المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 641 - سويد بن غفلة مخضرم · حديث 6489
6474 - حدثنا محمد بن إبراهيم بن بكير الطيالسي البصري ثنا أبو الوليد الطيالسي ثنا شريك عن عثمان بن أبي زرعة عن أبي ليلى الكندي عن سويد بن غفلة قال Y أتانا مصدق رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذت بيده وأخذ بيدي فقرأت في عهده : أن لا تجمع بين متفرق ولا تفرق بين مجتمع خشية الصدقة فأتاه رجل بناقة عظيمة فأبى أن يأخذها ثم أتاه بأخرى دونها فأبى أن يأخذها ثم قال أي أرض تقلني وأي سماء تظلني إذا أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد أخذت خيار مال امرىء مسلم
حضرت محمد بن کعب قرظی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے‘ اسی دوران ایک آدمی مسجد کے پاس سے گزرا‘ پس ایک آدمی نے عرض کی : اے امیر المؤمنین! کیا آپ اس گزرنے والے آدمی کو پہچانتے ہیں؟ فرمایا: کون ہے وہ؟ عرض کی : یہ سواد بن قارب ہے اور اس آدمی کا تعلق یمن والوں سے ہے‘ یہ ان میں بڑی بزرگی اور مقام والا ہے اور وہی ہے جس کے پاس اس کے جن نے آ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خبر دی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس کو میرے پاس لاؤ۔ پس اسے بلایا گیا‘ آپ نے فرمایا: کیا تو سواد بن قارب ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: کیا تو وہی ہے جس کے پاس اس کے جن نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خبر دی‘ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا : ابھی تک تو اسی پرانی کہانت پر ہے؟ پس وہ سخت غصے میں آ گیا اور کہنے لگا: اے امیر المؤمنین! جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے‘ اس طرح میرے ساتھ کوئی بھی پیش نہیں آیا‘ پس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: واہ سبحان اللہ ! قسم بخدا! جس شرک پر ہم تھے وہ تیری کہانت سے بڑا ہے‘ آپ مجھے بتائیں! کیا واقعی آپ کے جن نے آ کر آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کی خبر دی؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! اے امیر المؤمنین ! اسی دوران کہ ایک رات میں جاگنے اور سونے کی درمیانی کیفیت میں تھا‘ جب میرے پاس میرا جن آیا۔ پس اس نے مجھے اپنے پاؤں سے ٹھوکر مار کر کہا: اے سواد بن قارب! اٹھ‘ سمجھ اور عقل کی گولی کھا‘ اگر تیرے اندر عقل ہے کیونکہ بنو لؤی بن غالب قبیلہ سے ایک رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا چکا ہے‘ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہے اور اس کی عبادت کی طرف بلاتا ہے۔ پھر اس نے یہ کلام پڑھنا شروع کر دیا: جن اور اس کی جستجو کی وجہ سے اور اس کے عمدہ اونٹوں پر ٹاٹ یا دری باندھنے کی وجہ سے مجھے تعجب ہوا‘ جو مکہ کی طرف‘ ہدایت تلاش کرنے کی خاطر جانا پسند کرتا ہے‘ جنوں میں سے بہتر‘ ان کے پلیدوں کی مانند نہیں ہیں ‘ پس بنو ہاشم قبیلہ میں سے چُنی ہوئی ہستی کی طرف کوچ کر اور اپنی دونوں آنکھوں کو ان کے سردار کی طرف بلند کر‘‘۔ کہتے ہیں: اس کی بات کی وجہ سے میں نے سر نہیں اٹھایا اور میں نے کہا: مجھے چھوڑو سونے دو کیونکہ میں نے اونگھتے ہوئے شام کی ہے۔ پس جب دوسری رات آئی تو وہ میرے پاس آیا‘ پس اس نے اپنے پاؤں سے ٹھوکر مار کر مجھے کہا: اے سواد بن قارب! کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ بنو لؤی بن غالب سے ایک رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہو چکے ہیں۔ اللہ کی طرف بلاتے ہیں اور اس کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں‘ پھر میرے جن نے یہ شعر پڑھنے شروع کر دیئے: ’’جن اور جن کی تلاش و جستجو‘ نیز اس کے عمدہ اونٹوں پر لوٹے باندھنے سے مجھے تعجب ہوا(جب سفر ہوتا ہے تو ساتھ لوٹے بھی) ‘ جو ہدایت کی تلاش کیلئے مکہ کی طرف جانے کو محبوب رکھتا ہے‘ سچے جن اور ہوتے اور جھوٹے جن اور ہوتے ہیں‘ چل سفر شروع کر‘ وہ ہاشم قبیلہ کی منتخب شخصیت ہیں‘ ان کے پہلے ان کے پچھلوں کی طرح نہیں ہیں‘‘۔ کہتے ہیں : اس کی بات سن کر میں نے سر نہ اٹھایا ‘ پس جب تیسری رات آئی تو اس نے مجھے پاؤں کی ٹھوکر ماری اور کہا: اے سواد بن قارب! کیا میں نے تجھے نہیں کہا‘ سمجھ لے اور عقل سے کام لے‘ اگر تو عقلمند ہے کیونکہ لؤی بن غالب سے ایک عظمت والا رسول مبعوث ہوا ہے‘ وہ اللہ اور اس کی عبادت کی طرف بلاتا ہے‘ پھر جن نے کہنا شروع کر دیا: ” میں جن اور ان کی خبر سے حیران ہوا‘ اور ان کے عمدہ اونٹوں پر کجاوے باندھنے کی وجہ سے بھی حیران ہوا ‘ وہ ہدایت تلاش کر نے کیلئے مکہ جانے کی خواہش رکھتا ہے‘ مؤمن جنوں کی باتیں اور ہوتی ہیں اور کافر جنوں کی باتیں اور ہیں‘ پس کر اس ہستی کی طرف جو بنو ہاشم سے انتخاب شدہ ہے‘ ان کی زرخیز زمینوں اور پتھروں کے درمیان‘‘ ۔ پس میرے دل میں اسلام کی محبت گھر کر گئی‘ پس جب میں نے صبح کی تو میں نے اپنی سواری پر زین کَس لی۔ پس میں مکہ کی طرف متوجہ ہوا۔ پس جب میں نے راستے میں ایک جگہ تھا تو مجھے خبر ملی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کر لی ہے‘ پس میں مدینے آیا۔ پس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے سوال کیا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں ہیں‘ پس میں مسجد میں آیا تو میں نے اپنی سواری کا پاؤں باندھا‘ اچانک میری نگاہ پڑی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگر دلوگ تھے‘ پس میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری بات بھی سماعت فرمائیں۔ پس حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو جا! قریب ہو جا! پس وہ مجھے یہ بات کہتے رہے حتٰی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہو گیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لاؤ وہ خبر جو تجھے تیرے جن نے دی ہے۔ پس میں نے یہ شعر سنائے : ’’جب میں نے تھوڑی دیر سکون اور نیند کر لی تو میرے پاس میرے ساتھ سرگوشی کرنے والا میرا جن آیا‘ اس سے پہلے اس نے کبھی مجھ سے جھوٹ نہیں بولا تھا‘ تین رات آتا رہا اور ہر رات ایک ہی بات تھی‘ لؤی بن غالب قبیلہ سے ایک عظمت والا رسول تیرے پاس آیا ہے ‘ پس میں نے چادر کے پلو سنبھالے اور کمر باندھی‘ پس میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں اور آپ پر غائب پر امن والے ہیں‘ اور بے شک آپ سب رسولوں سے قریبی وسیلہ ہیں‘ اللہ کی بارگاہ میں اے عزت و پاکیزگی والوں کے بیٹے! اے وہ ہستی جو ہر چلنے والے سے بہتر ہے‘ اب ہمیں حکم دیں جو آپ کے پاس ہوتا ہے‘ اگرچہ اب بالوں کی سفیدی بڑھاپے کی نشانی آ گئی ہے‘ میرے سفارشی بنو اس دن جس دن کوئی سفارشی نہ ہو گا‘ آپ کے علاوہ اور سواد بن قارب کو بے پرواہ کر دو‘‘۔ فرماتے ہیں: میرے اسلام لانے پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام بہت زیادہ خوش ہوئے یہاں تک کہ ان کے چہروں میں خوشی کے آثار دیکھے گئے۔فرماتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اچھل کر ان کی طرف آئے اور ان سے چمٹ گئے‘ فرمایا: میں پسند کرتا تھا کہ میں یہ بات آپ سے سنوں۔
سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ← شَرِيکٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بُكَيْرٍ الطَّيَالِسِيُّ الْبَصْرِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6489
