Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ طاوس عن سراقة بن مالك · حديث 6611

6595 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا وكيع ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا إسحاق بن يوسف قالا ثنا مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن طاوس عن سراقة بن مالك بن جعشم قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا إن العمرة قد دخلت في الحج إلى يوم القيامة

حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بطحا وادی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: عمرہ قیامت کے دن تک حج میں داخل ہو گیا ہے۔

سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ← طَاوْسٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← مِسْعَرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، ← أَبِي ← وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6611

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ طاوس عن سراقة بن مالك · حديث 6612

6596 - حدثنا الحسن بن العباس و عبد الرحمن بن سلم الرازيان قالا ثنا سهل بن عثمان ثنا ابن أبي عتبة عن إدريس الأودي عن عبد الملك بن ميسرة الزراد عن عطاء عن طاوس عن سراقة بن مالك بن جعشم قال Y خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بالبطحاء فقال : ( دخلت العمرة في الحج إلى يوم القيامة )

حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج وعمرہ دونوں کا احرام اکٹھے باندھا‘ پس میں نے آپ سے سماع کیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے : عمرہ قیامت کے دن تک حج میں داخل ہو گیا ہے۔

دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ← خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بالبطحاء ← سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ← طَاوْسٍ ← عَطَاءٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ الزَّرّاد ← إدْرِيسَ الأَوْدِيِّ ← ابن أبي عتبة ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← الحسن بن العباس و عبد الرحمن بن سلم الرازيان

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6612

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ النزال بن سبرة عن سراقة · حديث 6613

6597 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا سعيد بن عمرو الأشعثي ثنا يونس بن بكير ثنا داود بن يزيد الأودي عن عبد الملك بن ميسرة عن النزال بن سبرة عن سراقة بن مالك بن جعشم قال Y أهل رسول الله صلى الله عليه و سلم بحجة وعمرة جميعا فسمعته يقول : دخلت العمرة في الحج إلى يوم القيامة

حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرض مرگ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض فرمائی‘ پس میں نے آپ سے دریافت کیا: پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جس شی کے بارے بھی پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ مجھے بتایا ہے حتٰی کہ میں اس رات میں کسی شی کا ذکر کرتا ہوں‘ اس چیز میں جو میں ذکر کرتا ہوں‘ فرماتے ہیں : جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا‘ وہ یہ تھا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: آپ کا کیا خیال ہے کہ آدمی اپنے حوض میں ڈول بھرے تو اس کے پاس اونٹوں میں سے آزاد چھوڑے ہوئے اور گم شدہ اونٹنی (سارے مل کر پی لیں) کیا اس کیلئے اس اونٹنی کو پلانے میں اجر ہو گا ؟ فرمایا: اجر ہے تیرے لیے ہر گرم جگر رکھنے والی چیز میں۔

دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ← أهل رسول الله صلى الله عليه و سلم بحجة وعمرة جميعا فسمعته ← سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ← النَّزَّالِ بْنِ1 سَبْرَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6613

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ عبد الرحمن بن كعب بن مالك بن جشعم عن عمه سراقة · حديث 6614

6598 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا بشر بن المفضل عن عبد الرحمن بن إسحاق عن الزهري عن عبد الرحمن بن مالك بن جعشم عن عمه سراقة بن مالك قال Y دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم في مرضه الذي قبضه الله فيه فسألته فما سألته عن شيء إلا أخبرنيه حتى إني لأذكر شيئا الليلة فيما أذكره قال : فكان مما سأله عنه أن قلت له : أرأيت الرجل يفرغ في حوضه فترد عليه الهمل من الإبل والضالة أله أجر في أن يسقيها ؟ فقال : لك في كل كبد حرى أجر

حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بیماری کے دوران حاضر خدمت ہوا‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان قبض فرمائی‘ اس کے بعد اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔

عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6614

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ عبد الرحمن بن كعب بن مالك بن جشعم عن عمه سراقة · حديث 6615

6599 - حدثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا وهب بن بقية ثنا خالد عن عبد الرحمن بن إسحاق عن الزهري عن عبد الرحمن بن مالك عن سراقة بن مالك عمه قال Y دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم في مرضه الذي قبضه الله فيه فذكر مثله

حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا اس گم شدہ جانور کے بارے میں جو کسی آدمی کے حوض پر وارد ہو (اور وہ اسے پانی پلائے) کیا اس کیلئے اجر ہے‘ اگر وہ اس کو خوب سیر کر کے پلائے؟ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گرم جگر رکھنے والی چیز میں اجر ہے۔

سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ عَمِّهِ ← عَبد الرحمن بن مالك، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6615

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ كعب بن مالك بن جشعم عن أخيه سراقة · حديث 6616

6600 - حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح ثنا حسان بن غالب ثنا ابن لهيعة حدثني يونس بن يزيد عن محمد بن إسحاق عن محمد بن مسلم عن عبد الله بن كعب بن مالك عن أبيه كعب بن مالك عن سراقه بن مالك Y أنه سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم كل عن الضالة ترد على حوضه هل له فيها أجر إن أشبعها ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم في كل ذات كبد حرى أجر

حضرت امام زہری سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن کعب مدلجی سے روایت ہے کہ ان کے والد گرامی نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے حضرت سراقہ کو کہتے ہوئے سنا: کفار قریش کے قاصد ہمارے پاس آئے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے ہر ایک کی دیت مقرر کرنے والے تھے‘ اس آدمی کیلئے جوان دونوں کو قتل کرے یا کم از کم ان کو قید کر کے لائے۔ فرماتے ہیں: اسی دوران کہ میں بنو مدلج قبیلے میں سے اپنی قوم کی مجلسوں میں ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ ان میں سے ایک آدمی آیا یہاں تک کہ ہمارے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے کہا: اے سراقہ ! میں نے تھوڑی دیر پہلے ساحل سمندر کے ساتھ سائے دیکھے ہیں‘ میرا خیال ہے کہ وہ ایک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور ان کے صحابہ۔ حضرت سراقہ نے کہا: پس مجھے پتہ چل گیا کہ وہ وہی ہیں‘ پس میں نے کہا: بے شک وہ‘ وہ نہیں ہیں بلکہ تو نے فلاں (نام ذکر کیا) اور فلاں (نام بتایا) کو دیکھا ہے‘ وہ باغی بن کر نکلے ہیں۔ حضرت سراقہ کہتے ہیں: پھر میں مجلس میں صرف ایک گھڑی ٹھہرا یہاں تک کہ کھڑا ہوا‘ اپنے گھر میں داخل ہو کر اپنی لونڈی کو حکم دیا کہ میرے لیے میرا گھوڑا نکالے جبکہ وہ ٹیلوں کے پیچھے میرے لیے روک کر کھڑی ہو گئی‘ میں نے اپنا نیزہ پکڑا‘ پس میں وہ لے کر اپنے گھر کے پیچھے سے نکلا‘ پس میں نے اپنے نیزے کے ساتھ زمین میں لکیر ماری اور نیزے کا اوپر والا سرا نیچے کیا حتٰی کہ میں اپنے گھوڑے کے پاس آیا‘ پس میں اس پر سوار ہوا‘ میں انے اس کو تیز کیا تاکہ وہ مجھے (جلدی) قریب کرے یہاں تک کہ میں نے ان کے سائے دیکھے تو میں ان کے قریب ہو گیا اتنا کہ وہ میری آواز سن سکتے تھے‘ میرا گھوڑا ٹھوکر کھا کر پھسل گیا تو میں اس سے گر گیا۔ پس میں کھڑا ہوا تو میں نے اپنا ہاتھ اپنے ترکش کی طرف بڑھایا۔ میں نے ان میں فال کا تیر نکالا اور فال پکڑنے لگا کہ میں ان کو نقصان دے سکوں گا یا نہیں؟ پس تیروہ نکلا جسے میں ناپسند کرتا تھا کہ میں ان کو نقصان نہیں پہنچ سکوں گا۔ پس میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور میں نے فال کے تیر کو جھٹلا دیا‘ پس میں نے گھوڑے کو تیز کیا تاکہ وہ مجھے ان کے قریب کرے یہاں تک کہ جب میں قریب ہوا تو میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرأت سنی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توجہ بالکل نہ تھی لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بار بار توجہ فرما رہے تھے‘ میرے گھوڑے کے دونوں ہاتھ زمین میں پھنس گئے حتٰی کہ گھٹنوں تک زمین میں چلے گئے‘ پس میں اس سے گر پڑا۔ میں نے اسے ڈانٹا‘ پس میں اٹھا لیکن میرا گھوڑا اپنے ہاتھ زمین سے نہ نکال سکا۔ پس جب وہ سیدھا کھڑا ہوا کیونکہ اس کے ہاتھوں کے نشان کی وجہ سے ایک ڈنڈے کی مانند دھواں تھا جو آسمان تک پھیلا ہوا تھا۔ حضرت معمر کہتے ہیں : میں نے ابو عمرو بن علاء سے سوال کیا: عُثان کیا چیز ہے؟ پس وہ ایک گھڑی خاموش رہے‘ پھر فرمایا: وہ بغیر آگ کے دھواں ہے۔ (راوی حدیث) حضرت معمر کا قول ہے: حضرت امام زہری نے اپنی حدیث میں فرمایا: پس میں نے فال کا تیر نکالا تو وہ تیر نکلا جس کو میں ناپسند کرتا تھا کہ میں ان دونوں کو کوئی نقصان نہ دے سکوں گا۔ پس میں نے ان کو آزاد دی تاکہ مجھے امان دو۔ پس وہ دونوں کھڑے ہو گئے‘ میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس گیا‘ جب میں ان سے ملا تو میرے دل میں آیا جس نے مجھے ان سے روک دیا تھا کہ ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم سامنے آئے گا۔ پس میں نے ان سے عرض کی : بے شک کی قوم نے آپ کے لیے دیت مقرر کر دی ہے اور میں نے ان کو ان کے سفر کی خبروں سے آگاہ کر دیا ہے۔ اور (میں نے بتایا کہ) لوگ ان کے حوالے سے کیا چاہتے ہیں۔ میں نے ان کی خدمت میں زاد راہ اور مال ومتاع پیش کیا‘ لیکن انہوں نے کسی چیز سے روکار نہ رکھی‘ نہ کوئی چیز مجھ سے مانگی مگر یہ کہ ہماری خبر کو چھپانا۔ پس میں نے ان سے ایک خط لکھ کر دینے کا مطالبہ کیا جو میرے لیے امن کی ضمانت ہو‘ پس حضرت عامر بن فہیرہ کو حکم ہوا تو انہوں نے ایک چمڑے کے ٹکڑے میں میرے لیے رقعہ لکھا اور وہ چلے گئے۔

أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَّانُ بْنُ غَالِبٍ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6616

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ كعب بن مالك بن جشعم عن أخيه سراقة · حديث 6618

6602 - حدثنا مسعدة بن سعد العطار المكي ثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي ثنا محمد بن فليح عن موسى بن عقبة حدثني ابن شهاب ثنا عبد الرحمن بن مالك بن جعشم المدلجي Y أن أباه مالكا أخبره أن أخاه سراقة بن مالك بن جعشم أخبره أنه لما خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم من مكة مهاجرا إلى المدينة جعلت قريش لمن رده عليهم مئة ناقة قال فبينما أنا جالس في نادي قومي جاء رجل منا فقال : والله لقد رأيت ركبة ثلاتة مروا علي آنفا إني لأظنه محمدا قال : فأومأت إليه أن اسكت وقلت : إنما هم بنو فلان يتبعون ضالة لهم قال : لعله ثم سكت فمكثت قليلا وقمت فأمرت بفرسي فقيد إلى بطن الوادي فأخرجت سلاحي من وراء حجرتي ثم أخرجت قداحي التي استقسم بها ثم لبست لأمتي ثم أخرجت قداحي فاستقسمت بها وقال : فخرج الذي أكره لا يضره وكنت أرجو أن أرده فآخذ المئة الناقة فركبت على أثرهم فبينما فرسي يشتد بي عثر فسقطت عنه فأخرجت قداحي فاستقسمت فخرج السهم الذي أكره لا يضره فأبيت إلا أن أتبعه فركبته فلما بدا لي القوم فنظرت إليهم عثر بي فرسي وذهبت يداه في الأرض فسقطت فاستخرج يده وأتبعها دخان مثل العثان فعرفت أنه قد منع مني وأنه ظاهر فناديتهم فقلت انظروني فو الله إني لا أريبكم ولايبدؤكم مني شيء تكرهونه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قل ماذا تبتغى ؟ فقلت : اكتب لي كتابا يكون بيني وبينك آية قال : اكتب يا أبا بكر قال : فكتب لي ثم ألقاها إلي فرجعت فسكت فلم أذكر شيئا مما كان حتى إذا فتح الله على رسوله مكة وفرغ من أهل حنين خرجت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعي الكتاب الذي كتب لي قال : فبينما أنا عامد له دخلت بين ظهري كتيبة من كتائب الأنصار فطفقوا يقرعوني بالرماح ويقولون : إليك إليك حتى إذا دنوت من رسول الله صلى الله عليه و سلم على ناقه أنظر إلى ساقيه في غرزه كأنها جمارة فدفعت يدي بالكتاب فقلت يا رسول الله هذا كتابك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يوم وفاء وبر ادنه فأسلمت ثم تذكرت شيئا أسأل عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم فما ذكرت له شيئا إلا قد قلت : يا رسول الله الضالة تغشى حياضنا قد ملأتها لإبلي هل لي من أجر أن أسقيها ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم في كل ذات كبد حرى أجر فانصرفت فسقت إلى رسول الله صدقتي

حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ کی طرف نکلے تو قریشیوں نے سو اونٹنیاں اس آدمی کے لیے مقرر کیں جو ان کو لوٹا کر واپس لے آئے۔ پس اس دوران کہ میں اپنی قوم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا‘ جب ایک آدمی آیا‘ اس نے کہا: قسم بخدا! میں تین آدمیوں کا اونٹ سوار قافلہ دیکھا ہے جو ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے پاس سے گزرا‘ میرا خیال ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ کہتے ہیں: میں نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ دیا۔ (اور کہا کہ) وہ تو فلاں کے بیٹے تھے جو اپنی گم شدہ اونٹنی تلاش کر رہے تھے۔ پس میں تھوڑی دیر ٹھہرنے کے بعد اٹھ کھڑا ہوا‘ میں نے گھر میں داخل ہو کر اپنا گھوڑا تیار کرنے کا حکم دیا‘ پس اس کو وادی کے درمیان لایا گیا‘ میں اپنے ہتھیار بھی اپنے گھر کی پچھلی سے لے کر نکلا پھر میں نے اپنا وہ تیر پکڑا جس سے میں فال لیا کرتا تھا‘ میں نے اپنی زرہ پہنی‘ پھر میں نے فال کا تیر نکالا تو وہ تیر نکلا جو میں ناپسند کرتا تھا کہ میں اس کو نقصان نہ دے سکوں گا۔ کہتے ہیں: اور مجھے پوری امید تھی کہ میں ان کو لوٹا کر واپس لانے میں کامیاب ہو جاؤں گا‘ تو سو اونٹ مجھے مل جائیں گے‘ پس میں سوار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کے نشانات پر چلا‘ پس اسی دوران کہ میرا گھوڑا مجھ سے سرکشی کر رہا تھا کہ اس کا پاؤں پھسل گیا تو میں اس سے گر پڑا‘ میں نے اپنا تیر نکال کر فال پکڑی۔ پس وہ تیر نکلا جو میں ناپسند کرتا تھا کہ میں اس کو نقصان نہ دوں گا۔ پس میں نے انکار کیا مگر یہ کہ میں ان کے پیچھے چلا‘ پس میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا۔ پس جب یہ گروہ میرے لیے ظاہر ہوا تو میں نے ان کو (للچائی ہوئی نظروں سے) دیکھا تو میرے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور اس کے دونوں ہاتھ زمین میں دھنس گئے اور میں اس سے گر گیا‘ پس اس نے انتہائی کوشش سے دونوں ہاتھ نکالے تو ڈنڈے کی مانند دھوئیں نے ان کا پیچھا کیا۔ پس میں پہچان گیا کہ اس کو مجھ سے روک دیا گیا ہے اور یہ بات بالکل ظاہر و باہر تھی تو میں نے اس گروہ کو آواز دی : میری طرف دیکھو! پس۔ قسم بخدا! میں نے آپ لوگوں کو (اب تک) کوئی تکلیف نہیں دی ہے اور میری طرف سے تمہیں کوئی ایسی شی نہیں آئے گی جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو کیا چاہتا ہے؟ میں نے عرض کی: میرے لیے ایک خط لکھو جو میرے اور آپ کے درمیان نشانی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! اس کو خط لکھ دو۔ سراقہ کہتے ہیں : حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خط لکھ کر میری طرف پھینک دیا۔ سراقہ کہتے ہیں: میں واپس لوٹ آیا‘ پس میں خاموش رہا جو کارروائی ہوئی میں نے اس میں سے کسی شی کا تذکرہ نہ کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مکہ فتح فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حنین کے غزوہ سے بھی فارغ ہو گئے۔ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کروں جبکہ وہ خط میرے پاس تھا جو میرے لیے لکھا گیا تھا۔ پس اسی دوران کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جانے کا ارادہ کیا ہوا تھا‘ میں انصار کے لشکروں میں سے ایک لشکر میں داخل ہو گیا تو انہوں نے نیزوں کے ساتھ مجھے ٹھوکریں لگا نا شروع کر دیں اور کہتے تھے: دور ہو! دور ہو! یہاں تک کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو گیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اوٹنی پر سوار تھے۔ (اب بھی) میں آپ کی رکاب میں پاؤں کی پنڈلی کو دیکھ رہا ہوں‘ گویا کہ وہ دہکتا ہوا انگارہ ہے‘ میں نے اپنے ہاتھ میں وہ خط لے کر اسے بلند کیا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! یہ آپ کا وہ خط ہے۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وفا اور نیکی کا دن ہے‘ پس میں نے اسلام قبول کر لیا اور اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر آپ کی خدمت میں آیا۔

عبد الرحمن بن مالك بن جعشم المدلجي ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6618

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ كعب بن مالك بن جشعم عن أخيه سراقة · حديث 6619

6603 - حدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا عبيد الله بن سعد ثنا عمي ثنا أبي عن صالح بن كشان عن ابن شهاب حدثني عبد الرحمن بن مالك بن جعشم المدلجي Y أن أباه أخبره أن سراقة بن مالك أخبره أنه لما خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم من مكة مهاجرا إلى المدينة جعلت قريش لمن رده مئة ناقة فبينا أنا جالس في نادي قومي إذ أقبل رجل فقال : والله لقد رأيت ركبة ثلاثة مروا علي آنفا إني لأراه محمدا فقال : فأومأت إليه أن اسكت إنما هم بنو فلان يبغون ضالة لهم فلبثت قليلا ثم قمت فدخلت فأمرت بفرسي فقيد إلى بطن الوادي وأخرجت سلاحي من وراء حجرتي ثم أخذت قداحي الذي أستقسم بها ولبست لأمتي ثم أخرجت قداحي فاستسقمت فخرج السهم الذي أكره أن لا أضره قال : وكنت أرجو أن أرده فآخذ المئة الناقة فركبت على أثره بينما فرسي يشتد بي عثر فسقطت عنه فأخرجت قداحي فاستقسمت بها فخرج السهم الذي أكره لا أضره فأبيت إلا أن أتبعه فركبت فرسي فلما بدا لي القوم فنظرت إليهم عثر بي فرسي وذهبت يداه في الأرض وسقطت عنه فاستخرج يديه فاتبعهما دخان مثل العصا فعرفت أن قد منع مني وأنه ظاهر فناديتهم فقلت : انظروني فوالله لا آذيتكم ولا يأتيكم شيء تكرهونه قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ماذا تبغي ؟ قلت : اكتب لي كتابا يكون بيني وبينك آية قال اكتب له يا أبا بكر قال : فكتب لي كتابا ثم ألقاهم إلي قال : فرجعت فسكت فلم أذكر شيئا مما كان حتى إذا فتح الله عزو جل على رسوله صلى الله عليه و سلم مكة وفرغ من حنين خرجت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم لألقاه ومعي الكتاب الذي كتب لي فبينما أنا عامد له دخلت بين كتيبة من كتائب الأنصار فجعلوا يقرعوني بالرماح ويقولون : إليك إليك حتى دنوت من رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على ناقته أنظر إلى ساقه في غرزة كأنها جمارة فرفعت يدي بالكتاب وقلت : يا رسول الله هذا كتابك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يوم وفاء وبر فأسلمت وسقت إليه صدقة مالي

حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج تمتع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہم نے بھی حج تمتع کیا‘ پس عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! کیا یہ صرف ہمارے لیے ہے یا یہ ہمیشہ کیلئے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمیشہ کیلئے ہے۔

عبد الرحمن بن مالك بن جعشم المدلجي ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صالح بن كشان ← أَبِي ← عَمِّي، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6619

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ عطاء بن أبي رباح عن سراقة بن مالك · حديث 6620

6604 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا محمد بن جعفر ثنا سعيد بن أبي عروبة عن مالك بن دينار عن عطاء بن أبي رباح عن سراقة بن مالك بن جعشم قالا Y تمتع رسول الله وتمتعنا معه فقيل : يا رسول الله أهي لنا أو هي للأبد ؟ قال : ( للأبد )

بنو مدلج کا ایک آدمی کہتا ہے کہ میں نے اپنے والد گرامی کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے آئے تو کہا: ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں فلاں بات سکھائی ہے‘ پس اس آدمی نے ایسے کہا جیسے مذاق کرنے والا آدمی کہتا ہے : کیا اس نے تمہیں سکھایا نہیں کہ کیسے استنجاء کرتے ہیں؟ کہا: کیوں نہیں ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوحق کے ساتھ بھیجا ہے ! آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم بائیں پاؤں پر سہارا لیں اور دائیں کو کھڑا رکھیں۔

تمتع رسول الله وتمتعنا معه فقيل ← سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6620

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ رجل غير مسمى عن سراقة بن مالك · حديث 6621

6605 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا زمعه بن صالح عن محمد بن أبي عبد الرحمن زعم أن رجلا حدثه من بنى مدلج قال سمعت أبي يقول Y جاء سراقة بن مالك بن جعشم من عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : علمنا رسول الله صلى الله عليه و سلم كذا وكذا فقال رجل كالمستهزىء : أما علمكم كيف تخرون ؟ قال : بلى والذي بعثه بالحق أمرنا أن نتوكل على اليسرى وأن ننصب اليمنى

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں اور انصار اور بنی نجار اور بنی مازن بن نجار میں سے جو موتہ کے دن شہید کیے گئے‘ ان کے ناموں میں سے ایک نام حضرت سراقہ بن عمرو بن عطیہ بن خنساء کا بھی ہے۔

محمد بن أبي عبد الرحمن زعم ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6621

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 660 - سراقة بن عمرو بن عطية بن خنساء الأنصاري استشهد يوم مؤتة · حديث 6622

6606 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثني أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة Y في تسمية من استشهد يوم مؤتة من المسلمين ثم من الأنصار ثم من بني النجار ثم من بني مازن بني النجار سراقة بن عمرو بن عطية بن خنساء

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ انصار اور بنی عمرو بن عوف اور بنی عجلان میں سے جو خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شہید ہوئے‘ ان کے ناموں میں سے ایک نام حضرت سراقہ بن حباب کا بھی ہے۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6622

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 661 - سراقة بن الحباب الأنصاري · حديث 6623

6607 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثنا أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة Y في تسمية من استشهد يوم خيبر مع رسول الله صلى الله عليه و سلم من الأنصار من بني عمرو بن عوف ثم من بني العجلان سراقة ابن الحباب

حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ انصار میں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خیبر کے دن شہید ہوئے ان کے ناموں میں سے ایک نام حضرت سراقہ بن حباب بن عدی بن عجلان کا بھی ہے۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6623

chevron_left Previous
1…303132…73
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter