Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سوادة بن حنظلة القشيري عن سمرة · حديث 6999

6983 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم أبو النعمان ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني محمد بن أبي بكر المقدمي قالا ثنا حماد بن زيد ثنا عبد الله بن سوادة عن أبيه قال سمعت سمرة بن جندب رضي الله عنه يقول Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يغرنكم من سحوركم أذان بلال ولا بياض الصبح هكذا - ورفع يديه - حتى يطير في الأفق وعرض بيده

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات میں ہوتے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ سے فرمایا کرتے تھے: کیا تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟ راوی کا بیان ہے : پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہم بیان کر تے جو اللہ چاہتا کہ ہم بیان کریں۔ راوی کا بیان ہے کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک شان یہ ہے کہ آج رات میرے پاس دو آدمی آئے یا دو آنے والے‘ پس انہوں نے مجھے اٹھایا اور مجھ سے کہا: چلو! پس میں ان کے ساتھ چلا‘ ہم ایک پہلو کے بل لیٹے ہوئے آدمی کے پاس آئے۔ پس ایک دوسرا آدمی اس پر چٹان کے ساتھ کھڑا تھا جبکہ وہ اس کے سر کے لیے چٹان کو نیچے کرتا ہے۔ پس وہ اس کا سر کچل دیتا ہے۔ پس پتھر لڑھک جاتا ہے۔ پس وہ اس کو پکڑ لیتا ہے‘ پس وہ اس کی طرف واپس نہیں آتا ہے یہاں تک کہ اس کا سر درست ہو جاتا ہے جس طرح پہلے ہوتا ہے‘ پھر وہ لوٹتا ہے تو اسی طرح کرتا ہے جس طرح اس نے پہلے کیا ہوتا ہے ( یہ عمل مسلسل جاری ہے )۔ میں نے ان دو آدمیوں سے کہا: اللہ پاک ہے! یہ کیا ہے؟ انہوں نے مجھے کہا: چلو! پس ہم چلے ‘ پس ہم ایک ایسے آدمی کے پاس آئے جو گدی کے بل چت لیٹا ہوا ہے۔ جبکہ ایک دوسرا آدمی لوہے کی موٹی سلاخ لے کر کھڑا ہے اور اچانک وہ آتا ہے‘ اس کے چہرے کے دونوں حصوں میں سے ایک کے پاس۔ پس وہ اس کی باچھ سے اس کی گدی تک درانتی کی طرح دندانے بنا دیتا ہے پھر وہ دوسری طرف پھر جاتا ہے۔ پس اس کے ساتھ بھی وہی کام کرتا ہے‘ پس وہ اس کام سے مکمل طور پر فارغ نہیں ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی پہلی طرف درست ہو جاتی ہے جس طرح پہلے تھی‘ پھر وہ اس کی طرف لوٹتا ہے‘ پس وہ اسی کے ساتھ اس طرح کرتا ہے جیسے پہلی مرتبہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے ان سے کہا: یہ دو کیا ہیں؟ انہوں نے مجھ سے کہا: چلو! پس ہم چلے تو ایک تنور جیسی دیوار پر آئے۔ راوی کا بیان ہے: میرا گمان ہے کہ آپ نے فرمایا: پس میں نے اوٹ پٹانگ باتیں اور آوازیں سماعت کیں۔ فرماتے ہیں: ہم نے اس میں جھانک کر دیکھا تو ہماری نظر پڑی کہ کچھ ننگے مرد اور عورتیں ہیں اور اچانک ان کے نیچے سے آگ کا شعلہ آتا ہے‘ پس جب انہیں آگ کا شعلہ پہنچتا ہے تو وہ شور کرتے ہیں۔ میں نے ان دونوں سے کہا: سبحان اللہ! یہ کیا ہیں؟ انہوں نے مجھ سے کہا: چلو! پس ہم چلے تو ایک نہر پر آئے۔ ( راوی کہتا ہے:) میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سرخ خون کی مانند۔ اس نہر میں ایک آدمی تیر رہا تھا اور اس نہر کے کنارے ایک آدمی تھا جس نے پتھر اکٹھے کر رکھے تھے‘ تیرنے والا آدمی تیرتا جتنا وہ تیرتا پھر وہ اس کے پاس آتا جس نے پتھر اکٹھے کر رکھے تھے۔ پس وہ اس کے سامنے اپنا منہ کھولتا اور وہ اس میں ایک پتھر ڈال دیتا تھا۔ پس وہ چلا جاتا وہ تیرتا رہتا جتنا وہ تیرتا پھر وہ لوٹ آتا‘ جب بھی وہ لوٹتا تو وہ اپنا منہ کھولتا اور دوسرا آدمی اس کے منہ میں پھر پھینک دیتا تھا۔ میں نے ان دونوں سے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے مجھ سے کہا: چلو! پس ہم چل کر ایک ایسے آدمی کے پاس آئے جو انتہائی بھیانک منظر والا تھا‘ جتنا ناپسندیدہ آپ نے کوئی نہ دیکھا ہو گا‘ ایک آگ ہے جسے وہ بھڑکاتا ہے اور اس کے گرد چکر لگاتا ہے۔ فرماتے ہیں: میں نے دونوں سے کہا: یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے مجھے کہا: چلو! پس ہم چلے۔ پس ہم ایک گھاس والے باغ پر آئے‘ اس میں ہرقسم کی گھاس تھی‘ اس باغ کے درمیان ایک لمبا تڑنگا آدمی تھا‘ قریب تھا کہ میں اس کے سر کو لمبائی میں آسمان میں جاتا ہوا دیکھوں‘ اس کے اردگرد بہت سارے خوبصورت بچے تھے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے ان دونوں سے کہا: سبحان اللہ! یہ کیا ہے؟ اور یہ بچے کیا ہیں؟ ان دونوں نے مجھ سے کہا: چلو! پس ہم ایک بہت بڑے پھیلے ہوئے گنجان درخت تک پہنچے۔ میں نے اتنا بڑا اور اتنا خوبصورت درخت نہ دیکھا تھا۔ فرماتے ہیں : ان دونوں نے مجھے کہا: اس میں چڑھیں‘ پس ہم ایک شہر تک پہنچے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا‘ پس ہم شہر کے دروازے کے پاس پہنچے‘ پس ہم نے اس کے کھلنے کی خواہش کی تو ہمارے لیے اسے کھولا گیا۔ پس ہم اس میں داخل ہوئے تو ہمیں اس میں کچھ لوگ ملے جن کی طرف تو اتنی خوبصورت تھی جیسی تو نے دیکھی نہ ہو اور ایک طرف اتنی بدصورت کہ تو نے ایسا آدمی نہ دیکھا ہو۔ آپ فرماتے ہیں: تو ان دونوں نے کہا: جاؤ! اس نہر میں داخل ہو جاؤ جبکہ وہاں ایک ایسی نہ تھی جس میں بہت زیادہ سفید پانی چلتا تھا۔ فرماتے ہیں: وہ جا کر اس میں داخل ہو گئے پھر لوٹ کر ہماری طرف آئے اس حال میں کہ وہ تکلیف ان سے ہو چکی تھی‘ ان کی شکل خوبصورت ہو چکی تھی۔ فرماتے ہیں: ان دونوں نے مجھ سے کہا: یہ جنت عدن ہے اور یہ وہ جگہ ہے جو آپ کی منزل ہے۔ پس میں نے اپنی نظروں کو او پر اٹھایا۔ فرماتے ہیں: مجھے سفید بادل کی مانند ایک محل نظر آیا۔ فرماتے ہیں: انہوں نے مجھے بتایا: یہ آپ کی منزل ہے۔ میں نے ان سے کہا: اللہ آپ کو برکت دے! مجھے اجازت دو! مجھے چھوڑو! میں تو اس میں جاتا ہوں۔انہوں نے مجھ سے کہا لیکن ابھی آپ داخل نہ ہوں گے۔فرماتے ہیں: میں نے ان سے کہا: بے شک آج رات میں نے تعجب خیز چیزیں دیکھی ہیں۔ پس یہ کیا ہے جو میں نے دیکھا ہے (لوگوں کی خاطر حکایت بنانے کیلئے پوچھا ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم تھا) انہوں نے مجھ سے کہا: (اب) ہم آپ کو خبر دیتے ہیں کہ وہ پہلا آدمی جس پر آئے جس کا سر پھر سے کچلا جا رہا تھا‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ قرآن کا علم حاصل کرنے والا تھا لیکن فرض نماز کے وقت سو جاتا تھا۔ بہر حال وہ آدمی جس پر آپ آئے اور اس کی باچھوں‘ آنکھوں اور ناک کے دندانے بنائے جا رہے تھے تو وہ آدمی گھر سے نکلتا تھا تو جھوٹ بولتا تھا جو آسمان کے کناروں میں پھیل جاتا تو وہ ننگے مرد اور عورتیں جوتنور جیسی چا دیواری میں تھے وہ زانی تھے‘ لیکن وہ آدمی جو نہر میں تیر رہا تھا اور پھر نگل رہا تھا‘ وہ سود کھانے والا تھا۔ بہر حال وہ آدمی جس کے پاس مکر و بصورت عورت تھی تو وہ خازن جہنم مالک تھا‘ وہ آدمی جو باغ میں تھا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے اور وہ بچے جو ان کے اردگرد تھے وہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ راوی کا بیان ہے: اور بعض مسلمانوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا وہ مشرکین کے بچے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! وہ مشرکین کے بچے تھے اور وہ گروہ جن کی ایک طرف خوبصورت اور دوسری بدصورت تھی‘ وہ ایسے لوگ تھے جنہوں نے بعض اعمال اچھے کیے اور بعض اعمال بُرے کیے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر مہربانی فرمائی‘ ان کو معاف کر دیا۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِيهِ ← عَبْد اللَّه بْنِ سَوَادَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6999

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أبو رجاء العطاردي عن سمرة بن جندب · حديث 7000

6984 - حدثنا محمد بن العباس المؤدب ثنا هوذة بن خليفة ثنا عوف عن أبي رجاء العطاردي ثنا سمرة بن جندب قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما يقول لأصحابه : هل رأى أحد منكم رؤيا ؟ قال : فنقص عليه ما شاء الله أن نقص قال فقال ذات غداة : إنه أتاني الليلة اثنان أو آتيان فابتعثاني وقالا لي : انطلق فانطلقت معهما وإنا أتينا إلى رجل مضطجع فإذا آخر قائم عليه بصخرة وإذا هو يهوي بالصخرة لرأسه فيبلغ رأسه فيتدهده الحجر فيذهب ههنا فيتبعه فيأخذه فلا يرجع إليه حتى يصح رأسه كما كان ثم يعود عليه فيفعل مثل فعل المرة الأولى قلت : لهما : سبحان الله ما هذا ؟ قالا لي : انطلق فانطلقنا فأتينا على رجل مستلق لقفاه و إذا آخر قائم بكلوب من حديد وإذا هو يأتي إحدى شقي وجهه فيشرشر شدقه إلى قفاه ثم يتحول إلى الجانب الآخر فيفعل به مثل ذلك فما يفرغ منه حتى يصح ذلك الجانب كان ثم يعود إليه فيفعل به كما فعل [ ال ] مرة الأولى قال : قلت لهما ؟ سبحان الله ما هذان ؟ قالا لي : انطلق فانطلقنا : فأتينا على بناء مثل التنور - قال فأحسب أنه قال - فسمعنا لغطا وأصواتا - قال - فاطلعنا فيه فإذا فيه رجال ونساء عراة وإذا هو يأتيهم لهب من أسفل منهم فإذا أتاهم ذلك اللهب ضوضوا قلت لهما : سبحان الله ما هؤلاء ؟ قالا لي : انطلق - قال - فانطلقنا فأتينا على نهر - حسبت أنه قال - أحمر مثل الدم وإذا في النهر رجل يسبح و إذا على شاطئ النهر رجل قد جمع عندة حجارة وإذا ذلك السابح يسبح ما يسبح ثم يأتي ذلك الذي قد جمع عنده حجارة فيفغر له فاه فيلقمه حجرا فيذهب فيسبح ما يسبح ثم يرجع كلما رجع فغر له فاه فألقمة حجرا قلت لهما : ما هذا ؟ قالا لي : انطلق فانطلقنا فأتينا على رجل كريه المرآة كأكره ما أنت راء رجلا المرآة وإذا نار يحشها ويسعى حولها - قال - قلت لها ما هذا ؟ قالآ لي : انطلق انطلق فانطلقنا فأتينا روضة معشبة فيها من كل الربيع وإذا بين ظهراني الروضة رجل طويل لا أكاد أن أرى رأسه طولا في السماء وإذا حول الرجل من أكثر ولدان رأيتهم قط وأحسنهم - قال - قلت لهم : سبحان الله ماهذا وما هؤلاء ؟ قالا لي : انطلق فانتهينا إلى دوحة عظيمة لم أر دوحة قط أعظم منها ولا أحسن - قال - قالا لي : ارق فيها فارتقينا فانتهينا إلى مدينة مبنية بلبن ذهب ولبن فضة فأتينا باب المدينة فاستفتحناها ففتح لنا فدخلناها فتلقانا فيها رجل شطر من خلقهم كأحسن ما أنت راء وشطر كأقبح ما أنت راء رجلا - قال - فقالا : اذهبوا فقعوا في ذلك النهر وإذا نهر معترض يجري كأن ماءه المحض بالبياض - قال - فذهبوا فوقعوا فيه ثم رجعوا إلينا وقد ذهب عنهم السوء وصاروا في أحسن صورة - قال - قالا لي : هذه جنة عدن وها هو ذاك منزلك فسما بصري مصعدا - قال - فإذا قصر مثل الربابة البيضاء - قال - قالا : هو ذاك منزلك ققلت لهما : بارك الله فيكما خلياني ذراني أدخله قالا لي : أما الآن فلا وأنت داخله - قال - إني قد رأيت منذ هذه الليلة عجبا فما هذا الذي رأيت ؟ - قال - قالا لي : أما إنا سنخبرك أما الرجل الأول الذي أتيت عليه يثلغ رأسه بالحجر فإنه رجل يأخذ القرآن وينام عن الصلاة المكتوبة وأما الرجل الذي أتيت عليه يشرر شدقه وعينه ومنخراه إلى قفاه فإن الرجل يغدو من بيته تبلغ الآفاق وأما الرجال والنساء العراة الذين في مثل بناء التنور فإنهم الزناة والزواني وأما الرجل الذي يسبح في النهر ويلقم الحجارة فإنه آكل الربا وأما الرجل الذي عنده الكريه المرآة فإنه مالك خازن جهنم وأما الرجل الذي في الروضة فإنه إبراهيم صلى الله عليه و سلم وأما الولدان الذين حولهم فكل مولود على الفطرة قال : قال بعض المسلمين : يارسول الله وأولاد المشركين ؟ قال : وأولاد المشركين وأما القوم الذين كانوا شطرا منهم حسنا وشطرا منهم قبيحا فإنهم قوم خلطوا عملا صالحا وآخر سيئا فتجاوز الله عنهم

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی صبح کرتے تو صحابہ کرام سے فرماتے: کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ راوی کا بیان ہے: ایک دن‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح فرمائی تو فرمایا: میں نے (خواب) دیکھا ہے گویا دو آدمی میرے پاس آئے‘ کہا: چلو‘ چلو! پس میں ان کے ساتھ چلا‘ حتٰی کہ ہم ایک سفید سر اور سفید ریش آدمی کے پاس پہنچے جو غمگین اور پریشان تھا‘ اس کے پاس آگ تھی اور وہ اسے بھڑکا رہا تھا اور اس سے اصلاح کر رہا تھا۔ میں نے ان سے کہا: اللہ آپ کو برکت دے! یہ بوڑھا آدمی کون ہے اور یہ آگ کیا ہے؟ انہوں نے مجھ سے کہا: چلو‘ چلو! میں ان کے ساتھ چلا حتٰی کہ وہ مجھے ایک آدمی کے پاس لائے‘ جس کے سر پر دوسرا آ دمی کھڑا تھا‘ جس کے ہاتھ میں لوہے کی سلاخ تھی‘ وہ اس کے منہ سے اس کی گدی تک دندانے بنا رہا تھا درانتی کی طرح‘ ناک سے گدی تک اور اس کی آنکھ سے گدی تک‘ پھر وہ اس دوسری طرف سے ایسا کرتا ہے‘ پس وہ دوسری طرف سے ابھی فارغ نہیں ہوا ہوتا کہ اس کا پہلا حصہ بالکل پہلے کی طرح درست ہو جاتا ہے۔ میں نے ان سے کہا: اللہ آپ دونوں کو برکت دے!یہ دو آدمی کیا ہیں؟ انہوں نے مجھ سے کہا: آگے چلو‘ آگے چلو! پس میں ان کے ساتھ چلا حتٰی کہ وہ مجھے ایک گدی کے بل لیٹے ہوئے آدمی کے پاس لائے‘ اس کے سر پر ایک آدمی کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں پتھر ہے‘ اس کے ساتھ وہ اس کا سر کچل دیتا ہے‘ پس وہ پھر لڑھک جاتا ہے‘ ایک جگہ آہستہ آہستہ۔ پس وہ جاتا ہے اور اس کو پکڑ لاتا ہے۔ پس وہ اس آدمی کی طرف لوٹ کر آتا ہے تو اتنے تک اس کا سر بھی درست ہو جاتا ہے‘ پس وہ پہلے جیسا کام کرتا ہے۔ میں نے کہا: اللہ آپ کو برکت دے! یہ دونوں کیا ہیں؟ ان دونوں نے کہا: چلو‘ چلو! پس میں ان کے ساتھ چلا حتٰی کہ وہ مجھے لے کر ایک تالاب جیسی چیز کے پاس آئے۔اس میں ایک آدمی تیر رہا تھا‘ اس تالاب کے ایک کنارے پر دوسرا آدمی موجود تھا‘ جس کے ہاتھ میں پتھر تھا‘ وہ تیرنے والا اس کے پاس آ کر اپنا منہ کھولتا اور وہ آدمی وہ پتھر اس کے منہ میں ڈالتا۔ میں نے ان سے کہا: اللہ آپ کو برکت دے! یہ دونوں کون ہیں؟ انہوں نے مجھ سے کہا: چلو‘ چلو ! حتٰی کہ وہ مجھے لے کر تنور کی مانند ایک چیز کے پاس آئے‘ اس میں مرد اور عورتیں تھیں‘ پس نیچے سے ان کے پاس آگ کا شعلہ آتا تو وہ شور مچا دیتے۔ میں نے کہا: اللہ آپ کو برکت دے! یہ کون ہیں؟ انہوں نے مجھ سے کہا: چلو‘ چلو! پس میں ان کے ساتھ چلا حتٰی کہ وہ مجھے ایک سفید زمین تک لائے‘ گویا وہ چاندی ہے‘ اس میں موسم بہار کا ہر نور ہے‘ اس میں سفید سر والا اور سفید ریش آدمی ہے‘ ایسا خوبصورت کہ آپ نے لوگوں میں سے نہ دیکھا ہو گا‘ اس کے پاس بچے ہیں۔ پس میں نے ان سے کہا: اللہ تم کو برکت دے! یہ بزرگ کون ہیں اور یہ بچے کون ہیں؟ انہوں نے مجھ سے کہا: چلو‘ چلو! پس میں ان کے ساتھ چلا حتٰی کہ وہ مجھے لے کر ایک اور سفید زمین تک آئے گویا وہ چاندی ہے‘ اس میں ایک نہر جاری ہے اور ایک گروہ آتا ہے جن کے آدھے جسم انتہائی خوبصورت ہیں اور آدھے بہت بدصورت‘ پس وہ اس نہر میں داخل ہوتے ہیں‘ گویا ان کو حکم دیا گیا ہے‘ پس وہ اس سے نکلتے ہیں تو گویا ان کو خوبصورت بنانے والا تیل لگا دیا گیا ہے۔ پس میں نے کہا: اللہ تم کو برکت دے! یہ کون ہیں؟ وہ کہتے ہیں : چلو‘ چلو! پس میں ان کے ساتھ چلا حتٰی کہ وہ مجھے لے کر سدرۃ المنتہٰی پہ آئے‘ وہ جنت عدن ہے‘ یہ آپ کی منزل ہے‘ میں کہتا ہوں: اللہ تم کو برکت دے! مجھے چھوڑو! میں تو اس میں داخل ہوتا ہوں۔ وہ دونوں کہتے ہیں: جی نہیں! آپ (اب ) داخل ہونے والے نہیں۔ میں نے کہا: اللہ آپ دونوں کو برکت دے! میں نے رات سے عجیب چیزیں دیکھی ہیں۔ انہوں نے کہا: ہم آپ کو بتاتے ہیں ! بہر حال وہ آدمی جو سفید سر والا اور سفید ریش آپ نے دیکھا تو وہ خازن جنت جناب مالک تھے‘ اور وہ آدمی جس کے منہ اور ناک سے گدی تک درانی کی طرح دندانے بنائے جارہے تھے تو وہ ایسا آدمی ہے جو گھر سے نکلتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور اس کا جھوٹ دنیا میں عام ہو جاتا ہے‘ اور وہ آدمی جس کا سر کچلا جا رہا ہے اور چھوڑ دیا جاتا ہے گویا کہ وہ روٹی ہے تو وہ چغل خور ہے‘ اور جو تالاب میں آدمی تھا اور پھر نگل جاتا تھا تو وہ یتیم کا مال کھانے والا ہے‘ اور جو تنور کی مانند جگہ میں ہیں وہ زانی مرد اور عورتیں ہیں‘ اور وہ آدمی سفید سر والا اور سفید داڑھی والا تو وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں اور وہ بچے جو آپ نے دیکھے وہ مسلمانوں کے بچے ہیں اور ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے‘ اور جن لوگوں کے آدھے جسم خوبصورت اور آدھے بدصورت ہیں تو وہ ایسے لوگ ہیں جن کے بعض اعمال اچھے اور بعض اعمال برے ہیں‘ پس اللہ نے ان کو بخش دیا ہے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، ← عَوْفٌ، ← هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7000

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أبو رجاء العطاردي عن سمرة بن جندب · حديث 7001

6985 - حدثنا أحمد بن داود المكي بمصر ثنا معاوية بن عطاء الخزاعي ثنا شعبة عن عوف عن أبي رجاء العطاردي عن سمرة بن جندب قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم كلما أصبح قال لأصحابه : هل رأى أحد منكم رؤيا ؟ قال : وإنه أصبج ذات يوم فقال : إني رأيت كأن اثنين أتياني فقالا : انطلق انطلق فانطلقت معهما حتى أتيا بي على شيخ أبيض الرأس واللحية كئيب حزين عنده نار وهو يحشها ويصلح منها فقلت : بارك الله فيكما من هذا الشيخ وما هذه النار ؟ فقالا لي : انطلق انطلق فانطلقت معهما حتى انتهيا بي إلى رجل وإذا رجل قائم على رأسه وإذا بيده كلوب من حديد وهو يشرشر فمه إلى قفاه ومنخره إلى قفاه وعينه إلى قفاه ثم يفعل بهذه الناحية الأخرى فما يفرغ منها حتى تعود تلك الناحية كأصح ما كانت فقلت : يا بارك الله فيكم ماهذان الرجلان ؟ قالا لي : انطلق انطلق فانطلقت معهما حتى أنيا بي إلى رجل مستلق على قفاة وإذا رجل قائم على رأسه بيده صخرة وهو يثلغ بها رأسه فيدهده الحجر مكانا أتاك أتاك فيذهب فيأخذه فما يرجع إلى صاحبه حتى يرجع رأسه كأصح ما كان فيفعل نحوه ما فعل فقلت : يا بارك الله فيكما ما هذان ؟ قالا : انطلق انطلق فانطلقت معها حتى انتهيا بي إلى شبه البركة وإذا فيها رجل يسبح وإذا رجل قائم على شفة البركة بيده صخرة فيجيء السابح فيفغر فاه فيلقمة ذلك الحجر فقلت : يا بارك الله فيكما ما هذان ؟ فالا لي : انطلق انطلق فانطلقت معهما حتى انتهيا بي إلى شبه التنور وإذا فيه رجال ونساء فيأتيهم لهب أسفل منهم فيضوضووا فقلت : يا بارك الله فيكما ما هؤلاء ؟ فقالا لي انطلق انطلق فانطلقت معهما حتى انتهيا بي إلى أرض بيضاء كأنها الفضة وإذا فيها كل نور ربيع وإذا رجل أبيض الرأس واللحية كأجمل ما أنت راء من الرجال وإذا عنده ولدان فهو محوشهم ويصلح منهم فقلت : يا بارك الله فيكما من هذا الشيخ ومن هؤلاء الولدان ؟ قالا لي : انطلق انطلق فانطلقت معهما حتى انتهيا بي إلى أرض بيضاء كأنها الفضة وإذا فيها نهر يجري ويجيء قوم نصف أجسادهم كأحسن ما أنت راء ونصف أجسادهم كأقبح ما أنت راء فيدخلون في ذلك النهر كأنما أمروا به فيخرجون منه كأنما دهنوا بالدهان فقلت يا بارك الله فيكما ما هؤلاء ؟ قالا : انطلق انطلق فانطلقت معهما حتى انتهيا بي إلى سدرة المنتهى وهي جنة عدن وذاك منزلك فقلت : يا بارك الله فيكما دعاني فأدخله قالا : لا وأنت داخله قلت : يا بارك الله فيكما إني قد رأيت منذ الليلة عجبا قالا : نخبرك أما الذي رأيت أبيض الرأس واللحية فذاك مالك خازن جهنم وأما الذي رأيت يشرشر فمه إلى قفاه ومنخره إلى قفاه فذاك رجل يخرج من منزله يكذب الكذبة فيشيع في الآفاق وأما الذي رأيت يلثغ رأسه فيترك كأنه خبزة فذلك الرجل النمام وأما الذي رأيت في البركة يلقم حجرا فذلك الرجل الذي يأكل مال اليتيم وأما الذي رأيت في شبه التنور فأولئك الزواني والزناة وأما الذي رأيت أبيض الرأس واللحية فذاك إبراهيم خليل الله والولدان الذين رأيت فذاك ولدان المسلمين وكل مولود يولد على الفطرة وأما الذين رأيت نصف أجسادهم كأحسن ما أنت راء ونصف أجسادهم كأقبح ما أنت راء فأولئك قوم عملوا عملا صالحا وآخر سيئا فيغفر الله لهم

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح فرمایا کرتے تھے تو ارشاد فرماتے: کیا تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟ (اگر کوئی خواب بیان کرتا ) تو آپ اس کیلئے اس کی تعبیر بیان فرماتے‘ یہاں تک کہ ایک دن آپ نے صبح کی تو فرمایا: تم میں سے کوئی ہے جس نے کوئی خواب دیکھا ہو۔ سارے خاموش رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ دو آ دمی میرے پاس آئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا: چلو! پس وہ مجھے ایک ایسے آدمی پر لے چلے جس کے ہاتھ میں پتھر تھا‘ اس کے ساتھ وہ ایک آدمی کے سر کو مار رہا تھا‘ اس کا بھیجا نکل کر بکھر جاتا‘ پس وہ پتھر اس کے ہاتھ میں لوٹ آتا اور اس کا سر بھی اپنی پہلی حالت میں لوٹ آتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ تو ان دونوں نے کہا: چلو! پس وہ مجھے لے کر ایک ایسے آدمی کے پاس آئے جس کے ہاتھ میں لوہے کی سلاخ تھی‘ جس کے ساتھ وہ ایک آدمی کی باچھیں پھاڑ دیتا حتٰی کہ جب وہ اس سے دور چلا جاتا تو وہ دوسری اٹھا لیتا‘ اس آدمی کی باچھیں اپنی پہلی حالت پر آ جاتی۔ میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ پس ان دونوں نے کہا: آپ چلیں! پس وہ مجھے لے کر ایک ایسے آدمی کے پاس آئے جوخون کی نہر میں تھا اور اسے لگام دی گئی تھی‘ نہر کے کنارے پر دوسرا آدمی تھا جو آگ جلا رہا تھا جس میں پتھر تھے‘ جب بھی وہ نہر سے نکلنے کا ارادہ کرتا تو ( کنارے والا ) وہ آدمی ان میں سے ایک پتھر پکڑ کر اس کے منہ میں ڈال دیتا۔ پس وہ پیچھے لوٹ جاتا۔ میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے مجھ سے کہا: آپ چلیں! پس وہ دونوں مجھے لے کر ایک ایسے مکان پر آئے جو اوپر کی نسبت نیچے سے زیادہ تنگ تھا‘ اس میں ننگے لوگ تھے‘ ان کے نیچے آگ جلائی جا رہی تھی‘ جب آگ جلتی تو وہ شور مچاتے‘ پس جب آگ بجھ جاتی تو وہ خاموش ہو جاتے۔ میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا: آپ چلیں ! پس وہ مجھے لے کر ایک ایسے درخت کے پاس آئے جس کے نیچے ایک آدمی آگ جلا رہا تھا اور اسے درست کر رہا تھا۔ پس جب وہ بکھر جاتی تو وہ اسے اکٹھا کر دیتا تھا‘ میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے مجھ سے کہا: آپ چلیں !حتٰی کہ وہ مجھے لے کر درخت کے درمیان آئے‘ پس وہاں خوبصورت منازل تھیں۔ میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ چلیں ! پس وہ دونوں مجھے لے کر اس درخت کی بلندی پر آئے‘ وہ جو گھر تھے‘ وہ پہلوں سے زیادہ خوبصورت تھے‘ تین کمرے تھے۔ میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اسی جگہ ٹھہرو! بہر حال وہ آدمی جس کے ہاتھ میں پتھر ہے اور وہ دوسرے آدمی کے سرکو مار رہا ہے تو یہ وہ ہے جو نماز سے سو جاتا تھا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: یہ وہ آدمی ہے جس کو علم عطا کیا گیا پس اس کے لیے اسے جگایا جاتا ہے۔ بہر حال وہ آدمی کے ہاتھ میں لوہے کی سلاخ ہے اور اس کے ساتھ دوسرے آدمی کی باچھیں پھاڑ دیتا ہے تو ایسے لوگ چغلی میں کوشش کرنے والے ہیں۔ بہر حال وہ آدمی جو خون کی نہر میں آپ نے دیکھا ایسے لوگ سود کھانے والے ہیں۔ بہر حال وہ لوگ جن کے نیچے کی جگہ اوپر سے تنگ ہے اور اس میں ننگے آدمی ہیں تو وہ زانی ہیں قیامت تک اسی طرح ہوں گے۔ بہرحال وہ آدمی جو درخت کے نیچے تھا‘ آگ جلا رہا تھا اور اس کی اصلاح کر رہا تھا تو وہ جہنم کا خازن حضرت مالک تھا اور بہرحال وہ منازل درخت کے درمیان جو آپ نے ملاحظہ فرمائیں وہ عام مؤمنوں کی منازل تھیں اور نبیوں‘ صدیقوں اور شہداء کی منازل ہیں اور یہ کمرہ آپ کے لیے مخصوص ہیں‘ میں جبریل ہوں اور یہ حضرت میکائیل ہیں۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، ← عَوْفٌ، ← شُعْبَةُ، ← معاوية بن عطاء الخزاعي ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7001

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أبو رجاء العطاردي عن سمرة بن جندب · حديث 7002

6986 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا محمد بن حميد الرازي ثنا هارون بن المغيرة عن عنبسة بن سعيد عن أبي هاشم الواسطي عن أبي الحارث العبدي عن أبي رجاء العطاردي عن سمرة بن جندب قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أصبح قال : هل منكم من رأى رؤيا ؟ فيعبرها له حتى إذا أصبح يوما فقال : هل منكم من أحد رأى رؤيا ؟ فسكت القوم فقال : ولكني أنا رأيت في المنام أتاني رجلان فقالا لي : انطلق فمرا بي على رجل في يده صخرة يضرب بها رأس رجل فينثر دماغه فتعود الصخرة في يده ويعود رأسه كما كان - قال - فقلت : ماهذا ؟ فقالا : انطلق فمرا بي على رجل في يده كلاب من حديد يشق به شدق رجل حتى إذا بلغ أقصاه : أخذ في الآخر عاد هذا كما كان قلت : ماهذا ؟ فقالا لي : انطلق فمرا بي على رجل في نهر من دم وقد ألجمه وعلى شط النهر رجل يوقد نارا فيها حجارة كلما أرأد أن يخرج أخذ حجرا منها فألقاه في فيه فرجع قلت : ماهذا ؟ قالا لي : انطلق فمرا بي على بيت أسفله أضيق من أعلاه فيه ناس عراة يوقد النار تحتهم كلما أوقدت ضجوا فإذا أطفئت سكنوا قلت : ماهذا ؟ قالا لي : انطلق فمرا بي على شجرة تحتها رجل يوقد نارا ويصلي لها فإذا تفرقت جمعها قلت ما هذا ؟ قالا لي : انطلق حتى أتينا بي وسط شجرة فإذا منازل حسان قلت : ما هذا ؟ قالا لي : انطلق فانطلقا بي حتى أتيا بي أعلى الشجرة فإذا منازل هي أحسن منها وإذا غرف ثلاثة قلت : ماهذا ؟ قالا : على رسلك أما الذي في يده صخرة يضرب على رأس الرجل فأولئك الذين ينامون عن الصلاة - وقال ابن عباس : هذا الذي أوتي علما فهو يوقظ له - وأما الرجل رأيت في يده كلاب يشق به شدق الرجل فأولئك الذين يسعون بالنميمة وأما الذي رأيت في نهر من دم فأولئك أكلة الربا وأما الذي رأيت أسفله أضيق من أعلاه : فيه ناس عراة فأولئك زناة الأمة فذلك يكونون إلى يوم القيامة وأما الرجل الذي رأيت تحت الشجرة يوقد النار ويصلحها فمالك خازن النار وأما المنازل التي رأيت وسط الشجرة فتلك منازل المؤ منين عامة وهذه منازل النبيين والصديقين والشهداء وهذه الغرفة لك وأنا جبريل وهذا ميكائيل

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو فرمایا: تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ (اگر دیکھا ہے ) تو اسے چاہیے کہ بیان کرے‘ پھر اس جیسی حدیث بیان کی۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، ← أبي الحارث العبدي ← أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ ← عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7002

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أبو رجاء العطاردي عن سمرة بن جندب · حديث 7003

6987 - حدثنا يعقوب بن غيلان العماني ثنا أبو كريب ثنا يونس بن بكير ثنا خالد بن دينار البصري حدثني أبو رجاء العطاردي ثنا سمرة بن جندب قال Y دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما المسجد فقال : أيكم رأى رؤيا فليتحدث بها ثم ذكر نحوه

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ پھر اس جیسی حدیث ذکر کی۔

نَحْوَهُ ← أيكم رأى رؤيا فليتحدث بها ثم ← دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما المسجد ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أبو رجاء العطاردي ← خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ الْبَصْرِيُّ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← يعقوب بن غيلان العماني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7003

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أبو رجاء العطاردي عن سمرة بن جندب · حديث 7004

6988 - حدثنا إبراهيم بن هاشم البغوي ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا وهب بن جرير بن حازم ثنا أبي ثنا أبو رجاء العطاردي عن سمرة بن جندب Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أيكم رأى رؤ يا ثم ذكر نحوه

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی مثل حدیث روایت کرتے ہیں۔

نَحْوَهُ ← أيكم رأى رؤ يا ثم ← النبي صلى الله عليه و سلم ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أبو رجاء العطاردي ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7004

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أبو رجاء العطاردي عن سمرة بن جندب · حديث 7005

6989 - حدثنا العباس بن الفضل ثنا موسى بن إسماعيل ثنا جرير بن حازم عن أبي رجاء عن سمرة Y عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن تشریف لائے‘ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ لیتے تو ہماری طرف متوجہ ہوتے۔ فرمایا: آج رات تم میں سے کسی ایک نے کوئی خواب دیکھا ہو؟ پس اگر ہم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہوتا تو وہ آپ کے سامنے بیان کرتا‘ جو اللہ چاہتا‘ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس میں بیان فرماتے۔ پس ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے پوچھا: کیا تم میں سے کسی ایک نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ ہم نے عرض کی : جی نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے دو آدمی دیکھے‘ جو میرے پاس آئے‘ پس ان دونوں نے میرا ہاتھ پکڑا۔ پس وہ مجھے لے کر ایک ہموار زمین یا کھلی فضا میں گئے‘ پس میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا جس کے سر پر دوسرا آدمی لوہے کی سلاخ ہاتھ میں لے کر کھڑا تھا‘ وہ اسے اس کی باچھ میں داخل کرتا اور اسے پھاڑ کے رکھ دیتا حتٰی کہ وہ اس کی گدی تک پہنچ جاتی‘ پھر دوسری بانچھ کے ساتھ اسی کی مثل کرتا جبکہ اتنے میں وہ پہلی باچھ درست ہو جاتی۔ پس وہ پہلی کی طرف لوٹ کر آ تا تو اس کے ساتھ وہی پہلا کام کرتا۔ میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ (لوگوں کے لیے حکایت بنانے کی خاطر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کیا‘ ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب کچھ معلوم ہے )۔ انہوں نے کہا: آپ چلیں! پس ہم چل کر ایک ایسے آدمی کے پاس آئے جو گدی کے بل چت لیٹا ہوا تھا اور دوسرا آدمی اس کے سر پر کھڑا ہے‘ جس کے پاس ایک شخص پتھر یا ملائم پتھر سے اس کا سر کچل دیتا ہے‘ پس وہ پھر لڑھک جاتا ہے‘ پس وہ آدمی اسے پکڑنے کے لیے جاتا ہے اور اس کے واپس لوٹنے تک وہ درست ہو جاتا ہے اور اس کا سرایسے ہی ہو جاتا ہے جیسے پہلے تھا۔ پس وہ اس کی طرف لوٹ کر پھر مارتا ہے‘ پس وہ یہ کام کیے جا رہا ہے۔ پس میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ چلیں ! پس ہم چل کر ایک مکان تک آئے جو تنور کی مانند بنا ہوا تھا‘ اس کا اوپر والا حصہ تنگ اور نیچے وسیع تھا‘ اس کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی‘ اس میں کچھ مرد اور کچھ عورتیں تھیں جو ننگے تھے‘ پس جب اس کے نیچے آگ جلائی جاتی تو ان کی آواز بلند ہوتی حتٰی کہ قریب لگتا ہے کہ وہ اس سے نکل آئیں گے اور جب آگ بجھ جاتی ہے تو وہ اس میں لوٹ آتے ہیں۔ پس میں نے کہا: میں کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے کہا: آپ چلیں! (بعد میں بتائیں گے ) پس ہم چل کر ایک ایسی نہر پر آئے جس میں خون تھا اور ایک آدمی نہر کے درمیان تھا اور ایک دوسرا آدمی تھا جس کے سامنے پتھر تھے‘ پس وہ آدمی آگے بڑھ کر اسے پتھر مارتا تھا جونہر میں تھا‘ پس جب بھی وہ نہر سے نکلنے کا اراد ہہ کرتا تو وہ آدمی اس کے منہ میں پتھر پھینکتا ‘ پس (اس طرح) وہ اس کو وہیں لوٹا دیتا جہاں وہ پہلے ہوتا۔ میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ چلیں ! پس ہم چل کر ایک سرخ باغ کے پاس آئے جس میں ایک بہت بڑا درخت تھا‘ اس کے مڈھ کے پاس ایک بزرگ ہیں جن کے اردگرد بچے اور عورتیں ہیں‘ ایک اور آدمی درخت کے پاس تھا جس کے سامنے آگ ہے‘ وہ اسے جلاتا ہے اور اسے خوب بھڑکاتا ہے۔ پس میں نے ان دونوں سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: آپ چلیں! پس ہم چل کر ایک درخت پر آئے‘ پس انہوں نے مجھے ایک گھر میں داخل کیا‘ پس میں نے اس گھر جتنا خوبصورت گھر کبھی نہیں دیکھا تھا‘ اس میں بزرگ آدمی‘ جوان‘ بچے اور عورتیں تھیں‘ پھر وہ درخت پر چڑھے‘ مجھے ایک اور گھر میں داخل کیا جو پہلے گھر سے زیادہ خوبصورت تھا اور اس سے زیادہ فضیلت والا‘ اس میں بوڑھے اور جوان تھے۔ پس میں نے ان سے کہا: تم دونوں نے رات سے پھرایا اور مجھ پر مہربانی کی‘ اب مجھے اس کے بارے میں بتاؤ جو میں نے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے! بہر حال پہلا آدمی جو آپ نے دیکھا تو وہ جھوٹا آدمی ہے جو جھوٹ بولتا ہے تو وہ اس کی طرف سے سمجھا جاتا ہے حتٰی کہ دنیا میں پھیل جاتا ہے‘ پس آپ نے اس کے ساتھ جو ہوتا ہوا دیکھا ہے وہ قیامت تک ہوتا رہے گا۔لیکن وہ آدمی جس کا سر کچلا جا رہا ہے تو یہ وہ آدمی ہے جس کو اللہ نے قرآن کا علم دیا لیکن رات کے وقت سو گیا ( نماز نہیں پڑھی ) اور جو دن کو عمل کرتا تھا وہ بھی نہ کیا اور جو کام ہوتا ہوا آپ نے دیکھا ہے وہ قیامت تک اس کے ساتھ ہوتا رہے گا۔ اور وہ جن کو آپ نے مکان میں دیکھا وہ اس اُمت کے زانی ہیں اور وہ جس کو آپ نے خون کی نہر میں دیکھا تو وہ سود خور تھے‘ اور وہ بزرگ جنہیں آپ نے درخت کے تنے کے ساتھ دیکھا تو وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں اور وہ بچے جو آپ نے دیکھے وہ لوگوں کی اولاد ہیں اور جو آگ آپ نے دیکھی اور ایک آدمی جو اس کو جلا رہا ہے تو وہ دوزخ کی آگ ہے اور وہ آدمی خازن جہنم ہے۔ اور وہ گھر جس میں آپ داخل ہوئے تو وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا گھر ہے اور یہ گھر تو یہ شہداء کا گھر ہے‘ میں جبریل ہوں اور یہ حضرت میکائیل ہیں۔ میں نے ان سے کہا: مجھے بتاؤ! میری منزل کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: آپ سر او پر اٹھا کر دیکھیں! پس میں نے سر اٹھایا تو اپنے اوپر سفید بادل کی طرف ایک منزل پر میری نگاہ پڑی تو انہوں نے کہا: وہ آپ کی منزل ہے۔ میں نے کہا: مجھے چھوڑ و تاکہ میں اپنی منزل میں داخل ہو جاؤں! انہوں نے کہا: کیونکہ ابھی آپ کے لیے کچھ کام کرنا باقی ہے ( آپ اگر اس میں داخل ہو گئے تو ) و مکمل نہ ہو گا‘ پس اگر آپ نے مکمل کر لیا تو آپ اپنی منزل میں داخل ہو جائیں گے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← سَمُرَةَ ← أَبِي رَجَاءٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7005

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أبو رجاء العطاردي عن سمرة بن جندب · حديث 7006

6990 - حدثنا الهيثم بن خالد المصيصي ثنا داود بن منصور القاضي ثنا جرير بن حازم عن أبي رجاء العطاردي عن سمرة بن جندب قال Y أقبل رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما وكان إذا صلى أقبل علينا بوجهه فقال : هل رأى أحد منكم الليلة رؤيا ؟ فإن أحد منا رأى رؤيا يقصها عليه قال فيها ما شاء الله فسألنا يوما : هل رأى أحد منكم رؤيا ؟ قلنا : لا قال النبي صلى الله عليه و سلم : أنا رأيت رجلين أتياني فأخذا بيدي فأخرجاني إلى أرض مستوية أو فضاء فمررت برجل ورجل قائم على رأسه بيده كلوب من حديد يدخله في شدقه هذا فيشقه حتى يبلغ قفاه ثم يفعل بشدقه الآخر مثل ذلك ويلتئم شدقه هذا فيصنع به مثل ذلك قلت : ما هذا ؟ قالا : انطلق فانطلقنا حتى أتينا على رجل مستلق على قفاه ورجل قائم على رأسه بصخرة أو فهر يشدخ به رأسه فيتدهده الحجر فينطلق إليه ليأخذه [ فلا يرجع إلى هذا حتى يلتئم رأسه ] وعاد رأسه كما هو فعاد إليه فضربه فهو يفعل به ذلك قلت : ما هذا ؟ قالا : انطلق فانطلقنا حتى انتهينا إلى ييت قد بني بناء التنور أعلاه ضيق وأسفله واسع توقد تحته نار وفيه رجال ونساء عراة فإذا أوقد تحته ارتفعوا حتى يكادون أن يخرجوا منه وإذا أخمدت رجعوا فيها فقلت : ما هذا ؟ قالا : انطلق فانطلقنا حتى أتينا على نهر من دم فيه رجل قائم على وسط النهر بين يديه حجارة فأقبل يرمي الرجل الذي في النهر كلما أراد أن يخرج منه رماه الرجل بحجر في فيه فرده حيث كان قلت : ما هذا ؟ قالا : انطلق فانطلقنا حتى انتهينا إلى رو ضة حمراء فيها شجرة عظيمة في أصلها شيخ حوله صبيان ونساء ورجل عندالشجرة بين يديه نار يوقدها ويحشها فسألتهما فقالا : انطلق ؟ فانطلقنا حتى أتينا الشجرة فأدخلاني دارا فلم أر دارا قط أحسن فيها رجال شيوخ وشباب وصبيان ونساء ثم صعدا الشجرة وأدخلاني دارا أخرى هي أحسن من الأولى وأفضل منها فيها شيوخ وشباب : فقلت لهما إنكما طوفتماني منذ الليلة وأفضل منها وشفقتما علي فأخبراني عما رأيت قالا : نعم أما الرجل الأول الذي رأيت فإنه رجل كذاب كان يكذب الكذبة فتحمل عنه حتى تبلغ الآفاق فيصنع ما رأيت به إلى يوم القيامة وأما الرجل الذي يشدخ رأسه فإن ذلك رجل علمه الله القرآن فنام عنه ولم يعمل بما فيه بالنهار فهو يعمل به فيما رأيت إلى يوم القيامة وأما الذي رأيت في البيت فهم زناة هذه الأمة وأما الذي رأيت في النهر الدم فهو آكل الربا وأما الشيخ الذي رأيت في أصل الشجرة فذاك إبراهيم عليه السلام وأما الصبيان الذين رأيت فأولاد الناس وأما النار التي رأيت والرجل الذي يوقدها فتلك النار وذلك خازن النار وأما الدار الأولى التي دخلت دار عائشة أم المؤمنين وأما هذه فدار الشهداء وأنا جبريل وهذا ميكائبل قلت لها : أخبراني أين منزلي ؟ قالا : ارفع رأسك فرفعت رأسي فإذا فوقي مثل السحابة فقالا : ذاك منزلك فقلت : دعاني أدخل منزلي فقالا : إنه قد بقي لك عمل لم تستكمله بعد فلوقد استكملت دخلت منزلك

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : افضل دواء جو لوگ لیتے ہیں وہ حجامہ ہے (یعنی پچھنا لگاتا ہے )۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← داود بن منصور القاضي ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7006

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أبو رجاء العطاردي عن سمرة بن جندب · حديث 7007

6991 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي ثنا هشام بن عمار ثنا الربيع بن بدر عن عوف عن أبي رجاء عن سمرة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل ما تداوى به الناس الحجامة

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے‘ اگر سیدھی کرو گے تو ٹوٹ جائے گی‘ اس کے ساتھ اسی طرح زندگی گزارو۔

سَمُرَةَ ← أَبِي رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← الرَّبِيعِ بْنِ بَدْرٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7007

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أبو رجاء العطاردي عن سمرة بن جندب · حديث 7008

6992 - حدثنا حفص بن عمر بن الصباح الرقي ثنا محمد بن كثير العبدي ثنا جعفر بن سليمان عن عوف عن أبي رجاء العطاردي عن سمرة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما المرأة كالضلع إن أقمتها كسرتها فدارها تعش بها

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشرکوں کے بچوں کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ جنت والوں کے خادم ہوں گے۔

سَمُرَةَ ← أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، ← عَوْفٌ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7008

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أبو رجاء العطاردي عن سمرة بن جندب · حديث 7009

6993 - حدثنا عبدالله بن أحمد بن حنبل ثنا عتبة بن مكرم الضبي ثنا عيسى بن شعيب عن عباد بن منصور عن أبي رجاء عن سمرة بن جندب قال Y سألنا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أطفال المشركين ؟ فقال : هم خدم أهل الجنة

حضرت ابراہیم الصائغ فرماتے ہیں کہ میں نے مطر الوراق سے پوچھا‘ میں نے عرض کی: کیا آدمی ہر رکعت میں اور ہر سورت کے شروع میں بسم الله الرحمٰن الرحيم اور اعوذ بالله من الشيطن الرجيم ہر سورت کے شروع میں پڑھ سکتا ہے؟ فرمایا: مجھے حضرت قتادہ نے‘ انہوں نے محمد بن سیرین سے‘ انہوں نے عمران بن حصین سے‘ انہوں نے حضرت سمرہ بن جندب سے‘ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : یہ دو سکتے ہیں‘ آپ جب نماز شروع کرتے تو خود دل میں ایسا کرتے تھے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھتے تھے۔

أطفال المشركين فقال هم خدم أهل الجنة ← سألنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِي رَجَاءٍ، ← عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← عِيسَى بْنُ شُعَيْبٍ ← عتبة بن مكرم الضبي ← عبداللہ بن أحمد بن حنبل،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7009

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ محمد بن سيرين عن سمرة · حديث 7010

6994 - حدثنا بكر بن مقبل البصري ثنا ريحان أبو غسان ثنا الصلت بن محمد أبو همام الخاركي ثنا عوف معمر العودي عن إبراهيم الصائغ قال Y سألت مطر الوراق فقلت : أيقرأ الرجل بسم الله الرحمن الرحيم ويتعوذ من الشيطان الرجيم في كل ركعة وفي كل سورة يفتتحها ؟ فقال : أخبرني قتادة عن محمد بن سيرين عن عمران بن حصين و سمرة بن جندب عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : هما السكتتان يفعل ذلك في نفسه إذا افتتح الصلاة وإذا نهض من الجلوس في الركعتين

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو قتل کیا تو مقتول کا سامان قتل کرنے والے کے لیے ہے۔

إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ ← عوف معمر العودي ← الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو هَمَّامٍ الْخَارَكِيُّ ← ريحان أبو غسان ← بَكْرُ بْنُ مُقْبِلٍ الْبَصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7010

chevron_left Previous
1…626364…73
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter