Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الزهري عن السائب بن يزيد · حديث 6672

6656 - حدثنا موسى بن هارون ثنا إسحاق بن راهويه ثنا بقية بن الوليد ( ح ) وحدثنا عبدان بن أحمد ثنا محمد بن مصفى ثنا بقية عن الزبيدي عن الزهري عن السائب بن يزيد قال Y لم يقص على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا أبي بكر و عمر حتى كان أول من قص تميم الداري واستأذن عمر رضي الله عنه فأذن له فقص قائما

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی ہے اور صفر اور ہامہ کی نحوست کوئی شی نہیں ہے۔ (عربوں کے اعتقاد کے مطابق زمانہ جاہلیت میں ہامہ یہ تھا کہ جب کوئی قتل کیا جاتا ہے تو اس کے سر سے ایک پرندہ نکل کر اس بدلہ لینے تک اسقونی اسقونی کہتا رہتا ہے)

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← بَقِيَّةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← إِسْحَاقُ بْنُ رَاهُوَيْهِ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6672

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الزهري عن السائب بن يزيد · حديث 6673

6657 - حدثنا أبو أسامة الحلبي ثنا حجاج بن أبي منيع الرصافي ثنا جدي عن الزهري عن السائب بن يزيد قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا عدوى و لا صفر و لا هامة

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی ہے اور صفر اور ہامہ منحوس نہیں ہے۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← جَدِّي، ← حجاج بن أبي منيع الرصافي ← أَبُو أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6673

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الزهري عن السائب بن يزيد · حديث 6674

6658 - حدثنا عبد الرحمن بن جابر بن البختري الطائي ثنا بشر بن شعيب بن أبي حمزة عن أبيه ( ح ) وحدثنا أبو زيد أحمد بن يزيد الحوطي ثنا أبو اليمان ثنا شعيب بن أبي حمزة عن الزهري عن السائب بن يزيد Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا عدوى ولا صفر ولا هام

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی ہے اور صفر اور ہامہ نہیں ہے۔ (زمانہ جاہلیت میں عربوں کا خیال تھا کہ صفر ایک سانپ ہے جو پیٹ میں پیدا ہو جاتا ہے اور بھوک کے وقت آدمی کو ستاتا ہے اور یہ ایک متعدی بیماری ہے)

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← وحَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحُوطِيُّ، ← أَبِيهِ ← بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← عبد الرحمن بن جابر بن البختري الطائي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6674

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الزهري عن السائب بن يزيد · حديث 6675

6659 - حدثنا أحمد بن شعيب أبو عبد الرحمن النسائي أخبر أبو أمية عمرو بن هشام قال : وجدت في كتاب عتاب عن إسحاق بن راشد عن الزهري عن السائب بن يزيد Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا عدوى ولا صفر ولا هام

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیتے تھے‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فارس کے مجوسیوں سے لیا اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بربر سے لیا۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← إسحاق بن راشد ← وجدت في كتاب عتاب

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6675

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الزهري عن السائب بن يزيد · حديث 6676

6660 - حدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ثنا الحسين بن سلمة بن أبي كبشة ثنا عبدالرحمن بن مهدي عن مالك عن الزهري عن السائب بن يزيد Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخذ الجزية من مجوس هجر وأن عمر بن الخطاب أخذ من مجوس فارس وأخذها عثمان رضي الله عنه من بربر

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے دیتے تھے اور دونوں کے درمیان میں بیٹھتے تھے۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیٍّ، ← الحسين بن سلمة بن أبي كبشة ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6676

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الزهري عن السائب بن يزيد · حديث 6677

6661 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا الحسن بن سهل الخياط قال ثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن السائب بن يزيد Y أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يخطب يوم الجمعة خطبتين يجلس بينهما

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قاضی نہیں بنایا تھا‘ سب سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قاضی بنانے کی چاہت کی تو آپ نے فرمایا: مجھ سے لوگوں کو ایک درہم اور دو درہم کے فیصلہ میں پھیر دو۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← الحسن بن سهل الخيَّاط، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6677

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الزهري عن السائب بن يزيد · حديث 6678

6662 - حدثنا الحسين بن إسحاق ثنا هشام بن عمار ثنا الوليد بن مسلم ثنا ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب عن الزهري عن السائب بن يزيد Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبا بكر رضي الله عنه لم يتخذا قاضيا وأول من استقضى عمر رضي الله عنه قال له : رد عني الناس في الدرهم والدرهمين 0

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی مبارک حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال تک آپ کے ہاتھ میں رہی‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں شہید ہونے تک‘ پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں رہی‘ پھر آپ کے ہاتھ سے اریس نامی کنویں میں گر گئی۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6678

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الزهري عن السائب بن يزيد · حديث 6679

6663 - حدثنا جعفر بن سليمان النوفلي المدني حدثت إبراهيم بن المنذر الحزامي ثنا معن بن عيسى عن عيسى بن سبرة أبي عبادة الزرقي عن الزهري عن السائب بن يزيد قال Y كان خاتم رسول الله صلى الله عليه و سلم في يد أبي بكر رضي الله عنه حتى هلك ثم في يد عمر حتى هلك ثم في يد عثمان حتى سقط في بئر أريس

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں دیت سو اونٹ تھے‘ چار قسم کی عمر کے‘ پچیس حقہ‘ پچیس جذعہ‘ پچیس بنت لبون‘ پچیس بنت مخاض۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دور آیا تو شہروں کی تعمیر ہونے لگی‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: سب لوگوں کے پاس اونٹ نہیں ہیں‘ اونٹوں کی قیمت لگائی گئی اوقیہ کے ساتھ‘ ایک اوقیہ چار ہزار درہم کا تھا‘ پھر اونٹ مہنگے ہو گئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اونٹ کی قیمت لگاؤ! اونٹ کی قیمت دیڑھ اوقیہ لگائی گئی‘ اس کی قیمت سولہ درہم ہوئی‘ پھر اونٹ مہنگے ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اونٹ کی قیمت لگاؤ! اونٹ کی قیمت دو اوقیہ لگائی گئی‘ آٹھ ہزار درہم کا ایک اوقیہ ہو گیا۔ پھر اونٹ مہنگے ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اونٹ کی قیمت لگاؤ! اونٹ کی قیمت تین اوقیہ لگائی گئی اور تین اوقیہ کی قیمت پندرہ ہزار درہم ہوئے‘ چاندی والوں پر پندرہ ہزار‘ اونٹ والوں پر سو اونٹ سونے والوں پر ایک ہزار دینار اور حُلوں والوں پر دو سو حُلے ہر حلہ کی قیمت پانچ دینار تھی اور بھیٹر والوں پر سو بھیٹر اور بکریوں والوں پر ایک ہزار بکریاں اور گائے والوں پر دوسو گائے مقرر کی۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عيسى بن سبرة أبي عبادة الزرقي ← مَعْن بن عيسی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جعفر بن سليمان النوفلي المدني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6679

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الزهري عن السائب بن يزيد · حديث 6680

6664 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا محمد بن بكار ثنا أبو معشر عن صالح بن أبي الأخضر عن الزهري عن السائب بن يزيد قال Y كانت الدية على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم مئة من الإبل أربعة أسنان خمسة وعشرين حقة وخمسة وعشرين جذعة وخمسة وعشرين بنات لبون وخمسة وعشرين بنات مخاض حتى كان عمر رضي الله عنه و مصر الأمصار قال عمر ليس كل الناس يجدون الإبل فقوموا الإبل أوقية أوقية فكانت أربعة آلاف درهم ثم غلت الإبل فقال عمر رضي الله عنه : قوموا الإبل فقومت الإبل وقية ونصف فكانت ستة آلاف درهم ثم غلت الإبل فقال عمر رضي الله عنه : قوموا الإبل فقومت الإبل أوقيتين فكانت ثمانية آلاف درهم ثم غلت الإبل فقال عمر رضي الله عنه : قوموا الإبل فقومت ثلاثة أواق فكانت اثني عشر ألفا فجعل على أهل الورق اثني عشر ألفا وعلى أهل الإبل مئة من الإبل وعلى أهل الذهب ألف دينار وعلى أهل الحلل مئتي حلة قيمة كل حلة خمسة دنانير وعلى أهل الضأن ألف ضائنة وعلى أهل المعز مئة ألف ماعزة وعلى أهل البقر مئتي بقرة

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےمال ِفئی تقسیم کیا جو اللہ عزوجل نے جنگ حنین میں ہواز قبیلے کے عمال غنیمت دیئے تھے‘ مکہ والے قریش اور ان کے علاوہ پر مال تقسیم کیا گیا تو انصار ناراض ہوئے‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات سنی تو آپ ان کے گھروں میں آئے‘ پھر فرمایا: جو بھی انصاری ہے وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر آئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا‘ اللہ کی حمد کی‘ پھر فرمایا: اے انصار کے گروہ! کیا اللہ عزوجل نے تم پر ایمان لانے کا احسان نہیں کیا‘ تمہیں عزت کے ساتھ خاص نہیں کیا‘ تمہارا اچھا نام نہیں رکھا‘ تم اللہ اور اس کے رسول کے مددگار نہیں ہو؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا‘ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور تم دوسری وادی میں چلو تو میں تمہاری وادی میں چلوں‘ کیا تم خوش نہیں ہو کہ لوگ مال غنیمت‘ بکریاں‘ جانور اور اونٹ لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جاؤ! جب انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سنی تو انہوں نے عرض کی: ہم خوش ہیں ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: جو میں نے کہا وہ مجھے بتاؤ ؟ انصار نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اندھیرے میں تھے‘ اللہ عزوجل نے آپ کے ذریعہ ہمیں نور کی طرف نکالا‘ ہم جہنم کے کنارے پر تھے‘ اللہ عزوجل نے ہمیں آپ کے ذریعہ بچا لیا‘ ہم گمراہی میں تھے اللہ عزوجل نے آپ کے ذریعے ہمیں ہدایت دی‘ ہم اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی ہونے پر خوش ہیں‘ یا رسول اللہ ! جو چاہیں آپ کریں مقام حل کی وسعتوں میں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم ! اگر تم اس کے علاوہ بات کرتے تو میں تمہاری تصدیق کرتا‘ اگر تم کہتے کہ کیا آپ ہمارے پاس نہیں آئے‘ ہم نے آپ کو پناہ دی‘ آپ کو جھٹلایا گیا تو ہم نے آپ کی تصدیق کی‘ آپ کو پریشان کیا گیا تو ہم نے آپ کی مدد کی‘ ہم نے قبول کیا جو لوگوں نے آپ کی طرف واپس کیا‘ اگر تم یہ کہتے تو میں تصدیق کرتا۔ انصار نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول نے احسان کیا اور ہم پر فضل کیا اور ہمارے علاوہ پر۔ پھر انصار کثرت سے رونے لگے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے ساتھ رونے لگے‘ آپ ان سے راضی ہوئے‘ وہ ایسے ہو گئے جس طرح کہ ان سے سخت محبت ہوتی ہے‘ ان کے پاس ہرقسم کا مال تھا۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ ← أبو معشر ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6680

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الزهري عن السائب بن يزيد · حديث 6681

6665 - حدثنا الحسن بن علي المعمري ثنا أيوب بن محمد الوزان ثنا عبد الله بن سليم عن رشدين بن سعد عن يونس بن يزيد و عقيل عن الزهري عن السائب بن يزيد Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قسم الفيء الذي أفاء الله بحنين من غنائم هوازن فأفشى القسم من أهل مكة من قريش وغيرهم فغضب الأنصار فلما سمع النبي صلى الله عليه و سلم أتاهم في منازلهم ثم قال : من كان ههنا ليس من الأنصار فليخرج إلى راحلة ثم تشهد رسول الله صلى الله عليه و سلم وحمد الله عز و جل ثم قال يا معشر الأنصار قد بلغني من حديثكم في هذه المغانم التي آثرت بها أناسا أتألفهم على الإسلام لعلهم أن يشهدوا بعد اليوم وقد أدخل الله قلوبهم الإسلام ثم قال : يا معشر الأنصار ألم يمن الله عليكم بالإيمان وخصكم بالكرامة وسماكم بأحسن الأسماء وأنصار رسوله ؟ ولولا الهجرة لكنت امرءا من الأنصار ولو سلك الناس واديا وسلكتم واديا لسلكت واديكم أفلا ترضون أن يذهب الناس بهذه الغنائم الشاة والنعم والبعير وتذهبون برسول الله صلى الله عليه و سلم فلما سمعت الأنصار قول النبي صلى الله عليه و سلم قالوا : رضينا فقال النبي صلى الله عليه و سلم أجيبوني فيما قلت فقالت الأنصار : يارسول الله وجدتنا في ظلمة فأخرجنا الله بك إلى النور ووجدتنا على شفا حفرة من النار فأنقذنا الله بك ووجدتنا ضلالا فهدانا الله بك فرضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبينا فاصنع يارسول الله ما شئت في أوسع الحل فقال النبي صلى الله عليه و سلم أما والله لو أجبتموني بغير هذا القول لقلت : صدقتم لو قلتم : ألم تأتنا طريدا فآويناك ومكذبا فصدقناك ومخذولا فنصرناك وقبلنا مارد الناس عليك لو قلتم هذا لصدقتم فقالت الأنصار : بل الله ولرسوله المن والفضل علينا وعلى غيرنا ثم بكوا فكثر بكاءهم فبكى النبي صلى الله عليه و سلم معهم ورضي عنهم فكانوا بالذي قال لهم أشد اغتباطا وأفضل عندهم من كل مال

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چند بچیوں سے ملے جو پڑھ رہی تھیں‘ تم ہمیں زندہ رکھو‘ ہم تمہیں زندہ رکھیں گے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہرے‘ پھر ان کو بلوایا‘ آپ نے فرمایا: تم ایسے نہ کہو بلکہ پڑھو : ہم کو اور تم کو زندہ رکھا۔ ایک آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ! کیا آپ لوگوں کے لیے یہ رخصت دے رہے ہیں‘ آپ نے فرمایا: یہ نکاح ہے خون نہیں ہے‘ اس کے ذریعہ نکاح کا اعلان کرو۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يونس بن يزيد و عقيل ← رشدين بن سعد ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمٍ ← اَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6681

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ خصيفة أبو يزيد عن السائب بن يزيد · حديث 6682

6666 - حدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا جعفر بن محمد الوارق الواسطي ثنا خالد بن مخلد حدثني يزيد بن عبد الملك النوفلي عن يزيد بن خصيفة عن أبيه عن السائب بن يزيد قال Y لقي رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم دعاهن فقال : لاتقولوا هكذا ولكن قولوا حيانا وإياكم فقال الرجل : يارسول الله أترخص للناس من هذا ؟ قال نعم إنه نكاح لا سفاح أشيدوا بالنكاح

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لخت جگر حضرت طاہر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال با کمال ہوا تو حضور پر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے‘ عرض کی : یا رسول اللہ! آپ رور ہے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آنکھ روتی ہے‘ آنسو غالب آ جاتے ہیں اور دل پر یشان ہوتا ہے‘ لیکن ہم اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے ہیں۔

نعم إنه نكاح لا سفاح أشيدوا بالنكاح ← الرجل يارسول الله أترخص للناس من هذا ← لاتقولوا هكذا ولكن قولوا حيانا وإياكم ← لقي رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم دعاهن ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← أَبِيهِ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← جعفر بن محمد الوارق الواسطي ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6682

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ خصيفة أبو يزيد عن السائب بن يزيد · حديث 6683

6667 - حدثنا محمد بن نصر الصائغ ثنا محمد بن إسحاق المسيبي ثنا يحيى بن عبد الملك عن أبيه عن يزيد بن خصيفة عن أبيه عن السائب بن يزيد Y أن النبي صلى الله عليه و سلم لما هلك ابنه طاهر ذرفت عين النبي صلى الله عليه و سلم فقيل : يارسول الله بكيت ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم إن العين تذرف وإن الدمع يغلب وإن القلب يحزن ولا نعصي الله عز و جل

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوا‘ وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ ! ہم ہلاک ہو گئے‘ یہ کیسے معلوم ہو کہ ہمارے دلوں میں تکبر ہے اور وہ کہاں ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے صوف پہنی اور بکری کا دودھ پیا اپنے غلام کے ساتھ کھایا‘ اگر اللہ نے چاہا تو اس کے دل میں تکبر نہیں ہو گا۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← أَبِيهِ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6683

chevron_left Previous
1…353637…73
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter