المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ إياس بن سلمة بن الأكوع عن أبيه عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة عن أبيه · حديث 6255
6240 - حدثنا محمد بن الحسن بن كيسان المصيصي ثنا حذيفة ثنا عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة بن الأكوع عن أبيه قال : Y قدمنا من الحديبية مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فبايعناه في أصل شجرة قال : وبايعت في أول الناس فقال لي النبي صلى الله عليه و سلم : يا سلمة بايعني قلت : يانبي الله قد والله بايعتك في أول الناس فقال : وأيضا قال : فبايعته فرآني رسول الله صلى الله عليه و سلم وليس معي جنة وذكر الحديث
حضرت اياس بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قبیلہ ہوازن سے جہاد کیا‘ ہم بیٹھے ہوئے ناشتہ کر رہے تھے‘ اچانک ایک آدمی سرخ اونٹ پر سوار ہو کر آیا‘ اس نے اونٹ کی پیٹی سے طلق نکالا‘ اور اس سے اپنے اونٹ کو باندھا‘ پھر چل کر آیا اور ہمارے ساتھ کھانا کھانے لگا‘ اس نے لوگوں کے چہرے کی طرف دیکھا‘ اس کے لیے ظاہر ہوا کہ ان کے ظاہر میں نرمی ہے اور اکثر لوگ پیدل ہیں‘ جب اس نے لوگوں کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہاں سے تیز قدموں سے نکلا‘ اپنے اونٹ کے پاس آیا‘ اس پر سوار ہو کر نکلا‘ وہ کافروں کا جاسوس تھا‘ قبیلہ اسلم سے ہمارا آدمی اس کے پیچھے ہوا‘ اپنی ورقاء نامی اونٹنی پر سوار ہو کر‘ میں بھی جلدی سے پیدل نکلا‘ میں اس کو ملا‘ میں اونٹنی کی دُم کے پاس تھا‘ پھر میں آگے بڑھا‘ میں نے اس کے اونٹ کی نکیل پکڑ لی‘ میں نے تلوار سونتی‘ میں نے اس کے سر پر ماری‘ پھر اس کی اونٹنی کے پاس آیا جس پر اس کا سامان تھا‘ اس کو لے کر چل پڑا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ میرا استقبال کیا‘ آپ نے فرمایا: اس آدمی کو کس نے مارا؟ انہوں نے عرض کی : ابن اکوع نے آپ نے فرمایا: جو اس کے لیے ہے۔ یہ الفاظ حدیث کے ابو ولید کے ہیں۔
أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← حُذَيْفَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ الْمِصِّيصِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6255
