Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 641 - سويد بن غفلة مخضرم · حديث 6489

6474 - حدثنا محمد بن إبراهيم بن بكير الطيالسي البصري ثنا أبو الوليد الطيالسي ثنا شريك عن عثمان بن أبي زرعة عن أبي ليلى الكندي عن سويد بن غفلة قال Y أتانا مصدق رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذت بيده وأخذ بيدي فقرأت في عهده : أن لا تجمع بين متفرق ولا تفرق بين مجتمع خشية الصدقة فأتاه رجل بناقة عظيمة فأبى أن يأخذها ثم أتاه بأخرى دونها فأبى أن يأخذها ثم قال أي أرض تقلني وأي سماء تظلني إذا أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد أخذت خيار مال امرىء مسلم

حضرت محمد بن کعب قرظی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے‘ اسی دوران ایک آدمی مسجد کے پاس سے گزرا‘ پس ایک آدمی نے عرض کی : اے امیر المؤمنین! کیا آپ اس گزرنے والے آدمی کو پہچانتے ہیں؟ فرمایا: کون ہے وہ؟ عرض کی : یہ سواد بن قارب ہے اور اس آدمی کا تعلق یمن والوں سے ہے‘ یہ ان میں بڑی بزرگی اور مقام والا ہے اور وہی ہے جس کے پاس اس کے جن نے آ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خبر دی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس کو میرے پاس لاؤ۔ پس اسے بلایا گیا‘ آپ نے فرمایا: کیا تو سواد بن قارب ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: کیا تو وہی ہے جس کے پاس اس کے جن نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خبر دی‘ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا : ابھی تک تو اسی پرانی کہانت پر ہے؟ پس وہ سخت غصے میں آ گیا اور کہنے لگا: اے امیر المؤمنین! جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے‘ اس طرح میرے ساتھ کوئی بھی پیش نہیں آیا‘ پس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: واہ سبحان اللہ ! قسم بخدا! جس شرک پر ہم تھے وہ تیری کہانت سے بڑا ہے‘ آپ مجھے بتائیں! کیا واقعی آپ کے جن نے آ کر آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کی خبر دی؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! اے امیر المؤمنین ! اسی دوران کہ ایک رات میں جاگنے اور سونے کی درمیانی کیفیت میں تھا‘ جب میرے پاس میرا جن آیا۔ پس اس نے مجھے اپنے پاؤں سے ٹھوکر مار کر کہا: اے سواد بن قارب! اٹھ‘ سمجھ اور عقل کی گولی کھا‘ اگر تیرے اندر عقل ہے کیونکہ بنو لؤی بن غالب قبیلہ سے ایک رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا چکا ہے‘ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہے اور اس کی عبادت کی طرف بلاتا ہے۔ پھر اس نے یہ کلام پڑھنا شروع کر دیا: جن اور اس کی جستجو کی وجہ سے اور اس کے عمدہ اونٹوں پر ٹاٹ یا دری باندھنے کی وجہ سے مجھے تعجب ہوا‘ جو مکہ کی طرف‘ ہدایت تلاش کرنے کی خاطر جانا پسند کرتا ہے‘ جنوں میں سے بہتر‘ ان کے پلیدوں کی مانند نہیں ہیں ‘ پس بنو ہاشم قبیلہ میں سے چُنی ہوئی ہستی کی طرف کوچ کر اور اپنی دونوں آنکھوں کو ان کے سردار کی طرف بلند کر‘‘۔ کہتے ہیں: اس کی بات کی وجہ سے میں نے سر نہیں اٹھایا اور میں نے کہا: مجھے چھوڑو سونے دو کیونکہ میں نے اونگھتے ہوئے شام کی ہے۔ پس جب دوسری رات آئی تو وہ میرے پاس آیا‘ پس اس نے اپنے پاؤں سے ٹھوکر مار کر مجھے کہا: اے سواد بن قارب! کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ بنو لؤی بن غالب سے ایک رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہو چکے ہیں۔ اللہ کی طرف بلاتے ہیں اور اس کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں‘ پھر میرے جن نے یہ شعر پڑھنے شروع کر دیئے: ’’جن اور جن کی تلاش و جستجو‘ نیز اس کے عمدہ اونٹوں پر لوٹے باندھنے سے مجھے تعجب ہوا(جب سفر ہوتا ہے تو ساتھ لوٹے بھی) ‘ جو ہدایت کی تلاش کیلئے مکہ کی طرف جانے کو محبوب رکھتا ہے‘ سچے جن اور ہوتے اور جھوٹے جن اور ہوتے ہیں‘ چل سفر شروع کر‘ وہ ہاشم قبیلہ کی منتخب شخصیت ہیں‘ ان کے پہلے ان کے پچھلوں کی طرح نہیں ہیں‘‘۔ کہتے ہیں : اس کی بات سن کر میں نے سر نہ اٹھایا ‘ پس جب تیسری رات آئی تو اس نے مجھے پاؤں کی ٹھوکر ماری اور کہا: اے سواد بن قارب! کیا میں نے تجھے نہیں کہا‘ سمجھ لے اور عقل سے کام لے‘ اگر تو عقلمند ہے کیونکہ لؤی بن غالب سے ایک عظمت والا رسول مبعوث ہوا ہے‘ وہ اللہ اور اس کی عبادت کی طرف بلاتا ہے‘ پھر جن نے کہنا شروع کر دیا: ” میں جن اور ان کی خبر سے حیران ہوا‘ اور ان کے عمدہ اونٹوں پر کجاوے باندھنے کی وجہ سے بھی حیران ہوا ‘ وہ ہدایت تلاش کر نے کیلئے مکہ جانے کی خواہش رکھتا ہے‘ مؤمن جنوں کی باتیں اور ہوتی ہیں اور کافر جنوں کی باتیں اور ہیں‘ پس کر اس ہستی کی طرف جو بنو ہاشم سے انتخاب شدہ ہے‘ ان کی زرخیز زمینوں اور پتھروں کے درمیان‘‘ ۔ پس میرے دل میں اسلام کی محبت گھر کر گئی‘ پس جب میں نے صبح کی تو میں نے اپنی سواری پر زین کَس لی۔ پس میں مکہ کی طرف متوجہ ہوا۔ پس جب میں نے راستے میں ایک جگہ تھا تو مجھے خبر ملی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کر لی ہے‘ پس میں مدینے آیا۔ پس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے سوال کیا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں ہیں‘ پس میں مسجد میں آیا تو میں نے اپنی سواری کا پاؤں باندھا‘ اچانک میری نگاہ پڑی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگر دلوگ تھے‘ پس میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری بات بھی سماعت فرمائیں۔ پس حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو جا! قریب ہو جا! پس وہ مجھے یہ بات کہتے رہے حتٰی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہو گیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لاؤ وہ خبر جو تجھے تیرے جن نے دی ہے۔ پس میں نے یہ شعر سنائے : ’’جب میں نے تھوڑی دیر سکون اور نیند کر لی تو میرے پاس میرے ساتھ سرگوشی کرنے والا میرا جن آیا‘ اس سے پہلے اس نے کبھی مجھ سے جھوٹ نہیں بولا تھا‘ تین رات آتا رہا اور ہر رات ایک ہی بات تھی‘ لؤی بن غالب قبیلہ سے ایک عظمت والا رسول تیرے پاس آیا ہے ‘ پس میں نے چادر کے پلو سنبھالے اور کمر باندھی‘ پس میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں اور آپ پر غائب پر امن والے ہیں‘ اور بے شک آپ سب رسولوں سے قریبی وسیلہ ہیں‘ اللہ کی بارگاہ میں اے عزت و پاکیزگی والوں کے بیٹے! اے وہ ہستی جو ہر چلنے والے سے بہتر ہے‘ اب ہمیں حکم دیں جو آپ کے پاس ہوتا ہے‘ اگرچہ اب بالوں کی سفیدی بڑھاپے کی نشانی آ گئی ہے‘ میرے سفارشی بنو اس دن جس دن کوئی سفارشی نہ ہو گا‘ آپ کے علاوہ اور سواد بن قارب کو بے پرواہ کر دو‘‘۔ فرماتے ہیں: میرے اسلام لانے پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام بہت زیادہ خوش ہوئے یہاں تک کہ ان کے چہروں میں خوشی کے آثار دیکھے گئے۔فرماتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اچھل کر ان کی طرف آئے اور ان سے چمٹ گئے‘ فرمایا: میں پسند کرتا تھا کہ میں یہ بات آپ سے سنوں۔

سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ← شَرِيکٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بُكَيْرٍ الطَّيَالِسِيُّ الْبَصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6489

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سواد 642 - سواد بن قارب السدوسي · حديث 6490

6475 - حدثنا محمد بن التمار البصري ثنا بشر بن حجر الشامي ثنا علي بن منصور الأنباري عن عثمان بن عبد الرحمن الوقاصي عن محمد بن كعب القرظي قال Y بينا عمر بن الخطاب رضي الله عنه قاعدا في المسجد مر رجل في مؤخر المسجد فقال رجل : يا أمير المؤمنين أتعرف هذا المار ؟ قال : لا فمن هو ؟ قال : هذا سواد بن قارب وهو رجل من أهل اليمن له فيهم شرف وموضع وهو الذي أتاه رئيه بظهور رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عمر رضي الله عنه علي به فدعي له به قال : أنت سواد بن قارب ؟ قال نعم : قال : فأنت الذي أتاك رئيك بظهور رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال نعم قال فأنت على ماكنت عليه من كهانتك فغضب غضبا شديدا قال : يا أمير المؤمنين ما استقبلني بهذا أحد منذ أسلمت فقال عمر : ياسبحان الله والله ماكنا عليه من الشرك أعظم من كهانتك أخبرني باتيانك رئيك بظهور رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : نعم يا أمير المؤمنين بينا أنا ذات ليلة بين النائم واليقظان إذ أتاني رئي فضربني برجله وقال : قم يا سواد بن قارب فافهم واعقل إن كنت تعقل إنه قد بعث رسول من لؤي بن غالب يدعو إلى الله عز و جل وإلى عبادته ثم أنشا يقول : ( عجبت للجن ويحساسها ... وشذها العيس باحلاسها ) ( تهوي إلى مكة تبغي الهدى ... ما خير الجن كأنجاسها ) ( فارحل إلى الصفوة من هاشم ... واسم بعينيك إلى رأسها ) قال : فلم أرفع لقوله رأسا وقلت : دعني أنم فإني أمسيت ناعسا فلما أن كانت الليلة الثانية أتاني فضربني برجله وقال : ألم أقل لك يا سواد بن قارب قم فافهم واعقل إن كنت تعقل إنه قد بعث رسول من لؤي بن غالب يدعو إلى الله عز و جل وإلى عبادته ثم أنشأ الجني يقول : ( عجبت للجن وتطلابها ... وشدها العيس بأقتابها ) ( تهوي إلى مكة تبغي الهدى ... ما صادق الجن ككذابها ) ( فارحل إلى الصفوة من هاشم ... ليس قدامها كأذنابها ) قال : فلم أرفع بقوله رأسا فلما أن كان الليلة الثالثة أتاني فضربني برجله وقال : ألم أقل لك يا سواد بن قارب افهم واعقل إن كنت تعقل إنه قد بعث رسول من لؤي بن غالب يدعو إلى الله عز و جل وإلى عبادته ثم أنشا الجني يقول : ( عجبت للجن وأخبارها ... وشدها العيس بأكوارها ) ( تهوي إلى مكة تبغي الهدى ... ما مؤمن الجن ككفارها ) ( فارحل إلى الصفوة من هاشم ... بين روابيها وأحجارها ) فوقع في نفسي حب الإسلام ورغبت فيه فلما أصبحت شددت على راحلتي فانطلقت متوجها إلى مكة فلما كنت ببعض الطريق أخبرت أن النبي صلى الله عليه و سلم قد هاجر إلى المدينة فأتيت المدينة فسألت عن النبي صلى الله عليه و سلم فقيل لي في المسجد فانتهيت إلى المسجد فعقلت ناقتي وإذا رسول الله صلى الله عليه و سلم والناس حوله فقلت : اسمع مقالتي يارسول الله فقال أبو بكر رضي الله عنه : ادنه ادنه فلم يزل بي حتى صرت بين يديه فقال : هات فأخبرني بإتيانك رئيك فقلت : أتاني نجي بعد هدء رقدة ولم يك فيما قد بلوت بكاذب ( ثلاث ليال قوله كل ليلة ... أتاك رسول من لؤي بن غالب ) ( فشمرت من ذيل الإزار ووسطت ... بي الذعلب الوجناء بين السباسب ) ( فأشهدأن الله لا رب غيره وأنك ... مأمون على كل غائب ) ( وأنك أدنى المرسلين وسيلة ... إلى الله يا ابن الأكرمين الأطايب ) ( فمرنا بما يأتيك ياخير من مشى ... وإن كان فيما جاء شيب الذوائب ) ( وكن لي شفيعا يوم لا ذو شفاعة ... سواك بمغن عن سواد بن قارب ) قال : ففرح رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه بإسلامي فرحا شديدا حتى رؤي في وجوههم قال : فوثب عمر رضي الله عنه إليه والتزمه قال : قد كنت أحب أن أسمع هذا منك

حضرت سواد بن قارب ازدی فرماتے ہیں کہ میں سراۃ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ میں سویا ہوا تھا‘ پس کوئی آنے والا آیا‘ پس اس نے مجھے پاؤں سے ٹھوکر مار کر کہا: اے سواد بن قارب! اٹھو! لؤی بن غالب قبیلہ سے پیغامبر تیرے پاس آیا ہے‘ پس میں اٹھ کر سیدھا بیٹھ گیا اور وہ پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا: ” مجھے تعجب ہوا‘ جن اور اس کی تلاش وجستجو کی وجہ سے اور اس کے عمدہ اونٹوں پر جھل کے نیچے ٹاٹ باندھنے کی وجہ سے ‘ وہ مکہ جانے کی خواہش کرتا ہے تاکہ ہدایت کو تلاش کرے‘ جنوں کے نیک لوگ‘ ان کے پلیدوں کی مثل نہیں ہیں‘‘۔فرماتے ہیں: پھر میں دوبارہ سو گیا‘ پس اس نے میرے پاس آ کر اپنے پاؤں سے ٹھوکر ماری اور کہا: اے سواد بن قارب! اٹھو! تیرے پاس قبیلہ لؤی بن غالب سے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آیا ہے اور وہ واپس جاتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا: ”جن اور اس کی خبروں کی وجہ سے مجھے تعجب ہوا اور اس کے عمدہ اونٹوں پر کجاوے باندھنے سے تعجب ہوا‘ وہ مکہ کی طرف جانا پسند کرتا ہے تاکہ ہدایت کو تلاش کرے‘ جنوں کے مؤمن ان کے کفار کی مانند نہیں ہیں‘‘۔ فرماتے ہیں : میں سہ بارہ سو گیا تو وہ میرے پاس آیا‘ پس اس نے اپنے پاؤں سے مجھے ٹھوکر مار کر کہا: اے سواد بن قارب! اٹھو! تمہارے پاس لؤی بن غالب سے رسول آ گیا ہے‘ پس میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور واپس لوٹتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا: ’’جن اور اس کی تلاش سے مجھے تعجب ہوا اور اس کے اونٹوں کی دُمیں باندھنے پر بھی تعجب ہوا‘ ہدایت کو تلاش کرنے کے لیے وہ مکہ جانے کو محبوب رکھتا ہے‘ ان کے سچے ان کے جھوٹوں کی مانند نہیں ہیں ‘‘ پس تو بنو ہاشم قبیلہ کی جنی ہوئی ہستی کی طرف سفر کا آغاز کر اور اپنی آنکھوں کو ان کے سردار کی طرف اٹھا‘‘۔ کہتے ہیں : میں نے صبح کی تو میں اپنے اونٹ پر بیٹھ کر مکہ آیا‘ اچانک میری نگاہ پڑی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا چکے تھے‘ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی۔

مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيِّ، ← عَلِيُّ بْنُ مَنْصُورٍ الْأَنْبَارِيُّ، ← بشر بن حجر الشامي ← محمد بن التمار البصري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6490

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سواد 642 - سواد بن قارب السدوسي · حديث 6491

6476 - حدننا محمد بن هارون بن محمد بن بكاره بن بلال الدمشقي ثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي ثنا الحكم بن يعلى بن عطاء ثنا أبو معمرعباد بن عبد الصمد قال سمعت سعيد بن جبير يقول أخبرني سواد بن قارب الأزدي قال Y كنت نائما على جبل من جبال السراة فأتى آت فضربني برجله وقال : قم يا سواد بن قارب أتاك رسول من لؤي بن غالب فاستويت قاعدا وأدبر وهو يقول : ( عجبت للجن وتجساسها ... وشدها العيس بأحلاسها ) ( تهوي إلى مكة تبغي الهدى ... ما صالحوها مثل أرجاسها ) قال ثم عدت فنمت فأتاني فضربني برجله وقال : قم يا سواد بن قارب أتاك رسول من لؤي بن غالب وأدبر وهو يقول : ( عجبت للجن وأخبارها ... ورحلها العيس بأكوارها ) ( تهوي إلى مكة تبغي الهدى ... ما مؤمنوها مثل كفارها ) قال : ثم عدت فنمت فأتاني فضربني برجله وقال : قم يا سواد بن قارب أتاك رسول من لؤي بن غالب فاستويت قاعدا وأدبر وهو يقول : ( عجبت للجن وتطلابها ... وشدها العيس بأذنابها ) ( تهوي إلى مكة تبغي الهدى ... ما صادقوها مثل كذابها ) ( فارحل إلى الصفوة من هاشم ... واسم بعينيك إلى رأسها ) قال : فأصبحت فاقتعدت بعير لي حتى أتيت مكة فإذا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد ظهرفأخبرته الخبر واتبعته

حضرت سواد بن عمرو انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ایسا آدمی ہوں جو خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں‘ مجھے مال دیا گیا جو آپ دیکھ رہے ہیں‘ مجھے پسند ہے کہ مجھ سے زیادہ کوئی اچھی جوتی نہ پہنے‘تو کیا یہ تکبر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! تکبر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: حق کو حقیر جاننا اور لوگوں کو حقیر جاننا۔

سَوَادِ بْنِ قَارِبٍ الْأَزْدِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أبو معمرعباد بن عبد الصمد ← الحكم بن يعلى بن عطاء ← سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ← حدننا محمد بن هارون بن محمد بن بكاره بن بلال الدمشقي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6491

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 643 - سواد بن عمرو الأنصارى · حديث 6492

6477 - حدثنا محمد بن علي بن شبيب السمسار و الحسن بن بشر البجلي ثنا المعافى بن عمران عن هشام بن حسان عن محمد بن سيرين عن سواد بن عمرو الأنصاري قال Y قلت : يارسول الله إني رجل حبب إلي الجمال وأعطيت منه ماترى فما أحب أحد يفوقني في شسع نعلي - أو قال شراك نعلي - أفمن الكبر ذاك ؟ قال : لا قلت : فما الكبر يارسول الله ؟ قال : من سفه الحق وغمص الناس

حضرت سواد بن عمرو انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ایسا آدمی ہوں جو خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں‘ مجھے مال دیا گیا جو آپ دیکھ رہے ہیں‘ مجھے پسند ہے کہ مجھ سے زیادہ کوئی اچھی جوتی نہ پہنے‘ تو کیا یہ تکبر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! تکبر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: حق کو حقیر جاننا اور لوگوں کو حقیر جاننا۔

سَوَادِ بْنِ عَمْرٍو الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← الْمُعَافِیُّ بْنُ عِمْرَانَ ← محمد بن علي بن شبيب السمسار و الحسن بن بشر البجلي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6492

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 643 - سواد بن عمرو الأنصارى · حديث 6493

6478 - حدثنا أحمد بن عمرو البزار ثنا الحسن بن قزعة ثنا عاصم بن هلال عن أيوب عن محمد بن سيرين عن سواد بن عمرو الأنصاري Y قال : سأل رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يارسول الله إني رجل حبب إلي الحسن والجمال حتى إني لا أحب أن يفوتني أحد بشراك أفمن الكبر ذلك ؟ قال : لا ولكن الكبر من غمص الناس وبطر الحق

حضرت سواد بن عمرو انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ایسا آدمی ہوں جو خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں‘ مجھے مال دیا گیا جو آپ دیکھ رہے ہیں‘ مجھے پسند ہے کہ مجھ سے زیادہ کوئی اچھی جوتی نہ پہنے‘ تو کیا یہ تکبر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:نہیں! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! تکبر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: حق کو حقیر جاننا اور لوگوں کو حقیر جاننا۔

سَوَادِ بْنِ عَمْرٍو الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← عَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6493

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 643 - سواد بن عمرو الأنصارى · حديث 6494

6479 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم أبو النعمان ثنا حماد بن زيد ثنا أيوب عن محمد بن سيرين Y أن سواد بن عمرو كان رجلا جميلا قال : يارسول الله إني أعطيت من الحسن والجمال وحبب إلي فلا أحب أن يفضلني أحد بشراك نعلي أفمن الكبر هو ؟ قال : لا ولكن الكبر من بطر الحق وغمص الناس

حضرت سوادہ بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ آپ نے میرے لیے اونٹ کا حکم دیا اور مجھے فرمایا: تم گھوڑے لو کیونکہ گھوڑے کی پیشانی میں قیامت کے دن تک بھلائی لکھ دی گئی ہے۔

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ،أَنَّ سَوَادَ بْنَ عَمْرٍو كَانَ رَجُلاً جَمِيلاً ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6494

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سوادة 644 - سوادة بن الربيع الجرمي · حديث 6495

6480 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا معلى بن راشد العمي ثنا محمد بن حمران ثنا سليمان الجرمي عن سوادة بن الربيع الجرمي قال Y أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمرلي بذود وقال لي : عليك بالخيل فإن الخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة

حضرت سوادہ بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (دست مبارک میں) انگوٹھی دیکھی (یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہر نبوت دیکھی)۔

أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمرلي بذود ← سوادة بن الربيع الجرمي ← سليمان الجرمي ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، ← معلى بن راشد العمي ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6495

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سوادة 644 - سوادة بن الربيع الجرمي · حديث 6496

6481 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا أبو كامل الجحدري ثنا محمد بن حمران ثنا سليمان الجرمي عن سوادة بن الربيع قال Y رأيت على النبي صلى الله عليه و سلم خاتما

حضرت سوادہ بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ آپ نے میرے لیے اونٹ دینے کا حکم دیا‘ آپ نے فرمایا: جب اپنے گھر کی طرف جاؤ تو ان گھر والوں سے کہنا کہ اچھے اعمال کریں اور ان کو حکم دینا کہ اپنے ناخن کاٹیں تاکہ جب جانوروں کا دودھ دھوئیں تو ان کے تھنوں کوخراش نہ آئے۔

رأيت على النبي صلى الله عليه و سلم خاتما ← سَوَادَةَ بْنِ الرَّبِيعِ، ← سليمان الجرمي ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6496

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سوادة 644 - سوادة بن الربيع الجرمي · حديث 6497

6482 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حفص بن عمرالحوضي ثنا مرجى بن رجاء ثنا سلم بن عبد الرحمن عن سوادة بن الربيع قال Y أتيت النبي صلى الله عليه و سلم وأمر لي بذود قال : إذا رجعت إلى بنيك فقل لهم فليحسنوا أعمالهم ومرهم فليقلموا أظفارهم ولا يخدشوا بها ضروع مواشيهم إذا حلبوا

حضرت محمد بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما (یعنی امام باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان بن صرف الخزاعی اور حضرت مسیّب بن نجبہ فزارمی چار ہزار آدمیوں کا لشکر لے کر نکلے‘ حضرت سید الشہداء امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے‘ ان کے امیر حضرت سلیمان بن صرد تھے‘ یہ وقت ربیع الاخر 65 ہجری کا تھا‘ پھر یہ حضرات عبیداللہ بن زیاد کی طرف چلے‘ پس وہ اس کے مقدمۃ الجیش سے ملے تو ان سے قتال کیا‘ حضرت سلیمان بن صرد اور ابن نجبہ‘ ربیع الآخر کے مہینہ میں شہید کیے گئے۔

أتيت النبي صلى الله عليه و سلم وأمر لي بذود ← سَوَادَةَ بْنِ الرَّبِيعِ، ← سلم بن عبد الرحمن ← مُرَجَّى بْنُ رَجَاءٍ، ← حفص بن عمرالحوضي ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6497

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سليمان 645 - سليمان بن صرد الخزاعي يكنى أبا المطرف · حديث 6498

6483 - حدثنا محمد بن علي المديني فستقة ثنا داود بن رشيد عن الهيثم بن عدي قال : هلك سليمان بن صرد سنة خمس وستين قال محمد بن علي Y وبلغني أن سليمان بن صرد الخزاعي خرج هو و المسيب بن نجبة الفزاري في أربعة آلاف فعسكرا بالنخيلة يطلبون بدم الحسين رضي الله عنه وعليهم بسليمان بن صرد وذلك لمستهل ربيع الآخر سنة خمس وستين ثم ساروا إلى عبيد الله بن زياد فلقوا مقدمته فاقتتلوا فقتل سليمان بن صرد و ابن نجبة في شهر ربيع الآخر

حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ خندق کے موقع پر فرمایا: اب ہم ان سے جہاد کریں گے اور وہ ہمارے ساتھ نہیں کریں گے۔

هَلَكَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدَ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ. ← الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← محمد بن علي المديني فستقه

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6498

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سليمان بن صرد · حديث 6499

6484 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن أبي إسحاق قال سمعت سليمان بن صرد الخزاعي يقول Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الأحزاب : الآن نغزوهم ولا يغزونا

حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ خندق کے موقع پر فرمایا: آج ہم ان سے جہاد کریں گے اور وہ ہمارے ساتھ نہیں کریں گے۔

سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ الْخُزَاعِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6499

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سليمان بن صرد · حديث 6500

6485 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا شعبة عن أبي إسحاق عن سليمان بن صرد Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال يوم الأحزاب : اليوم نغزوهم ولا يغزونا

حضرت خالد بن عرفطہ نے حضرت سلیمان بن صرد سے یا حضرت سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت خالد بن عرفطہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو پیٹ کی بیماری میں مر جائے‘ اسے عذاب قبر نہیں ہو گا ؟ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: جی ہاں !

سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6500

chevron_left Previous
1…202122…73
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter