Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ باب 1 · حديث 7147

7131 - حدثنا موسى بن إسحاق و الحسين بن إسحاق التستري و عبدان بن أحمد قالوا ثنا شيبان بن فروخ ثنا سويد أبو حاتم عن قتادة عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن شداد بن أوس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر برجل يحتجم في رمضان فقال : أفطر الحاجم والمحجوم

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک راستے پر چل رہا تھا اس حال میں کہ آپ میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے‘ وہ رمضان میں پچھنا لگوا رہا تھا‘ آپ نے فرمایا: پچھنا لگانے اور لگوانے والا افطار کریں۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← قَتَادَةَ ← سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← موسى بن إسحاق و الحسين بن إسحاق التستري و عبدان بن أحمد

Hadith 7147

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ باب 1 · حديث 7148

7132 - حد ثنا فضيل بن محمد المطي ثنا أبو نعيم ثنا أبو قحذم ( ح ) وحد ثنا محمد بن يعقوب الخطيب ثنا حفص بن عمرو الربالي ثنا عبيد الله بن عبد المجيد ثنا أبوقحذم عن أبي قلابة ثنا أبوالأشعث الصنعاني أن شداد بن أوس حدثه قال Y كنت أمشي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في بعض طرق المدينة وهوآخذ بيدي إذ أبصر رجلا يحتجم في رمضان فقال : أفطر الحاجم والمحجوم

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں لایعنی (اشعار جیسے گانے وغیرہ) عشاء کے بعد پڑھے جائیں تو اللہ عزوجل اس رات اس کی نماز قبول نہیں کرے گا۔

أبوالأشعث الصنعاني ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أبوقحذم ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ← حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ، ← [وَحَدَّ] ← أبو قحذم ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَطِّيُّ، ← حَدَّ

Hadith 7148

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ باب 2 · حديث 7149

7133 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا قزعة بن سويد عن أبي عاصم عن أبي الأشعث عن شداد بن أوس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرض بيت شعر بعد العشاء لم يقبل الله له تلك الليلة صلاة

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور جلدی جلدی نماز جمعہ کے لیے آیا‘ پھر امام کے قریب بیٹھا‘ خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اس کے ہر قدم اٹھانے کے بدلے ایک سال کے روزے اور قیام کرنے کا ثواب ملے گا۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي عَاصِمٍ ← قزعة بن سويد ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Hadith 7149

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ باب 2 · حديث 7150

7134 - حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرق الحمصي ثنا عبد الوهاب بن الضحاك ثنا إسماعيل بن عياش عن راشد بن داود عن أبي الاشعث عن شداد بن أوس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من غسل واغتسل يوم الجمعة وغدا وابتكر ثم جلس قريبا من الإمام فاستمع وأنصت كان له بكل خطوة خطاها عمل سنة صيامها وقيامها

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے شداد بن اوس! جب تو لوگوں کو دیکھے کہ لوگ سونا چاندی اکٹھا کر رہے ہیں تو ان کلمات کو پڑھ کر نیکیوں کا ذخیرہ کر ’’اللّٰھم انی اسألک الٰی آخرہٖ ‘‘ ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← رَاشِدُ بْنُ دَاوُدَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ،

Hadith 7150

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ باب 2 · حديث 7151

7135 - حدثنا جعفر بن محمد الفريابي و سليمان بن أيوب بن حذلم الدمشقي قالا ثنا سليمان بن عبد الرحمن ثنا إسماعيل بن عياش حدثني محمد بن يزيد الرحبي عن أبي الأشعث الصنعاني عن شداد بن أوس قال Y قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا شداد بن أوس إذا رأيت الناس قد اكتنزوا الذهب والفضة فاكنز هؤلاء الكلمات اللهم إني أسألك الثبات في الأمر والعزيمة على الرشد وأسألك موجبات رحمتك وعزائم مغفرتك وأسألك شكر نعمتك وحسن عبادتك وأسألك قلبا سليما ولسانا صادقا وأسألك خير ما تعلم وأعوذ بك من شر ما تعلم واستغفرك لما تعلم إنك أنت علام الغيوب

