المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ 693 - شرحبيل الجعفي · حديث 7231
7215 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا الفضل بن سهل الأعرج ثنا يونس بن محمد ثنا حماد بن يزيد حدثنى مخلد بن عقبة بن شرحبيل عن جده عبد الرحمن عن أبيه قال Y أتيت رسول الله وبكفي سلعة فقلت : يا نبي الله هذه السلعة قد آذتني تحول بيني وبين قائمة السيف أن أقبض عليه وعن عنان الدابة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ادن مني فدنوت منه فقال : افتح يدك ففتحتها ثم قال : اقبضها فقبضتها قال : ادن مني فدنوت منه قال : افتحها ففتحتها فنفث في كفي ثم وضع يده على السلعة فما زال يطحنها بكفه حتى رفع عنها وما أرى أثرها
حضرت ذی الجوشن قبیلہ ضباب کے ایک آدمی سے رو ایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ بدر کی جنگ سے فارغ ہونے کے بعد اپنے گھوڑے کے بچے کو لے کر جو میرے پاس تھا‘ اس کو قر حاء کہا جاتا تھا‘ میں نے عرض کی: اے محمد ! میں اپنے گھوڑے کے بیٹے قرحاء کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ہوں‘ تاکہ آپ اس کو لے لیں۔ آپ نے فرمایا: مجھے اس کی ابھی ضرورت نہیں ہے‘ اگر تو چاہتا ہے کہ تیرے متعلق بدر کی زر ہوں کا فیصلہ کروں تو وہ کرتا ہوں‘ میں نے عرض کی: میں آج اس کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کروانا چاہتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے‘ پھر فرمایا : اے ذی جوشن ! کیا تو اسلام نہیں لائے گا۔ پس اس معاملے میں سب سے پہلا ہو گا ؟ میں نے کہا: جی نہیں ! فرمایا: کیوں؟ میں نے کہا: میں نے آپ کی قوم کو دیکھا ہے۔ آپ نے ان کو خوب تھکایہ ہے۔ حضرت ابو بکر بن ابو شیبہ نے اپنی روایت میں کہ کہا’’لعبوا‘‘ ( کھیلے ہیں ) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بدر کے مقام پر ان کی قتل گاہوں کے بارے تمہیں کیسے خبر ملی ہے؟ میں نے کہا: مجھے خبر مل گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے ساتھ کوئی وعدہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں کہ آپ کعبہ پر غالب آ کر اسے آباد کریں۔ فرمایا ممکن ہے اگر تو زندہ رہا تو اسے دیکھے گا۔فرمایا: اے بلال! اس آ دمی کا تھیلا پکڑ کر اس میں عجوہ کھجوریں بھر دے۔ پس جب میں واپس ہوا تو فرمایا: یہ آ دمی بنو عامر کے بہترین شاہسواروں سے ہے۔ راوی کا بیان ہے قسم بخدا! فور کے مقام پر میں اپنے گھر والوں کے ساتھ تھا‘ جب ایک اونٹ سوار آیا‘ میں نے کہا: کہاں سے آیا ہے؟ کہا: مکہ سے۔ میں نے کہا: لوگوں نے کیا کیا؟ اس نے کہا: قسم ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ پر غالب آ گئے ہیں اور اسے ( سجدوں سے) آباد کر دیا۔ میں نے کہا: ( کاش ) میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا‘ قسم بخدا! ( کتنا ہی اچھا تھا ) اس دن اگر میں مسلمان ہو گیا ہوتا‘ پھر میں نے اس سوار سے حیرہ کے بارے سوال کیا‘ جسے عبور کر کے وہ میرے پاس آیا۔ حضرت ابو مسلم کہتے ہیں : مسدد نے کہا: مجھے ابن مبارک سے حدیث پہنچی ہے‘ فرماتے ہیں: ان کا اصل نام شرحبیل ہے‘ ابن کوذی جوشن کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا سینہ ابھرا ہوا تھا۔
أَبِيهِ ← جده عبد الرحمن ← مَخْلَدِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7231
