المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ من اسمه شيبه 688 - شيبة بن عثمان بن طلحة بن عبد العزى بن عبد الله بن عبد الدار بن قصي الحجبي يكنى أبا عثمان أسلم يوم الفتح ويقال : يوم حنين وكان من المؤلفة · حديث 7207
7191 - حدثنا محمد بن العباس المؤدب ثنا محمد بن بكير الحضرمي ( ح ) وحدثنا عبدان بن محمد المروزي ثنا قتيبة ين سعيد قالا ثنا أيوب بن جابر عن صدقة بن سعيد عن مصعب بن شيبة عن أبيه قال Y خرجت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين والله ما أخرجني الإسلام ولا معرفة به ولكني أنفت أن تظهر هوازن على قريش فقلت وأنا واقف معه : يارسول الله إني أرى خيلا بلقاء قال : يا شيبة إنه لا يراها إلا كافر فضرب بيده على صدري ثم قال : اللهم اهد شيبة ثم ضربها الثانية ثم قال : اللهم اهد شيبة ثم ضربها الثالثة فقال : اللهم اهد شيبة فو الله ما رفع يده من صدري من الثالثة حتى ما كان أحد من خلق الله أحب إلي منه قال فالتقى الناس والنبي صلى الله عليه و سلم على ناقة أو بغلة و عمر آخذ بلجامه و العباس بن عبد المطلب آخذ ينفر دابته فانهزم المسلمون فنادى العباس بصوت له جهير فقال : أين المهاجرون الأولون أين أصحاب سورة البقرة والنبي صلى الله عليه و سلم يقول قدما : أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب فعطف المسلمون فاصطكوا بالسيوف فقال النبي صلى الله عليه و سلم : الآن حمي الوطيس قال : وهزم المشركين
حضرت شیبہ بن عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حنین کے غزوہ پر تشریف لے گئے تو مجھے میرا باپ اور چچا یاد آئے جن کو حضرت علی اور حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے قتل کیا تھا۔ پس میں نے (اپنے دل میں ) کہا: آج کے دن میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں اپنا بدلہ لوں گا۔ (اسی نیت سے ) میں ان کی طرف آیا‘ پس میں نے دیکھا کہ حضرت عباس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں جانب ہیں‘ آپ پر سفید زرہ ہے‘ ایسا لگ رہا تھا جیسے چاندی ہو‘ پس میں نے کہا: ان کے چچا ( عماد ) ان کو اکیلا ہرگز نہ چھوڑیں گے‘ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں طرف سے آیا‘ پس میری نگاہ پڑی تو حضرت ابو سفیان بن حارث (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا کا بیٹا) موجود ہے۔ میں نے کہا: ان کے چا کا بیٹا بھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑے گا‘ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے آیا‘ پس میں قریب ہوا اور میں ( مزید ) قریب ہوا حتٰی کہ جب صرف اتنی بات رہ گئی تو ایک بہت بڑا شعلہ آگ کا میری طرف بلند ہوا‘ گویا کہ وہ برق (آسمانی بجلی ) ہے۔ پس مجھے خواب ہوا‘ پس پچھلے پاؤں لوٹ گیا۔ پس (اتنے میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے۔ فرمایا: اے شیب! آؤ! ( میں آ گے ہوا) تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھا تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل سے شیطان کو نکال دیا‘ پس میں نے اپنی نگاہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اٹھائی تو حال یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے نزدیک میری سماعت‘ میری بصارت اور فلاں فلاں چیز سے زیادہ محبوب تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے شیب! کافروں سے جا کر جہاد کر۔ پھر فرمایا: اے عباس! وہ مہاجرین جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور وہ انصار جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی‘ سب کو بلاؤ۔ انصار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتنے مہربان تھے‘ اس کو میں نے تشبیہ دی ہے گائے کے ساتھ کہ جس طرح وہ اپنی چھوٹی اولا د پر مہربان ہوتی ہے حتٰی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن کی کوئی سورت یا آیت نازل ہوئی۔ راوی کہتے ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مجھے کافروں کے تیروں کا اتنا خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا جتنا انصار کے تیروں کا ہو رہا تھا۔ پھر فرمایا : اے عیاش ! وادی سے مجھے کنکریاں پکڑا دے! کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے خچر کو کلام کی سمجھ دی‘ پس وہ پست ہوا یہاں تک کہ قریب تھا کہ اس کا پیٹ زمین سے لگ جائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنکریاں پکڑیں‘ پس ان کو دم کر کے ان کے منہ پر مارا اور فرمایا: ’’ شاھت الوجوہ، حم لا ینصرون‘‘ ۔
أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ← صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ ← قتيبة ين سعيد ← عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7207
