المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ من اسمه شداد 683 - شداد بن الهاد الليثي وهو شداد بن أسامة بن الهاد و اسم الهاد عمرو بن عبدالله بن جابر بن عتوارة بن عامر بن ليث بن بكر بن عبد مناة بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر · حديث 7123
7107 - حدثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا موسى بن إسماعيل ثنا جرير بن حازم قال سمعت محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب يحدث عن عبد الله بن شداد بن الهاد عن أبيه قال Y خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم في إحدى صلاتي النهار الظهر أو العصر وهو حامل الحسن أو الحسين فتقدم فوضعه عند قدمه اليمنى فسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم سجدة فأطالها فرفعت رأسي من بين الناس فإذا رسول الله صلى الله عليه و سلم ساجد وإذا الغلام راكب ظهره فعدت فسجدت فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ناس : يا رسول الله صلى الله عليه و سلم لقد سجدت في صلاتك هذه سجدة ما كنت تسجدها أشيئا أمرت به أوكان يوحى إليك ؟ قال : كل لم يكن ولكن ابني ارتحلني فكرهت أن أعجله حتى يقضي حاجته
حضرت شداد بن ھاد رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ دیہات سے ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آ کر ایمان لایا اور اتباع کی‘ عرض کرنے لگا: میں آپ کے ساتھ ہجرت کروں گا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو اس کی وصیت کی‘ جب خیبر کا جہاد تھا یا حنین کا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مال غنیمت میں کوئی شی ملی‘ آپ نے تقسیم کی‘ اور اس کا حصہ نکالا‘ آپ نے اس کے ساتھیوں کو وہ حصہ دے دیا جو اس کیلئے نکالا تھا جبکہ وہ اونٹ چرا رہا تھا‘ پس جب وہ آیا تو انہوں نے اس کا حصہ اس کے حوالے کر دیا۔ اس نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ساتھیوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرا حصہ نکالا ہے۔ پس اس نے لے لیا اور لے کر سیدھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا‘ عرض کی : اے محمد! یہ کیا ہے؟ فرمایا: یہ وہ حصہ ہے جو میں نے تیرے لیے نکالا ہے‘ عرض کی: میں نے اس کی شرط یا لالچ پر تو آپ کی اتباع قبول نہیں کی تھی بلکہ میں نے تو آپ کی پیروی اس لیے کی تھی کہ یہاں پر تیر لگے اور اشارہ اپنے حلق کی طرف کیا اور میں درجہ شہادت پا جاؤں اور جنت میں داخل ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو نے اللہ سے سچ بولا ہے تو اللہ تیرا سچ قبول کرے گا۔ پس صحابہ کرام کچھ دیر ہی ٹھہرے پھر اٹھ کر دشمن سے جہاد کرنے لگے۔ پس اسے اٹھا کر لایا گیا جبکہ جس جگہ کا اس نے ارادہ کیا تھا‘ اسی جگہ تیر لگ چکا تھا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ وہی ہے؟ کیا یہ وہی ہے؟ جواب ملا: جی ہاں! فرمایا: اس نے اپنے رب سے سچ بولا تھا تو اللہ نے اس کو قبول کر لیا‘ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے جبہ کو مبارک میں کفن دیا پھر اس کو آگے رکھ کر اس پر نماز پڑھائی۔اس پر نماز پڑھتے وقت جو کلمات ظاہر ہوئے ( وہ یہ تھے:) اے اللہ ! یہ تیرا بندہ ہے‘ تیری راہ میں جہاد کرتے ہوئے نکلے‘ پس شہید کر دیا گیا۔ میں اس پر گواہ ہوں۔
أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7123
