Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من اسمه يثربي يثربي ويقال يثربي بن عوف أبو رمثة التميمي تيم الرباب · حديث 18563

714 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا جبارة بن المفلس ثنا عبد الغفار بن القاسم أبو مريم عن إياد بن لقيط عن أبي رمثة التيمي قال Y انطلقت مع أبي نحو رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما رأيته قال لي أبي : هل تدري من هذا ؟ فقلت : لا فقال : هذا رسول الله صلى الله عليه و سلم فاقشعررت حين قال لي وكنت أظن أن رسول الله شيئا لا يشبه الناس فإذا هو بشر ذو وفرة بها ردع من حناء وعليه بردان أخضران فسلم عليه أبي ثم جلسا يتحدثان ساعة ثم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لأبي : ابنك هذا ؟ قال أي ورب الكعبة فقال : حقا قال : حقا أشهد به فتبسم رسول الله صلى الله عليه و سلم ضاحكا من تثبيت شبهي بأبي ومن حلف أبي علي ثم قال : أما إنه لا يجني عليك ولا تجني عليه ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم { ولا تزر وازرة وزر أخرى } ورأى أبي مثل السلعة بين كتفيه فقال : أني كأطب الرجال أفلا أعالجها ؟ فقال : مهلا طبيبها الذي خلقها

حضرت ابو رمثہ فرماتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گیا۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو میرے والد گرامی نے مجھ سے فرمایا: کیا تجھے معلوم ہے، یہ کون ہستی ہے؟ میں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ کہا : یہ اللہ کے رسول ہیں۔ جب انہوں نے مجھے کہا تو میرے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی جبکہ میرا گمان تھا کہ اللہ کے رسول لوگوں میں کسی کے مشابہ نہیں ہوتے۔ اچانک میری نگاہ اٹھی تو وہ ایک کامل انسان تھے، زلفوں والے داڑھی پر سرخی لگی ہوئی تھی اور دو سبز چادریں آپ کے زیب تن تھیں۔ پس میرے باپ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام کیا۔ پھر دونوں ایک گھڑی کے لیے باتیں کرنے بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے باپ سے فرمایا: کیا یہ تیرا بیٹا ہے؟ عرض کی : ہاں۔ رب کعبہ کی قسم! فرمایا: سچ ہے۔ عرض کی: سچ ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا، اس وجہ سے کہ میں اپنے والد گرامی کے بہت زیادہ مشابہ تھا، دوسرا میرے والد گرامی نے میرے حوالے سے قسم اُٹھائی۔ پھر فرمایا: نہ اس نے تیرے حق میں کوئی برا کیا اور نہ تو نے اس کے حق میں برا کیا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ” کوئی بوجھ اُٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا۔ ‘‘پس میرے والد نے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے درمیان میں چیونٹی کے برابر کوئی چیز (مہر نبوت ) تھی۔ کہا: میں لوگوں سے اچھا طبیب ہوں، کیا میں اس کا علاج نہ کروں؟ پس فرمایا: انتظار کرو! اسے پیدا کرنے والا اس کی دوا فر مائے گا۔

أبي رمثة التيمي ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو مَرْيَمَ ← جبارة بن المفلس ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18563

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من اسمه يثربي يثربي ويقال يثربي بن عوف أبو رمثة التميمي تيم الرباب · حديث 18564

715 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا عبد الملك بن سعيد بن أبجر عن إياد بن لقيط عن أبي رمثة قال Y دخلت مع أبي على رسول الله صلى الله عليه و سلم فرأى أبي الذي بظهره فقال : دعني أعالج ما بظهرك فإني طبيب قال : أنت رفيق والله الطبيب قال وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأبي : من ذا معك ؟ قال : ابني أشهد لك به فقال النبي صلى الله عليه و سلم أما إنك لا تجني عليه ولا يجني عليك وذكر أنه رأى برسول الله صلى الله عليه و سلم ردع الحناء

حضرت ابو رمثہ فرماتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوا۔ پس میرے والد نے دیکھا جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیٹھ پر تھی۔ کہا: مجھے اجازت دو ! میں اس کا علاج کروں جو آپ کی پیٹھ میں ہے، کیونکہ میں لوگوں سے اچھا طبیب ہوں ؟ فرمایا : آپ رفیق ہیں اور اللہ تعالیٰ طبیب ہے۔ راوی کا بیان ہے: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے والد گرامی سے فرمایا : یہ تیرے ساتھ کون ہے؟ عرض کی: میرا بیٹا ہے، میں آپ کے سامنے قسم اُٹھا سکتا ہوں۔ پھر فرمایا: نہ اس نے تیرے حق میں کوئی برا کیا اور نہ تو نے اس کے حق میں برا کیا اور راوی نے ذکر کیا کہ انہوں نے دیکھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (سر مبارک پر ) مہندی لگا رکھی تھی۔

أَبِي رِمْثَةَ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْجَرَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18564

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من اسمه يثربي يثربي ويقال يثربي بن عوف أبو رمثة التميمي تيم الرباب · حديث 18565

716 - حدثنا محمد بن إسحاق بن راهويه ثنا أبي ثنا مروان بن معاوية الفزاري حدثني ابن أبجر عن إياد بن لقيط عن أبي رمثة التيمي قال Y انطلقت أنا وأبي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا هو جالس بفناء بيته وعليه لمة فيها ردع بحناء فقال له أبي فذكر مثله

حضرت ابو رمثہ تیمی فرماتے ہیں؟ میں اور میرے والد گرامی رسول کریم صلی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اچانک آپ اپنے گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کی زلفیں تھیں، جن پر مہندی لگی ہوئی تھی۔

أبي رمثة التيمي ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← ابْنَ أَبْجَرَ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18565

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من اسمه يثربي يثربي ويقال يثربي بن عوف أبو رمثة التميمي تيم الرباب · حديث 18566

717 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن إياد بن لقيط السدوسي قال سمعت أبا رمثة قال Y جئت مع أبي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ابنك هذا ؟ قال : نعم قال : أتحبه ؟ أما إنه لا يجني عليك ولا تجني عليه

حضرت ابو رمثہ تیمی فرماتے ہیں: میں اپنے والد گرامی کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا: کیا تیرا بیٹا یہ ہے؟ عرض کی : ہاں۔ فرمایا: کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں؟ بہرحال نہ اس نے تیرے حق میں کوئی برا کیا اور نہ تو نے اس کے حق میں برا کیا۔

نَعَمْ ← «ابْنُكَ هَذَا»؟ ← جئت مع أبي إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبَا رِمْثَةَ ← إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ السَّدُوسِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18566

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من اسمه يثربي يثربي ويقال يثربي بن عوف أبو رمثة التميمي تيم الرباب · حديث 18567

718 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) قال وحدثنا محمد بن إسحاق بن راهويه ثنا أبي قالا ثنا وكيع حدثني سفيان عن إياد بن لقيط عن أبي رمثة قال Y انطلقت مع أبي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فرأيت على كتفه مثل التفاحة فقال له أبي : أني طبيب أفلا أبطها ؟ قال : طبيبها الذي خلقها

حضرت ابو رمثہ تیمی فرماتے ہیں؛ میں اپنے والد گرامی کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔ پس میں نے ان کے کندھے پر سیب کی مانند کسی چیز (مہر نبوت) کو دیکھا۔ میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں طبیب ہوں، کیا میں اس کا علاج نہ کروں۔ فرمایا: اس کا طبیب ، وہی ہے، جس نے اسے پیدا کیا ہے۔

أَبِي رِمْثَةَ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18567

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من اسمه يثربي يثربي ويقال يثربي بن عوف أبو رمثة التميمي تيم الرباب · حديث 18568

719 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ثنا عمر بن حفص بن غياث ثنا أبي عن الشيباني عن إياد بن لقيط عن ابن رمثة Y أنه دخل على النبي صلى الله عليه و سلم ومعه ابن له فقال : ابنك هذا ؟ قال : نعم قال : أما إنه لا يجني عليك ولا تجني عليه

حضرت ابو رمثہ سے مروی ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے جبکہ ان کے ساتھ ان کا بیٹا تھا۔ فرمایا: تیرا بیٹا یہ ہے ؟ عرض کی : ہاں۔ فرمایا: نہ اس نے تیرے حق میں کوئی برا کیا اور نہ تو نے اس کے حق میں برا کیا۔

«أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ» ← نَعَمْ ← «ابْنُكَ هَذَا»؟ ← معه ابن له ← ابن رمثة أنه دخل على النبي صلى الله عليه و سلم ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← الشَّيْبَانِيِّ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18568

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من اسمه يثربي يثربي ويقال يثربي بن عوف أبو رمثة التميمي تيم الرباب · حديث 18569

720 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ( ح ) وحدثنا أبو خليفة ثنا أبو الوليد الطيالسي ( ح ) وحدثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي قالوا ثنا عبيد الله بن إياد بن لقيط حدثني أبي إياد عن أبي رمثة قال Y انطلقت مع أبي نحو رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما رأيته قال أبي : أتدري من هذا ؟ قلت : لا قال : إن هذا رسول الله صلى الله عليه و سلم فاقشعررت حين رأيت ذاك وكنت أظن أن رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا لا يشبه الناس فإذا هو بشر ذو وفرة بها ردع من حناء وعليه بردان أخضران فسلم عليه أبي ثم جلسا فتحدثا ساعة ثم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لأبي : أبنك هذا ؟ قال : أي ورب الكعبة قال : حقا ؟ قال : أشهد على ذلك فتبسم رسول الله صلى الله عليه و سلم ضاحكا من تثبيت شبهي في أبي ومن حلف أبي علي ثم قال : أما إنه لا يجني عليك ولا تجني عليه ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم { ولا تزر وازرة وزر أخرى } ثم نظر أبي إلى مثل السلعة بين كتفيه فقال : يا رسول الله إني كأطب الرجال أفأعالجها ؟ قال : لا طبيبها الذي خلقها

حضرت ابو رمثہ فرماتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گیا۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو میرے والد گرامی نے مجھ سے فرمایا : کیا تجھے معلوم ہے، یہ کون ہستی ہے؟ میں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ کہا: یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی جبکہ میرا گمان تھا کہ اللہ کے رسول لوگوں میں سے کسی کے مشابہ نہیں ہوتے۔ اچانک میری نگاہ اٹھی تو وہ ایک کامل انسان تھے، زلفوں والے داڑھی پر سرخی لگی ہوئی تھی اور دو سبز چادریں آپ کے زیب تن تھیں۔ پس میرے باپ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام کیا۔ پھر دونوں ایک گھڑی کے لیے باتیں کرنے بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے باپ سے فرمایا : کیا تیرا بیٹا یہ ہے؟ عرض کی : ہاں۔ رب کعبہ کی قسم ! فرمایا: سچ ہے۔ عرض کی : سچ ہے۔ میں اس پر گواہی دیتا ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا اس وجہ سے کہ میں اپنے والد گرامی کے بہت زیادہ مشابہ تھا، دوسرا میرے والد گرامی نے میرے حوالے سے قسم اُٹھائی۔ پھر فرمایا:نہ اس نے تیرے حق میں کوئی برا کیا اور نہ تو نے اس کے حق میں برا کیا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ” کوئی بوجھ اُٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا۔‘‘ پس میرے والد نے دیکھا۔ میرے کندھوں کے درمیان میں چیونٹی کے برابر کوئی چیز (مہر نبوت) تھی۔ کہا: میں لوگوں سے اچھا طبیب ہوں، کیا میں اس کا علاج نہ کروں؟ پس فرمایا: نہیں ، اسے پیدا کرنے والا اس کا طبیب ہے۔

أَبِي رِمْثَةَ ← أَبِي إِيَادٍ ← عُبَیْدُ اللہِ بْنُ اِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18569

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من اسمه يثربي يثربي ويقال يثربي بن عوف أبو رمثة التميمي تيم الرباب · حديث 18570

721 - حدثنا معاذ بن المثنى و أبو مسلم قالا ثنا مسدد ثنا عبد الله بن داود ثنا علي بن صالح قال سمعت أبا إياد بن لقيط عن أبي رمثة قال Y دخلت المسجد مع أبي وإذا النبي صلى الله عليه و سلم قاعد في ظل الكعبة قال لي : أرأيت الرجل الذي ظل الكعبة ؟ ذاك رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذتني رعدة شديدة وعليه ثوبان أخضران بردان أخضران وبه ردع من حناء فقال النبي صلى الله عليه و سلم : هذا ابنك ؟ قال : أي ورب الكعبة قال : لا يجني عليك ولا تجني عليه

حضرت ابو رمثہ فرماتے ہیں میں اپنے والد کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ مجھ سے کہا: کیا تو نے کعبہ کے سائے میں بیٹھے آدمی کو دیکھا ہے؟ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ مجھ پر سخت قسم کی کپکپی طاری ہو گئی۔ آپ پر دو سبز چادریں تھیں۔ ( سر پر ) مہندی لگا رکھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آپ کا بیٹا ہے؟ عرض کی : ہاں۔ رب کعبہ کی قسم ! فرمایا: نہ اس نے تیرے حق میں کوئی برا کیا اور نہ تو نے اس کے حق میں برا کیا۔

أَبِي رِمْثَةَ ← أبا إياد بن لقيط ← عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← مُسَدَّدٌ ← معاذ بن المثنى و أبو مسلم

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18570

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من اسمه يثربي يثربي ويقال يثربي بن عوف أبو رمثة التميمي تيم الرباب · حديث 18571

722 - حدثنا الوليد بن حماد الرملي ثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي ثنا سعدان بن يحيى عن صدقة بن أبي عمران عن إياد بن لقيط عن أبي رمثة قال Y انطلقت مع أبي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فإذا هو ذو وفرة به أردع من حناء عليه ثوبان أخضران

حضرت ابو رمثہ فرماتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گیا۔ اچانک میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو آپ نے سر بالوں پر مہندی لگا رکھی تھی۔ آپ پر دو سبز چادریں تھیں۔

أَبِي رِمْثَةَ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← صدقة بن أبي عمران ← سَعْدَانُ بْنُ يَحْيَی ← سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18571

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من اسمه يثربي يثربي ويقال يثربي بن عوف أبو رمثة التميمي تيم الرباب · حديث 18572

723 - حدثنا محمد بن العباس الأخرم الأصبهاني ثنا عبيد الله بن الحجاج بن المنهال حدثني أبي عن يزيد بن إبراهيم عن صدقة بن أبي عمران عن إياد بن لقيط عن أبي رمثة قال Y انطلقت أنا و أبي قبل رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما كان في بعض الطريق تلقاني فقال أبي : تدري من هذا ؟ قلت : لا قال : هذا رسول الله صلى الله عليه و سلم وكنت أحسب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يشبه الناس قال : وإذا رجل ذو وفرة بها ردع من حناء عليه بردان أخضران فكأني أنظر إلى بريق ساقيه فقال لأبي : من هذا الذي معك ؟ قال : ابني والله حقا فضحك رسول الله صلى الله عليه و سلم بحلف أبي علي ثم قال : صدقت أما أنه لا يجني عليك ولا تجني عليه وتلا رسول الله صلى الله عليه و سلم هذه الآية { ولا تزر وازرة وزر أخرى }

حضرت ابو رمثہ فرماتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گیا۔ ابھی ہم راستے میں تھے کہ آپ سے ملاقات ہو گئی۔ میرے والد گرامی نے مجھ سے فرمایا: کیا تجھے معلوم ہے، یہ کون ہستی ہے؟ میں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ کہا : یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں جبکہ میرا گمان تھا کہ اللہ کے رسول لوگوں میں سے کسی کے مشابہ نہیں ہوتے۔ اچانک میری نگاہ اٹھی تو وہ ایک کامل انسان تھے، زلفوں والے ، جن پر سرخی لگی ہوئی تھی اور دو سبز چادریں آپ کے زیب تن تھیں۔ گویا اب بھی میں آپ کی پنڈلیوں کی چمک کو دیکھ رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے باپ سے فرمایا: کیا تیرا بیٹا یہ ہے؟ عرض کی : ہاں۔ اللہ کی قسم ! سچ ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا اس وجہ سے کہ میرے والد گرامی نے میرے حوالے سے قسم اُٹھائی۔ پھر فرمایا: تو نے سچ کہا بہرحال نہ اس نے تیرے حق میں کوئی برا کیا اور نہ تو نے اس کے حق میں برا کیا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ” کوئی بوجھ اُٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا۔“

أَبِي رِمْثَةَ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← صدقة بن أبي عمران ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ الْمِنْهَالِ، ← محمد بن العباس الأخرم الأصبهاني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18572

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من اسمه يثربي يثربي ويقال يثربي بن عوف أبو رمثة التميمي تيم الرباب · حديث 18573

724 - حدثنا الفضل بن هارون البغدادي ثنا اسماعيل بن إبراهيم الترجماني ثنا شعيب بن صفوان عن عبد الله بن عمير عن إياد بن لقيط عن أبي رمثة التيمي تيم الرباب قال Y أتيت النبي صلى الله عليه و سلم ومعي ابني فقلت لابني لما رأيته : هذا نبي الله فأخذته الرعدة منه فقلت : يا نبي الله أني رجل طبيب وكان والدي طبيبا من أهل بيت أطباء فأرني ظهرك فإن كان سلعة أبطها وان كان غير ذلك أخبرتك فإنه ليس إنسان أعلم بجرح أو جراح مني قال : لا طبيب إلا الله وعليه بردان أخضران وله شعر قد علاه الشيب وشيبه أحمر فقال : ابنك هذا ؟ قلت : أي ورب الكعبة قال : من نفسك ؟ قال : أشهد به قال : أما إنك لا يجني عليك ولا تجني عليه

حضرت ابو رمثہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گیا۔ میرے ساتھ میرا بیٹا تھا۔ جب اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو میں نے اپنے بیٹے سے کہا: یہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اُس پر کپکپی طاری ہو گئی۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی! میں طبیب ہوں۔ میرے والد گرامی بھی طبیبوں کے گھر سے تعلق رکھنے والے طبیب تھے۔ مجھے اپنی پیٹھ دکھائیے ! پس اگر پھنسی پھوڑا ہوا تو میں اسے کٹ لگاؤں گا اور اگر کوئی اور چیز ہوئی تو میں آپ کو بتاؤں گا، کیونکہ کوئی انسان مجھ سے بڑا جراح نہیں ہے۔ فرمایا: طبیب تو اللہ ہے۔ آپ پر دو چادریں تھیں اور آپ کی زلفیں تھیں، اُن پر بڑھاپا غالب تھا۔ آپ کا بڑھاپا سرخی سے ظاہر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے باپ سے فرمایا: کیا تیرا بیٹا یہ ہے ؟ عرض کی : ہاں۔ رب کعبہ کی قسم ! فرمایا: تجھ سے ہے؟ میں نے عرض کی : میں گواہی دے سکتا ہوں۔ فرمایا: بہرحال نہ اس نے تیرے حق میں کوئی برا کیا اور نہ تو نے اس کے حق میں برا کیا۔

أَبِي رمثة التيمي تيم الرباب ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ هَارُونَ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18573

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من اسمه يثربي يثربي ويقال يثربي بن عوف أبو رمثة التميمي تيم الرباب · حديث 18574

725 - حدثنا إبراهيم بن صالح الشيرازي ثنا حجاج بن نصير ثنا السعودي عن إياد بن لقيط عن أبي رمثة قال Y انتهيت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يخطب يقول : يد المعطي هي العليا أمك وأباك ثم أختك وأخاك ثم أدناك أدناك فجاء ناس من بني يربوع فقالوا : يا رسول الله قال رسول الله صلى الله عليه و سلم هذه بني يربوع قتلت فلانا فقال : إنها لا تجني نفس على أخرى

حضرت ابو رمثہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گیا اس حال میں کہ آپ نے خطبہ دیا، فرما رہے تھے: عطا کرنے والے کا ہاتھ ہی بلند ہے۔ تیری ماں، تیرا باپ، پھر تیری بہن، پھر تیرا بھائی پھر رشتے میں جو تیرے زیادہ قریب ہے، تیرے نیک سلوک کے حقدار ہیں۔ اتنے میں بنو یربوع سے کچھ لوگ آئے۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! یہ بنو یربوع کے لوگ ہیں۔ انہوں نے فلاں شخص کو قتل کر دیا ہے۔ فرمایا: قصہ یہ ہے کہ کوئی جان دوسری کے خلاف جنایت نہیں کر سکتی۔ (اجازت نہیں)

انتهيت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يخطب ← أَبِي رِمْثَةَ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← السعودي ← حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18574

chevron_left Previous
1…91011…42
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter