Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ حصين بن أبي الحر عن سمرة · حديث 6806

6790 - حدثنا أحمد بن القاسم بن مساور ثنا عفان ثنا أبو عوانة عن عبد الملك بن عمير عن حصين بن أبي الحر عن أبي الحر عن سمرة Y عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کو چار باتیں بڑی پسند ہیں: لا اله الا الله‘ الله اكبر‘ سبحان الله‘ الحمد لله‘ تم جس کو بھی پہلے پڑھو کوئی حرج نہیں ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← سَمُرَةَ ← أبي الحر ← حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ، ← أحمد بن القاسم بن مساور

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6806

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الربيع بن عميلة عن سمرة بن جندب · حديث 6807

6791 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي زهير عن منصور عن هلال بن يساف عن الربيع بن عميله عن سمرة بن جندب قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحب الكلام إلى الله عز و جل أربع لا إله إلا الله الله أكبر وسبحان الله والحمد لله لا يضرك بأيهن بدأت

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کو چار باتیں بڑی پسند ہیں: لا اله الا الله‘ الله اکبر‘ سبحان الله‘ الحمد للہ‘ تم جس کو بھی پہلے پڑھوکوئی حرج نہیں ہے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← أَبِي زُهَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6807

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الربيع بن عميلة عن سمرة بن جندب · حديث 6808

6792 - حدثنا حفص بن عمر بن الصباح الرقي ثنا أبو معمر المقعد ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا يحيى الحماني قالا ثنا عبد الوارث بن سعيد عن محمد بن جحادة عن منصور عن عمارة بن عمير عن الربيع بن عميلة Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أحب الكلام إلى الله عز و جل الله سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر لا يضرك بأيهن ابتدأت

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بچوں کے نام یسار‘ رباح‘ نجیح اور افلح نہ رکھو‘ کیونکہ تو کہے گا: وہ کیا ہے؟ ایسا نہیں ہو گا‘ کہا جائے گا نہیں! وہ تو چوتھا ہے‘ ان پر اضافہ نہ کرو۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← مَنْصُورٌ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← يحيى الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6808

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الربيع بن عميلة عن سمرة بن جندب · حديث 6809

6793 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا زهير عن منصور عن هلال بن يساف عن الربيع بن عميلة عن سمرة بن جندب قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تسمين غلامك يسارا ولا رباحا ولا نجيحا ولا أفلحا فإنك تقول : أنتم هو ؟ فلا يكون فيقال : لا إنما هو أربع ولا تزيدوا عليهن

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بچوں کے نام رباح‘ نجیح‘ افلح اور یسار نہ رکھو۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← زُهَيْرٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6809

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الربيع بن عميلة عن سمرة بن جندب · حديث 6810

6794 - حدثنا حفص بن عمر الرقي ثنا أبو معمر المقعد ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق ثنا يحيى الحماني قالا ثنا عبد الوارث عن محمد بن جحادة عن منصور عن عمارة بن عمير عن الربيع بن عميلة عن سمرة Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تسم عبدك رباحا ولا نجيحا ولا أفلح ولا يسارا

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اپنے غلاموں کے چار نام رکھنے سے منع کیا: نافع‘ افلح ‘ رباح‘ یسار۔

لا تسم عبدك رباحا ولا نجيحا ولا أفلح ولا يسارا ← النبي صلى الله عليه و سلم ← سَمُرَةَ ← الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← مَنْصُورٌ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← يحيى الحماني ← وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6810

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الربيع بن عميلة عن سمرة بن جندب · حديث 6811

6795 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق ثنا يحيى الحماني ثنا معتمر عن الركين بن الربيع عن أبيه عن سمرة قال Y نهانا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نسمي رقيقنا بأربعة : أسماء نافع و أفلح و رباح و يسار

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھائی‘ آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔

سَمُرَةَ ← أَبِيهِ ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← مُعْتَمِرٌ ← يحيى الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6811

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ثعلبة بن عباد العبدي عن سمرة · حديث 6812

6796 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن الأسود بن قيس عن أبي عباد عن سمرة بن جندب Y أن رسول صلى الله عليه و سلم صلى بهم في كسوف الشمس لا يسمع له صوت

حضرت ثعلبہ بن عباد العبدی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہوئے سنا: اسی اثناء میں کہ میں اور ایک انصاری جوان تیراندازی (یا نشانہ بازی) کر رہے تھے کہ سورج طلوع ہوا۔ پس وہ دیکھنے والے کی نظر میں دو یا تین نیزوں کی مقدار تھا‘ پھر وہ چمکا حتٰی کہ خوب روشن ہو گیا گویا کہ وہ صحرائی درخت ہے‘ پس ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ہمیں لے چلو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور اپنی امت کے کام میں سورج گرہن کی حدیث بیان فرمائیں گے۔ پس ہم چل کر مسجد تک آئے ‘ کیا دیکھتے ہیں کہ مسجد بڑی مصیبت کی وجہ سے بھری ہوئی ہے اور یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی نشانی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگے ہو کر لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس کے بعد تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں قیام کرایا اس سے لمبا جو نماز میں ہمیں کراتے تھے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز نہیں سن رہے تھے ( کیونکہ دور تھے‘ معلوم نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا پڑھا) پھر ہمیں لمبا رکوع کروایا جتنا کہ نماز میں کراتے تھے‘ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز نہیں سن سکتے تھے۔ پھر ہمیں اس سے لمبا سجدہ کروایا جو نماز میں کرواتے تھے لیکن ہم آپ کی آواز نہیں بن پا رہے تھے۔ پھر دوسری رکعت میں اسی طرح کیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قعدہ کر کے فارغ ہوئے تو سورج روشن ہو گیا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا۔ پس اللہ کی حمد وثناء کی‘ گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دی کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر فرمایا : اے لوگو! میں بشر رسول ہوں (فرشتہ رسول نہیں‘ مجھ سے اجنبیت محسوس نہ کرو) میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں‘ اگر تم جانتے ہو کہ میں اپنے رب کے پیغامات پہنچانے سے کسی شی کی کمی کی ہے تو تم نے مجھے نہیں بتایا‘ پس میں نے اپنے رب کے پیغامات ایسے پہنچائے جیسے ان کو پہنچانے کا حق تھا اور اگر میں نے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا تو تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔ پس انہوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا ہے اور اپنی امت کیلئے مخلص ہیں اور آپ نے وہ فرض پورا کر دیا جو آپ کے اوپر تھا۔ پھر فرمایا: اس کے بعد بے شک کچھ لوگ گمان کرتے ہیں کہ یہ سورج اور یہ چاند یا ستاروں کا اپنی طلوع کی جگہ سے ہٹ جانا‘ زمین کے بڑے لوگوں کی وجہ سے ہوتا ہے‘ وہ جھوٹے ہیں بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کیلئے عبرت کا سامان کرتا ہے تاکہ وہ دیکھیں کہ ان میں سے کون توبہ کرتا ہے۔ تحقیق یہاں کھڑے ہوئے مجھے دکھایا گیا اس حال میں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ تم اپنی دنیا و آخرت میں ملنے والے نہیں ہو اور قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ تیس کذاب آئیں۔ ان کے آخر میں کانا دجال ہو گا‘ اس کی بائیں آ نکھ گویا بوڑھے انصاری ابو تحیی کی آنکھ ہے۔ اس کے حضرت عائشہ کے حجرے کے درمیان ہے اور جب وہ نکلے گا تو گمان کرے گا کہ وہی خدا ہے‘ پس جو اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی‘ اس کو اس سے پہلے کیا ہوا کوئی نیک عمل فائدہ نہ دے گا۔ جس نے اس کا انکار کیا اور اسے جھٹلایا تو اس کے لیے اعمال میں سے کسی عمل پر سزا نہیں دی جائے گی‘ وہ ساری زمین پر ظاہر ہو گا مگر حرم اور بیت المقدس میں نہیں آئے گا۔ مؤمن بیت المقدس میں محصور ہو جائیں گے اور بہت زیادہ تنگ اور پریشان ہوں گے۔ اسود بن قیس نے کہا: میرا گمان ہے کہ آپ نے فرمایا: حضرت عیسیٰ بن مریم علیہا السلام ان میں صبح کریں گے۔ پس اللہ اس کو اور اس کے لشکر کو شکست دے گا حتٰی کہ دیوار کا بقیہ اور درخت کی شاخ بھی پکار کر مؤمن کو بتائے گی کہ یہ کافر ہے۔ میرے ساتھ چھپ گیا ہے۔ آؤ اور آ کر اسے قتل کر دو۔ یہ سارا کام اس طرح نہ ہو گا یہاں تک کہ تم ایسی بڑی چیزیں دیکھو جو تمہارے نزدیک بڑی سنجیدہ ہوں یہاں تک کہ تم ایک دوسرے سے سوال کرو گے‘ کیا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارے لیے ان میں سے کسی چیز کا ذکر کیا تھا؟ اور حتٰی کہ پہاڑ اپنی جگہوں سے ہٹ جائیں گے‘ پھر اس کے بعد موت ہو گی‘ موت ہو گی۔ حضرت ابن مبارک نے ’’القبض “ کا معنی موت بیان فرمایا ہے۔

أَبِي عَبَّادٍ، ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6812

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ثعلبة بن عباد العبدي عن سمرة · حديث 6813

6797 - حدثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا حبان بن موسى ( ح ) وحدثنا أبو سعد يحيى بن منصور الهروي ثنا سويد بن نصر قالا ثنا عبد الله بن المبارك عن سفيان عن الأسود بن قيس عن ثعلبة بن عباد العبدي قال Y سمعت سمرة بن جندب في خطبته يقول : بينا أنا وغلام من الأنصار نرمي غرضا إذ طلعت الشمس فكانت في عين الناظر على قدر رمحين وثلاثة ثم أشرقت حتى أضاءت كأنها تنومة فقال أحدنا لصاحبه : اذهب بنا ليحدثن رسول الله صلى الله عليه و سلم في كسوف الشمس في شأن أمته حديثا فانتهينا إلى المسجد فإذا المسجد ملآن يتأزز ووافق ذلك خروج رسول صلى الله عليه و سلم واستقدم وصلى بالناس ونحن بعده فقام بنا كأطول ما قام بنا في صلاة لا نسمع له صوتا ثم ركع بنا كأطول ما ركع بنا في صلاة لا نسمع له صوتا ثم سجد بنا كأطول السجود ما نسمع له صوتا ثم فعل في الثانية مثل ذلك ووافق تجلي الشمس قعود رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم انصرف فحمد الله وأثنى عليه وشهد أن لا إله إلا الله وشهد أنه عبده ورسوله ثم قال : أيها الناس إنما أنا بشر رسول أذكركم بالله إن كنتم تعلمون إني قصرت عن شيء من تبليغ رسالات ربي لما أخبرتموني فبلغت رسالات ربي كما ينبغي لها أن تبلغ وإن كنت بلغت رسالات ربي لما أخبرتموني ؟ فقالوا : نشهد أنك بلغت رسالات ربك ونصحت لأمتك وقضيت الذي عليك ثم قال : أما بعد فإن رجالا يزعمون أن كسوف هذه الشمس وهذا القمر أو زوال النجوم عن مطالعها لموت رجال من عظماء الأرض وإنهم قد كذبوا ولكن هو آيات من آيات الله يعتبر بها عباده لينظر من يحدث له منهم توبة فقد أريت في مقامي وأنا أصلي ما أنتم لاقون في دنياكم وآخرتكم ولا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا آخرهم أعور الدجال ممسوح العين اليسرى كأنها عين أبي تحيى - شيخ من الأنصار بينه وبين حجرة عائشة - وإنه متى خرج يزعم أنه الله فمن آمن به وصدقه لم ينفعه صالح من عمله سلف ومن كفر به وكذب به لم يعاقب بشيء من عمل سلف وإنه سيظهر على الأرض كلها إلا الحرم وبيت المقدس وإنه سيحصرالمؤمنون في بيت المقدس وإنه سيحصر المؤمنون في بيت المقدس حصرا شديدا ويؤزلون أزلا شديدا قال الأسود بن قيس وحسبت أنه قال : يصبح فيهم عيسى بن مريم صلى الله عليه و سلم فيهزمه الله وجنوده حتى إن جذم الحائط وغصن الشجر لينادي المؤمن يقول : هذه كافر استتر بي تعال فاقتله وإن لم يكن ذلك كذلك حتى ترون أشياء من شأنكم يتفاقم في أنفسكم حتى تساءلون بينكم هل ذكر نبيكم من هذا ذكرا وحتى تزول الجبال عن مراتبها ثم يكون على ذلك القبض القبض قال ابن المبارك : أي الموت

حضرت ثعلبہ بن عبادہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مشاہدہ کیا اس حال میں کہ وہ خطبہ دے رہے تھے۔ پس انہوں نے اپنے خطبہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث ذکر کی۔ فرماتے ہیں : میں اور ایک انصاری بچہ تیراندازی کر رہے تھے‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ تھا‘ جب سورج طلوع ہوا تو وہ دین ولے کی آنکھ میں ایسے تھا جیسے افق سے ایک یا دو نیز وں کی قید میں ہے۔ پس وہ کالا سیاہ ہو گیا یہاں تک کہ (پھر) روشن ہو گیا‘ گویا کہ وہ کلونجی کا دانہ ہے۔ پس ان دو میں سے ایک نے دوسرے ساتھی کو کہا: ہم مسجد نبوی میں چلیں۔ پس قسم بخدا! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور اپنی امت میں آج اس سورج کے حوالے سے کوئی بات کریں گے۔فرماتے ہیں: پس ہم دوڑ کر مسجد کی طرف گئے۔ ادھر سے ہم گئے‘ ادھر سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی طرف نکلے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگے ہو کر نماز پڑھائی۔ ہمیں لمبا قیام کروایا‘ اس سے جتنا کہ عام طور پر نماز میں کرواتے تھے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز نہیں بن پا رہے تھے‘ پھر آپ نے ہمیں لمبا رکوع کروایا جیسا کبھی نماز میں نہ کروایا تھا۔ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی‘ پھر آپ نے ہمیں اتنا لمبا سجدہ کروایا کہ کبھی نماز میں اتنا لمبا سجدہ نہ کروایا تھا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز نہیں سن سکتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر ہمیں ایک اور رکعت پہلے کی طرح پڑھائی‘ پھر بیٹھ گئے۔ پس ادھر آپ کا بیٹھنا مکمل ہوا‘ ادھر سورج کی روشنی مکمل ہوئی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام پھیر کر مڑے تو اللہ کی حمد وثناء کی پھر فرمایا: اے لوگو! میں تمہیں اللہ کا نام دے کر پوچھتا‘ اگر تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ یقیناً تم نے مجھے نہیں بتایا اور اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کا پیغام پہنچانے میں کوئی کمی کی ہے تو بھی آپ نے مجھے نہیں بتایا۔ لوگوں نے ( بیک زبان ہو کر) کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا‘ اپنی امت کے لیے خوب نصیحت کی اور اپنا فرض نبھا دیا۔ پھر فرمایا: اس کے بعد کچھ لوگ گمان کرتے ہیں‘ سورج اور ستاروں کا اپنے طلوع کی جگہ سے ہٹ جانا‘ اہل زمین کے کسی بڑے کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے‘ بے شک وہ جھوٹ بولتے ہیں بلکہ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں‘ ان کے ذریعے اس کے بندے عبرت حاصل کرتے ہیں تاکہ وہ دیکھے ان میں سے کون توبہ کرتا ہے۔ قسم بخدا! میں نے دیکھا ہے کہ جنب میں نماز پڑھ رہا تھا کہ تم اپنے دنیا و آخرت کے امر کو نہیں ملو گے اور قسم بخدا! قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ تیس جھوٹے آدمی پیدا ہوں‘ ان میں سے آخری جھوٹا کا نا دجال ہو گا‘ اس کی بائیں آنکھ لپٹی ہوئی ہو گی‘ گویا وہ ابو تحیی کی آنکھ ہے‘ یہ انصار میں سے ایک بوڑھا آدمی تھا‘ پس جب وہ نکلے گا تو وہ اپنے آپ کو خدا گمان کرے گا۔ پس جو اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی تو اس کو کوئی نیک عمل فائدہ نہ دے گا جو اس نے کیا ہو گا اور جس نے اس کا انکار کیا اور اس سے جنگ کی تو اس کو اس کے کسی عمل کی سزا نہ دی جائے گی۔ حرم شریف اور بیت المقدس کے علاوہ‘ وہ ساری زمین پر ظاہر ہو گا۔ پس وہ لوگوں کو بیت المقدس کی طرف ہانک دے گا‘ پس وہ بیت المقدس میں محصور ہو جائیں گے۔ راوی فرماتے ہیں: میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس حضرت عیسیٰ بن مریم ان میں صبح کریں گے۔ اس کو اور اس کے لشکر کوقتل کریں گے حتٰی کہ پتھر یا دیوار کا بقیہ حصہ پکارے گا: اے مسلمان! یا اے مؤمن! یہ کافر میرے ساتھ چھپا ہوا ہے‘ آ کر اسے قتل کر دے۔ یہ کام ہرگز نہیں ہو گا حتٰی کہ تم بڑے بڑے کام نہ دیکھ لو‘ تمہاری جانوں میں وہ بہت سنگین ہوں گے۔ تم ایک دوسرے سے پوچھو گے: کیا تمہارے نبی نے اس میں سے کسی چیز کا ذکر فرمایا تھا؟ پھر فرمایا: اس کے ساتھ ہی بعد میں موت ہو گی۔

بَيْنَا ← سمرة بن جندب في خطبته ← ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْعَبْدِيِّ، ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعْدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْهَرَوِيُّ، ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6813

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ثعلبة بن عباد العبدي عن سمرة · حديث 6814

6798 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا يحيى الحماني قالا ثنا أبو عوانة عن الأسود بن قيس عن ثعلبة بن عباد قال Y شهدت سمرة بن جندب وهو يخطب فذكر في خطبته حديثا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : بينما أنا وغلام من الأنصار نرمي غرضين لنا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ طلعت الشمس فكانت في عين الناظر قيد رمح أو رمحين من الأفق فاسودت حتى أضاءت كأنها تنوهة فقال أحدهما لصاحبه : انطلق بنا إلى مسجد النبي صلى الله عليه و سلم فوالله ليحدثن له من أمر هذه الشمس اليوم في أمته حديثا قال فدفعنا إلى المسجد فوافقنا رسول الله صلى الله عليه و سلم حين خرج إلى الناس فاستقدم فصلى فقام بنا كأطول ما قام بنا في صلاة قط ما نسمع له صوتا ثم ركع بنا كأطول ما ركع بنا في صلاة قط ما نسمع له صوتا ثم سجد بنا كأطول ما سجد بنا في صلاة قط ما نسمع له صوتا ثم قام فصلى بنا ركعة أخرى مثلها ثم جلس فوافق جلوسه تجلي الشمس فسلم وانصرف فحمد الله و أثنى عليه ثم قال : يا أيها الناس أذكركم الله إن كنتم تعلمون أني قد بلغت رسالة ربي لما أخبرتموني وإن كنتم تعلمون أني قصرت عن شيء من تبليغ رسالة ربي لما أخبرتموني قالوا : نشهد إنك بلغت رسالة ربك ونصحت لأمتك وقضيت الذي عليك ثم قال : أما بعد فإن رجالا يزعمون أن كسوف هذه الشمس وخسوف هذا القمر و زوال النجوم عن مطالعها لموت رجال عظماء من أهل الأرض وإنهم قد كذبوا ولكن إنما هي آيات الله يعتبر بها عباده لينظر من يحدث له منهم توبة وإني والله لقد رأيت ما أنتم لاقون من أمر دنياكم و آخرتكم منذ قمت أصلي وإنه والله لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا آخرهم الأعور الدجال ممسوح العين اليسرى كأنها عين أبي تحيى - شيخ بينه وبين حجرة عائشة من الأنصار - فإنه متى يخرج فسوف يزعم أنه الله فمن آمن به وصدقه فليس ينفعه صالح من عمله سلف ومن كفر به و قاتله فليس يعاقب بشيء من عمله سلف وإنه سيظهر على الأرض كلها غير الحرم - وبيت المقدس وإنه يسوق الناس إلى بيت المقدس فيحصرون حصرا شديدا قال : وأحسبه أنه قال فيصبح فيهم عيسى بن مريم فيقتله وجنوده حتى إن الحجر أو جذم الحائط ينادي : يا مسلم أو يا مؤمن هذا كافر مستتر بي فتعال فاقتله ولن يكون ذلك حتى ترون أمورا عظاما يتفاقم شأنها في أنفسكم وتساءلون بينكم هل كان نبيكم صلى الله عليه و سلم ذكر لكم منها ذكرا ثم قال : على إثر ذلك القبض

حضرت ثعلبہ بن عبادہ عبدی فرماتے ہیں: میں نے ایک دن حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خطبہ دیکھا‘ پس انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کر کے اپنے خطبہ میں ذکر کیا۔ فرمایا: اسی دوران کہ میں اور ایک انصاری بچہ تیراندازی کر رہے تھے‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ تھا‘ حتٰی کہ جب سورج افق سے دو یا تین نیزوں کی مقدار ہو گیا‘ دیکھنے والے کی آنکھ میں حتٰی کہ سیاہ ہو گیا پھر روشن ہو گیا گویا کہ وہ کلونجی کا دانہ ہے۔ پس ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ہمیں مسجد میں جانا چاہیے۔ پس قسم بخدا! اس سورج کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور کوئی بات فرمائیں گے۔ پس میں مسجد میں گیا تو مسجد بھری ہوئی تھی‘ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موافقت کی‘ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی طرف تشریف لائے‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے ہوئے‘ پس آپ نے ہمیں قیام کر وایا‘ اس سے کہیں لمبا جو کبھی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیام کرواتے تھے‘ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز نہیں بن پا رہے تھے۔ پھر آپ نے لمبا رکوع کیا جتنا کبھی نماز میں رکوع نہ کیا ہو‘ ہم آپ کی آواز نہیں سن ہے تھے‘ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا پڑھا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا سجدہ کیا‘ جتنا نماز میں کبھی نہ کیا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سننے سے محروم رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی اسی کی مثل کیا‘ دوسری رکعت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا قعدہ کیا یہاں تک کہ سورج خوب روشن ہو گیا پھر آپ نے سلام پھیرا۔ پھر اللہ نے حمد وثناء کی‘ اللہ کے معبود ہونے کی گواہی دی اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے او رسول ہیں۔ پھر فرمایا: ا۔ لوگو! بے شک میں بشر رسول ہوں (فرشتہ نہیں ) میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں‘ اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کا پیغام پہنچانے میں کوئی کمی ہے تو تم لوگوں نے مجھے بتایا نہیں؟ پس ( جہاں تک مجھے معلوم ہے ) میں اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا جیسے پہنچانا چاہیے تھا ( کیوں نہیں! بتاؤ ناں) ؟ اور اگر تم سمجھتے ہو کہ میں نے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا ہے تو تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟ پس (ایک دم ) لوگ کھڑے ہو گئے۔ پس انہوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا ہے اور اپنی امت کو خوب نصیحت کی اور جو آپ پر فرض تھا اسے پوا کر دیا ہے‘ پھر لوگ خاموش ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد کچھ لوگ گمان کرتے ہیں کہ یہ سورج وچاند کا گرہن اور ان ستاروں کا کبھی اپنی طلوع کی جگہ سے اِدھر اُدھر ہو جانا‘ اہل زمین کے بڑے لوگوں کی وجہ سے ہوتا ہے‘ بے شک ان لوگوں کا گمان جھوٹا ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں‘ ان کے ذریعے اللہ کے بندے عبرت حاصل کرتے ہیں تاکہ وہ دیکھے کہ ان میں سے کون توبہ کرتا ہے اور بے شک جب میں نماز میں کھڑا تھا تو میں نے دیکھا ہے کہ تم اپنے دنیوی و دینی امر میں ملنے والے نہیں ہواور قسم بخدا! قیامت قائم نہ ہو گی جب تک تیس جھوٹے نہ آئیں‘ ان میں سے آخری چھوٹا کا نا دجال ہو گا‘ اس کی بائیں آنکھ مسخ ہو گی‘ گویا کہ وہ انصاری بوڑھے ابو تحیی کی آنکھ ہے‘ اس وقت وہ آپ کے اور حضرت عائشہ کے حجرہ کے درمیان تھا اور بے شک جب وہ نکلے گا تو اس کا گمان یہی ہو گا کہ وہ خدا ہے۔ پس جو اس پر ایمان لایا‘ اس کی تصدیق کی اور اس کے پیچھے چلا۔ اس کو اس کا کیا ہوا کوئی عمل نفع نہ دے گا اور جس نے اس کا انکار کیا اور اس کو جھٹلایا‘ اس سے اس کے کسی عمل کا مؤاخذہ نہیں کیا جائے گا‘ وہ حرم شریف اور بیت المقدس کے علاوہ ہر جگہ آئے گا۔ وہ مسلمانوں کو بیت المقدس میں محصور کر دے گا‘ وہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے سخت پریشان ہوں گے پھر اللہ‘ اس کو اور اس کے لشکر کو ہلاک کرے گا حتٰی کہ دیوار کا بقیہ حصہ اور درخت کا تنا بھی کہے گا: اے مؤمن ! یا اے مسلمان! یہ کافر ہے ( جو میرے ساتھ چھپا ہوا ہے ) آ کر اسے قتل کر دے۔ (اور یاد رکھو!) یہ سب کچھ نہیں ہو گا یہاں تک کہ تم بڑے بڑے کم دیکھو جن کا معاملہ تمہارے دلوں میں بہت سنجیدہ اور اہم ہو گا۔ پھر تم ایک دوسرے سے سوال کرو گے‘ کیا تمہارے نبی ان میں سے کوئی چیز تمہارے لیے ذکر کی تھی؟ حتٰی کہ پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں گے‘ پھر اس کے بعد موت ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کیا اور دائیں بائیں اشارہ فرمایا‘ پھر میں حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خطبہ میں شامل ہوا‘ پس آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث ذکر کی‘ نہ تو انہوں نے کوئی کلمہ آگے کیا اور نہ اپنی جگہ سے پیچھے کیا۔

بَيْنَمَا ← فِي خُطْبَتِهِ حَديثاً ← شهدت سمرة بن جندب وهو يخطب ← ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يحيى الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6814

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ثعلبة بن عباد العبدي عن سمرة · حديث 6815

6799 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل ( ح ) وحدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي قالا ثنا زهير الأسود بن قيس عن ثعلبه بن عباد العبدي قال Y شهدت خطبة يوما لسمرة بن جندب فذكر في خطبته عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : بينا أنا وغلام من الأنصار نرمي غرضين لنا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى إذا كانت الشمس قدر رمحين أو ثلاثة في عين الناظرين من الأفق اسودت حتى أضاءت كأنها تنومة فقال أحدنا لصاحبه : انطلق بنا إلى المسجد فو الله ليحدثن شأن هذه الشمس لرسول الله صلى الله عليه و سلم أمته حدثا فذهبت إلى المسجد فإذا هو يتأزر - يعني ممتلىء - فوافقنا رسول الله في حين خرج إلى الناس فاستقدم فقام بنا كأطول ما قام بنا في صلاة قط ما نسمع له صوتا ثم ركع كأطول ما ركع بنا في صلاة قط ما نسمع له صوتا ثم سجد كأطول ما سجد بنا في صلاة قط لا نسمع له صوتا ثم قعد في الركعة الثانية مثل ذلك فوافق تجلي الشمس جلوسه في الركعة الثانية فسلم ثم حمد الله وأثنى عليه وشهد أن لا إله إلا هو و أنه عبد الله ورسوله ثم قال : أيها الناس إني إنما أنا بشر رسول فأنشدتكم بالله إن كتنم تعلمون أني قصرت عن شيء من تبليغ رسالات ربي لما أخبرتموني فبلغت رسالات ربي كما ينبغي لها أن تبلغ ؟ وإن كنتم تعلمون أني قد بلغت رسالات ربي لما أخبرتموني فقام الناس فقالوا : نشهد أنك قد بلغت رسالات ربك ونصحت لأمتك وقضيت الذي عليك ثم سكتوا ثم قال : أما بعد فإن رجالا يزعمون أن كسوف هذه الشمس وكسوف هذا القمر وزوال هذه النجوم عن مطالعها لموت رجال من عظماء أهل الأرض وإنهم قد كذبوا ولكن إنما هي آيات من آيات الله عز و جل يعتبر بها عباده لينظر من يحدث له منهم توبة وإني والله قذ رأيت منذ أقمت أصلي ما أنتم لاقون في أمر دنياكم و آخرتكم فإنه والله لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا آخرهم الدجال الأعور ممسوح العين اليسرى كأنها عين أبي يحيى - شيخ من الأنصار حينئذ بينه وبين حجرة عائشة - وإنه متى يخرج فإنه سوف يزعم أنه الله فمن آمن به وصدقه واتبعه لم ينفعة صالح عمله سلف ومن كفر به وكذبه لم يعاقب بشيء من عمله سلف وإنه سيظهر على الأرض كلها إلا الحرم وبيت المقدس لأنه يحصر المسلمين في بيت المقدس فيؤزلون أزلا شديدا ثم يهلكة الله وجنوده حتى لأن جذم الحائط وأصل الشجرة ليقول : يا مؤمن أو يا مسلم هذا كافر تعال اقتله ولن يكون ذلك حتى ترون أمورا عظاما يتفاقم شأنها في أنفسكم ثم تساءلون بينكم هل كان نبيكم صلى الله عليه و سلم ذكر لكم منها ذكرا وحتى تزول جبال عن مراتبها ثم على إثر ذلك القبض وقبض أصابعه وأشار يمينا وشمالا ثم شهدت خطبة لسمرة فذكر فيها هذا الحديث فما قدم كلمة ولا أخرها عن موضعها

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑوسی کے لیے فیصلہ کیا۔

بَيْنَا ← في خطبته ← شهدت خطبة يوما لسمرة بن جندب ← ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْعَبْدِيِّ، ← زهير الأسود بن قيس ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6815

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الحسن بن أبي الحسن البصري عن سمرة بن جندب رضي الله عنه باب قتادة عن الحسن · حديث 6816

6800 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم و مسلم بن إبراهيم قالا ثنا حماد بن سلمة عن قتادة عن الحسن عن سمرة Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قضى بالجوار

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھر کا پڑ وسی زیادہ حقدار ہے‘ دوسرے سے گھر اور زمین کا۔

سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أبو نعيم و مسلم بن إبراهيم ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6816

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الحسن بن أبي الحسن البصري عن سمرة بن جندب رضي الله عنه باب قتادة عن الحسن · حديث 6817

6801 - حدثنا محمد بن محمد التمار و أبوخليفة و محمد بن يعقوب بن سورة البغدادي قالوا ثنا أبو الوليد الطيالسي ثنا شعبة عن قتادة عن الحسن عن سمرة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : جار الدار أحق بالدار والأرض من غيره

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھر کا پڑوسی زیادہ حقدار ہے‘ دوسرے سے گھر کا۔

سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6817

chevron_left Previous
1…464748…73
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter