبد الوهاب الرياحي و أحمد بن محمد بن أيوب صاحب المغازي قالا ثنا إبراهيم بن سعد عن محمد بن إسحاق عن عبد الله بن عمر الحبلي عن عبيد بن حنين مولى الحكم بن العاص عن عبد الله بن عمرو بن العاص عن أبي مويهبة مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y طرقني النبي صلى الله عليه و سلم ذات ليلة فقال : أبو مويهبة انطلق فإني قد أمرت أن استغفر لأهل هذا البقيع فانطلقت أو قال : فانطلقنا فلما توسط البقيع استغفر لأهل المقابر ثم قال : ليهن لكم ما أصبحتم فيه لو تدرون مما نجاكم الله منه أقبلت الفتن كقطع الليل المظلم يتبع آخرها أولها الآخرة شر من الأولى - ثم قال - يا أبا مويهبة هل علمت أن الله خيرني أن يؤتيني خزائن الأرض والخلد فيها ثم الجنة وبين لقاء ربي قال : قلت : بأبي أنت وأمي فخذ مفاتيح خزائن الأرض والخلد فيها قال : كلا يا أبا مويهبة لقد اخترت لقاء ربي ثم استغفر لأهل المقابر وانصرف فلما أصبح بدأه شكواه الذي قبض فيه صلى الله عليه و سلم

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام حضرت ابو مویہبہ فرماتے ہیں: ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا دروازہ کھٹکھٹا کر فرمایا: اے ابو مویہبہ ! چلو! کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس (قبرستان) بقیع والوں کے لیے استغفار کروں۔ میں چلایا کہا: ہم چلے۔ پس جب آپ بقیع کے درمیان پہنچے تو مقابر والوں کے لیے استغفار کیا پھر فرمایا: تمہیں مبارک ہو، جس میں تم نے صبح کی ہے یا جس حالت میں تم ہو اگر تمہیں وہ بات معلوم ہو، جس سے اللہ تعالیٰ ٰ نے تمہیں نجات دی ہے۔ فتنے ، تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح بڑھیں گے۔ ایک کے بعد دوسرا آئے اور دوسرا پہلے سے زیادہ تکلیف دہ ہو گا۔ پھر فرمایا: اے ابو مویہبہ ! کیا تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ ٰ نے مجھے اختیار دیا کہ وہ مجھے زمین کے خزانے اور اس میں ہمیشہ رہنا عطا کرے پھر جنت دے یا میں اپنے رب سے ملاقات کروں؟ فرماتے: میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ زمین کے خزانوں کی چابیاں اور اس میں ہمیشہ رہنا اختیار فرمالیں۔ فرمایا: ہرگز نہیں اے ابو مویہبہ ! میں نے اپنے رب سے ملاقات کو پسند کیا ہے پھر قبرستان والوں کے لیے استغفار کر کے واپس ہوئے۔ پس جب صبح ہوئی تو اُس بیماری کا آغاز ہوا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا۔

أبو مويهبة انطلق فإني قد أمرت ← طرقني النبي صلى الله عليه و سلم ذات ليلة ← أبي مويهبة مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عبيد بن حنين مولى الحكم بن العاص ← عبد الله بن عمر الحبلي ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عمر بن عبد الوهاب الرياحي و أحمد بن محمد بن أيوب صاحب المغازي ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18720

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا مويهبة أبو مويهبة مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 18721

872 - حدثنا أسلم بن سهل الواسطي ثنا محمد بن أبان الواسطي ثنا الحكم بن فضيل عن يعلى بن عطاء عن عبيد بن حنين عن أبي مويهبة مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يصلي على أهل البقيع فصلى عليهم في ليلته ثلاث مرات فلما كانت الثالثة قال : يا أبا مويهبة اسرج لي دابتي فأسرجت فركب فسار إلى أهل البقيع نزل فأمسكت دابته فوقف عليهم فقال : ليهتكم ما أنتم فيه مما في الناس أتت فتن كقطع الليل المظلم يركب بعضها بعضا الأخرى أشد من الأولى فليهتكم ما أنتم فيه ثم جاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا أبا مويهبة أني أعطيت أو فقال خيرت مفاتيح ما يفتح الله على أمتي من بعدي والجنة أو لقاء ربي قلت بأبي أنت وأمي يا رسول الله اخترنا قال : اخترت لقاء ربي فما مكث رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا سبع أو ثمان حتى قبض صلى الله عليه و سلم

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام حضرت ابو مویہبہ فرماتے ہیں: ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ (قبرستان) بقیع والوں کے لیے دعا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی ایک رات میں بقیع والوں کے لیے تین بار دعا کی۔ جب تین بار دعا کر چکے تو پھر فرمایا: اے ابو مویہبہ ! میری سواری پر زین ڈالو! پس میں نے زین ڈالی۔ پس آپ سوار ہو کر بقیع والوں کی طرف چلے پھر آپ سواری سے اتر گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کو روکے رکھا۔ آپ ان کے پاس ٹھہرے رہے۔ فرمایا: تمہیں مبارک ہو، جس حالت میں تم ہو۔ فتنے ، تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح بڑھیں گے۔ ایک کے بعد دوسرا آئے اور دوسرا پہلے سے زیادہ تکلیف دہ ہو گا۔ تمہیں مبارک ہو، جس حالت میں تم ہو۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (میری طرف) آئے۔ فرمایا: اے ابو مویہبہ ! اللہ تعالیٰ ٰ نے مجھے اختیار عطا کیا ہے کہ وہ مجھے اُن فتوحات کی چابیاں دے جو میرے بعد میری امت کو دے گا اور اس کے بعد جنت یا میں اپنے رب سے ملاقات کروں؟ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ ہمیں چن لیں فرمایا: میں نے اپنے رب کی ملاقات کو پسند کیا ہے (راوی کہتے ہیں : ) پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بعد سات یا اٹھ (دن یا ماہ) رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا۔

أبي مويهبة مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← الْحَكَمُ بْنُ فُضَيْلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ ← أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18721

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا سلمى أبو سلمى راعي رسول الله صلى الله عليه و سلم ويقال اسمه حريث · حديث 18722

873 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي حدثني أبي ( ح ) وحدثنا سليمان بن أيوب بن حذلم الدمشقي و جعفر بن محمد الفريابي قالا ثنا سليمان بن عبد الرحمن قالا ثنا الوليد بن مسلم ثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر و عبد الله بن العلاء بن زبر قالا ثنا أبو سلام قال : حدثني أبو سلمى راعي رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : بخ بخ لخمس ما أثقلهن في الميزان لا إله إلا الله والله أكبر وسبحان الله وبحمده والولد الصالح يتوفى للمرء المسلم فيحتسبه

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چرواہے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پانچ کلمات پڑھنے والوں کیلئے خوشخبری ہے ان سے زیادہ میزان میں کوئی چیز بھاری نہیں ہو گی‘ وہ کلمات یہ ہیں: ’’لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر وسبحان اللہ وبحمدہٖ‘‘ جس مسلمان آدمی کا نیک بچہ فوت ہو جاتا ہے، وہ اس کی نجات کے لیے کافی ہے۔

أبو سلمى راعي رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أبو سلام، ← عبد الرحمن بن يزيد بن جابر و عبد الله بن العلاء بن زبر ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سليمان بن أيوب بن حذلم الدمشقي و جعفر بن محمد الفريابي ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18722

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا نملة أبو نملة الأنصاري · حديث 18723

874 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري قال أخبرنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري قال أخبرني ابن أبي نملة الأنصاري أن أباه أبا نملة الأنصاري أخبرنا Y أنه بينا هو جالس عند النبي صلى الله عليه و سلم جاءه رجل من اليهود ومر بجنازة فقال : يا محمد هل تكلم هذه الجنازة ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الله أعلم فقال اليهودي : إنها تتكلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما حدثكم أهل الكتاب فلا تصدقوهم ولا تكذبوهم وقولوا آمنا بالله وكتبه ورسله فإن كان باطلا لم يصدقوا وإن كان حقا لم يكذبوا

حضرت ابو نملہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ یہود میں سے ایک آدمی آیا اور ایک جنازہ کے پاس سے گزر ہوا‘ اس نے کہا: اے محمد! کیا یہ جنازہ کوئی بات کر سکتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ زیادہ جانتا ہے ! یہودی نے کہا: بیشک یہ گفتگو کر سکتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے سامنے اہل کتاب بیان کریں ان کی تصدیق نہ کرو اور نہ ردّ کرو بلکہ کہو : ہم اللہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے‘ اگر باطل ہو گا تو ان کی تصدیق نہیں کی گئی ہو گی اور اگر سچ ہو گا تو ان کو جھٹلایا نہیں گیا ہو گا۔

ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18723

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا نملة أبو نملة الأنصاري · حديث 18724

875 - حدثنا أبو أسامة الحلبي ثنا حجاج بن أبي منيع الرصافي أخبرنا جدي عن الزهري قال أخبرني ابن أبي نملة الأنصاري Y أن أباه أبا نملة أخبره أنه بينا هو جالس عند رسول الله صلى الله عليه و سلم جاءه رجل من اليهود فقال : يا محمد هل تكلم هذه الجنازة ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الله أعلم فقال اليهودي : أنا أشهد أنها تتكلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما حدثكم أهل الكتاب فلا تكذبوهم ولا تصدقوهم وقولوا آمنا بالله ورسله وكتبه فإن كان حقا لم تكذبوا وإن كان باطلا لم تصدقوا

حضرت ابو نملہ انصاری رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ یہود میں سے ایک آدمی آیا‘ اس نے کہا: اے محمد ! کیا یہ جنازہ کوئی بات کر سکتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ زیادہ جانتا ہے! یہودی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ بات کر سکتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے سامنے اہل کتاب بیان کریں ان کی تصدیق نہ کرو اور نہ ردّ کرو بلکہ کہو : ہم اللہ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لائے‘ اگر سچ ہو گا تو تم نے جھٹلایا نہیں گیا ہو گا اور اگر باطل ہو گا تو تم نے تصدیق نہیں کی گئی ہو گی۔

ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ ← الزُّهْرِيِّ، ← جَدِّي، ← حجاج بن أبي منيع الرصافي ← أَبُو أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18724

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا نملة أبو نملة الأنصاري · حديث 18725

876 - حدثنا موسى بن عيسى بن المنذر الحمصي ثنا أبو اليمان أنا شعيب بن أبي حمزة عن الزهري قال حدثني نملة بن أبي نملة أن أبا نملة الأنصاري حدثه Y أنه بينا هو جالس مع النبي صلى الله عليه و سلم جاءه رجل من اليهود فقال : يا محمد هل تكلم هذه الجنازة ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : الله أعلم فقال اليهودي أنا أشهد أنها تكلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ما حدثكم أهل الكتاب فلا تصدقوهم ولا تكذبوهم وقولوا آمنا بالله وكتبه ورسله فإن كان حقا لم تكذبوا وإن كان باطلا لم تصدقوا به

حضرت ابو نملہ انصاری رضی اللہ عنہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی آیا‘ اس نے کہا: اے محمد ! کیا یہ جنازہ بول سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ زیادہ جانتا ہے! یہودی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ کلام کر سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو چیز تمہارے سامنے اہلِ کتاب بیان کریں ان کی تصدیق نہ کرو اور نہ اسے جھٹلاؤ بلکہ کہو: ہم اللہ پر ،اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے‘ اگر سچ ہو گا تو تم نے جھٹلایا نہیں گیا ہو گا اور اگر باطل ہو گا تو تم نے تصدیق نہیں کی گئی ہو گی۔

نملة بن أبي نملة ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18725

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا نملة أبو نملة الأنصاري · حديث 18726

877 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الهقل بن زياد حدثني معاوية بن يحيى الصدقي عن الزهري قال حدثني ابن أبي نملة النصاري أن أباه نملة الأنصاري أخبره Y أنه بينا هو جالس عند رسول الله صلى الله عليه و سلم جاء رجل من اليهود فقال : يا محمد هل تكلم هذه الجنازة ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الله أعلم فقال اليهودي : أنا أشهد أنها تكلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما حدثكم أهل الكتاب فلا تصدقوهم ولا تكذبوهم وقولوا آمنا بالله وكتبه ورسله فإن كان حقا لم تكذبوهم وإن كان باطلا لم تصدقوهم

حضرت ابو نملہ انصاری رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت خاص میں بیٹھے ہوئے تھے کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی آیا‘ اس نے کہا: اے محمد ! کیا یہ جنازہ کلام سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ زیادہ جانتا ہے! یہودی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ کلام کر سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو چیز تمہارے سامنے ا اہلِ کتاب بیان کریں ان کی تصدیق نہ کرو اور نہ اسے جھٹلاؤ بلکہ کہو : ہم اللہ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے‘ اگر سچ ہو گا تو تم نے جھٹلایا نہیں گیا ہو گا اور اگر باطل ہو گا تو تم نے تصدیق نہیں کی گئی ہو گی۔

ابن أبي نملة النصاري ← الزُّهْرِيِّ، ← معاوية بن يحيى الصدقي ← الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18726

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا نملة أبو نملة الأنصاري · حديث 18727

878 - حدثنا إسماعيل بن الحسن الخفاف المصري ثنا أحمد بن صالح ثنا عنبسة بن خالد ثنا يونس عن ابن شهاب حدثني ابن أبي نملة الأنصاري أن أبا نملة الأنصاري أخبره Y أنه بينا هو عند رسول الله صلى الله عليه و سلم جاءه رجل من اليهود فقال يا محمد هل تكلم هذه الجنازة ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الله أعلم فقال اليهودي : أنا أشهد أنها تكلم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما حدثكم أهل الكتاب فلا تصدقوهم ولا تكذبوهم وقولوا آمنا بالله وكتبه ورسله فإن كان حقا لم تكذبوهم وإن كان باطلا لم تصدقوهم

حضرت ابو نملہ انصاری رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ اس نے کہا: اے محمد ! کیا یہ جنازہ کوئی کلام کر سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ زیادہ جانتا ہے! یہودی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ کلام کر سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو چیز تمہارے سامنے اہل کتاب بیان کریں ان کی تصدیق نہ کرو اور نہ اسے جھٹلاؤ بلکہ کہو: ہم اللہ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے‘ اگر سچ ہو گا تو تم نے ان کو جھٹلایا نہیں گیا ہو گا اور اگر باطل ہو گا تو تم نے ان کی تصدیق نہیں کی گئی ہو گی۔

ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18727

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا نملة أبو نملة الأنصاري · حديث 18728

879 - حدثنا عمرو بن أبي الطاهر بن السرح المصري ثنا محمد بن عزيز ثنا سلامة بن روح عن عقيل عن ابن شهاب حدثني ابن أبي نملة أن أباه أخبره Y أنه بينا هو جالس عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاءه رجل من اليهود فقال : يا محمد هل تتكلم هذه الجنازة ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الله أعلم فقال اليهودي : أنا أشهد أنها تتكلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما حدثكم أهل الكتاب فلا تصدقوهم ولا تكذبوهم وقولوا آمنا بالله وكتبه ورسله فإن كان حقا لم تكذبوهم وإن كان باطلا لم تصدقوهم

حضرت ابو نملہ کے صاحبزادہ صاحب نے حدیث بیان کی ہے کہ اُن کے والد گرامی نے انہیں بتایا: اسی دوران کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک یہودیوں میں سے ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ اس نے کہا: اے محمد ! کیا یہ جنازہ گفتگو کرتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ زیادہ جانتا ہے! یہودی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ کلام کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو چیز تمہارے سامنے اہلِ کتاب بیان کریں ان کی تصدیق نہ کرو اور نہ اسے جھٹلاؤ بلکہ کہو: ہم اللہ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے‘ اگر سچ ہو گا تو تم نے ان کو جھٹلایا نہیں گیا ہو گا اور اگر باطل ہو گا تو تم نے ان کی تصدیق نہیں کی گئی ہو گی۔

ابْنِ أَبِى نَمْلَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← سلامة بن روح ← محمد بن عزيز ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18728

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا سيارة أبو سيارة المتعي · حديث 18729

880 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم عن عبد الرزاق ( ح ) وحدثنا أبو زرعة الدمشقي ثنا أبو مسهر كلاهما عن سعيد بن عبد العزيز عن سليمان بن موسى عن أبي سيارة المتعي وكان مولى لبني بجانة قال Y قلت : يا رسول الله إن لي نحلا قال : إد العشر قلت واحم لي جبلها فحمى لي جبلها

بنو بجالہ کے غلام حضرت ابو سیارہ متصی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میرا کھجور کا باغ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عشر ادا کر! میں نے عرض کی: آپ میرے لیے اس کے پہاڑ کو محفوظ فرما دیں‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے اس کے پہاڑ کو محفوظ کر دیا۔

قُلْتُ ← أبي سيارة المتعي وكان مولى لبني بجانة ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← أبو مسهر كلاهما ← وَحَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18729

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا سيارة أبو سيارة المتعي · حديث 18730

881 - حدثنا حفص بن عمر بن الصباح الرقي ثنا قبيصة بن عقبة ثنا سفيان عن سعيد بن عبد العزيز عن سليمان بن موسى عن أبي سيارة المتعي قال Y قلت : يا رسول الله إن لي نحلا قال : أد العشر قلت : فاحم لي جبلها فحمى لي جبلها

حضرت ابو سیارہ متعی رضی اللہ عنہ بن (و بجالہ کے غلام) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میرا کھجور کا باغ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عشر ادا کر ! میں نے عرض کی : آپ میرے لیے اس کے پہاڑ کو محفوظ فرما دیں‘ آپ نے میرے لیے اس کے پہاڑ کو محفوظ کر دیا۔

قُلْتُ ← أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتُعِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18730

chevron_left Previous
1…222324…42
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter