Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 656 - سبرة بن فاتك الأسدي أخو خريم · حديث 6573

6557 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي و عبدان بن أحمد قالا ثنا هشام بن عمار ثنا معاوية بن يحيى ثنا الزبيدي عن جبير بن نفير عن سبرة بن فاتك الأسدي Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال : الميزان بيد الله يرفع أقواما ويضع قومأ وقلب ابن آدم بين إصبعين من أصابع الرحمن إن شاء أزاغه وإن شاء أقامه

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں حضرت ابو الفا کہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ شیطان انسان کے تمام اطراف بیٹھتا ہے‘ اسلام کے راستے پر بیٹھتا ہے‘ اس کو کہتا ہے : تو اسلام لائے گا اور اپنے اور اپنے باپ کے میں دین کو چھوڑ دے گا‘ پھر ہجرت کے راستے پر بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: تو ہجرت کرے گا اور اپنی جائے پیدائش کو چھوڑ دے گا‘ تیرے لیے یہ لمبا سفر ہے گھوڑے کی طرح‘ پھر جہاد کے راستے پر بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: تو جہاد کرے گا اور قتل کیا جائے گا‘ تیری بیوی سے شادی کی جائے گی‘ تیرے مال کو تقسیم کیا جائے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: جس نے اس کے وسوسوں کے باوجود یہ کام کیا‘ اللہ عزوجل اس کے لیے جنت کا ضامن ہو گا۔

سبرة بن فاتك الأسدي ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أحمد بن المعلى الدمشقي و عبدان بن أحمد

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6573

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 657 - سبرة بن أبي فاكه · حديث 6574

6558 - حدثنا عبيد بن غنام و عبد الله بن ناجية قالا ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا محمد بن فضيل عن موسى الثقفي أبي جعفر عن سالم بن أبي الجعد عن سبرة بن أبي فاكه وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الشيطان قعد لابن آدم بأطرقه كلها فقعد له بطريق الإسلام فقال : تسلم وتدع دينك ودين آبائك ثم قعد له بطريق الهجرة فقال : تهاجر و تدع مولدك فتكون كالفرس في طوله ثم قعد له بطريق الجهاد فقال : تجاهد فتقتل فتزوج امرأتك ويقسم مالك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فمن فعل ذلك ضمن الله له الجنة

حضرت سمرہ بن ابو سبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے‘ آپ نے فرمایا: تمہارے کتنے بچے ہیں؟ عرض کی : عبدالعزیٰ سبرہ اور حارث۔ آپ نے فرمایا: عبدالعزیٰ نام نہ رکھو‘ اس کا نام عبداللہ رکھو۔ پھر فرمایا: تمہارے ناموں میں بہتر نام عبداللہ عبدالرحمٰن ہے‘ آپ نے میرے والد اور ان کی اولاد کے لیے دعا کی‘ آج تک اس دعا کا اثر ہے۔ حضرت ابو محمد الحجاج بن منہال فرماتے ہیں کہ خیثمہ بن عبد الرحمٰن ان میں سے ہے۔

كان من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← سَبْرَةَ بْنِ أَبِي فَاكِهٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مُوسَى الثَّقَفِيِّ أَبِي جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عبيد بن غنام و عبد الله بن ناجية

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6574

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 658 - سبرة بن أبي سبرة الجعفي جد خيثمة بن عبد الرحمن · حديث 6575

6559 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي قالا ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة عن الحجاج عن عمير بن سعيد عن سبرة بن أبي سبرة Y أن أباه أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ما ولدك ؟ قال : عبد العزى و سبرة و الحارث فقال : لا تسم عبد العزى فسماه عبد الله ثم قال : إن خير الأسماء عبد الله و عبد الرحمن ودعا له ولولده فلم يزالوا في شرف إلى اليوم قال أبو محمد الحجاج بن المنهال : خيثمه بن عبد الرحمن منهم

حضرت سبره بن ابو سبرہ اپنے والد سے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کرتے ہیں۔

سبرة بن أبي سبرة ← عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← الْحَجَّاجِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6575

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 658 - سبرة بن أبي سبرة الجعفي جد خيثمة بن عبد الرحمن · حديث 6576

6560 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا يحيى الحماني ( ح ) وحدثنا عبد الله بن ناجية ثنا أبو مجمر القطيعي قالا ثنا عباد بن العوام عن الحجاج بن أرطاة عن عمير بن سعيد عن سبرة بن أبي سبرة عن أبيه Y عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: عمرہ حج میں شامل ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← أَبِيهِ ← سبرة بن أبي سبرة ← عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← أبو مجمر القطيعي ← وحدثنا عبد الله بن ناجية ← يحيى الحماني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6576

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سراقة 956 - سراقة بن مالك بن جعشم المدلجي كان ينزل في ناحية المدينة ما أسند سراقة بن مالك بن عباس عن سراقة بن مالك · حديث 6577

6561 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أبو كريب ثنا فردوس الأشعري ثنا مسعود بن سليمان عن حبيب بن أبي ثابت عن طاوس عن ابن عباس عن سراقة بن مالك Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : دخلت العمرة في الحج

حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمیں اس عمرہ کے متعلق بتائیں‘ ہمارے اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے‘ عمرہ حج میں شامل ہے قیامت کے دن تک۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمیں ہمارے دین کے متعلق بتائیں کہ ہم اس کے انتظار میں ہیں‘ قلم لکھ چکا ہے اور تقدیر لکھی جا چکی ہے‘ کیا ہم کوئی نیا کام کر یں؟ آپ نے فرمایا: تقدیر لکھی جا چکی ہے‘ تقدیر لکھی جا چکی ہے۔ عرض کی: یا رسول اللہ ! پھر عمل کی کیا ضرورت ہے؟ آپ نے فرمایا: عمل کرو! جس کے لیے آدمی پیدا کیا گیا اس کے لیے وہ کام آسان کر دیا جائے گا۔

دخلت العمرة في الحج ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← مَسْعُودِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← فردوس الأشعري ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6577

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6578

6562 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي وحدثنا الحسن بن حماد بن فضالة الصيرفي البصري ثنا أبوحفص عمرو بن علي قالا ثنا الحسين بن حبيب بن ندبة ثنا روح بن القاسم عن أبي الزبير عن جابر عن سراقة بن مالك قال Y يا رسول الله أخبرنا عن عمرتنا هذه لعامنا هذا أم للأبد ؟ قال : لا بل للأبد دخلت العمرة في الحج إلى يوم القيامة قلت : يا رسول الله أخبرنا عن ديننا كأنما ننظر إليه بما جرت به الأقلام وثبتت به المقادير أم لأمر نستأنفه ؟ قال : بل ما جرت به الأقلام وثبتت به المقادير قال : ففيم العمل يارسول الله ؟ قال : اعملوا فكل ميسر لما خلق له

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے‘ عورتیں اور بچے بھی ہمارے ہمراہ تھے‘ جب ہم مکہ آئے تو طواف کعبہ کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: جس کے پاس قربانی نہیں ہے وہ احرام کھول دے۔ ہم نے عرض کیا : حلالی ہے؟ آپ نے فرمایا: سب کا سب حلال ہے‘ ہم عورتوں کے پاس آئے اور ہم نے کپڑے پہنے اور خوشبو لگائی‘ جب آ ٹھویں ذوالحجہ کا دن تھا‘ ہم نے حج کا احرام باندھا اور صفا ومروہ کے درمیان پہلی سعی ہی ہم کو کافی ہوئی‘ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےحکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے کی قربانی کے لیے شریک ہوں‘ ہم میں سے ہر سات آدمی ایک اونٹ میں۔حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آ کر عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم کو ہمارا دین سکھائیں‘ گویا آج ہی ہم پیدا ہوئے ہیں؟ کیا یہ عمرہ ہمارے لیے اسی سال ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ہمیشہ کے لیے ہے۔

سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ نُدْبَةَ ← أبوحفصٍ عَمرو بنُ عليٍّ: ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ فَضَالَةَ الصَّيْرَفِيُّ الْبَصْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6578

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6579

6563 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا أبو الوليد الطيالسي ثنا زهير ثنا أبو الزبير عن جابر قال Y خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم مهلين حتى النساء والولدان فلما قدمنا مكة طفنا بالبيت وبالصفا والمروة فقال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم : من لم يكن معه هدي فليحل قلنا : أي الحل ؟ قال : الحل كله فأتينا النساء ولبسنا الثياب ومسسنا الطيب فلما كان يوم التروية أهللنا بالحج وكفانا الطواف الأول بين الصفا والمروة وأمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نشترك في الإبل والبقر كل سبعة منا في بدنة فجاء سراقة بن مالك فقال : يا رسول الله بين لنا ديننا كأننا خلقنا الآن أرأيت عمرتنا هذه لعامنا هذا أم للأبد ؟ قال : بل للأبد

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے‘ پس ہم نے مقام ذوالحلیفہ سے حج کا احرام باندھا‘ ہم نے اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے بھی احرام باندھا اور ان کی طرف سے طواف بھی کیا اور سعی بھی‘ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا تو ہم نے مکمل طور پر احرام کھول دیا حتٰی کہ جب آ ٹھویں ذوالحجہ کا دن آیا تو ہم نے بطحاء کے مقام سے حج کا احرام باندھا۔ اس حدیث میں انہوں نے حضرت سراقہ بن ما لک والا قصہ بیان نہیں کیا۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6579

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6580

6564 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا سهل بن عثمان ثنا المحاربي عن أشعث بن سوار عن أبي الزبير عن جابر قال Y خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فأهللنا بالحج من ذي الحليفة وأهللنا عن الولدان وطفنا عنهم وسعينا عنهم ثم أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فأحللنا الحل كله حتى إذا كانت عشية التروية أهللنا بالحج من البطحاء ولم يذكر قصة سراقة بن مالك

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہمارے اس دین کے بارے ہمیں بتائیں‘ گویا ہم اسی گھڑی پیدا ہوئے ہیں؟ ہم کس چیز میں عمل کر یں؟ کیا کسی شی میں تقدیر محکم ہو گئی ہے اور قلمیں چل چکی ہیں یا کوئی کام ہم نئے سرے سے کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ اسی میں جس میں قلم چل چکے ہیں۔حضرت سراقہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! پھر عمل کس لیے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عمل کرو‘ پس ہر عمل کرنے والے کیلئے وہی آسان بنایا گیا ہے جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’فاما من اعـطٰـى الـىٰ آخـرہٖ “ حسنٰی کا معنی لا الہ الا اللہ ’’ فسنیسرہ للیسرٰی الٰی آخرہٖ“ اس میں بھی حسنٰی کا معنی لا الہ الا اللہ ’’ فسنیسرہ للعسرٰی‘‘ ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ← الْمُحَارِبِيُّ2 ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6580

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6583

6567 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا أبوالمعافى الحراني ثنا محمد بن سلمة عن أبي عبد الرحمن عن زيد بن أنيسة عن أبي الزبير عن جابر قال Y خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم مهلين بالحج فقدمنا مكة فطفنا بالبيت وبين الصفا والمروة ثم قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : من لم يكن منكم ساق هديا فليحل وليجعلها عمرة قلنا : حل ماذا يارسول الله ؟ قال : الحل كله فواقعنا النساء ولبسنا الثياب وتطيبنا الطيب فقال ناس : يحل بيننا وبين عرفة أربعة أيام فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام فينا كالمغضب فقال : والله لقدعلمتم أني أتقاكم لله ولو علمت أن تقولوا ذلك ما سقت الهدي فاستجيبوا لما تؤمرون به فقام سراقة بن مالك ؟ فقال : يا رسول الله عمرتنا هذه التي أمرتنا بها لعامها هذا أم للأبد ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بل للأبد فقال سراقة : حدثنا يارسول الله عن ديننا كأننا خلقنا الآن أفي شيء جفت به الأقلام وجرت به المقادير أو فيما يستأنف قال : بل فيما جفت به الأقلام وجرت به المقادير فقال سراقة : ففيم العمل يارسول الله ؟ قال : اعملوا فكل عامل ميسر ثم قرأ { فأما من أعطى واتقى } { وصدق بالحسنى } { فسنيسره لليسرى } { وأما من بخل واستغنى } { وكذب بالحسنى } { فسنيسره للعسرى }

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم ایسے معاملے کیلئے عمل کریں گے جس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے یا ایسے کام کیلئے جس کو ہم نے نئے سرے سے کرنا ہے؟ فرمایا: ایسے کام کیلئے جس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے۔ پس حضرت سراقہ نے عرض کی : پھر عمل کس لیے ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر کام کرنے والے کا کام آسان بنادیا گیا ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زيد بن أنيسة ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أبوالمعافى الحراني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6583

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6584

6568 - حدثنا أحمد بن رشدين ثنا أحمد بن صالح ثنا ابن وهب حدثني عمرو بن الحارث عن أبي الزبير عن جابر Y أن سراقة بن مالك قال : يارسول الله أنعمل لأمر قد فرغ منه أم لأمر نأتنفه ؟ فقال : لأمر قد فرغ منه فقال سراقة : ففيم العمل إذن ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل عامل ميسر

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم حج کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے‘ ہمارا ارادہ صرف حج کرنے کا تھا اور اس کے علاوہ ہم نے کوئی نیت نہیں کی حتٰی کہ جب ہم مقام سرف پہ تھے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ماہواری کا خون شروع ہو گیا‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے‘حالانکہ وہ رو رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟ عرض کی: مجھے تکلیف والا معاملہ پیش آ گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو بھی آدم کی بیٹی ہے‘ تجھے بھی وہ تکلیف لاحق ہوتی ہے جو آدمی کی بیٹیوں کو لاحق ہوتی ہے۔فرماتے ہیں : ابھی ذوالحجہ سے چار راتیں باقی تھیں‘ جب ہم مکہ پہنچے‘ پس ہم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کی جیسے ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا‘ پس ہم نے باہم مذاکرہ کیا تو ہم نے عرض کی: ہم حاجی بن کر نکلے‘ حج کے علاوہ نہ ہمارا کوئی ارادہ تھا اور نہ کوئی نیت تھی حتٰی کہ جب ہمارے اور عرفات کے درمیان چار دن کا فاصلہ رہ گیا ہے تو حال یہ ہے کہ ہمارے مرد اپنی عورتوں کو منٰی ٹپکانے لگے ہیں۔ پس یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گئی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوئے‘ فرمایا: بے شک عمرہ حج میں داخل ہے اور اگر میں کوئی شروع کرتا ہوں تو اسے ادھورا نہیں چھوڑتا‘ جو میں قربانی لایا ہوں اور اگر میں قربانی نہ لایا ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا‘ پس جس کے پاس قربانی نہیں ہے تو اسے چاہیے احرام کھول دے۔ پس حضرت سراقہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس قوم کے ساتھ بات کر نے کی مانند ہم سے بات کریں جو آج پیدا ہوئی ہے۔ کیا ہمارا یہ عمرہ ہمارے اسی سال کیلئے ہے‘ یا ہمیشہ کیلئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ ہمیشہ کیلئے۔ پس ہم عرفات آئے‘ پس جب واپسی کا وقت تھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! آپ لوگوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کی‘ لیکن میں طواف (وسعی) سے محروم رہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ کو وہی ثواب ملے گا جو دوسرے حاجیوں کو ملے گا۔ انہوں نے عرض کی: میرا دل مطمئن نہیں ہو رہا ہے؟ راوی کا بیان ہے : ان کیلئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وادی مکہ کی بلندی پر پڑاؤ ڈالا اور ان کو حضرت عبدالرحمٰن بن ابو بکر کے پیچھے بٹھایا حتٰی کہ وہ مقام تنعیم پر آئیں (اور وہاں سے احرام باندھ کر طواف وسعی کی سعادت حاصل کی)۔

سراقة ففيم العمل إذن ← «لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ» ← يارسول الله أنعمل لأمر قد فرغ منه أم لأمر نأتنفه ← جابر أن سراقة بن مالك ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6584

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6585

6569 - حدثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا أبو جعفر النفيلي قال : قرأت على معقل بن عبيد الله عن عطاء بن أبي رباح عن جابر بن عبد الله قال Y خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حجاجا ما نريد إلا الحج ولا ننوي غيره حتى إذا كان بسرف حاضت عائشة فدخل عليها رسول الله صلى الله عليه و سلم وهي تبكي فقال : ما يبكيك ؟ قالت : أصابني الأذى قال : إنما أنت من بنات آدم يصيبك ما يصيبهن قال فقدمنا مكة لأربع ليال خلون من ذي الحجة فطفنا بالبيت وبالصفا والمروة كما أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فتذاكرنا بيننا فقلنا : خرجنا حجاجا ولا نريد إلا الحج ولا ننوي غيره حتى إذا لم يبق بيننا وبين عرفات إلا أربع ليال ومذاكيرنا تقطر المني من النساء فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام خطيبا فقال : إن العمرة قد دخلت في الحج ولوأنني استقبلت من أمري ما استدبرت ما سقت الهدي ولولا الهدي لأحللت فمن لم يكن معه هدي فليحلل فقال سراقة بن مالك بن جعشم المدلجي : يارسول الله حدثنا حديث قوم كأنما ولدوا اليوم عمرتنا هذه لعامنا أم للأبد ؟ قال : للأبد قال : فأتينا عرفة فلما - كان عند الانصراف قالت عائشة : يارسول الله إنكم قد طفتم بالبيت وبين الصفا والمروة ولم أكن طفت فقال : إن لك مثل ما للقوم قالت : فإني أجد في نفسي قال : فوقف لها رسول الله صلى الله عليه و سلم في أعلى وادي مكة وأردفها عبد الرحمن بن أبي بكر حتى أتت التنعيم

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ذوالحجہ کی چار تاریخ کی صبح کو حج کا احرام باندھتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ آئے‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں طواف کعبہ نماز اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کا حکم دیا‘ پھر حکم دیا تو ہم نے بال کم کروائے‘ پھر فرمایا: احرام کھول دو! ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کون سی چیز حلال ہو گی؟ فرمایا: عورتوں اور خوشبو وغیرہ میں سے جو بھی حلال ہے‘ وہ حلال ہو گا۔ راوی کا بیان ہے: بیویوں کے حقوق پورے کیے گئے اور خوشبوؤں کے حُلے اٹھے۔ راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ بعض کہہ رہے ہیں کہ کیا ہم میں سے کوئی منٰی جائے گا اس حال میں کہ وہ منٰی پکا رہا ہو گا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو خطبہ دیا‘ پس اللہ کی حمدو ثناء بیان کی پھر فرمایا: میں کوئی حکم دے کر واپس نہیں لیتا‘ میں جو قربانی لایا ہوں‘ اگر میں قربانی نہ لایا ہوتا تو میں بھی حلق کرواتا‘ تم احکام حج کیوں نہیں سیکھ لیتے۔ راوی کا بیان ہے: پس ساری قوم احکام حج پورے کرنے کو تیار ہو گئی حتٰی کہ جب آٹھویں ذوالحجہ کا دن آیا اور سب نے منٰی جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے حج کا احرام باندھا‘ فرمایا: قربانی اس پر لازم ہے جو قربانی کا جانور پائے اور روزے اس پر ہیں جو قربانی کا جانور نہ پائے‘ قربانی کے اپنے جانور میں باہم ایک دوسرے کے ساتھ شریک بھی ہو سکتے ہیں‘ اونٹ میں بھی اور گائے میں بھی سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔ ایک طواف وہ بیت اللہ شریف کا کریں گے اور صفا ومروہ کی ایک بارسعی کریں گے‘ اپنی حج اور عمرہ کے لیے انہوں نے حضرت سراقہ بن مالک کے قصہ کا ذکر نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6585

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ جابر بن عبد الله عن سراقة بن مالك · حديث 6586

6570 - حدثا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي ثنا الربيع بن صبيح عن عطاء عن جابر قال Y قدمنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم صبيحة أربع مضين من ذي الحجة مهلين بالحج كلنا فأمرنا رسول صلى الله عليه و سلم فطفنا بالبيت وصلينا وسعينا بين الصفا والمروة ثم أمرنا فقصرنا ثم قال : أحلوا قلنا : يارسول الله حل ماذا ؟ قال : حل ما يحل الحلال من النساء والطيب قال : فغشيت النساء وسطعت المجامر قال : وبلغه أن بعضهم يقول : أينطلق أحدنا إلى منى وذكره يقطر منيا فخطبهم فحمد الله عز و جل وأثنى عليه ثم قال : لو استقبلت من أمري ما استدبرت ماسقت الهدي ولو لم أسق الهدي حلفت ألا فخذوا مناسككم قال : فأقام القوم كلهم حتى إذا كان يوم التروية وأرادوا التوجه إلى منى أهلوا بالحج قال : كان الهدي على من وجد والصيام على من لم يجد وأشرك بينهم في هديهم الجزور بين سبعة والبقرة بين سبعة وكان طوافهم بالبيت وسعيهم بين الصفا والمروة طوافا واحدا وسعيا واحدا لحجهم وعمرتهم ولم يذكر قصة سراقة بن مالك

حضرت ابو شہاب موسیٰ بن نافع فرماتے ہیں : میں مکے آیا اس حال میں کہ میں عمرہ کا احرام باندھنے والا تھا۔ پس تین دن آ ٹھویں ذوالحجہ سے پہلے آئے۔ پس مکہ والوں نے مجھ سے کہا: اب آپ کی حج مکی ہو جائے گی‘ میں فتویٰ لینے کیلئے حضرت عطاء بن ابو رباح کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پس انہوں نے فرمایا: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے حدیث سنائی کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا اس دن جس دن وہ قربانی کا جانور ہانک کر لے گئے اس حال میں کہ انہوں نے حج مفرد کا احرام باندھا تھا‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کر کے تم احرام کھول دو اور بغیر احرام کے مقیم ہو جاؤ یہاں تک کہ جب آ ٹھویں ذوالحجہ کا دن آئے تو حج کا احرام باندھو اور جس کے ساتھ تم آئے ہو اسے احرام تمتع بنا لوا صحابہ نے عرض کی: ہم اس کو تمتع کیسے بنائیں حالانکہ ہم نے اس کا نام حج رکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو میں نے تمہیں حکم دیا ہے وہ کرو‘ پس اگر میں قربانی کا جانور نہ لایا ہوتا تو اسی کی مثل کرتا جو میں نے تمہیں حکم دیا ہے لیکن احرام کھولنا مجھے روا نہیں ہے یہاں تک کہ قربانی اپنی جگہ پہنچ جائے۔ پس انہوں نے ایسا ہی کیا‘ لیکن حضرت سراقہ بن مالک والا قصہ ذکر نہیں فرمایا۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6586

chevron_left Previous
1…272829…73
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter