المعجم الکبیر للطبرانی · باب الواو ‹ أبو المليح بن أسامة الهذلي عن واثلة · حديث 18042
193 - حدثنا جعفر بن أحمد بن سنان الواسطي ثنا أحمد بن المقدام أبو الأشعث حدثنا عيثر بن القاسم ثنا العلاء بن نعلة عن أبي المليح الهذلي عن واثلة بن الأسقع قال Y تراءيت للنبي صلى الله عليه و سلم بمسجد الخيف فقال لي أصحابه : إليك يا واثلة أي تنح عن وجه النبي صلى الله عليه و سلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : دعوه فإنما جاء ليسأل فدنوت فقلت : بأبي أنت وأمي يا رسول الله أفتنا عن أمر نأخذه عنك من بعدك ؟ قال : لتعنك نفسيك فقال : كيف لي بذلك فقال : تدع ما يريبك إلى ما لا يريبك وأن أفتاك المفتون فقلت : وكيف لي بعلم ذلك ؟ قال : تضع يدك على فؤادك فإن القلب يسكن للجلال ولا يسكن للحرام وأن الورع المسلم يدع الصغير مخافة أن يقع في الكبير قلت : بأبي أنت وأمي ما العصبية ؟ قال : الذي يعين قومه على الظلم قلت : فمن الحريص ؟ قال : الذي يطلب المكسبة من غير حلها قلت : فمن الورع ؟ قال : الذي يقف عند الشبهة قلت : فمن المؤمن ؟ قال : من أمنه الناس على أموالهم ودمائهم قلت : فمن المسلم ؟ قال : من سلم الناس من لسانه ويده قلت : فأي الجهاد أفضل ؟ قال : كلمة حكم عند إمام جائر
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد خیف میں دیکھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے مجھے کہا: اے اسقع ! ادب کو لازم پکڑو‘ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے ہٹ جاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑو! یہ اس لیے آیا ہے تاکہ سوال کرے۔ پس میں قریب ہوا‘ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! اس امر کے بارے مسئلہ بتائیں جو ہمیں آپ کے تشریف لے جانے کے بعد پیش آئے گا۔ فرمایا: تیرے نفس کو تیری مدد کرنی چاہیے۔ عرض کی: وہ کیسے ہو گا؟ فرمایا: جو چیز تجھے شک میں ڈالے وہ نہ کر اور جو شک میں نہ ڈالے دو کر لے‘ اگرچہ فتویٰ دینے والے تجھے فتویٰ دیں۔ عرض کی مجھے اس کا علم کیسے ہو گا ؟ فرمایا: تو اپنے دل پر اپنا ہاتھ رکھنا‘ وہ حلال سے سکون میں ہو گا اور تمام پر سکون میں نہیں ہو گا‘ مسلمان کی پرہیز گاری یہ ہے کہ وہ چھوٹے گناہ کو اس لیے چھوڑ دے کہ وہ بے گناہ میں پڑ جائے۔ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان! عصبیت کیا ہے؟ فرمایا: جو علم زیادتی پر اپنی قوم کی مدد کرے۔ میں نے عرض کی: حریص کون ہے؟ فرمایا: جو غیر حلال کمائے۔ میں نے عرض کی: ورع کیا ہے؟ فرمایا: وہ جو شبہ کے پاس جا کر رُک جائے‘ یعنی وہ کام نہ کرے۔ میں نے عرض کی : مؤمن کون ہے؟ جس سے لوگوں کے مال اور خون محفوظ ہوں۔ میں نے عرض کی: مسلم کون ہے؟ فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ ہوں۔ میں نے عرض کی: کون سا جہاد افضل ہے؟ فرمایا: ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا۔
وجه النبي صلى الله عليه و سلم ← لي أصحابه إليك يا واثلة أي تنح ← تراءيت للنبي صلى الله عليه و سلم بمسجد الخيف ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، ← العلاء بن نعلة ← عيثر بن القاسم ← أحمد بن المقدام أبو الأشعث، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18042