حضرت ابواشعث فرماتے ہیں کہ وہ مسجد دمشق کی طرف جلدی جلدی گئے‘ حضرت شداد بن اوس انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملے اور صنابحی ان کے ساتھ تھا‘ میں نے عرض کی: آپ دونوں کہاں کا ارادہ رکھتے ہیں؟ اللہ آپ دونوں پر رحم کرے! دونوں نے فرمایا: ہمارا ایک بھائی بیمار ہے‘ ہم اس کی عیادت کرنے جا رہے ہیں۔ میں ان دونوں کے ساتھ چلا دونوں اس بیمار کے پاس آئے تو دونوں نے اسے کہا: تم نے صبح کیسی کی؟ اس نے کہا۔ میں نے اللہ کی نعمت اور فضل سے کی ہے۔ حضرت شداد نے اسے کہا: تمہیں خوشخبری ہوا تمہارے گناہوں کے لیے کفارہ ہے‘ تمہارے گناہ معاف ہو رہے ہیں‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جب میں اپنے مؤمن بندوں میں سے کسی بندے کو آزماتا ہوں اور وہ میری آزمائش کے دوران بھی میری حمد کرتا ہے تو اس کے لیٹنے سے گناہ اس طرح معاف ہوتے ہیں جس طرح آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہے‘ اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں نے اپنے بندہ کو قید کیا اور آزمایا۔ اس کے لیے وہی ثواب لکھو جو عمل یہ حالت تندرستی میں کرتا تھا۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الرَّحَبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← جعفر بن محمد الفريابي و سليمان بن أيوب بن حذلم الدمشقي

Hadith 7151

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ باب 2 · حديث 7152

7136 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي ثنا هشام بن عمار ( ح ) وحدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبي ( ح ) وحدثنا موسى بن هارون ثنا الهيثم بن خارجة قالوا ثنا إسماعيل بن عياش عن راشد بن داود الصنعاني عن أبي الاشعث Y أنه راح إلى مسجد دمشق وهجر بالرواح فلقي شداد بن أوس الأنصاري و الصنابحي معه قلت : أين تريدان يرحمكما الله ؟ قالا : نريد ههنا إلى أخ لنا مريض نعوده فانطلقت معهما حتى دخلا على ذلك ؟ فقالا له : كيف أصبحت ؟ قال : أصبحت بنعمة وفضل فقال له شداد : أبشر بكفارات السيئات وحط الخطايا إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله وجل يقول : إذا ابتليت عبدا من عبادي مؤمنا فحمدني على ما ابتليتة فإنه من مضجعه كيوم ولدته أمة من الخطايا ويقول الرب عز و جل : أنا قيدت عبدي هذا وابتليته فأجروا له ما كنتتم تجرون له قبل ذلك وهو صحيح

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک جوتا پہن کر نہ چلے۔

أَبِي الأَشْعَثِ ← رَاشِدُ بْنُ دَاوُدَ الصَّنْعَانِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ

Hadith 7152

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ باب 2 · حديث 7153

7137 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا إسماعيل بن أبي الحارث ثنا شبابة بن سوار ثنا خارجة بن مصعب عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن شداد بن أوس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا انقطع شسع أحدكم فلا يمشي في نعل واحدة

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت جب کسی کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کو قتل نہ کیا جائے یہاں تک کہ وہ حمل جن دے اگر وہ حاملہ ہو اور حتٰی کہ بچہ کومکمل کفالت کر لے‘ اگر زانیہ ہوتو اسے رجم نہ کیا جائے یہاں تک کہ بچہ جن کر اس کی مکمل کفالت کر لے۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 7153

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ عبد الرحمن بن غنم الأشعري عن شداد بن أوس · حديث 7154

7138 - حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح ثنا عبد الله بن صالح حدثني ابن لهيعة عن ابن أنعم عن عبادة بن نسي عن عبد الرحمن بن غنم ثنا معاذ بن جبل و أبوعبيدة بن الجراح عن عبد الله بن الصامت و شداد بن أوس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : المرأة إذا قتلت عمدا لا تقتل حتى تضع ما في بطنها إن كانت حاملا وحتى تكفل ولدها وإن زنت لا ترجم حتى تضع ما في بطنها وحتى تكفل ولدها

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے دکھاوے کے لیے نماز پڑھی تو اس نے شرک کیا‘ جس نے دکھاوے کے لیے روزہ رکھا تو اس نے شرک کیا‘ جس نے دکھاوے کے لیے صدقہ کیا تو اس نے شرک کیا۔

عبد الله بن الصامت و شداد بن أوس ← معاذ بن جبل و أبوعبيدة بن الجراح ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← ابْنُ أَنْعَمَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ،

Hadith 7154

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ عبد الرحمن بن غنم الأشعري عن شداد بن أوس · حديث 7155

7139 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى ( ح ) وحدثنا أبو خليفة ثنا أبو الوليد الطيالسي ( ح ) وحدثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي قالوا ثنا عبد الحميد بن بهرام عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم عن شداد بن أوس قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من صلى يرائي فقد أشرك ومن صام يرائي فقد أشرك ومن تصدق يرائي فقد أشرك

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ضرور بضرور پہلی امتوں کے طریقوں پر چلو گے‘ جو تم سے پہلے اہل کتاب گزرے ہیں‘ ان کے قدم پر قدم رکھو گے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Hadith 7155

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ عبد الرحمن بن غنم الأشعري عن شداد بن أوس · حديث 7156

7140 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى ( ح ) وحدثنا أبو خليفة ثنا أبو الوليد الطيالسي ( ح ) وحدثنا أبومسلم الكشي ثنا أبو عبد الله بن رجاء قالوا ثنا عبد الحميد بن بهرام عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم عن شداد بن أوس حدثه Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ليحملن شرار هذه الأمة على سنن الذين خلوا من قبلهم من أهل الكتاب حذو القذة بالقذة

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:عقل مند وہ ہے جواپنی جان کا محاسبہ کرے اور مرنے کے بعد کے لیے عمل کرے اور عاجز وہ ہے جو اپنی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ عزوجل پر تمنا کرے۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ← أبو عبد الله بن رجاء ← وحدثنا أبومسلم الكشي ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Hadith 7156

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ عبد الرحمن بن غنم الأشعري عن شداد بن أوس · حديث 7157

7141 - حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد السلام البيروتي مكحول ثنا إبراهيم بن عمرو بن بكر السكسكي قال سمعت أبي يحدث عن ثور بن يزيد و غالب بن عبد الله عن مكحول عن ابن غنم عن شداد بن أوس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الكيس من دان نفسه وعمل لما بعد الموت والعاجز من اتبع نفسه هواها وتمنى على الله

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! جس رات آپ کو سیر کروائی گئی تو کس طرح سیر کروائی گئی؟ ( یعنی معراج کی رات ) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے رات کے وقت صحابہ کو مکہ میں نماز عشاء پڑھائی تو میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے‘ گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا سفید سواری کا جانور لے کر اور کہا: سوار ہو جایئے ! تو مجھ پر سوار ہونا دشوار ہوا تو انہوں نے اس کو کان سے پکڑا‘ پھر مجھے اس پر سوار کیا‘ پس وہ مجھے لے کر چل دیا‘ اس کا قدم حد نگاہ تک پڑتا تھا حتٰی کہ ہم ایک کھجور والی جگہ پہنچے تو جبریل نے عرض کیا: نیچے تشریف لائیے ! پھر کہا: نماز ادا کیجئے ! ( نفل ادا کیجئے ) تو میں نے ادا کیے‘ پھر ہم سوار ہوئے‘ تو جبریل نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز ادا کی ؟ میں نے کہا: اللہ بہتر جانتا ہے! تو انہوں نے بتایا: آپ نے یثرب میں نماز ادا کی‘ آپ نے طیبہ میں نماز ادا کی۔تو وہ ہمیں لے کر چل دیا‘ اس کا قدم حد نگاہ تک پڑتا تھا یہاں تک کہ ہم ایک سفید زمین میں پہنچے تو جبریل نے کہا: نیچے تشریف لائیے ! پھر کہا: نماز ادا کیجئے ! تو میں نے نماز ادا کی‘ پھر ہم سوار ہوئے تو جبریل نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز ادا کی ؟ تو میں نے کہا: اللہ بہتر جانتا ہے! تو انہوں نے بتایا کہ آپ نے مدین میں نماز ادا کی‘ شپ نے سجرہ موسیٰ کے پاس نماز ادا کی۔ پھر وہ سواری ہمیں لے کر چلی‘ اس کا قدم حد نگاہ تک پڑتا تھا‘ ہم ایک ایسی جگہ پہنچے جس کے محل ہمارے لیے ظاہر ہوئے تو جبریل نے عرض کیا: آپ اتریئے ! میں اترا‘ پھر اس نے کہا: نماز ادا کیجئے! میں نے نماز ادا کی تو جبریل نے پوچھا: آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز ادا کی؟ تو میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں؟ تو انہوں نے بتایا: آپ نے بیت اللحم جہاں حضرت عیسیٰ مسیح بن مریم پیدا ہوئے‘ نماز ادا کی۔ پھر مجھے لے کر چلے حتٰی کہ ہم شہر کے داہنے دروازے سے شہر میں داخل ہوئے‘ پس وہ مسجد میں قبلہ رخ آئے اور اپنی سواری کو باندھا اور ہم مسجد میں اس دروازے سے داخل ہوئے جس میں سورج جھکا ہوا تھا‘ میں نے مسجد میں جہاں اللہ نے چاہا نماز ادا کی اور مجھے بڑی شدت کی پیاس لگی تو میرے پاس دو برتن لائے گئے‘ ایک میں دودھ اور دوسرے میں شہد تھا‘ میرے پاس دونوں اکٹھے بھیجے گئے۔ میں نے دونوں کو برابر کیا‘ پھر اللہ تعالیٰ نے میری رہنمائی فرمائی تو میں نے دودھ لیا‘ اسے پیا یہاں تک کہ میری پیشانی سے جالگا اور میرے سامنے ایک بزرگ تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ وہ بولا : تمہارے ساتھی نے فطرت کو اختیار کیا‘ بے شک ان کی رہنمائی کی گئی‘ پھر مجھے لے کر چلے حتٰی کہ ہم شہر میں موجود ایک وادی میں آ گئے‘ اچانک میری نگاہ پڑی تو جہنم سے پردے ہٹا دیئے گئے تھے برتنوں کی مانند۔ پس ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اسے کیسے پایا۔ کہا: گرم پانی کے چشمے کی طرح۔ پھر مجھے وہاں سے ہٹایا تو ہم قریش کے ایک قافلہ پر فلاں فلاں جگہ کھڑے ہوئے مع اپنے قافلے کے ساتھ الگ تھے۔فلاں نے ان کو جمع کیا تو میں نے ان پر سلام پیش کیا تو ان میں سے کچھ نے کہا: یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز ہے۔ پھر میں اپنے صحابہ کے پاس صبح سے پہلے کہ آ گیا‘ پس میرے پاس حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ آج رات کہاں تشریف لے گئے تھے؟ میں نے آپ کو آپ کی جگہ تلاش کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ میں آج رات بیت المقدس کی مسجد میں تشریف لے گیا تھا‘ تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! وہ تو ایک ماہ کی مسافت پر ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اس کی نشانیاں بتائیں تو میرے لیے اس کا دیکھایا جانا کھول دیا گیا‘ گویا کہ میں اسے دیکھ رہا تھا‘ وہ مجھ سے کچھ نہ پوچھتے تھے مگر یہ کہ میں انہیں اس کا جواب دیتا تھا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں‘ اور مشرکوں نے کہا: ذرا دیکھو ابن ابی کبشہ یہ گمان کرتا ہے کہ وہ آج رات بیت المقدس گیا تھا‘ تو فرمایا کہ جو کچھ میں کہتا ہوں اس کی نشانی یہ ہے کہ میں فلاں جگہ تمہارے اونٹ کے پاس سے گزرا تھا‘ ان کے آگے ایک مٹیالے رنگ کا اونٹ تھا اس کے اوپر۔ پس جب وہ دن تھا تو قوم والے سر اٹھا اٹھا کر دیکھتے تھے حتٰی کہ وقت آدھے دن کے قریب ہو گیا‘ حتٰی کہ قوم آگے ہوئی کہ ( وہ دیکھے) وہ اونٹ ان کے پاس کب آتا ہے‘ جس کے بارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا ( آخر مغرب کے ساتھ وہ آ گیا جیسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا)۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← ابْنِ غَنْمٍ ← مَكْحُولٌ ← ثور بن يزيد و غالب بن عبد الله ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ الْبَيْرُوتِيُّ، مَكْحُولٌ

Hadith 7157

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ جبير بن نفير عن شداد بن أوس · حديث 7158

7142 - حدثنا عمرو بن إسحاق بن إبراهيم بن زبريق الحمصي ثنا أبي ( ح ) وحدثنا عمارة بن وثيمة المصري ثنا إسحاق بن إبراهيم بن زبريق ثنا عمرو بن الحارث ثنا عبد الله بن سالم عن الزبيدي ثنا الوليد بن عبد الرحمن أن جبير بن نفير قال ثنا شداد بن أوس قال Y قلت يارسول الله كيف أسري بك ليلة أسري بك ؟ قال : صليت لأصحابي صلاة العتمة بمكة معتما فأتاني جبريل صلى الله عليه و سلم بدابة بيضاء فوق الحمار و دون البغل فقال : اركب فاستصعب علي فدارها بأذنها ثم حملني عليها فانطلقت تهوي بنا يقع حافرها حيث أدرك طرفها حتى بلغنا أرضا ذات نخل فقال : انزل فنزلت ثم قال : صل فصليت ثم ركبنا فقال أتدري أين صليت ؟ قلت : الله أعلم قال : صليت بيثرب صليت بطيبة ثم انطلقت تهوي بنا يقع حافرها حيث أدرك طرفها حتى بلغنا أرضا بيضاء فقال : انزل فنزلت ثم قال : صل فصليت ثم ركبنا فقال : تدري أين صليت ؟ قلت الله أعلم قال : صليت بمدين صليت عند شجرة موسى ثم انطلقت تهوي بنا يقع حافرها حيث أدرك طرفها ثم بلغنا أرضا بدت لنا قصورها فقال : انزل فنزلت ثم قال : صل فصليت فقال : أتدري أين صليت ؟ فقلت : الله ورسوله أعلم قال : صليت ببيت لحم حيث ولد عيسى عليه السلام المسيح بن مريم ثم انطلق بي حتى دخلنا المدينة من بابها اليماني فأتى قبلة المسجد فربط دابتة ودخلنا المسجد من باب فيه تميل الشمس فصليت من المسجد حيث شاء الله وأخذني من العطش أشد ما أخد بي فأتيت بإناءين أحدهما لبن وفى الآخر عسل أرسل إلي بهما جميعا فعدلت بينهما ثم هداني الله عز و جل فأخذت اللبن فشربت حتى قرعت ( ا ) به جبيني وبين يدي شيخ متكيء على مثراة له فقال : أخذ صاحبك الفطرة إنه ليهدى ثم انطلق بي حتى أتينا الوادي الذي في المدينة فإذا جهنم تنكشف عن مثل الزرابي فقلنا : يا رسول الله كيف وجدتها ؟ فقال : مثل الحمة السخنة ثم انصرف بي فمررنا بعير لقريش بمكان كذا وكذا قد أخلوا بعيرا لهم قد جمعهم فلان فسلمت عليهم فقال بعضهم : هذا صوت محمد صلى الله عليه و سلم ثم أتيت أصحابي قبل الصبح بمكة فأتاني أبو بكر رضي الله عنه فقال : يارسول الله أين كنت الليلة ؟ قد التمستك في مكانك فقال : أعلمت أني أتيت مسجد بيت المقدس اللية فقال : يارسول الله إنه مسيرة شهر فصفه لي ففتح لي مرآة كأني أتظر إليه لا يسألوني عن شيء إلا أنبأتهم عنه فقال أبو بكر رضي الله عنه : أشهد أنك رسول الله وقال المشركون : انظروا إلى ابن أبي كبشة يزعم أنه أتى بيت المقدس الليلة فقال : إن من آية ما أقول لكم أني مررت بعير لكم بمكان كذا وكذا يقدمهم جمل آدم عليه مسح أسود وغرارتان سودان فلما كان ذلك اليوم أشرف القوم ينظرون حتى كان قريب من نصف النهار حتى أقبل القوم يقدمهم ذلك الجمل الذي وصفه رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عقل مند وہ ہے جو اپنی جان کا محاسبہ کرے اور مرنے کے بعد کے لیے عمل کرے اور عاجز وہ ہے جو اپنی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ عزوجل پر تمنا کرے۔

الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إسحاق بن إبراهيم بن زبريق ← عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ الْمِصْرِيُّ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ،

Hadith 7158

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter