Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ألف ‹ حبيب بن المهاصر بن حبيب عن أبي ثعلبة · حديث 18443

594 - حدثنا محمد بن محمد الجذوعي القاضي ثنا محمد بن مرزوق ثنا يزيد عن الأحوص بن حكيم عن حكيم بن صهيب عن أبي ثعلبة قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم شعبان ورمضان يصلهما جميعا

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان اور رمضان دونوں ماہ کے تمام روزے رکھا کرتے تھے۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ ← حَكِيمِ بْنِ صُهَيْبٍ ← الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ ← يَزِيدُ: ← مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوْقٍ۔ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18443

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ألف ‹ عروة بن رويم اللخمي عن أبي ثعلبة · حديث 18444

595 - حدثنا طالب بن قرة الأدني ثنا محمد بن عيسى الطباع ثنا يحيى بن سعيد الأموي ثنا أبو فروة يزيد بن سنان عن عروة بن رويم عن أبي ثعلبة الخشني قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قدم من سفر بدأ بالمسجد فصلى فيه ركعتين ثم يثني بفاطمة ثم يأتي أزواجه فقدم من سفر فصلى في المسجد ركعتين ثم أتى فاطمة فتلقته على باب البيت فجعلت تلثم فاه وعينيه وتبكي فقال : ما يبكيك ؟ فقالت : أراك شعثا نصبا قد اخلولقت ثيابك فقال لها : لا تبكي فإن الله قد بعث أباك بأمر لا يبقى على وجه الأرض بيت ولا مدر ولا حجر ولا وبر ولا شعر إلا أدخله الله به عزا أو ذلا حتى يبلغ حيث بلغ الليل

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ آپ سفر سے واپس آتے تو مسجد سے ابتداء کرتے‘ اس میں دو رکعت ادا کرتے‘ پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر آتے‘ پھر اپنی ازواج کے پاس آتے‘ ایک دفعہ آپ سفر سے آئے تو مسجد میں دو رکعت نفل ادا کیے‘ پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو آپ کو اپنے گھر کے دروازے پر پایا اس حال میں کہ منہ اور آنکھیں ڈھکی ہوئیں اور رو رہی ہیں۔ فرمایا: تجھے کس چیز نے رلایا؟ عرض کی: میں نے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ گرد پڑی ہوئی ہے اور آپ تھکے ہوئے ہیں‘ آپ کے کپڑے پرانے ہو چکے ہیں۔ فرمایا: مت رو کیونکہ تیرے باپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسے امر کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ زمین کے چہرے پر کوئی گھر پکا کچا‘ پھر والا گھر‘ کوئی دیہات اور نباتات باقی نہ رہے گا مگر اللہ تعالیٰ اس میں عزت یا ذلت داخل کرے گا یہاں یہ دین وہاں پہنچے گا جہاں رات پہنچی ہے۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ← أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ← محمد بن عيسى الطباع ← طالب بن قرة الأدني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18444

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ألف ‹ عروة بن رويم اللخمي عن أبي ثعلبة · حديث 18445

596 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا علي بن بحر قال ثنا يحيى بن أبي بكير ثنا جعفر بن زياد الأحمر عن ابن سنان الشامي عن عروة بن رويم عن أبي ثعلبة الخشني قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قدم من سفر بدأ في المسجد فصلى فيه ركعتين ثم بدأ ببيت فاطمة ثم أتى بيوت نسائه قال : فدخل عليها فوضعت يدها على خده وقالت يا رسول الله بأبي أنت وأمي قد اخلولقت ثيابك فقال : يا فاطمة بعث الله أباك بأمر لا يبقى بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله بأبيك عزا حتى يبلغ حيث يبلغ الليل

حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تو مسجد سے ابتداء کرتے‘ پس اس میں دو رکعت پڑھتے پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے ابتداء کرتے‘ پھر اپنی ازواج مطہرات کے گھروں میں تشریف لاتے۔ راوی کا بیان ہے۔ پس حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہوں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخسار مبارک پر رکھا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول ! آپ کے کپڑے پرانے ہو گئے ہیں۔ فرمایا: اے فاطمہ ! تیرے باپ کو اللہ نے ایسے امر کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ کوئی پکی اینٹوں سے بنا ہوا مکان اور کچے گروں والا دیہات باقی نہ رہے گا مگر اللہ تعالیٰ اس میں تیرے باپ کو عزت سے داخل کرے گا حتٰی کہ اس کا نام وہاں تک پہنچے گا جہاں تک رات پہنچتی ہے۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ← ابن سنان الشامي ← جَعْفَرُ بْنُ زِيَادٍ الْأَحْمَرُ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18445

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ألف ‹ عروة بن رويم اللخمي عن أبي ثعلبة · حديث 18446

597 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا أبو أسامة ثنا أو فروة حدثني عروة بن رويم اللخمي عن أبي ثعلبة ولقيته وكلمته قال Y أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فسألته فقال : نويبة قلت : يا رسول الله نويبة خير أو نويبة شر ؟ قال : لا بل نويبة خير قلت : يا رسول الله خرجت مع عم لي في سفر فأدركه الحفاء فقال : أعرني حذاءك قلت : لا أعيركها أو تزوجني ابنتك قال : قد زوجتكها فلما أن أتينا أهلنا بعث إلي بحذائي وقال : لا امرأة لك عندنا فقال نبي الله صلى الله عليه و سلم : لا خير لك فيها قلت : يا رسول الله نذرت نذرا أن أنحر ذودا على صنم من أصنام الجاهلية فقال : أوف بنذرك ولا تأثم لربك ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا وفاء لنذر في معصية ولا في قطيعة رحم ولا فيما لا يملك قلت : يا رسول الله الورق يؤخذ عند القرية العامرة أو الطريق المأتي فقال : عرفها حولا فإن جاء صاحبهما فادفعها إليه وإلا فاحص وكاءها ووعاءها وعددها ثم استمتع بها قلت : يا نبي الله الورق يؤخذ في الأرض الغادية قال : فيها وفي الركاز الخمس قلت : يا رسول الله كلبي المعلم أرسله فمنها ما أدركه فأذكي ومنها ما لم أدرك قال : كل ما أمسك عليك كلبك المعلم قلت : يا نبي الله قوسي أرمي بها فأصيب فمنه ما أدركه فأذكي ومنه ما لم أدرك فقال : كل ما ردت إليك قوسك قلت : يا رسول الله أرمي بسهمي فيتوارى عني فأدركه وفيه سهمي أعرفه ولا أنكره ليس به أثر سواه قال : إن لم تصله فأصبته وفيه سهمك فعرفته ولا تنكره وليس به أثر سواه فكل وإلا فلا تأكل قلت : يا نبي الله الشاة نجدها في أرض الفلاة قال : كلها فإنما هي لك أو لأخيك أو للذئب قلت : يا نبي الله البعير أو الناقة توجد في أرض الفلاة عليها الوعاء والسقاء قال : خل عنها ما لك ولها ؟ قلت : يا نبي الله قدور المشركين نطبخ فيها قال : لا تطبخوا قلت : إن احتجنا إليها ولم نجد منها بدا قال : فارحضوها بالماء حسنا ثم اطبخوا وكلوا

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ میں نے آپ سے پوچھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نویبہ ہے! میں نے عرض کی : یارسول اللہ! نویبہ بہتر ہے یا نویبہ بدتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ! بلکہ نویبہ بہتر ہے۔ میں نے عرض کی: میں اپنے چچا کے ساتھ سفر میں نکلا‘ حفاء کو پایا تو اس نے کہا: اپنے جوتے مجھے عاریۃ دو۔ میں نے کہا: میں اپنے جوتے عاریۃ نہ دوں گا یہاں تک کہ تو اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دے۔ اس نے کہا: میں نے اس کا نکاح تجھ سے کیا۔ پس جب ہم گھر والوں کے پاس پہنچے تو اس نے میرے جوتے میری طرف بھیج دیئے اور کہا: ہمارے پاس تیرے لیے کوئی عورت نہیں ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس عورت میں تیرے لیے کوئی بھلائی نہیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں نے زمانہ جاہلیت میں بت کیلئے اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنی نذر پوری کر اور اپنے رب کی نافرمانی نہ کر۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں مانی جانے والی نذر کا پورا کرنا درست نہیں ہے‘ صلہ رحمی ختم کرنا ؟ جائز نہیں ہے‘ جو تیری ملکیت میں نہ ہو ان کو آزاد کرنا درست نہیں ہے۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! چاندی جو آباد گاؤں یا آنے والے راستے سے لی جاتی ہے۔ فرمایا: ایک سال اس کی تشہیر کر‘ پس اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دیدے ورنہ اس کیلئے برتن بنا کر اسے یاد کر اور گن کے رکھ‘ پھر اس سے نفع حاصل کر۔میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ! وہ چاندی جو جنگل سے ملتی ہے۔ فرمایا: اس میں اور دفن شدہ خزانے میں خمس ہے۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرا سکھایا ہوا کتا ہے‘ میں اسے چھوڑتا ہوں‘ جسے میں پالیتا ہوں اُسے ذبح کرتا ہوں اور اس میں سے وہ بھی ہوتا ہے جسے میں نہیں پاتا ہوں۔ فرمایا : جس کو تیرا سکھایا ہوا کتا تیرے لیے روکے‘ اسے کھا۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں اپنی کمان پھینکتا ہوں‘ وہ شکار کولگتی ہے‘ اس میں سے کسی کو میں پا لیتا ہوں‘ تو اسے ذبح کرتا ہوں اور کچھ کو ذبح نہیں کر سکتا ہوں۔ فرمایا: جو تیری کمان تیری طرف لوٹائے‘ اسے کھا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں تیر پھینکتا ہوں تو شکار مجھ سے پوشیدہ ہو جاتا ہے‘ پس میں اسے اس حال میں پاتا ہوں کہ اس میں میرا تیر ہوتا ہے‘ میں اسے پہچان لیتا ہوں نہ پہچاننے والی بات نہیں ہوتی ‘ اس کے سوا اس میں کوئی اثر بھی نہیں ہوتا۔ فرمایا: اگر تو اسے نہ پائے اور اسے تیر لگا ہو اور تیرا تیر اس میں موجود ہو تو اسے پہچان لے‘ اس میں اور کوئی اثر نہ ہو تو کھا‘ ورنہ نہ کھا۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی! میں جنگل میں بکری پاتا ہوں۔ فرمایا: اسے کھا سکتا ہے‘ وہ تیرے لیے‘ تیرے بھائی کیلئے یا پھر بھیڑیے کا نصیب ہے۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی! اونٹ یا اونٹنی کا کیا حکم ہے جو جنگل سے ملے‘ اس پر زاد راہ بھی ہو ؟ فرمایا: اسے چھوڑ دے‘ اس سے تیری کوئی غرض نہیں۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! مشرکوں کی ہانڈیاں جن میں ہم پکارتے ہیں۔ فرمایا: مت پکاؤ۔ میں نے عرض کی : اگر ہم محتاج ہوں اور اس کے بغیر چارہ نہ ہو تو؟ فرمایا: پانی کے ساتھ اچھی طرح صاف کرو پھر پکا کر کھاؤ۔

أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فسألته فقال نويبة قلت ← أَبِي ثَعْلَبَةَ وَلَقِيتُهُ، وَكَلَّمْتُهُ ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ، ← أو فروة ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18446

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ألف ‹ عروة بن رويم اللخمي عن أبي ثعلبة · حديث 18447

598 - حدثنا محمد بن يحيى بن منده الأصبهاني ثنا أبو كريب ثنا أبو أسامة عن أبي فروة يزيد بن سنان حدثني عروة بن رويم عن أبي ثعلبة الخشني Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : في الركاز الخمس

حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دفن شدہ خزانے میں نفس ہے۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ← أَبِي فَرْوَةَ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18447

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ألف ‹ أبو الأشعث الصنعاني عن أبي ثعلبة · حديث 18448

599 - حدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا عبد الله بن محمد بن يحيى بن أبي بكير ثنا يحيى بن السكن ثنا أبو قحذم عن أبي قلابة عن أبي الأشعث الصنعاني أن أبا ثعلبة الخشني Y أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إنا بأرض أهلها أهل كتاب يأكلون لحوم الخنازير ويشربون الخمر فكيف تأمرنا في آنيتهم وقدروهم ؟ قال : إن وجدتم غيرها فخذوها وإلا فارحضوها بالماء ثم كلوا فيها واشربوا قال : يا رسول الله إني بأرض صيد قال : إذا أرسلت كلبك المكلب وذكرت اسم الله وقتل فكل وإذا أرسلت كلبك الذي ليس بالمكلب فإن أدركت ذكائه فاذكر اسم الله عليه وكل وما رد عليك سهمك فاذكر اسم الله عليه وكل قلت : يا رسول الله ما يحرم علينا ؟ قال : كل سبع ذي ناب

حضرت ابو الاشعث صنعانی سے مروی ہے کہ حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے‘ عرض کی: اے اللہ کے رسول ! ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں‘ وہ خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں اور شراب پیتے ہیں‘ پس آپ ان کے برتنوں اور ہانڈیوں میں کیسے حکم صادر فرما ئیں گے؟ فرمایا: اگر تم ان کے علاوہ پاؤ تو انہیں کو پکڑو ورنہ پانی سے اچھی طرح دھو کر صاف کر کے پھر ان میں کھاؤ پیو۔ عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میں شکار والے علاقے میں ہوں۔ فرمایا: جب تو اپنا سکھایا ہوا کتا چھوڑے اور اللہ کا نام لے اور وہ قتل کرے تو کھا لے‘ اور اگر غیر سکھایا ہوا کتا چھوڑا تو اگر تجھے اس کا ذبح کرنا میسر آ جائے تو اس پر اللہ کا نام لے کر کھا‘ اور تیرا تیر جو چیز تجھ پر لوٹائے تو اس پر اللہ کا نام لے کر کھا۔میں نے عرض کی: اے اللہ کا رسول ! ہم پر کیا حرام ہے؟ فرمایا: ہر کچلیوں والا درندہ حرام ہے۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← أبو قحذم ← يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ1 ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18448

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ألف ‹ أبو رجاء العطاردي عن أبي ثعلبة · حديث 18449

600 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني محمد بن الفرح مولى بني هاشم ثنا علي بن غراب ثنا علي بن منصور حدثني أبو رجاء العطاردي عن أبي ثلعبة الخشني قال Y أتيت رسول الله فقلت : يا رسول الله إنا بأرض أهلها أهل الكتاب يأكلون لحم الخنزير ويشربون الخمر كيف تأمرنا بقدورهم وآنيتهم ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن وجدتم غيرها وإلا فارحضوها بالماء واطبخوا فيها واشربوا قلت : يا رسول الله إنا أهل صيد يرد على أحدنا كلبه المكلب وكلبه ليس بمكلب ويرد على أحدنا سهمه فماذا نأكل من ذلك وما ندع ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما رد عليك كلبك المكلب إذا أرسلته وذكرت اسم الله فكل وما رد علي كلبك الذي ليس بمكلب فإن أدركت ذكائه فاذكر اسم الله ثم كل وما رد عليك سهمك إذا أرسلت وذكرت اسم الله فكل فقال : يا رسول الله فما الذي لا يحل لنا ؟ قال : الحمار الإنسي وكل سبع ذي ناب

حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ کر عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم ایسے ملک میں ہیں جہاں اہل کتاب رہتے ہیں‘ وہ خنزیر کا گوشت کھانے کے شراب پیتے ہیں‘ ان کی ہانڈیوں اور برتنوں کے جوالے سے آپ نہیں کیا حکم دیتے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ان کے علاوہ پاؤ تو ٹھیک ورنہ انہیں کو پانی کے ساتھ دھو کر ان میں پکاؤ اور پیو۔میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم شکار والے ہیں‘ ہم پر ہمارا سکھایا ہوا کتا جو لاتا ہے اور وہ کتا جو سکھایا ہوا نہیں ہے جو چیز ہم پر ہمارا تیر لاتا ہے‘ پس اس میں سے ہم کیا کھائیں؟ اور کیا چھوڑیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تیرا سکھایا ہوا کتا لائے بشرطیکہ تو نے اللہ کا نام لے کر اُسے چھوڑا ہوا تو کھا لے‘ اور جس کو تیرا وہ کتا لائے جو سکھایا ہوا نہیں ہے تو پس اگر تو اس کا ذبح کرنا پا لے تو اللہ کا نام لے اور کھا اور جو شکار تیرا تیر لائے جب تو نے اللہ کا نام لے کر چھوڑا تو کھا لے۔میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا چیز ہمارے لیے حلال نہیں ہے؟ فرمایا: پالتو گدھا اور ہر کچلیوں والا درنده۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← أبي ثلعبة الخشني ← أبو رجاء العطاردي ← علي بن منصور ← عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ← محمد بن الفرح مولى بني هاشم ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18449

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ألف ‹ عمر بن نبهان عن أبي ثعلبة · حديث 18450

601 - حدثنا عبدان بن محمد المروزي ثنا إسحاق بن راهويه ثنا حماد بن مسعدة ( ح ) وحدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا شعتم بن أصيل ثنا حماد بن مسعدة عن ابن جريج عن أبي الزبير عن عمر بن نبهان عن أبي ثعلبة الخشني قال Y توفي لي ولدان فقلت : يا رسول الله توفي لي ولدان فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات له ولدان أدخله الله الجنة بفضل رحمته إياهم فلقيني أبو هريرة فقال : أنت الذي حدثك رسول الله صلى الله عليه و سلم في الوالدين ؟ قلت : نعم قال : لئن يكون حدثني به أحب إلي مما علقت عنه فلسطين

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے دو بیٹے فوت ہو گئے‘ میں نے عرض کی: اے اور اس کے رسول! میرے دو بیٹے فوت ہو گئے ہیں۔ تو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دو بیٹے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ٰ اپنی رحمت کے فضل سے ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ پس حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے تو فرمایا : تو ہی وہ شخص ہے جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو بچوں والی حدیث بیان کی ہے؟ میں نے کہا: ہاں ! فرمایا: اگر مجھ سے بیان کی ہوتی تو وہ مجھے ان خزانوں سے بہتر ہوتی جن کو فلسطین واے تالے لگاتے ہیں۔

«تُوُفِّيَ لِي وَلَدَانِ فَقُلْتُ: ← أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← عمر بن نبهان ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ← شعتم بن أصيل ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ رَاهُوَيْهِ ← عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18450

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ألف ‹ أبو قلابة عن أبي ثعلبة · حديث 18451

602 - حدثنا احمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا يحيى بن صالح الوحاظي ثنا سعيد بن بشير عن قتادة عن أبي قلابة عن أبي ثعلبة قال Y سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم أفي الحمر زكاة قال : لا إلا الآية الفاذة الشاذة { من يعمل مثقال ذرة خيرا يره }

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گدھوں کی زکوٰۃ کے بارے سوال کیا گیا‘ تو فرمایا: نہیں ! مگر الگ تھلگ آیت: ’’جو مثقال کے برابر بھلائی کا عمل کرتا ہے‘ تو وہ اسے دیکھ لے گا‘‘۔

لا إلا الآية الفاذة الشاذة من يعمل مثقال ذرة خيرا يره ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم أفي الحمر زكاة ← أَبِي ثَعْلَبَةَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18451

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ألف ‹ أبو قلابة عن أبي ثعلبة · حديث 18452

603 - حدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم ثنا محمد بن يوسف الفريابي ثنا سفيان عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي ثعلبة الخشني قال Y قلت : يا رسول الله إنا نأتي أرض أهل الكتاب فسألته عن آنيتهم فقال : اغسلوها ثم اطبخوا فيها

حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اہل کتاب کے ملک سے آتے ہیں‘ پس میں آپ سے ان کے برتنوں کے بارے سوال کرتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو دھو لو پھر ان میں پکاؤ۔

قُلْتُ ← أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18452

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ألف ‹ أبو قلابة عن أبي ثعلبة · حديث 18453

604 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا محمد بن بشر ثنا سعيد بن أبي عروبة عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي ثعلبة أنه قال Y يا رسول الله اكتب لي بأرض قال : كيف أكتب وهي بأرض الحرب ؟ فقال : والذي بعثك بالحق ليملكن ما تحت أقدامهم فأعجب رسول الله صلى الله عليه و سلم ذلك فنظر إلى أصحابه فكتب له رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : يا رسول الله إنا بأرض صيد فما يحل لنا مما يحرم علينا ؟ فقال : إذا أرسلت كلبك المعلم أو المكلب وذكرت الله وأخذ وقتل فكل وإذا أرسلت كلبك الذي ليس بمعلم فما أدركت ذكائه فكل وما لم تدرك فلا تأكل وما رد عليك سهمك فكل قال : يا نبي الله إنا بأرض أهلها أهل كتاب نحتاج إلى قدورهم وآنيتهم فقال : لا تقربوها ما وجدتم بدا فإن لم تجدوا بدا فاغسلوها بالماء واطبخوا واشربوا ونهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن لحم الحمار الأهلي وعن كل سبع ذي ناب

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرے لیے زمین لکھ دیں۔ فرمایا: میں کیسے لکھوں‘ وہ تو حربیوں کی زمین ہے۔ عرض کی: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے‘ آپ ضرور اس کے بھی مالک بن جائیں گے جو ان کے قدموں کے نیچے ہے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے خوش ہوئے اور اپنے صحابہ کی طرف نظر شفقت فرمائی‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کو لکھ دیا۔ پھر انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم شکار والی زمین میں ہیں‘ ہمارے لیے کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے؟ فرمایا: جب تو اپنا سکھایا ہوا کتا چھوڑے اور اللہ کا ذکر کرے اور وہ (شکار کو) پکڑ کر (تیرے لیے ) مار دے تو کھالے اور جب غیر سکھایا ہوا کتا چھوڑے اور اس کے ذبح کو پائے تو کھا اور جس کو ذبح نہ کر سکے تو مت کھا اور جو تیرا تیر لائے وہ کھا سکتا ہے۔عرض کی : اے اللہ کے نبی !ہم ایسے ملک میں ہیں جو اہل کتاب کا ہے‘ ہمیں ان کی ہانڈیوں اور برتنوں کی ضرورت ہوتی ہے‘ فرمایا: ان کے قریب مت جاؤ جب تک اس کے بغیر چارہ ہو اور اگر چارہ نہ ہو تو انہیں پانی سے دکھو کر پکاؤ اور پیو۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پالتو گدھے کا گوشت اور ہر کچلیوں والے درندے سے منع کیا۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ، أَنَّهُ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18453

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ألف ‹ أبو قلابة عن أبي ثعلبة · حديث 18454

605 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا محمد بن يحيى القطعي ثنا محمد بن بكير البرساني ثنا ابن جريج حدثني أيوب السختياني أن أبا قلابة حدثه عن أبي ثعلبة الخشني أنه جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم Y فقال : إن أرضنا أرض صيد فأرسل سهمي وأذكر اسم الله وأرسل كلبي المعلم واذكر اسم الله وأرسل كلبي الذي ليس بمعلم وأذكر اسم الله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ما حبس عليك سهمك وذكرت اسم الله فكل وما حبس عليه كلبك المعلم وذكرت اسم الله فكل وما حبس عليه كلبك الذي ليس بمعلم وأدركت ذكائه فكل وإن لم تدرك ذكائه فلا تأكل قلت : يا رسول الله إن أرضنا أرض أهل كتاب فما تأمرنا أن نصنع بآنيتهم ؟ فقال : ولا تقربوها إلا أن لا تجدوا منها بدا فاغسلوها بالماء واطبخوا فيها

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے‘ عرض کی: ہماری زمین کو شکار والی زمین ہے‘ میں اپنا تیر پھینکتا ہوں اور اللہ کا نام لیتا ہوں‘ اپنا سکھایا ہوا کتا چھوڑتے ہوئے بھی اللہ کا نام لیتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تیرا تیر روک لے تجھ پر اور تو نے اللہ کا نام لیا ہو تو کھالے اور جو تیر ا سکھایا ہوا کتا رد کے اور تو نے اللہ کا نام ذکر کیا ہو تو بھی کھا‘ لیکن جو تیرا وہ کتا رو کے جو سکھایا نہ گیا ہو اور تو اسے پا کر ذبح کر لے تو ضرور کھا اور اگر اسے پا کر ذبح نہ کر سکے تو مت کھا۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں‘ آپ کیا حکم دیتے ہیں کہ ہم ان کے برتنوں سے کیا کریں؟ فرمایا: ان کے قریب مت جانا مگر یہ کہ تم ان کے بغیر چارہ نہ پاؤ اور پانی سے دھو کر ان میں پکاؤ۔

اسْمَ اللهِ. ← اسم الله وأرسل كلبي الذي ليس بمعلم وأ ← اسم الله وأرسل كلبي المعلم وا ← إن أرضنا أرض صيد فأرسل سهمي وأ ← أبي ثعلبة الخشني أنه جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← أيوب السختياني أن أبا قلابة ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← محمد بن بكير البرساني ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18454

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter