المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سمرة بن جندب عامر الشعبي عن سمرة بن جندب · حديث 6770
6754 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو عن أبي إسحاق الفزاري عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي عن سمرة بن جندب قال Y أقبل رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم على القوم فقال : ههنا من بني فلان أحد ؟ فسكت القوم وكان إذا ابتدأهم بشيء سكتوا ثم قال : ههنا من بني فلان أحد ؟ فقال رجل من القوم : هذا فلان قال : إن صاحبكم محبوس دون الجنة بدينه فقال رجل من القوم : علي دينه
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نماز جنازہ پڑھائی‘ جب سلام پھیرا تو فرمایا: بنی فلاں کا یہاں کوئی رہنے والا ہے؟ کوئی کھڑا نہ ہوا‘ آپ نے تین مرتبہ فرمایا‘ ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی : یارسول اللہ! میں ہوں! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں دو مرتبہ بلانے پر کھڑے ہونے سے کیا رکاوٹ تھی؟ میں نے تمہارا نام اچھائی کے لیے لیا ہے کہ فلاں آ دی جو مر گیا ہے وہ جنت میں جانے سے روک لیا گیا ہے‘ قرض اس کے ذمہ ہونے کی وجہ سے۔ حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : میں نے اس کے گھر والوں کو پریشان دیکھا‘ آپ نے فرمایا: اس کا قرض دو یہاں تک کہ کوئی شی باقی نہ رہے۔
سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6770
