Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من اسمه يزيد يزيد بن أبي سفيان بن حرب بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف · حديث 18455

606 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرح ثنا يحيى بن بكير قال Y توفي يزيد بن أبي سفيان بالشام سنة ثمان عشرة وكان استخلف معاوية فأقره عمر

حضرت یحییٰ بن بکیر فرماتے ہیں کہ حضرت یزید بن ابو سفیان کا وصال ملک شام میں ۱۸ ہجری کو ہوا‘ حضرت معاویہ کے بعد ( شام کے ) امیر مقرر ہوئے تو حضرت عمر نے برقرار رکھا۔

يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أبو الزنباع روح بن الفرح

Hadith 18455

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من اسمه يزيد يزيد بن أبي سفيان بن حرب بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف · حديث 18456

607 - حدثنا محمد بن عبدوس بن كامل ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا يزيد بن هارون ثنا يحيى بن سعيد الأنصاري أن أبا بكر ثنا بعث يزيد بن أبي سفيان إلى الشام خرج يمشي معه فقال له يزيد Y إما أن تركب و إما أن أنزل فقال : ما أنا براكب وما أنت بنازل إني أحتسب خطاي

حضرت یحییٰ بن بکیر فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت یزید کو شام کی طرف بھیجا تو چلتے ہوئے اُن کے ساتھ نکلے۔ حضرت یزید بن ابو سفیان نے عرض کی: یا آپ سوار ہو جائیں یا میں اتر آتا ہوں۔ فرمایا: نہ میں سوار ہوں گا اور نہ آپ اتریں گے، کیونکہ میں اللہ کی رضا کے لیے اٹھنے والے اپنے قدم گن رہا ہوں۔

براكب وما أنت بنازل إني أحتسب خطاي ← مَا ← له يزيد إما أن تركب و إما أن أنزل ← بعث يزيد بن أبي سفيان إلى الشام خرج يمشي معه ← يحيى بن سعيد الأنصاري أن أبا بكر ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدُوسَ بْنِ كَامِلٍ

Hadith 18456

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن الأسود السوائي أبو جابر · حديث 18457

608 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن هشام بن حسان و الثوري عن يعلى بن عطاء الطائفي عن جابر بن يزيد بن الأسود عن أبيه قال Y صلينا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم الفجر فانحرف فرأى رجلين من وراء الناس فدعى بهما يرتعد فرائصهما فقال : ما منعكما أن تصليا مع الناس ؟ فقالا : يا رسول الله صلينا في الرحال فقال : إذا صلى أحدكم في رحله ثم أدرك الصلاة مع الإمام فليصلها معه فإنها نافلة

حضرت جابر بن یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی‘ آپ نے سلام پھیرا‘ آپ نے دو آدمیوں کو لوگوں کے پیچھے دیکھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کو بلایا‘ دونوں کو لایا گیا تو دونوں کانپ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کیا رکاوٹ تھی؟ دونوں نے عرض کی: یارسول اللہ! ہم گھر میں نماز پڑھ کر آئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آئندہ ایسا نہ کرنا۔ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر امام کو نماز پڑھاتے ہوئے پائے تو امام کے ساتھ بھی نماز ضرور پڑھے‘ وہ تمہاری نماز نفل ہو جائے گی۔

أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ← يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ الطَّائِفِيِّ، ← هشام بن حسان و الثوري ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Hadith 18457

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن الأسود السوائي أبو جابر · حديث 18458

609 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة عن هشام بن حسان عن يعلى بن عطاء عن جابر بن يزيد عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم Y صلى الغداة في مسجد الخيف فرأى رجلين بعد ما انصرف في مؤخر المسجد فبعث إليهما فجيء بهما يرعد فرائصهما فقال : ما شأنكما لم تصليا معنا ؟ فقالا : قد صلينا في رحالنا فقال : إذا أتى أحدكم الجميع وقد صلى في بيته فليصل معهم فإنها له نافلة

حضرت جابر بن یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد خیف میں نماز فجر پڑھائی‘ آپ نے سلام پھیرا‘ آپ نے دو آدمیوں کو مسجد کے آخر میں دیکھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کی طرف آدمی بھیجا‘ دونوں کو لایا گیا تو وہ دونوں کانپ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کا کیا معاملہ ہے؟ تم نے لوگوں کے ساتھ مل کر نماز نہیں پڑھی؟ دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! ہم نے گھر میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی تمام لوگوں کے پاس آئے جبکہ وہ اپنے گھر نماز پڑھ چکا ہو تو وہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرے‘ کیونکہ وہ تمہاری نماز نفل ہو جائے گی۔

أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Hadith 18458

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن الأسود السوائي أبو جابر · حديث 18459

610 - حدثنا أبو خليفة الفضل بن الحباب ثنا مسلم بن إبراهيم عن شعبة ثنا يعلى بن عطاء عن جابر بن يزيد بن الأسود عن أبيه قال Y صلى النبي صلى الله عليه و سلم فلما قضى صلاته إذا هو برجلين في مؤخر الناس فأمر بهما فجيء بهما ترعد فرائصهما فقال : ما حملكما على أن لم تصليا معنا ؟ قالا : يا نبي الله صلينا في الرحال ثم أقبلنا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إذا صليتما في رحالكما ثم أدركتما الصلاة فإنها لكما نافلة

حضرت جابر بن یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی‘ پس جب آپ نے نماز پوری کی تو اچانک دو آدمی لوگوں کے آخر میں موجود تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے دونوں کو لایا گیا تو وہ دونوں کانپ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کو ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھنے پر کس چیز نے تیار کیا؟ دونوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! ہم گھر میں نماز پڑھ چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے اپنے گھر نماز پڑھ لی پھر نماز با جماعت کو پا لیا تھا تو تم (جماعت کے ساتھ ) پڑھ لیتے‘ وہ تمہاری نماز نفل ہو جاتی۔

أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← اَبُوْ خَلِیْفَۃَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 18459

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن الأسود السوائي أبو جابر · حديث 18460

611 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث قال حدثني إبراهيم بن أعين عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن جابر بن يزيد الأسود السوائي عن أبيه قال Y صلينا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم الصبح بمنى فإذا رجلان في مؤخر المسجد لم يصليا فدعا بهما فجيء بهما ترعد فرائصهما فقال : ما منعكما أن تصليا معنا ؟ قالا : يا رسول الله إنا قد صلينا في رحالنا قال فلا تفعلا إذا صليتما في رحالكما ثم أتيتما الإمام ولم يصل فصليا معه إنها لكما نافلة

حضرت یزید بن اسود سوائی فرماتے ہیں: ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منٰی کے مقام پر نماز فجر پڑھی‘ اچانک دو آدمی مسجد کے آخر میں تھے‘ جنہوں نے ( آپ کے ساتھ ) نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کو بلایا‘ دونوں کو لایا گیا تو دونوں کانپ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کو ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا ؟ دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! ہم گھر میں نماز پڑھ چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آئندہ ایسا نہ کرتا۔ جب تم نے اپنے گھر میں نماز چڑھ لی پھر امام کو پایا کہ اس نے نماز نہیں پڑھی تو اس کے ساتھ پڑھ لیتے‘ وہ تمہاری نماز نفل ہو جائے گی۔

أَبِيهِ ← جابر بن يزيد الأسود السوائي ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَعْيَنَ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Hadith 18460

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن الأسود السوائي أبو جابر · حديث 18461

612 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال أنا حماد بن سلمة عن يعلى بن عطاء عن جابر بن يزيد بن الأسود السوائي عن أبيه أنه Y كان مع النبي صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع فصلى الفجر في مسجد الخيف فلما قضى صلاته إذا رجلان في مؤخر المسجد فأتي بهما ترعد فرائصهما قال : ما لكما لم تصليا معنا ؟ فقال : يا رسول الله صلينا في رحالنا ثم جئنا وأنت تصلي فجلسنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا صلى أحدكم في رحله ثم جاء والإمام يصلي فليصل معه فإنها له نافلة

حضرت جابر بن یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ ہم حجۃ الوداع کے موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ نے نمار فجر پڑھی‘ آپ نے سلام پھیرا تو دو آدمی مسجد کے آخری تھے‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ان دونوں کو لایا گیا تو دونوں کانپ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کو کیا ہوا تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! ہم نے گھر میں نماز پڑھی پھر آئے جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم بیٹھ گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے گھر نماز پڑھ لے پھر امام کو نماز پڑھاتے ہوئے پائے تو (امام کے ساتھ ) پڑھ لیا کرے‘ وہ تمہاری نماز نفل ہو جائے گی۔

جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 18461

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن الأسود السوائي أبو جابر · حديث 18462

613 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ثنا أبو عوانة عن يعلى بن عطاء عن جابر بن يزيد بن الأسود السوائي عن أبيه قال Y صليت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم الغداة بمني قي مسجد الخيف فلما سلم استقبل الناس بوجهه فإذا هو برجلين في أخريات الناس لم يصليا مع الناس فقال : ما منعكما أن تصليا مع الناس ؟ قالا : يا رسول الله قد كنا صلينا في الرحال قال : لا تفعلا إذا صلى أحدكم في رحله وأدرك الصلاة مع الناس فليصلها معهم فإنها له نافلة

حضرت جابر بن یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منٰی کے مقام پر مسجد خیف میں نماز فجر پڑھی‘ آپ نے سلام کا پھیرا تو اپنا منہ لوگوں کی طرف کر لیا‘ اچانک دو آدمی لوگوں کے آخر میں موجود تھے‘ جنہوں نے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو میرے پاس لاؤ۔ پس دونوں کو لایا گیا تو دونوں کانپ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کیا رکاوٹ تھی ؟ دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم گھر میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر پائے کہ لوگ جماعت کے ساتھ پڑھ رہے ہیں تو ان کے ساتھ مل کر پڑھ لے‘ وہ اُس کی نماز نفل ہو جائے گی۔

أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 18462

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن الأسود السوائي أبو جابر · حديث 18463

614 - حدثنا أحمد بن مسعود المقدسي ثنا الهيثم بن جميل ثنا مبارك بن فضالة عن يعلى بن عطاء عن جابر بن يزيد بن الأسود السوائي عن أبيه ( ح ) وحدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) وحدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا شهاب بن عباد ثنا هشيم عن يعلى بن عطاء عن جابر بن يزيد بن الأسود عن أبيه قال Y شهدت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في مسجد الخيف فلما قضى الصلاة إذا هو برجلين جالسين ناحية فأتي بهما ترعد فرائصهما فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ما منعكما من الصلاة ؟ قالا : يا رسول الله صلينا في رحالنا قال : إذا صليتم في رحالكم وأدركتم الصلاة مع الناس فصلوها معهم والذي صليتم في رحالكم هي الفريضة

حضرت یزید بن اسود کرتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسجد خیف میں نماز میں حاضر ہوا‘ اچانک دو آدمی ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اُن دونوں کو لایا گیا تو وہ کانپ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کیا رکاوٹ تھی؟ دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! ہم گھر میں نماز پڑھ آئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے گھر میں نماز پڑھ لو پھر لوگوں کو امام کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے پاؤ تو ان کے ساتھ پڑھ لیا کرو اور جو نماز تم نے گھر میں وہ ادا کی، وہ تمہاری نماز فرض ہو گی۔

أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← هُشَيْمٌ ← شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ ← أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمَقْدِسِيُّ،

Hadith 18463

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن الأسود السوائي أبو جابر · حديث 18464

615 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا يحيى الحماني ثنا شريك عن يعلى بن عطاء عن جابر بن يزيد بن الأسود عن أبيه قال Y شهدت مع النبي صلى الله عليه و سلم صلاة الفجر بمنى فذكر نحوه

حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں منٰی کے مقام پر نماز فجر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا۔ اس کے بعد اسی طرح ذکر کیا۔

نَحْوَهُ ← شهدت مع النبي صلى الله عليه و سلم صلاة الفجر بمنى ← أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شَرِيکٍ ← يحيى الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Hadith 18464

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن الأسود السوائي أبو جابر · حديث 18465

616 - حدثنا أبو الدرداء عبد الله بن محمد بن الأشعث الأنطرطوسي ثنا إبراهيم بن محمد بن عبيدة حدثني أبي ثنا الجراح بن مليح ثنا إبراهيم بن عبد الحميد بن ذي حماية عن جامع عن يعلى بن عطاء عن جابر بن يزيد بن الأسود عن أبيه قال Y حججت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حجة الوداع فصليت معه صلاة الغداة بمنى فلما فرغ من صلاته رأى رجلين خلف الناس لم يصليا مع الناس فقال : علي بالرجلين فجيء بهما ترعد فرائصهما فقال : ألا صليتما معنا ؟ فقالا يا رسول الله إنا كنا صلينا في رحالنا وظننا أنا لا ندرك الصلاة قال : فلا تفعلا إذا صليتما في رحالكما ثم أدركتما الصلاة فصليا فتكون لكما نافلة فقال أحدهما : استغفر لي يا رسول الله فقال : اللهم اغفر له

حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا(اسی دوران ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منٰی کے مقام پر نماز فجر پڑھی‘ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو دو آدمیوں کو لوگوں کے پیچھے دیکھا‘ جنہوں نے لوگوں کے ساتھ مل کر نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان دونوں آدمیوں کو میرے پاس لاؤ! دونوں کو لایا گیا تو وہ کانپ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! ہم نے یہ گمان کرتے ہوئے گھر میں نماز پڑھ لی کہ ہم آپ کے ساتھ نماز نہیں پاسکیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آئندہ ایسا نہ کرنا۔ جب تم دونوں نے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لی تھی پھر نماز با جماعت کو پا لیا تو ساتھ پڑھ لیتے‘ یہ تمہاری نماز نفل ہو جاتی۔ ان دونوں میں اسے ایک نے عرض کی: یارسول اللہ ہمارے لیے استغفار کریں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ان کی مغفرت فرما۔

أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← جَامِعٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ ذِي حِمَايَةَ، ← الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← أَبُو الدَّرْدَاءِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ الْأَنْطَرْطُوسِيُّ،

Hadith 18465

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ يزيد بن الأسود السوائي أبو جابر · حديث 18466

617 - حدثنا أسلم بن سهل الواسطي ثنا محمد بن أبان ثنا الحكم بن فضيل عن يعلى بن عطاء عن جابر بن يزيد بن الأسود عن أبيه Y عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت زید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کی مثل حدیث روایت کرتے ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← الْحَكَمُ بْنُ فُضَيْلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ

Hadith 18466

chevron_left Previous
1234…42
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter