Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن سلمة بن الأكوع · حديث 6243

6228 - حدثنا عمارة بن وثيمة ثنا إسحاق بن إبراهيم بن زبريق الحمصي ثنا عمرو بن الحارث ثنا عبد الله بن سالم أخبرني محمد بن مسلم بن شهاب أن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك الأنصاري أخبره أن سلمة بن الأكوع حدثه أن أخاه Y لما كان يوم خيبر قاتل قتالا شديدا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فارتد عليه سيفه فقتله فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك : مات بسلاحه وشكوا في بعض أمره قال سلمة : فلما قفل رسول الله صلى الله عليه و سلم من خيبر قلت له : ائذن لي يا رسول الله أرجز بك فأذن لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عمر بن الخطاب : أعلم ما تقول فقلت : ( والله لولا الله ما اهتدينا ... ولا تصدقنا ولا صلينا ) فقال النبي صلى الله عليه و سلم : صدقت ( فأنزلن سكينة علينا ... وثبت الأقدام إن لاقينا ) ( والمشركون قد بغوا علينا ... قالوا اكفروا قلنا لهم أبينا ) فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من القائل هذه الأبيات ؟ قلت : أخي قال النبي صلى الله عليه و سلم : يرحمه الله قلت : يا رسول الله فو الله إن ناسا ليهابون الصلاة عليه ويقولون : رجل مات بسلاحه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مات جاهدا مجاهدا قال محمد بن مسلم الزهري : ثم سألت عن ذلك ابن سلمة بن الأكوع فحدثني عن أبيه مثل الذي حدثني عبد الرحمن غير أن ابن سلمة قد قال مع ذلك : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مات جاهدا مجاهدا وله أجران وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم بإصبعيه فحركهما

حضرت عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : جب خیبر کا دن تھا تو میرے بھائی بہت زیادہ لڑے‘ ان کی تلوار ان کو لگی‘ اس کی وجہ سے مر گئے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے اس کے متعلق کہا‘ اس کے متعلق باتیں کرنے لگے کہ میں آدمی اپنے اسلحہ کے ساتھ مرا ہے۔ بعض نے اس کے متعلق کچھ اور باتیں کیں۔ حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس آئے‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں‘ میں آپ کے سامنے اشعار پڑھوں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےمجھے اجازت دی‘ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جان لو! جو آپ نے کہنا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ایسا نہ پاتے‘ نہ ہم تصدیق کرتے اور نہ نماز پڑھتے۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے سچ کہا! ہم پر سکونت نازل فرما اور لوٹتے وقت قدموں کو ثابت رکھ‘ مشرکوں نے ہم پر بغاوت کی۔ جب میں نے اشعار پڑھ لیے تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کی : میرے بھائی نے کہے ہیں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: اللہ اس پر رحم کرے! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! لوگ اس پر نماز جنازہ پڑھنے سے ڈرتے ہیں‘ کہتے ہیں کہ یہ اپنے اسلحہ سے مرا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: جہاد کرتے ہوئے مرا ہے۔ حضرت ابن شہاب نے فرمایا: میں نے ابن سلمہ بن اکوع سے سنا ہے: اپنے باپ کی طرح بننا‘ یا مجھے حضرت عبدالرحمٰن نے بتایا کہ حضرت ابن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں نے کہا کہ لوگ ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے ڈرتے ہیں‘ آپ نے فرمایا: وہ جھوٹ بولتے ہیں‘ وہ جہاد کرتے ہوئے مرا ہے‘ اس کے لیے دُگنا ثواب ہے اور آپ نے اپنی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا۔

مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ ← عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6243

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن سلمة بن الأكوع · حديث 6244

6229 - حدثنا محمد بن المفضل الجندي ثنا أبو حمه محمد بن يوسف الزبيدي ثنا أبو قرة موسى بن طارق قال ذكر ابن جريج عن الزهري حدثني عبد الرحمن بن كعب بن مالك الأنصاري أن سلمة بن الأكوع قال : Y لما كان يوم خيبر قاتل أخي قتالا شديدا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فارتد إليه سيفه فقتله فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك وشكوا فيه : رجل مات بسلاحه فقال سلمة : يا رسول الله عليه ائذن لي بأن ارتجز فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه ما تقول ؟ فقلت : ( والله لولا الله ما اهتدينا ... وماتصدقنا ولاصلينا ) فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم صدقت ( فأنزلن سكينة علينا ... وثبت الأقدام إن لاقينا ) ( إن الذين قد بغوا علينا ... إذا أرادوا فتنة أبينا ) فلما قضيت رجزي قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم من قال هذه ؟ قلت : قالها أخي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يرحمه الله فقلت : والله يا رسول الله إن ناسا يهابون الصلاة عليه ويقولون : رجل قتل بسلاحه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مات جاهدا مجاهدا قال الزهري ثم سالت ابن سلمة بن الأكوع فحدثني عن أبيه مثل الذي حدثني عنه عبد الرحمن غير أن ابن سلمة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم حين قلت يهابون الصلاة عليه : كذبوا مات جاهدا مجاهدا له أجره مرتين قال رسول الله صلى الله عليه و سلم بأصبعيه

حضرت عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جب خیبر کا دن تھا تو میرے بھائی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں بہت زیادہ لڑے‘ ان کی تلوار ان کو لگی‘ اس کی وجہ سے مر گئے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے اس کے متعلق کچھ کہا‘ اس کے متعلق شک کرنے لگے کہ یہ آدمی اپنے اسلحہ کے ساتھ مرا ہے۔ بعض نے اس کی شہادت کی موت کے متعلق شک نہ باتیں کیں۔ حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس آئے‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں‘ میں آپ کے سامنے اشعار پڑھوں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےمجھے اجازت دی‘ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : جان لو! جو آپ نے کہنا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے‘ نہ ہم تصدیق کرتے اور نہ نماز پڑھتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے سچ کہا۔ ہم پر سکونت نازل فرما اور دشمن سے ملتے وقت قدموں کو ثابت رکھ‘ مشرکوں نے ہم پر بغاوت کی۔ جب میں نے اشعار پڑھ لیے تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کون کس نے کہا ہے؟ میں نے عرض کی : میرے بھائی نے کیے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! لوگ اس پر نماز جنازہ پڑھنے سے ڈرتے ہیں‘ کہتے ہیں کہ یہ اپنے اسلحہ سے مرا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جہاد کرتے ہوئے مرا ہے۔ حضرت ابن شہاب نے فرمایا: میں نے ابن سلمہ بن اکوع سے پوچھا‘ پس انہوں نے مجھے اپنے باپ کی طرح بیان کیا جو مجھے حضرت عبدالرحمٰن نے بتایا سوائے اس کے کہ حضرت ابن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس کے ساتھ فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں نے کہا کہ لوگ ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے ڈرتے ہیں‘ آپ نے فرمایا: وہ جھوٹ بولتے ہیں‘ وہ جہاد کرتے ہوئے مرا ہے‘ اس کے لیے دُگنا ثواب ہے اور آپ نے اپنی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ، ← أَبُو حُمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الزُّبَيْدِيُّ، ← محمد بن المفضل الجندي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6244

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن سلمة بن الأكوع · حديث 6245

6230 - حدثنا عمرو بن أبي الطاهر بن السرح المصري ثنا محمد ابن عزيز الأيلي ثنا سلامة بن روح عن عقيل عن ابن شهاب أخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك أن سلمة بن الأكوع قال : Y لما كان يوم خيبر قاتل أخي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم قتالا شديدا فارتد إليه سيفه فقتله فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك وشكوا في أمره : رجل مات بسلاحه فشكوا في بعض أمره فقال سلمه : فقفل رسول الله صلى الله عليه و سلم من خيبر فقلت : يا رسول الله ائذن لي إن أرجز بك فأذن له رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : أعلم ما تقول فقلت : ( و الله لولا الله ما اهتدينا ... ولا تصدقنا ولا صلينا ) فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صدقت ( فأنزلن السكينة علينا ... ولا تصدقنا ولا صلينا ) ( والمشركون قد بغوا علينا ) فلما قضيت رجزي قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال هذا ؟ قلت : قالها أخي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يرحمة الله قال : فقلت : يا رسول الله إن ناسا ليهابون الصلاة عليه ويقولون : رجل مات بسلاحه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم مات جاهدا مجاهدا قال ابن شهاب : ثم سألت ابن سلمة بن الأكوع فحدثني عن أبيه بمثل الذي حدثني عبد الرحمن غير أن ابن سلمة قال مع ذلك : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم حين قلت يهابون الصلاة عليه : كذبوا مات جاهدا مجاهدا فله أجره مرتين وأشار رسول الله صلى الله عليه و سلم بإصبعيه

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک جہاد میں تھے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آئے‘ آپ نے فرمایا: تم فائدہ اٹھاؤ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← سلامة بن روح ← محمد ابن عزيز الأيلي ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6245

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ الحسن بن محمد بن الحنفبة عن سلمة بن الأكوع · حديث 6246

6231 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن ابن جريج أخبرني عمرو بن دينار عن حسن بن محمد بن علي عن جابر بن عبد الله و سلمة بن الأكوع Y رجل من أسلم من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أنهما قالا كنا في غزوة فجاءنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن رسول الله يقول : استمتعوا

حضرت سعید مقبری فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم دونوں متعہ کے بارے میں اختلاف ہوا‘ حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : یہ زنا ہے‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: اے عربّہ! تمہیں کیا معلوم ہے؟ دونوں کے پاس سے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ گزرے‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان سے پوچھا تو حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں تین ماہ کیلئے باہر بھیجا‘ میں لشکر کے ساتھ نکلتا تھا‘ جس وقت وہ ٹھہرتے میں بھی ٹھہرتا اور میں شام کرتا جس وقت وہ شام کرتے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: جو چاہے ان عورتوں سے فائدہ اٹھائے۔

حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6246

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سعيد المقبري عن سلمة بن الأكوع · حديث 6247

6232 - حدثنا الحسن بن علي المعمري ثنا أبو بكر بن خلاد الباهلي ثنا بشر بن السري عن ابن أبي ذئب عن سعيد المقبري Y أن ابن عباس و عروة بن الزبير اختلفا في المتعة فقال عروة : هي زنى وقال ابن عباس : وما يدريك يا عرية ؟ فمر بهما سلمة بن الأكوع فسأله ابن عباس فقال غرب بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ثلاثة أشهر كنت أخرج مج الجيش فاقيم حين يقيمون و أمسي حين يمسون فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من شاء فليستمتع من هذه النساء

حضرت اياس بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا: میں آج ضرور ایک ایسے آدمی کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں‘ مجھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بھیجا‘ آپ کی آنکھوں میں تکلیف تھی‘ میں آپ کو لے کر آیا‘ آپ نے اپنا لعاب اطہر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھ میں ڈالا تو آپ تندرست ہو گئے اور جھنڈا آپ کو دیا۔

عروة هي زنى ← سعيد المقبري أن ابن عباس و عروة بن الزبير اختلفا في المتعة ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← اَبُوْ بَکْرِ بْنِ خَلَّادٍ الْبَاھِلِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6247

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ إياس بن سلمة بن الأكوع عن أبيه عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة عن أبيه · حديث 6248

6233 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو حذيفة ( ح ) وحدثنا أبو خليفة ثنا أبو الوليد الطيالسي قالا ثنا عكرمة بن عمار ثنا إياس بن سلمة عن أبيه قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم خيبر : لأعطين الراية اليوم رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله قال : فبعثني إلى علي وهو أرمد فجئت به أقوده فتفل في عينه فبرأ وأعطاه الراية

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چھینک آئی‘ آپ نے دعا دی: اللہ تم پر رحم کرے! دوسری مرتبہ چھینک آئی تو آپ نے دوبارہ دعا دی: اللہ تم پر رحم کرے! پھر تیسری مرتبہ چھینک آئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو زکام ہے۔ یہ الفاظ عاصم بن علی کی حدیث کے ہیں۔

أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6248

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ إياس بن سلمة بن الأكوع عن أبيه عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة عن أبيه · حديث 6249

6234 - حدثنا محمد بن بن النضر الأزدي و عمرو بن حفص السدوسي قالا ثنا عاصم بن علي ( ح ) وحدثنا محمد بن يعقوب بن سورة البغدادي و أبوخليفة قالا ثنا أبو الوليد الطيالسي قالا ثنا عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة عن أبيه قال : Y عطس رجل عند النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يرحمك الله ثم عطس أخرى فقال : يرحمك الله ثم عطس أخرى فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الرجل مزكوم واللفظ لحديث عاصم بن علي

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےاونٹ چرانے والے بسر بن راعی کو دیکھا کہ وہ بائیں ہاتھ سے کھارہا تھا‘ آپ نے فرمایا: دائیں ہاتھ سے کھا! اس نے کہا: میں اس سے کھانے کی طاقت نہیں رکھتا ہوں‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو طاقت نہ رکھے! اس کے بعد وہ دائیں ہاتھ کو منہ تک نہیں لے جا سکا۔

يَرْحَمُكَ اللَّهُ، ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى، ← يَرْحَمُكَ اللَّهُ، ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى، ← عطس رجل عند النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← محمد بن يعقوب بن سورة البغدادي و أبوخليفة ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← محمد بن بن النضر الأزدي و عمرو بن حفص السدوسي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6249

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ إياس بن سلمة بن الأكوع عن أبيه عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة عن أبيه · حديث 6250

6235 - حدثنا محمد بن يعقوب بن سورة البغدادي و أبو خليفة قالا ثنا أبو الوليد ثنا عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة عن أبيه Y أن النبي صلى الله عليه و سلم أبصر بسر بن راعي العنز يأكل بشماله فقال : كل بيمينك فقال : لا أستطيع فقال : لا استطعت فما نالت يمينه إلى فيه بعد

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بائیں ہاتھ سے کہ رہا تھا‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےاس کو فرمایا: اپنے دائیں ہاتھ سے کھا‘ اس نے عرض کی: میں طاقت نہیں رکھتا‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو طاقت نہ رکھے‘ راوی کا بیان ہے تو اس کے بعد وہ اپنا ہاتھ منہ تک نہ اٹھا سکا۔

أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← محمد بن يعقوب بن سورة البغدادي و أبو خليفة

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6250

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ إياس بن سلمة بن الأكوع عن أبيه عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة عن أبيه · حديث 6251

6236 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا عمرو بن العباس الرازي ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبة عن عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة عن أبيه Y أن رجلا يأكل عند رسول الله صلى الله عليه و سلم بشماله فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : كل بيمينك قال : لا أستطيع فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا أستطعت قال : فما رفعها بعد إلى فيه

حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ نکلے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ہم پر امیر بنایا‘ ہم بنو فزارہ سے جہاد کے لیے نکلے‘ جب ہم پانی کے قریب ہوئے‘ تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں حکم دیا‘ ہم نے رات گزاری‘ جب ہم نے صبح کی نماز پڑھی‘ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں حکم دیا‘ ہم نے لڑائی کی‘ ہم نے قتل کیا‘ پانی پر جس کوقتل کیا‘ حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے لوگوں کی گردنوں کی طرف دیکھا‘ اس میں بچے اور عورتیں تھیں‘ میں ان کے پیچھے ہوا‘ ان کے نشانات دیکھ کر دیکھ کر دوڑا۔ پس مجھے ڈر لگا کہ وہ مجھ سے پہلے تک نہ پہنچ جائیں۔ میں نے تیر مارا پس وہ ان کے اور پہاڑ کے درمیان گرا تو کھڑے ہو گئے‘ پس میں ان کو ہانک کر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں لایا‘ یہاں تک کہ میں پانی پر آیا‘ ان میں بنو فزارہ قبیلے کی ایک عورت تھی‘ اس کے اوپر چڑے کا ایک ٹکڑا تھا‘ اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی‘ خوبصورت غریبوں سے اس کا تعلق تھا‘ پس حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مال غنیمت کے طور پر وہ مجھے دے دی‘ پس اس کیلئے میں بے پردہ نہ ہوا یہاں تک کہ ہم مدینہ آ گئے۔ پس میں نکلا اس وقت تک بھی میں نے اس کیلئے اپنا پردہ نہ کھولا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ملے‘ فرمایا: اے سلمہ ! وہ عورت میرے حوالے کر دو‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! قسم بخدا! وہ مجھے پسند ہے لیکن میں نے اس کیلئے اپنا کپڑا نہیں کھولا ہے‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاموشی اختیار کر لی اور مجھے چھوڑ دیا‘ پھر دوسرے دن بازار میں مجھے ملے تو فرمایا: اے سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کر دو‘ اللہ کیلئے ہے تیرا باپ۔ پس میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! قسم بخدا! میں نے اس کیلئے اپنا پردہ نہیں کھولا‘ وہ آپ کی ہوئی۔ پس جب اگلا دن آیا تو مجھے بازار میں (ابو بکر) ملے‘ فرمایا: اے سلمہ ! عورت نے کیا کیا ؟ اللہ کیلئے تیرا باپ۔عرض کی: پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مکہ والوں کی طرف بھیج دیا ہے‘ ان کے قبضے میں مسلمان قیدی تھے‘ آپ نے اس عورت کے ساتھ ان کا فدیہ دے کر اس کے بدلے ان کو رہا کروایا ہے۔ یہ الفاظ حضرت ابو الولید کی حدیث کے ہیں۔

أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَمْرُو بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6251

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ إياس بن سلمة بن الأكوع عن أبيه عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة عن أبيه · حديث 6252

6237 - حدثنا أبو خليفة ثنا أبو الوليد الطالسي ( ح ) وحدثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي قال ثنا عكرمة بن عمار حدثني إياس بن سلمة عن أبيه قال : Y خرجنا مع أبي بكر رضي الله عنه فأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم علينا فغزونا فزارة فلما دنونا من الماء أمرنا أبو بكر رضي الله عنه فعرسنا فلما صلينا الصبح أمرنا أبو بكر فشننا الغارة فقتلنا على الماء من قتلنا قال سلمة : فنظرت إلى عنق من الناس فيه الذرية والنساء وأنا أعدو في آثارهم فخشيت أن يسبقوني إلى الجبل فرميت بسهم فوقع بينهم وبين الجبل فهقاموا فجئت بهم أسوقهم إلى أبي بكر رضي الله عنه حتى أتيت على الماء وفيهم امرأة من فزارة عليها قشع من أدم معها بنت لها من أحسن العرب فنفلني أبوبكر ابنتها فما كشفت لها ثوبا حتى قدمنا المدينة فخرجت ولم أكشف لها ثوبا فلقيني رسول الله فقال : يا سلمة هب لي المرأة فقلت : يا رسول الله والله لقد أعجبتني وما كشفت لها ثوبا فسكت رسول صلى الله عليه و سلم وتركني ثم لقيني من الغد في السوق فقال : ( يا سلمة هب لي المرأة لله أبوك ) فقلت : يا رسول الله والله ما كشفت لها ثوبا وهي لك فلما كان من الغد لقيني في السوق فقال : يا سلمة ما فعلت المرأة لله أبوك قال : فبعث بها رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى أهل مكة وفي أيديهم أسرى من المسلمين ففداهم بتلك المرأة ففكهم بها واللفظ لحديث أبي الوليد

حضرت ایاس بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مجھے بنی فزارہ سے ایک عورت ملی‘ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے باپ کی قسم ! اللہ کے لیے مجھے دے دیں‘ میں نے آپ کو دے دی‘ آپ مسلمان قیدیوں کے بدلے اس کو فدیہ کے طور پر دیں۔

أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← أبو الوليد الطالسي ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6252

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ إياس بن سلمة بن الأكوع عن أبيه عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة عن أبيه · حديث 6253

6238 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا عاصم بن النضر ثنا معتمر ثنا سفيان عن عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة عن أبيه قال : Y أصبت جارية من بني فزارة فلقيني النبي صلى الله عليه و سلم فقال : لله أبوك هبها لي فأعطيتها إياه ففادى بها ناسا من المسلمين

حضرت اياس بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم پر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوامیر مقرر کیا‘ ہم نے مشرک لوگوں سے جہاد کیا‘ ہم نے ان کو قتل کیا ہماری نشانی مرنا ہے۔ حضرت سلمہ فرماتے ہیں: میں نے اس دن اپنے ہاتھ سے نوے گھر والوں کو مارا۔

أصبت جارية من بني فزارة فلقيني النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← سُفْيَانَ، ← مُعْتَمِرٌ ← عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6253

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ إياس بن سلمة بن الأكوع عن أبيه عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة عن أبيه · حديث 6254

6239 - حدثنا أبو خليفة ثنا أبو الوليد ثنا عكرمة بن عمار ثنا إياس بن سلمة عن أبيه قال : Y أمر علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم أبا بكر رضي الله عنه فغزونا ناسا من المشركين فقتلناهم وكان شعارنا أمت قال سلمة : قتلت بيدي تلك الليلة تسعة أهل أبيات

حضرت ایاس بن سلمہ بن اکوع فرماتے ہیں کہ جب ہم حدیبیہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ واپس آئے تو ہم نے ایک درخت کے نیچے بیعت کی‘ میں لوگوں میں سے سب سے پہلے آپ کی بیعت کر چکا ہوں‘ آپ نے فرمایا: پھر بھی بیعت کرو! میں نے آپ کی بیعت کی‘ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا اور میرے پاس ڈھال نہیں تھی اور حدیث ذکر کی۔

أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6254

chevron_left Previous
1234…73
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter