المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا المنذر أبو المنذر · حديث 18695
846 - حدثنا عمرو بن أبي الطاهر بن السرح المصري ثنا أبي ثنا عبد الله بن نافع عن هشام بن سعد عن يزيد بن ثعلب عن أبي المنذر Y أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إن فلانا هلك فصل عليه فقال عمر : إنه فاجر فلا تصل عليه فقال الرجل : يا رسول الله ألم تر الليلة التي صبحت فيها الحرس فإنه كان فيهم فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلى عليه ثم تبعه حتى إذا جاء قبره قعد حتى إذا فرغ منه حثى عليه ثلاث حثيات ثم قال : يثني عليك الناس شرا وأثني عليك خيرا فقال عمر : وما ذاك يا رسول الله ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : دعنا منك يا ابن الخطاب من جاهد في سبيل الله وجبت له الجنة
حضرت ابو منذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ اس نے عرض کی: فلاں فوت ہو گیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : وہ بُرا ہے‘ آپ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائیں۔ ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ ! کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جو رات کی نگہبانی کرتے تھے، یہ ان میں شامل تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ پھر اس کے جنازہ کے پیچھے چلے یہاں تک کہ جب اس کی قبر کے پاس آئے تو اس پر تین مٹھی مٹی ڈالی پھر فرمایا: لوگ اس کی برائی بیان کرتے تھے، میں اس کی تعریف کرتا ہوں۔ حضرت عمر نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس میں کیا حکمت ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! آپ ہمیں چھوڑیں! جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اُس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔
يَزِيدَ بْنِ ثَعْلَبٍ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18695
