Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6587

6571 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا أبو شهاب موسى بن نافع قال Y قدمت مكة وأنا متمتع بعمرة فقدمنا قبل التروية بثلاثة أيام فقال لي أهل مكة : تصير الآن حجتك مكية فدخلت على عطاء بن أبي رباح أستفتيه ؟ فقال : حدثني جابر بن عبد الله أنه حج مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم ساق البدن وقد أهلوا بالحج مفردا فقال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أحلوا في إحرامكم بطواف بالبيت وبين الصفا والمروة وأقيموا حلالا حتى إذ كان يوم التروية فأهلوا يالحج واجعلوا الذي قدمتم بها متعة قالوا : كيف نجعلها متعة وقد سمينا الحج ؟ فقال : افعلوا ما أمرتكم فلولا أني سقت الهدي لفعلت مثل الذي أمرتكم ولكني لا يحل مني حرام حتى يبلغ الهدي محله ففعلوا ولم يذكر قصة سراقة بن مالك

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے‘ ذوالحجہ کی چار تاریخیں گزر چکی تھیں‘ پس جب لوگوں نے طواف کعبہ اور صفا و مروہ کی سعی کر لی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کو عمرہ بنا لو‘ پس جب آ ٹھویں ذوالحجہ کا دن آ جائے تو حج (کا احرام باندھ کر) تلبیہ کہو‘ جب قربانی کا دن ہو تو بیت اللہ شریف کا طواف کرو لیکن صفا و مروہ کی سعی نہ کرو۔ انہوں نے حضرت سراقہ بن مالک کا قصہ ذکر نہیں کیا۔

أبو شهاب موسى بن نافع ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6587

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6588

6572 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج ثنا المنهال ثنا حماد بن سلمة عن قيس بن سعد عن عطاء بن أبي رباح عن جابر بن عبد الله قال Y قدم رسول الله إلي لأربع خلون من ذي الحجة فلما طافوا بالبيت وبالصفا والمروة قال رسول الله : اجعلوها عمرة فلما كان يوم التروية لبوا بالحج فلما كان يوم النحر طافوا بالبيت ولم يطوفوا بين الصفا والمروة ولم يذكر قصة سراقة بن مالك

حضرت طاؤس اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا دونوں فرماتے ہیں: ذوالحجہ کی چار تاریخ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام (مکہ) آئے‘ حج کا احرام باندھے ہوئے تھے‘ (حج کے ساتھ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی اورشی کی نیت نہیں کی۔ پس جب ہم آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا۔ پس ہم نے اس کو عمرہ بنا لیا اور یہ کہ ہم اپنی بیویوں کو حلال سمجھیں۔ پس اسی سلسلہ میں ایک بات کی گئی۔حضرت عطاء نے فرمایا: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: پس ہم میں سے کوئی منٰی کی طرف جا رہا ہو جبکہ اسکے منی کے قطرے گر رہے ہوں؟ پس یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچ گئی تو آپ خطبہ دیتے ہوئے کھڑے ہوئے‘ فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بعض گروہ اس اس طرح کہتے ہیں‘ قسم بخدا! میں ان سے زیادہ نیکی کی راہ چلنے والا ہوں اور ان سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور اگر میں کسی کام میں آگے قدم اٹھا لیتا ہوں تو پھر پیچھے نہیں ہٹا تا ہوں‘ جو ہدایت میں جاری کروں اور اگر میرے ساتھ بھی قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں ضرور احرام کھول دیتا۔ پس حضرت سراقہ بن مالک کھڑے ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا یہ حکم صرف ہمارے لیے ہے یا ہمیشہ کیلئے ؟ فرمایا: بلکہ ہمیشہ کیلئے۔حضرت علی بن ابو طالب آئے‘ عرض کی : دو میں سے ایک کہتا ہے : میں نے اس چیز کے ساتھ احرام باندھا جس کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام باندھا اور دوسرا کہتا ہے : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح حج کا احرام باندھا‘ پس ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ اپنے احرام کی حالت میں مقیم ہوں اور ان کو اپنی قربانی میں شریک فرمایا (جبکہ وہ خود بھی اپنی قربانی لے کر آئے تھے)۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْمِنْهَالُ ← حجاج، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6588

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6589

6573 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم أبو النعمان ثنا حماد بن زيد ثنا عبد الملك بن جريح عن عطاء عن جابر بن عبد الله ( ح ) وعن ابن طاوس عن أبيه عن ابن عباس قالا Y قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه صبح رابعة مهلون بالحج لم يخالطه شيء فلما قدمنا أمرنا فجعلناها عمرة وأن نحل إلى نسائنا فقيلت في ذلك القالة قال عطاء : قال جابر : فيروح أحدنا إلى منى وذكره يقطر منيا وقال جابر : فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فقام خطيبا فقال : بلغني أن أقواما يقولون كذا وكذا والله لأنا أبر وأتقى لله منهم ولو أني اشتقبلت من أمري ما استدبرت ما أهديت ولولا أن معي الهدي لأحللت فقام سراقة بن مالك بن جعشم فقال : يارسول الله أهي لنا أم للأبد ؟ قال : بل للأبد وجاء علي بن أبي طالب فقال أحد ما يقول : لبيك بما أهل به النبي وقال : الآخر : لبيك بحجة النبي صلى الله عليه و سلم فأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يقيم على إحرامه وأشركه في الهدي

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خالص حج کا احرام باندھا حتٰی کہ ہم چار ذوالحجہ کو مکہ آ گئے‘ ہم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کی‘ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا: ہم میں سے جوشخص قربانی کا جانور ساتھ نہیں لایا‘ وہ احرام کھول دے لیکن عورتوں کے معاملے میں عزم نہ کرے۔ حضرت جابر فرماتے ہیں: پس ہم نے (آپس میں) کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں چھوڑ دیا حتٰی کہ جب نویں ذوالحجہ سے پانچ راتیں باقی رہ گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم احرام کھول دیں۔ پس ہم عرفات کے میدان کی طرف اس حال میں آئیں کہ ہماری منی کے قطرے گر رہے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود احرام نہیں کھولا ؟ اس وجہ سے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کا جانور لے کر آئے تھے‘ فرماتے ہیں: یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہو گئی تو آپ لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے کھڑے ہوئے‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی حمد وثناء کی پھر اس بات کا تذکرہ کیا جو لوگوں کی طرف سے آپ کو معلوم ہوئی تھی‘ اس کے بعد فرمایا: میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا تم سے زیادہ سچا اور تم سے زیادہ نیکی اختیار کرنے والا ہو‘ اور اگر میں بھی قربانی کا جانور ساتھ نہ لایا ہوتا تو میں ضرور احرام کھول دیتا‘ اگر میں کسی کام میں آگے بڑھتا ہوں تو پیچھے نہیں ہٹتا جو ہدایت میں دیتا ہوں۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : پس ہم نے سن کر اطاعت کی‘ پس ہم نے احرام کھول دیئے۔ حضرت لیث فرماتے ہیں : وہ حج تمتع کا ارادہ رکھتے تھے۔حضرت لیث نے حضرت سراقہ بن مالک کے قصہ کا ذکر نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← عبد الْملك بن جريح ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6589

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6590

6574 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث عن عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج عن عطاء بن أبي رباح عن جابر بن عبد الله قال Y أهل رسول الله صلى الله عليه و سلم وأهللنا معه بالحج خالصا حتى قدمنا مكة صبح رابعة من ذي الحجة فطفنا بالبيت وبالصفا والمروة ثم أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم من لم يكن منا ساق هديا أن يحل قال : ولم يعزم في أمر النساء قال جابر : فقلنا : تركنا حتى إذا لم يكن بيننا وبين عرفة إلا خمس ليال أمرنا أن نحل فنأتي عرفات والمذي يقطرفي مذاكرينا ولم يحلل هو وكان رسول الله قد ساق الهدي قال : فبلغ قولنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام يخطب الناس فحمدالله وأثنى عليه ثم ذكر الذي بلغه من قولهم فقال : لقد علمتم أني أتقاكم لله عزوجل وأصدقكم وأبركم ولولا أني سقت الهدي لحللت ولواستقبلت من أمري ما استدبرت ما أهديت قال جابر بن عبدالله : فسمعنا وأطعنا فحللنا قال الليث : يريد المتعة ولم يذكر الليث قصة سراقة بن مالك

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : چار ذوالحجہ کو ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں مکہ آئے‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم احرام کھول دیں‘ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے نبی! یہ کیسا احرام کھولنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مکمل احرام کھولنا ہے‘ یعنی ہر چیز حلال ہو گی۔ ہم نے (آپس میں) کہا: کل ہم نے منٰی جانا ہے‘ حال یہ ہو گا کہ ہمارے لیے منی کے قطرے گرا رہے ہوں گے۔ (پس جو بھی ہو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پر ہر چیز حلال ہے۔ پس اگر میں کوئی حکم جاری کر دوں تو اسے واپس نہیں لیتا‘ میں بھی وہی کام کرتا جو تم نے کیا ہے‘ (اگر میں قربانی کا جانور نہ لایا ہوتا)۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے احرام کھول دیئے‘ ہم نے اپنی بیویوں کے حقوق پورے کیے لیکن حضرت ابن عیینہ نے حضرت سراقہ بن مالک کا قصہ ذکر نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6590

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6591

6575 - حدثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا إبراهيم بن بشار الرمادي ثنا سفيان ثنا عمرو بن دينار و ابن جريج عن عطاء عن جابر بن عبدالله قال Y قدمنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة صبيحة رابعة فأمرنا أن نحل فقلنا : أي الحل يا نبي الله ؟ قال : أحلوا الحل كله قلنا : نغدوالى منى وأحاليلنا تقطر منيا قال : أحلوا الحل كله فلو استقبلت من الذي ما استدبرت لصنعت مثل الذي صنعتم قال : فأحللنا وأتينا النساء ولم يذكر ابن عيينة قصة سراقة بن مالك

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے اندر حج کا اعلان فرمایا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے یہاں تک کہ جب ہم درخت کے پاس مسجد میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اترے اور ہم بھی (اپنی سواریوں سے) اترے‘ پھر ہم سوار ہوئے اور انتظار کر نے کیلئے کھڑے ہو گئے حتٰی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے‘ پس جب ہم مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کیا‘ ہم نے بھی طواف کیا اور دو رکعتیں پڑھیں‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان رکعتوں میں قل یا ایھا الکافرون اور قل ھواللہ احد پڑھی‘ پھر ہم نے صفا و مروہ کی سعی کی یہاں تک کہ جب ہم مروہ کے پاس تھے‘ تو آپ نے فرمایا: جو قربانی نہیں لایا وہ احرام کھول دے۔ پس ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم نے حج کی نیت کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج ‘ عمرہ میں داخل ہو چکا ہے۔ پس ہم نے اپنی بیویوں کے حقوق ادا کیے اور خوشبو لگائی‘ پس جب ہم آئے تو ہمارے منٰی جانے کو صرف چار دن باقی تھے۔ (ہم نے کہا:) ہم اس حال میں منٰی آئیں گے کہ ہمارے عضو مخصوص سے منی گر رہی ہو گی؟ پس حضرت سراقہ بن مالک نے کھڑے ہو کر عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہمیں اچھی طرح آگاہ فرمایئے! (اس معاملے میں ہم) اس قوم کی مانند ہیں جو آج پیدا ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج ‘ عمرہ میں داخل ہے۔ انہوں نے عرض کی : صرف ہمارے لیے یا ہمیشہ کیلئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ ہمیشہ کیلئے۔

جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللہِ ← عَطَاءٍ، ← عمرو بن دينار و ابن جريج ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6591

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6592

6576 - حدثنا الحسن بن علي المعمري ثنا داود بن رشيد ثنا حسان بن إبراهيم عن يعقوب بن عطاء عن أبيه عن جابر قال Y أذن فينا النبي بالحج فخرج حتى اذا قدمنا المسجد عند الشجرة نزل ونزلنا ثم ركبنا فوقفنا ننتظرحتى ركب فلما قدمنا مكة طاف وطفنا فصلى ركعتين قرأ فيهما { قل يا أيها الكافرون } و { قل هو الله أحد } ثم طفنا بالصفا والمروة حتى إذا كنا عند المروة قال : من لم يكن أهدى فيحل فقلنا : يارسول الله نوينا الحج قال : دخل الحج في العمرة فأصبنا النساء والطيب فلما قدمنا وبيننا وبين أن نأتي منى أربعة أيام فنأتي منى ومذاكيرنا تقطر من نسائنا فقام سراقة بن مالك فقال : أنبئنا يارسول الله كقوم إنما ولدوا اليوم قال : إن الحج قد دخل في العمرة قال : لنا أم للأبد ؟ قال : لا بل للأبد

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حج کا احرام باندھ کر آئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہم اس کو عمرہ بنالیں اور احرام کھول دیں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنی قربانی تھی‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے عمرہ نہیں بنا سکتے تھے اور حضرت ابو بشر نے حضرت سراقہ بن مالک کا قصہ بیان نہیں کیا۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ← حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6592

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6593

6577 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا أبوعوانة عن أبي بشر عن عطاء بن أبي رباح عن جابر بن عبدالله قال Y قدمنا مهلين بالحج فأمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نجعلها عمرة ونحل وكان معه الهدي فلم يستطع أن يجعلها عمرة ولم يذكر أبوبشر في حديثه قصة سراقة بن مالك

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حجتہ الوداع کے موقعہ پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا: تم نے کس چیز کا احرام باندھا تھا ؟ پس ان میں سے بعض نے عرض کی: حج کا۔ بعض نے عرض کی : عمرہ کا‘ اور بعض نے عرض کی: جس چیز کے ساتھ آپ نے احرام باندھا تھا (ہم نے بھی اسی چیز کے ساتھ احرام باندھا) اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارے احرام کھول دو مگر وہ لوگ جو قربانی کا جانور ساتھ لے کر آئے ہیں‘ اگر میں کسی کام میں آگے قدم اٹھا لیتا ہوں تو پھر پیچھے نہیں رکھتا‘ میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لایا تو میں بھی تمہارے ساتھ ہی احرام کھولنے والا ہوتا۔ راوی کا بیان ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو اونٹ ساتھ لائے تھے تاکہ اس کو قلادہ ڈالیں اور حضرت محمد بن سلمہ نے سراق بن مالک کا قصہ بیان نہیں کیا۔

جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللہِ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← اَبُوعَوَانَۃَ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6593

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6594

6578 - حدثنا جعفر بن أحمد بن سنان الواسطي ثنا إسحاق بن إبراهيم الشهيدي ثنا محمد بن سلمة عن خصيف عن عطاء عن جابر قال Y لما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة في حجة الوداع قال لأصحابه : بأي شيء أهللتم ؟ فمنهم من قال : بالحج ومنهم من قال : بالعمرة ومنهم من قال : بالذي أهللت به يارسول الله قال : فأحلوا جميعا إلا من ساق الهدي فإني لو استقبلت من أمري ما استدبرت ما سقت الهدي حتى أكون معكم حلالا قال : وساق مئة بدنة ليقلده ولم يذكر محمد بن سلمة قصة سراقة

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کیا‘ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آیا‘ پس لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کیا: تم نے کس چیز کے ساتھ احرام باندھا تھا؟ کچھ لوگوں نے عرض کی: ہم نے حج کا احرام باندھا‘ کچھ دوسرے لوگوں نے عرض کی : ہم حج تمتع کرنے کے لیے آئے‘ اور کچھ لوگوں نے یہ بھی عرض کی کہ جس چیز کا حرام آپ نے باندھا‘ اسی کا ہم نے بھی باندھا‘ اے اللہ کے رسول! پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آیا اور اپنا قربانی کا جانورنہیں لایا وہ احرام کھول لے کیونکہ میں جب ایک کام کیلئے آگے قدم بڑھاتا ہوں تو پیچھے نہیں رکھتا‘ میں قربانی نہ لاتا تو احرام کھول دیتا۔ پس حضرت سراقہ بن مالک نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہمارا یہ عمرہ اسی سال کیلئے ہے؟ یا ہمیشہ کیلئے؟ فرمایا: نہیں ! بلکہ ہمیشہ کیلئے۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← خُصَيْفٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّهِيدِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6594

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6595

6579 - حدثنا محمدبن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا موسى بن أعين عن خصيف عن عطاء بن ابي رباح عن جابر بن عبدالله قال Y لما قدمت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجته فسأل الناس : بم أحرمتم ؟ قال ناس : أهللنا بالحج وقال آخرون : قدمنا متمتعين وقال آخرون : أهللنا بإهلالك يارسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان قدم ولم يسق هديا فليحلل فإني لو استقبلت من أمري ما استدبرت لم أسق الهدي حتى أكون حلالا فقال له سراقة بن مالك : يارسول الله صلى الله عليه و سلم عمرتنا هذه لعامنا أم للأبد ؟ قال : لا بل للأبد

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سراقہ بن مالک نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارا یہ عمرہ ہمارے ساتھ خاص ہے یا ہمیشہ کیلئے ہے؟ فرمایا: نہیں! بلکہ ہمیشہ کیلئے ہے۔

جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللہِ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← خُصَيْفٍ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6595

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6596

6580 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا هشيم عن الحجاج عن عطاء عن جابر أن سراقة بن مالك قال Y يارسول الله عمرتنا هي لنا خاصة أم للأبد ؟ قال : لا بل للأبد

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آئے‘ ہمارا ارادہ حج کرنے کا ہی تھا‘ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں ہے وہ اس کو عمرہ بنا لے۔ پس لوگوں پر یہ بات گراں گزری۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ کے پاس قربانی کا جانور تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن سے تشریف لائے‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا : آپ نے کس چیز کا احرام باندھا ؟ عرض کی: جس چیز کا آپ نے باندھا‘ جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قربانی کا جانور (ان کے لیے) اور سوقربانی کے جانور (اپنے لیے) لائے تھے۔ پس حضرت سراقہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہمارا یہ حج‘ ہمارے اس سال کیلئے ہے (آئندہ سال اور کرنا پڑے گا) یا ہمیشہ کیلئے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہمیشہ کیلئے ہے۔

لا بل للأبد ← يارسول الله عمرتنا هي لنا خاصة أم للأبد ← جابر أن سراقة بن مالك ← عَطَاءٍ، ← الْحَجَّاجِ، ← هُشَيْمٌ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6596

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6597

6581 - حدثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا وهب بن بقية أنا خالد عن المثنى بن الصباح عن عطاء عن جابر قال Y قدمنا مع رسول الله لا نريد إلا الحج فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم من لم يكن معه هدي أن يجعلها عمرة فاشتد ذلك على الناس وكان مع طلحة بن عبيد الله هدي وقدم علي رضي الله عنه من اليمن فسأله رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( بم أهللت ؟ ) قال : بما أهللت به وكان مع النبي صلى الله عليه و سلم هدي ومئة هدي فقال سراقة : يا رسول الله أحجتنا هذه لعامنا أم للأبد ؟ قال : ( لا بل للأبد )

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ذوالقعدہ کے پانچ دن باقی تھے‘ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے‘ ذوالحجہ کے چا دن گزر چکے تھے‘ ہم مکہ میں داخل ہوئے۔ پس حضرت سراقہ بن مالک نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا یہ نفع (حج تمتع) ہمارے ساتھ خاص ہے یا ہمیشہ کیلئے ہے؟ فرمایا: نہیں! بلکہ ہمیشہ کیلئے ہے‘ قیامت کے دن تک کیلئے عمرہ حج میں داخل ہے۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6597

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6598

6582 - حدثنا إبراهيم بن هاشم البغوي ثنا كثير بن يحيى أبو مالك ثنا محمد بن عبد الله بن عبيد بن عمير الليثي ثنا عطاء بن أبي رباح عن جابر بن عبد الله قال Y خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم لخمس بقين من ذي القعدة فدخلنا مكة لأربع مضين من ذي الحجة فقال سراقة بن مالك بن جعشم : يا رسول الله هذه المتعة لنا خاصة أم للأبد ؟ قال : ( لا بل للأبد دخلت العمرة الحج إلى يوم القيامة )

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ احرام باندھا تو مکہ پہنچے‘ جب ذوالحجہ کے چا دن گزر چکے تھے‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم احرام کھول دیں اور اس کو عمرہ بنا لیں۔ پس ہم نے مکمل طور پر احرام کھول دیئے‘ پس ہم کعبہ شریف کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر چکے تھے یہاں تک کہ جب آ ٹھویں ذوالحجہ کا دن آیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے حج کا احرام باندھا۔ پس ہم سے بعض نے بعض سے کہا: ہم اپنے وطن سے نکلے یہاں تک کہ جب منٰی جانے کو ہمیں چار دن باقی رہ گئے تو (اب) ہم اس حال میں نکلیں گے کہ ہمارے عضو مخصوص سے منی گر رہی ہو گی؟ پس یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گئی‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھے متہم کرتے ہو حالانکہ میں آسمان وزمین والوں کا امین ہوں؟ بہرحال بے شک میں اگر کسی معاملے میں قدم آگے بڑھاتا ہوں تو پیچھے نہیں ہٹاتا ہوں‘ قربانی نہیں ہے مگر مکہ سے اور انہوں نے حضرت سراقہ بن مالک والا قصہ ذکر نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيُّ، ← كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى أَبُو مَالِكٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6598

chevron_left Previous
1…282930…73
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter