المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ألف ‹ أبو إدريس الخولاني عن أبي ثعلبة · حديث 18419
570 - حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرق الحمصي ثنا محمد بن مصفى ثنا بقية عن الزبيدي ( ح ) وحدثنا عمرو بن إسحاق بن إبراهيم بن العلاء بن زبريق ثنا أبي ( ح ) وحدثنا عمارة بن وثيمة المصري ثنا إسحاق بن إبراهيم بن زبريق الحمصي ثنا عمرو بن الحارث ثنا عبد الله بن سالم عن الزبيدي ثنا يونس بن سيف أن أبا إدريس عائذ الله حدثهم أن أبا ثعلبة الخشني حدثهم أنه Y أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم وصعد فيه البصر وصوب ثم قال : نويبة فقال أبو ثعلبة نويبة خير أم نويبة شر ؟ قال : نويبة خير قال يا رسول الله إنا بأرض فيها الصيد فما يحل لنا منه مما يحرم علينا ؟ فقال : حمار الأهلي وكل ذي ناب من السباع حرام وما ردت إليك قوسك وكلبك المكلب فهو لك حلال ثم سأله عن شيء من أمر أهل الكتاب وعن آنيتهم فقال : إن وجدت عنها غنى فلا تقربها وإن احتجت إليها فاغسلها ثم كل فيها واشرب
حضرت ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے‘ آپ کی طرف نگاہ اُٹھا کر سیدھا دیکھنے لگ گئے‘ پھر کہا: نوبیہ! پس حضرت ابو ثعلبہ نے کہا: نویبہ خیر یا نویبہ شر؟ کہا: نویطہ خیر۔ عرض کی: اے اللہ کے رسول ! ہم شکار والی زمین میں ہیں‘ ہمارے لیے کیا حلال اور کیا حرام ہے؟ فرمایا: گھریلو گدھا اور درندوں میں سے ہر کچلی والا حرما ہے‘ جو تیری قوس تیری طرف لوٹائے اور تیرا سدھایا ہوا کتا جو شکار کرے وہ تیرے لیے حلال ہے‘ پھر انہوں نے اہل کتاب کے معاملات میں سے کسی شی کا سوال کیا اور ان کے برتنوں کے بارے فرمایا: اگر تم ان سے بے پرواہ ہو تو ان کے قریب نہ جاؤ اور اگر محتاج ہو تو انہیں دھو کر ان میں کھاؤ بھی اور پیو بھی۔
يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ ← عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ الْمِصْرِيُّ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← بَقِيَّةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18419
