المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من اسمه يثربي يثربي ويقال يثربي بن عوف أبو رمثة التميمي تيم الرباب · حديث 18563
714 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا جبارة بن المفلس ثنا عبد الغفار بن القاسم أبو مريم عن إياد بن لقيط عن أبي رمثة التيمي قال Y انطلقت مع أبي نحو رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما رأيته قال لي أبي : هل تدري من هذا ؟ فقلت : لا فقال : هذا رسول الله صلى الله عليه و سلم فاقشعررت حين قال لي وكنت أظن أن رسول الله شيئا لا يشبه الناس فإذا هو بشر ذو وفرة بها ردع من حناء وعليه بردان أخضران فسلم عليه أبي ثم جلسا يتحدثان ساعة ثم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لأبي : ابنك هذا ؟ قال أي ورب الكعبة فقال : حقا قال : حقا أشهد به فتبسم رسول الله صلى الله عليه و سلم ضاحكا من تثبيت شبهي بأبي ومن حلف أبي علي ثم قال : أما إنه لا يجني عليك ولا تجني عليه ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم { ولا تزر وازرة وزر أخرى } ورأى أبي مثل السلعة بين كتفيه فقال : أني كأطب الرجال أفلا أعالجها ؟ فقال : مهلا طبيبها الذي خلقها
حضرت ابو رمثہ فرماتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گیا۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو میرے والد گرامی نے مجھ سے فرمایا: کیا تجھے معلوم ہے، یہ کون ہستی ہے؟ میں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ کہا : یہ اللہ کے رسول ہیں۔ جب انہوں نے مجھے کہا تو میرے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی جبکہ میرا گمان تھا کہ اللہ کے رسول لوگوں میں کسی کے مشابہ نہیں ہوتے۔ اچانک میری نگاہ اٹھی تو وہ ایک کامل انسان تھے، زلفوں والے داڑھی پر سرخی لگی ہوئی تھی اور دو سبز چادریں آپ کے زیب تن تھیں۔ پس میرے باپ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام کیا۔ پھر دونوں ایک گھڑی کے لیے باتیں کرنے بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے باپ سے فرمایا: کیا یہ تیرا بیٹا ہے؟ عرض کی : ہاں۔ رب کعبہ کی قسم! فرمایا: سچ ہے۔ عرض کی: سچ ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا، اس وجہ سے کہ میں اپنے والد گرامی کے بہت زیادہ مشابہ تھا، دوسرا میرے والد گرامی نے میرے حوالے سے قسم اُٹھائی۔ پھر فرمایا: نہ اس نے تیرے حق میں کوئی برا کیا اور نہ تو نے اس کے حق میں برا کیا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ” کوئی بوجھ اُٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا۔ ‘‘پس میرے والد نے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے درمیان میں چیونٹی کے برابر کوئی چیز (مہر نبوت ) تھی۔ کہا: میں لوگوں سے اچھا طبیب ہوں، کیا میں اس کا علاج نہ کروں؟ پس فرمایا: انتظار کرو! اسے پیدا کرنے والا اس کی دوا فر مائے گا۔
أبي رمثة التيمي ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو مَرْيَمَ ← جبارة بن المفلس ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18563
