Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الواو ‹ سماك بن حرب عن علقمة بن وائل · حديث 17862

13 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا يحيى بن معين قال ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبة عن سماك بن حرب عن علقمة بن وائل عن أبيه قال Y أقطعني رسول الله صلى الله عليه و سلم أرضا فأرسل معي معاوية وقال : أعلمها إياه وأعطه إياه قال لي معاوية : أردفني خلفك قلت : لا تكون من أرادف الملوك قال : أعطني نعلك انتعل بها قلت : انتعل بظل الناقة فلما استخلف معاوية أتيته فأقعدني معه على السرير ثم درسني الحديث قال سماك : قال وددت أني كنت حملته بين يدي

حضرت وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے زمین عطا کی ‘میرے ساتھ حضرت معاویہ کو بھیجا اور فرمایا: اسے وہ زمین بتا دے اور اسے عطا کر دے۔ حضرت معاویہ نے اس سے کہا میرے پیچھے سوار ہو جاؤ۔ میں نے کہا: آپ بادشاہوں کے پیچھے سے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا: مجھے اپنی جوتی دو تا کہ میں پہنوں۔ میں نے کہا: اونٹنی کے سایہ میں پہنو۔ پس جب حضرت معاویہ خلیفہ بنے تو میں ان کے پاس آیا ‘پس انہوں نے مجھے اپنے ساتھ تخت ( صوفہ یا چار پائی ) پر بٹھا یا ‘پھر مجھے حدیث یاد دلائی۔ حضرت سماک فرماتے ہیں راوی کا بیان ہے: میں نے خواہش کی کہ آپ اسے میرے سامنے سوار کر تے۔

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17862

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الواو ‹ سماك بن حرب عن علقمة بن وائل · حديث 17863

14 - حدثنا المقدام بن داود ثنا أسد بن موسى ( ح ) وحدثنا عمر بن حفص السدوسي و محمد بن النضر الأزدي قالا ثنا عاصم بن علي قالا ثنا شعبة بن الحجاج أن سماك بن حرب أخبرني عن علقمة بن وائل عن أبيه قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لاتقولوا للعنب الكرم ولكن قولوا الحبلة أو الحيل

حضرت علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ‘وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انگور کو’’ کرم‘‘ نہ بلکہ اسے حبلہ یا حبل کہو۔

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← شعبة بن الحجاج أن سماك بن حرب ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← وحدثنا عمر بن حفص السدوسي و محمد بن النضر الأزدي ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17863

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الواو ‹ سماك بن حرب عن علقمة بن وائل · حديث 17864

15 - حدثنا أبو مسلم الكشي و يوسف القاضي قالا ثنا : عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن سماك عن علقمة بن وائل عن أبيه قال Y شهدت النبي صلى الله عليه و سلم وسأله سويد بن طارق عن الخمر فنهاه فقال : نتداوى بها ويجعل في الدواء فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ليست بدواء ولكنها داء

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا ‘حضرت سوید بن طارق نے شراب کے متعلق پوچھا ‘آپ نے منع کیا ‘عرض کی ہم دواء کے طور پر پی سکتے ہیں؟ اور دوا، میں ڈال سکتے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :یہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔

نتداوى بها ويجعل في الدواء ← الخمر فنهاه ← شهدت النبي صلى الله عليه و سلم وسأله سويد بن طارق ← أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أبو مسلم الكشي و يوسف القاضي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17864

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الواو ‹ سماك بن حرب عن علقمة بن وائل · حديث 17865

16 - حدثنا الحسين بن سحاق النسري ثنا يحيى الخماني ثنا شريك عن سماك بن حرب عن علقمة بن وائل عن أبيه قال Y قدم يزيد بن سلمة على النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله أن لنا كروما كثيرة فهلا نعصرها فنبيعها ونستشفي بها ؟ قال : لا : هي داء

حضرت علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ‘وہ فرماتے ہیں: حضرت یزید بن سلمہ رضی اللہ عنہ ‘حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ‘عرض کی :یارسول اللہ ! ہمارے ہاں انگور بہت زیادہ ہیں ‘کیا ہم ان کو نچوڑ سکتے ہیں تا کہ ہم اس کو فروخت کر میں اور ان سے شفاء حاصل کر یں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :نہیں ! وہ بیماری ہے۔

قدم يزيد بن سلمة على النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شَرِيکٍ ← يحيى الخماني ← الحسين بن سحاق النسري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17865

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الواو ‹ سماك بن حرب عن علقمة بن وائل · حديث 17866

17 - حدثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي ( ح ) وحدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) وحدثنا عبد الرحمن بن سالم الرازي ثنا سهل بن عثمان ( ح ) وحدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد قالوا ثنا أبو الأخوص ثنا سماك بن حرب عن علقمة بن وائل بن حجر عن أبيه Y قال : جاء رجل من حضرموت ورجل من كندة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال الحضرمي يا رسول الله هذا قد غلبني على أرض كانت لأبي فقال الكندي : هي أرضي في يدي أزرعها ليس له فيها حق فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألك بينة ؟ قال : لا قال : فلك يمينه قال : يا رسول الله أنه رجل فاجر لايبالي ما حلف عليه ليس يتورع من شيء فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ليس لك منه إلا ذلك فانطلق ليحلف فلما أدبر قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما أنه إن حلف على ماله ليأكله ظلما ليلقين الله وهو عنه معرض

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرموت سے ایک آدمی آیا اور ایک آدمی بنو کندہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ‘حضرمی نے عرض کی :اے اللہ کے رسول! اس آدمی نے میرے باپ کی زمین پر قبضہ کر لیا۔ کندی نے جواب دیا: وہ زمین میرے قبضہ میں ہے میں اسے کاشت کرتا ہوں ‘اس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کیا تیرے پاس گواہ ہیں ؟ عرض کی :گواہ تو نہیں ہیں؟ فرمایا۔ تجھے قسم دینا ہو گی۔ اس نے عرض کی: اللہ کے رسول! یہ فاسق و فاجر آدمی ہے ‘اسے پرواہ نہیں ہے کہ وہ کسی چیز پر قسم اُٹھا رہا ہے ‘یہ کسی چیز سے پر میز نہیں کرتا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے تیرے لئے اب یہی طریقہ ہے۔ پس وہ حلف اُٹھا نے کیلئے چلا ‘جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہر حال اگر اس نے اس کے مال کو ظلما ًکھانے کیلئے قسم اُٹھائی تو یہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس سے اعراض کرنے والا ہو گا۔

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أبو الأخوص ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← عبد الرحمن بن سالم الرازي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17866

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الواو ‹ سماك بن حرب عن علقمة بن وائل · حديث 17867

18 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا عمرو بن حماد بن طلحة القناد ثنا أسباط بن نصر عن سماك بن حرب عن علقمة بن وائل بن حجر ( عن أبيه ) Y أن امرأة وقع عليها رجل في سواد الصبح وهي تعمد إلى المسجد يغصبها على نفسها فاستعانت برجل مر عليها وفر صاحبها ثم مر عليها قوم ذو عدة فاستعانت بهم فأدركوا الذي استعانت به وسبقهم الآخر فأتوا به النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرته أنه وقع عليها وأخبره القوم أنهم أدركوه يشتد فقال : إنما كنت أعينها على صاحبها فأدركوني هؤلاء فأخدوني قالت كذب هو الذي وقع علي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اذهبوا به فارجموه فقام رجل من الناس فقال : لا ترجموه ولأنا الذي فعلت بها الفعل فاعترف فاجتمع ثلاثة عند رسول الله صلى الله عليه و سلم الذي وقع عليها والذي أعانها والمرأة فقال : أما أنت فقد غفر لك وقال للذي أعانها قولا حسنا فقال عمر : ارحم الذي اعترف بالزنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ألا أنه قد تاب إلى الله توبة لو تابعها أهل يثرب لقبل منهم

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت پر ایک آدمی صبح کے قریب وقت میں واقع ہو گیا ‘وہ مسجد کی طرف جانے کا ارادہ کر رہی تھی ‘اس آدمی نے اس عورت کی جان کو پکڑا تو عورت نے قریب سے گزرنے والے ایک آدمی سے مدد مانگی ‘اتنے میں وہ آدمی بھاگ گیا‘پھر اس عورت کے پاس سے ایک گروہ گزرا تو اس نے ان سے مدد طلب کی۔ پس انہوں نے اس آدمی کو پکڑ لیا‘جس سے اس نے پہلے مدد مانگی تھی۔ دوسرا ان کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ پس وہ اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لائے تو اس عورت نے بتایا کہ اس آدمی نے اس سے زنا کیا ہے جبکہ اس گروہ نے بتایا کہ انہوں نے اسے سختی کرتے ہوئے پایا ‘اس آدمی نے خود بتا یا کہ وہ اس عورت کے ساتھی کے خلاف عورت کی مدد کر رہا تھا تو اس گروہ نے اسے پکڑ لیا۔ عورت نے کہا: اس نے جھوٹ بولا ‘یہ تو وہی ہے جس نے مجھ سے زنا کیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جا کر رجم کرو۔ تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا، اسے رجم نہ کرو۔ میں وہ آدمی ہوں جس نے اس عورت سے بُرا کام کیا ہے ‘پس اس نے اعتراف گناہ کر لیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تین اکٹھے ہو گئے ‘ایک وہ جس نے اس عورت سے سنا کیا تھا ‘دوسرا وہ جس نے اس عورت کی ‘مدد کی تیسری عورت۔ فرمایا: جہاں تک تیرا تعلق ہے تو تیری تو بخشش ہو گئی اور جس نے عورت کی مدد کی تھی ‘اس سے اچھی بات فرمائی۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رجم اسے کرو ‘جس نے زنا کا اعتراف کیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :خبر دار!اس نے اللہ کی بارگاہ میں ایسی تو بہ کی ہے کہ اگر ایسی تو یہ سارے مدینہ والے کریں تو ان سے قبول کر لی جائے۔

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17867

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الواو ‹ سماك بن حرب عن علقمة بن وائل · حديث 17868

19 - حدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم ثنا محمد بن يوسف الفريابي أنا إسرائيل عن سماك بن حرب عن علقمة بن وائل ( عن أبيه ) Y أن امرأة خرجت على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم تريد الصلاة فلقيها رجل فقضى حاجته منها فصاحت فانطلق فمر عليها رجل فقالت إن ذك الرجل فعل بي كذا وكذا فانطلقوا فأخذوا الرجل الذي ظنت أنه وقع عليها فقالوا هذا ؟ فقالت : نعم هو هذا : فأتوا به النبي صلى الله عليه و سلم فلما أمر به أن يرجم قام صاحبها الذي وقع عليها قال : أنا صاحبها قال : ادن مني فقد غفر الله لك وقال للرجل الآخر قولا حسنا فقالوا له في الرجل الذي وقع عليها أترجمه فقال : لقد تاب توبة لو تابها أهل المدينة قبل منهم

حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت نکلی ‘جو نماز پڑھنے کا ارادہ رکھتی تھی تو اس سے ایک آدمی ملا جس نے اس سے اپنی ضرورت پوری کی ‘وہ عورت چیخی، شور مچایا تو وہ آدمی بھاگ گیا ‘پس اس عورت کے پاس سے ایک دوسراہ آدمی گزرا تو اس عورت نے کہا :یہ وہ آدمی ہے جس نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے۔ لوگوں نے دوڑ کر اسے پکڑ لیا جس کے بارے اس عورت کا گمان تھا کہ اس نے اس سے زنا کیا ہے۔ لوگوں نے کہا :یہی ہے؟ عورت نے کہا۔ہاں! یہی ہے۔ پس وہ لوگ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لائے ‘پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم فرمایا تو اس عورت کا ساتھی اُٹھا جس نے اصل میں اس سے زنا کیا تھا۔ اس نے کہا: میں نے اس سے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے قریب ہو جاؤ! اللہ نے تجھے بخش دیا ہے اور دوسرے آدمی سے بھی اچھی بات کہی۔ لوگوں نے اس آدمی کے بارے پوچھا جس نے اس عورت سے زنا کیا تھا کہ کیا آپ اس کو رجم کر یں گے؟ فرمایا: اس آدمی نے ایسی تو بہ کی ہے کہ اگر ایسی تو بہ تمام مدینہ والے کر یں تو اللہ ان سے قبول فرما لے۔

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17868

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الواو ‹ سماك بن حرب عن علقمة بن وائل · حديث 17869

20 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا يحيى بن معين ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبة عن سماك بن حرب عن علقمة بن وائل عن أبيه Y قال : سأل سلمة بن يزيد الليثي فقال : يا رسول الله أرأيت أن قامت علينا أمراء يسألونا حقهم ويمنعونا حقنا فما تأمرنا ؟ فأعرض عنه ثم سأله فأعرض عنه ثم سأله الثانية أو الثالثة فقال : اسمعوا وأطيعوا فإنما عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم

حضرت عالقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سلمہ بن یز ید لیشی رضی اللہ عنہ نے عرض کی :یا رسول اللہ! آپ بتائیں کہ اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہوں جو ہم سے اپنا حق مانگیں اور ہما راحق نہ دیں تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیا ‘اس نے پھر آپ سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعراض فرمایا ‘پھر تیسری دفعہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سنو اور اطاعت کرو ‘جوان کے ذمہ ہے وہ ادا کر یں گے ‘جو تمہارے ذمہ ہے وہ تم ادا کر و۔

سأل سلمة بن يزيد الليثي فقال ← أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17869

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الواو ‹ سماك بن حرب عن علقمة بن وائل · حديث 17870

21 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا يحيى الحماني ثنا أبو الأحوص و شريك عن سماك بن حرب عن علقمة بن وائل عن أبيه Y قال : جاء يزيد بن سلمة إلى النبي صلى الله عليه و سلم وهو يخطب فقال : يا رسول الله أرأيت أن كان علينا قوم ياحدونا بالحق ويمنعونا حق : لله فسكت عنه النبي صلى الله عليه و سلم فلم يجبه ثم عاد الثانية فلم يجبه ثم عاد الثالثة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : علية ما حمل وعليكم ما حملتم وأن تطيعوه تهتدوا فاسمعوا له وأطيعوا

حضرت علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سلمہ بن یزید لیشی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یارسول اللہ! آپ بتائیں کہ اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہوں جو ہم سے اپنا حق مانگیں اور ہمیں اللہ کے حق سے روکیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاموشی اختیار کی ‘اس نے پھر آپ سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا ‘پھر تیسری دفعہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :سنو اور اطاعت کرد جوان کے ذمہ ہے وہ ادا کر یں گے ‘جو تمہارے ذمہ ہے وہ تم ادا کرو۔

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أبو الأحوص و شريك ← يحيى الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17870

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الواو ‹ سماك بن حرب عن علقمة بن وائل · حديث 17871

22 - حدثنا أحمد بن يحيى الحلواني ثنا سعيد بن سليمان عن يزيد بن عطاء عن سماك عن علقمة بن وائل عن أبيه قال Y جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إن هذا قتل أخي يا رسول الله قال : كيف قتلته ؟ قال : ضربت رأسه بالفأس ولم أرد قتله قال هل لك مال تؤدي ديته قال : لا فقال النبي صلى الله عليه و سلم للرجل : خذه فخرج به ليقتله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن قتله كان مثله فرجع به حين سمع قوله فقال : هو هذا فائمر به ما شئت فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أرسله

حضرت وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی نے آ کر عرض کی : اے اللہ کے رسول! اس آدمی نے میر ے بھائی کو قتل کیا ہے‘ فرمایا: تُو نے کیسے قتل کیا؟ عرض کی : میں نے اس کے سر پر کلہاڑا مارا لیکن اس کوقتل کرنے کا میرا ارادہ نہ تھا۔ فرمایا: کیا تیرے پاس مال ہے کہ تُو اس کی دیت ادا کرے؟ عرض کی :نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی سے فرمایا: اسے پکڑ لو! پس وہ اسے قتل کر نے کیلئے لے کر نکلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے قاتل کوقتل کیا تو اس کی طرح گناہ گار ہو گا۔ پس جب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول سنا تو اسے لے کر واپس آیا‘عرض کی : اگر یہی بات ہے تو جو چاہیں ‘آپ اس کے حوالے سے حکم دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو۔

إن هذا قتل أخي ← جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكٍ، ← يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17871

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الواو ‹ سماك بن حرب عن علقمة بن وائل · حديث 17872

23 - حدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا محمد بن بشار بندار ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري ثنا أبو يونس التبشيري ثنا سماك بن حرب أن علقمة بن وائل حدثه عن أبيه قال Y بينما أنا عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ دخل رجل يقود رجلا بنسعة حتى أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله هذا قتل أخي قال : أقتلته ؟ قال نعم قال : كيف قتلته ؟ قال : كنا نحتطب من شجرة فسبني فضربته بالفأس على قرته فقتلته فقال : عندك مال تديه عن نفسك ؟ قال : لا والله ما لي مال إلا فأسي وكسائي قال : أترى قومك يدونك ؟ قال : أنا أهون على قومي من ذاك فرمى بنسعته إليه فقال : دونك صاحبك فلما ولى قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن قتله فهو مثله فأتاه آت فقال : ويلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن قتله فهو مثله قال : يا رسول الله ما أخذته إلا بأمرك فقال : أما تريد أن يبوء بإثمه وإثم صاحبك ؟ قال بلى يا رسول الله قال : فإنه كذلك فرمى نسعته وقال : ذهب حيث شئت

حضرت وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس دوران کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا جب ایک آدمی داخل ہوا ‘جو دوسرے آدمی سے تسمے کے ساتھ قصاص لینا چاہتا تھا یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس آدمی نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ فرمایا کیا تُو نے اسے قتل کیا ہے؟ عرض کی : ہاں ! فرمایا: تو نے کیسے قتل کیا ؟ عرض کی: ہم درخت سے لکڑیاں لے رہے تھے تو اس نے مجھے گالی دی ‘پس میں نے اس کے سر پر کلہاڑا مارا تو و وقتل ہو گیا۔ فرمایا: کیا دیت دینے کیلئے تیرے پاس مال ہے؟ عرض کی :نہیں !قسم بخدا! میرے پاس کلہاڑے اور میری چادر کے سوا کوئی مال نہیں ہے۔ فرمایا: تیرا کیا خیال ہے کہ تیری قوم تیری دیت دے دے گی ؟ عرض کی :(نہیں! ) میں اپنی قوم پر اس سے ہلکا ہوں۔ پس اس نے تسمے کا ٹکڑا اس کی طرف پھینکا۔ فرمایا: اپنے ساتھی کو پکڑ لے۔ پس جب وہ (اسے لے کر )جانے لگا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اگر اس نے اسے قتل کیا تو یہ اسی کی مثل ہو گا۔ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میں نے تو اسے آپ کے حکم سے پکڑا ہے۔ فرمایا: کیا چاہتا ہے کہ اس کے گناہ اور اپنے دوست کے گناہ کا اعتراف کرے۔ عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیوں نہیں! فرمایا: بے شک یہ اسی طرح ہو گا۔ پس اس نے تسمہ پھینک کر اسے کہا: جا جہاں جانا چاہتا ہے۔

بَيْنَمَا ← أَبِيهِ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ ← أبو يونس التبشيري ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17872

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الواو ‹ عبد الملك بن عمير عن علقمة بن وائل · حديث 17873

24 - حدثنا أحمد بن داود المكي و أبو خليفة قالا ثنا إبراهيم بن أبي سويد ثنا إبراهيم بن عثمان ثنا عبد الملك بن عمير عن علقمة بن وائل الحضرمي عن أبيه قال Y اختصم الأشعث بن قيس الكندي ورجل من حضرموت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم الأشعث بن قيس الكندي ادعاها الحضرمي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم للحضرمي : بينتك قال : ليس لي بينة قال : فإن لم يكن لك بينة حلف الأشعث قال : هلك حقي يا رسول الله إن جعلتها يمين الأشعث فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حلف على يمين وهو فيها كاذب ليقتطع بها مال امرئ مسلم لقي الله يوم القيامة وهو عليه غضبان

حضرت دائل حضرمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اشعث بن قیس کندی اور حضر موت کے ایک آدمی کا مقد مہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا جو اس زمین کے حوالے سے تھا جو اشعث بن قیس کے قبضے میں تھا لیکن حضرمی اس کا دعویدار تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :تیرے گواہ کہاں ہیں؟ عرض کی: میرے پاس کوئی گواہ نہیں۔ فرمایا: اگر تیرے پاس گواہ نہیں تو اشعث قسم اُٹھا ئے گا ( تو فیصلہ اس کے حق میں ہو جائے گا )۔ عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس نے میرا حق مارا ہے ‘اگر آپ نے اسے حلف اُٹھانے کا حق دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اُٹھائی جس میں وہ جھوٹا ہے تا کہ اس کے ذریعے ایک مسلمان بھائی کا مال ہتھیائے تو وہ قیامت کے دن اپنے رب سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← إبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي سُوَيْدٍ، ← أحمد بن داود المكي و أبو خليفة

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17873

chevron_left Previous
1234…35
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter