المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سوادة بن حنظلة القشيري عن سمرة · حديث 6999
6983 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم أبو النعمان ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني محمد بن أبي بكر المقدمي قالا ثنا حماد بن زيد ثنا عبد الله بن سوادة عن أبيه قال سمعت سمرة بن جندب رضي الله عنه يقول Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يغرنكم من سحوركم أذان بلال ولا بياض الصبح هكذا - ورفع يديه - حتى يطير في الأفق وعرض بيده
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات میں ہوتے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ سے فرمایا کرتے تھے: کیا تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟ راوی کا بیان ہے : پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہم بیان کر تے جو اللہ چاہتا کہ ہم بیان کریں۔ راوی کا بیان ہے کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک شان یہ ہے کہ آج رات میرے پاس دو آدمی آئے یا دو آنے والے‘ پس انہوں نے مجھے اٹھایا اور مجھ سے کہا: چلو! پس میں ان کے ساتھ چلا‘ ہم ایک پہلو کے بل لیٹے ہوئے آدمی کے پاس آئے۔ پس ایک دوسرا آدمی اس پر چٹان کے ساتھ کھڑا تھا جبکہ وہ اس کے سر کے لیے چٹان کو نیچے کرتا ہے۔ پس وہ اس کا سر کچل دیتا ہے۔ پس پتھر لڑھک جاتا ہے۔ پس وہ اس کو پکڑ لیتا ہے‘ پس وہ اس کی طرف واپس نہیں آتا ہے یہاں تک کہ اس کا سر درست ہو جاتا ہے جس طرح پہلے ہوتا ہے‘ پھر وہ لوٹتا ہے تو اسی طرح کرتا ہے جس طرح اس نے پہلے کیا ہوتا ہے ( یہ عمل مسلسل جاری ہے )۔ میں نے ان دو آدمیوں سے کہا: اللہ پاک ہے! یہ کیا ہے؟ انہوں نے مجھے کہا: چلو! پس ہم چلے ‘ پس ہم ایک ایسے آدمی کے پاس آئے جو گدی کے بل چت لیٹا ہوا ہے۔ جبکہ ایک دوسرا آدمی لوہے کی موٹی سلاخ لے کر کھڑا ہے اور اچانک وہ آتا ہے‘ اس کے چہرے کے دونوں حصوں میں سے ایک کے پاس۔ پس وہ اس کی باچھ سے اس کی گدی تک درانتی کی طرح دندانے بنا دیتا ہے پھر وہ دوسری طرف پھر جاتا ہے۔ پس اس کے ساتھ بھی وہی کام کرتا ہے‘ پس وہ اس کام سے مکمل طور پر فارغ نہیں ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی پہلی طرف درست ہو جاتی ہے جس طرح پہلے تھی‘ پھر وہ اس کی طرف لوٹتا ہے‘ پس وہ اسی کے ساتھ اس طرح کرتا ہے جیسے پہلی مرتبہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے ان سے کہا: یہ دو کیا ہیں؟ انہوں نے مجھ سے کہا: چلو! پس ہم چلے تو ایک تنور جیسی دیوار پر آئے۔ راوی کا بیان ہے: میرا گمان ہے کہ آپ نے فرمایا: پس میں نے اوٹ پٹانگ باتیں اور آوازیں سماعت کیں۔ فرماتے ہیں: ہم نے اس میں جھانک کر دیکھا تو ہماری نظر پڑی کہ کچھ ننگے مرد اور عورتیں ہیں اور اچانک ان کے نیچے سے آگ کا شعلہ آتا ہے‘ پس جب انہیں آگ کا شعلہ پہنچتا ہے تو وہ شور کرتے ہیں۔ میں نے ان دونوں سے کہا: سبحان اللہ! یہ کیا ہیں؟ انہوں نے مجھ سے کہا: چلو! پس ہم چلے تو ایک نہر پر آئے۔ ( راوی کہتا ہے:) میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سرخ خون کی مانند۔ اس نہر میں ایک آدمی تیر رہا تھا اور اس نہر کے کنارے ایک آدمی تھا جس نے پتھر اکٹھے کر رکھے تھے‘ تیرنے والا آدمی تیرتا جتنا وہ تیرتا پھر وہ اس کے پاس آتا جس نے پتھر اکٹھے کر رکھے تھے۔ پس وہ اس کے سامنے اپنا منہ کھولتا اور وہ اس میں ایک پتھر ڈال دیتا تھا۔ پس وہ چلا جاتا وہ تیرتا رہتا جتنا وہ تیرتا پھر وہ لوٹ آتا‘ جب بھی وہ لوٹتا تو وہ اپنا منہ کھولتا اور دوسرا آدمی اس کے منہ میں پھر پھینک دیتا تھا۔ میں نے ان دونوں سے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے مجھ سے کہا: چلو! پس ہم چل کر ایک ایسے آدمی کے پاس آئے جو انتہائی بھیانک منظر والا تھا‘ جتنا ناپسندیدہ آپ نے کوئی نہ دیکھا ہو گا‘ ایک آگ ہے جسے وہ بھڑکاتا ہے اور اس کے گرد چکر لگاتا ہے۔ فرماتے ہیں: میں نے دونوں سے کہا: یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے مجھے کہا: چلو! پس ہم چلے۔ پس ہم ایک گھاس والے باغ پر آئے‘ اس میں ہرقسم کی گھاس تھی‘ اس باغ کے درمیان ایک لمبا تڑنگا آدمی تھا‘ قریب تھا کہ میں اس کے سر کو لمبائی میں آسمان میں جاتا ہوا دیکھوں‘ اس کے اردگرد بہت سارے خوبصورت بچے تھے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے ان دونوں سے کہا: سبحان اللہ! یہ کیا ہے؟ اور یہ بچے کیا ہیں؟ ان دونوں نے مجھ سے کہا: چلو! پس ہم ایک بہت بڑے پھیلے ہوئے گنجان درخت تک پہنچے۔ میں نے اتنا بڑا اور اتنا خوبصورت درخت نہ دیکھا تھا۔ فرماتے ہیں : ان دونوں نے مجھے کہا: اس میں چڑھیں‘ پس ہم ایک شہر تک پہنچے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا‘ پس ہم شہر کے دروازے کے پاس پہنچے‘ پس ہم نے اس کے کھلنے کی خواہش کی تو ہمارے لیے اسے کھولا گیا۔ پس ہم اس میں داخل ہوئے تو ہمیں اس میں کچھ لوگ ملے جن کی طرف تو اتنی خوبصورت تھی جیسی تو نے دیکھی نہ ہو اور ایک طرف اتنی بدصورت کہ تو نے ایسا آدمی نہ دیکھا ہو۔ آپ فرماتے ہیں: تو ان دونوں نے کہا: جاؤ! اس نہر میں داخل ہو جاؤ جبکہ وہاں ایک ایسی نہ تھی جس میں بہت زیادہ سفید پانی چلتا تھا۔ فرماتے ہیں: وہ جا کر اس میں داخل ہو گئے پھر لوٹ کر ہماری طرف آئے اس حال میں کہ وہ تکلیف ان سے ہو چکی تھی‘ ان کی شکل خوبصورت ہو چکی تھی۔ فرماتے ہیں: ان دونوں نے مجھ سے کہا: یہ جنت عدن ہے اور یہ وہ جگہ ہے جو آپ کی منزل ہے۔ پس میں نے اپنی نظروں کو او پر اٹھایا۔ فرماتے ہیں: مجھے سفید بادل کی مانند ایک محل نظر آیا۔ فرماتے ہیں: انہوں نے مجھے بتایا: یہ آپ کی منزل ہے۔ میں نے ان سے کہا: اللہ آپ کو برکت دے! مجھے اجازت دو! مجھے چھوڑو! میں تو اس میں جاتا ہوں۔انہوں نے مجھ سے کہا لیکن ابھی آپ داخل نہ ہوں گے۔فرماتے ہیں: میں نے ان سے کہا: بے شک آج رات میں نے تعجب خیز چیزیں دیکھی ہیں۔ پس یہ کیا ہے جو میں نے دیکھا ہے (لوگوں کی خاطر حکایت بنانے کیلئے پوچھا ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم تھا) انہوں نے مجھ سے کہا: (اب) ہم آپ کو خبر دیتے ہیں کہ وہ پہلا آدمی جس پر آئے جس کا سر پھر سے کچلا جا رہا تھا‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ قرآن کا علم حاصل کرنے والا تھا لیکن فرض نماز کے وقت سو جاتا تھا۔ بہر حال وہ آدمی جس پر آپ آئے اور اس کی باچھوں‘ آنکھوں اور ناک کے دندانے بنائے جا رہے تھے تو وہ آدمی گھر سے نکلتا تھا تو جھوٹ بولتا تھا جو آسمان کے کناروں میں پھیل جاتا تو وہ ننگے مرد اور عورتیں جوتنور جیسی چا دیواری میں تھے وہ زانی تھے‘ لیکن وہ آدمی جو نہر میں تیر رہا تھا اور پھر نگل رہا تھا‘ وہ سود کھانے والا تھا۔ بہر حال وہ آدمی جس کے پاس مکر و بصورت عورت تھی تو وہ خازن جہنم مالک تھا‘ وہ آدمی جو باغ میں تھا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے اور وہ بچے جو ان کے اردگرد تھے وہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ راوی کا بیان ہے: اور بعض مسلمانوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا وہ مشرکین کے بچے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! وہ مشرکین کے بچے تھے اور وہ گروہ جن کی ایک طرف خوبصورت اور دوسری بدصورت تھی‘ وہ ایسے لوگ تھے جنہوں نے بعض اعمال اچھے کیے اور بعض اعمال بُرے کیے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر مہربانی فرمائی‘ ان کو معاف کر دیا۔
سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِيهِ ← عَبْد اللَّه بْنِ سَوَادَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6999
