المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن سلمة بن الأكوع · حديث 6243
6228 - حدثنا عمارة بن وثيمة ثنا إسحاق بن إبراهيم بن زبريق الحمصي ثنا عمرو بن الحارث ثنا عبد الله بن سالم أخبرني محمد بن مسلم بن شهاب أن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك الأنصاري أخبره أن سلمة بن الأكوع حدثه أن أخاه Y لما كان يوم خيبر قاتل قتالا شديدا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فارتد عليه سيفه فقتله فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك : مات بسلاحه وشكوا في بعض أمره قال سلمة : فلما قفل رسول الله صلى الله عليه و سلم من خيبر قلت له : ائذن لي يا رسول الله أرجز بك فأذن لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عمر بن الخطاب : أعلم ما تقول فقلت : ( والله لولا الله ما اهتدينا ... ولا تصدقنا ولا صلينا ) فقال النبي صلى الله عليه و سلم : صدقت ( فأنزلن سكينة علينا ... وثبت الأقدام إن لاقينا ) ( والمشركون قد بغوا علينا ... قالوا اكفروا قلنا لهم أبينا ) فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من القائل هذه الأبيات ؟ قلت : أخي قال النبي صلى الله عليه و سلم : يرحمه الله قلت : يا رسول الله فو الله إن ناسا ليهابون الصلاة عليه ويقولون : رجل مات بسلاحه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مات جاهدا مجاهدا قال محمد بن مسلم الزهري : ثم سألت عن ذلك ابن سلمة بن الأكوع فحدثني عن أبيه مثل الذي حدثني عبد الرحمن غير أن ابن سلمة قد قال مع ذلك : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مات جاهدا مجاهدا وله أجران وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم بإصبعيه فحركهما
حضرت عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : جب خیبر کا دن تھا تو میرے بھائی بہت زیادہ لڑے‘ ان کی تلوار ان کو لگی‘ اس کی وجہ سے مر گئے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے اس کے متعلق کہا‘ اس کے متعلق باتیں کرنے لگے کہ میں آدمی اپنے اسلحہ کے ساتھ مرا ہے۔ بعض نے اس کے متعلق کچھ اور باتیں کیں۔ حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس آئے‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں‘ میں آپ کے سامنے اشعار پڑھوں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےمجھے اجازت دی‘ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جان لو! جو آپ نے کہنا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ایسا نہ پاتے‘ نہ ہم تصدیق کرتے اور نہ نماز پڑھتے۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے سچ کہا! ہم پر سکونت نازل فرما اور لوٹتے وقت قدموں کو ثابت رکھ‘ مشرکوں نے ہم پر بغاوت کی۔ جب میں نے اشعار پڑھ لیے تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کی : میرے بھائی نے کہے ہیں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: اللہ اس پر رحم کرے! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! لوگ اس پر نماز جنازہ پڑھنے سے ڈرتے ہیں‘ کہتے ہیں کہ یہ اپنے اسلحہ سے مرا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: جہاد کرتے ہوئے مرا ہے۔ حضرت ابن شہاب نے فرمایا: میں نے ابن سلمہ بن اکوع سے سنا ہے: اپنے باپ کی طرح بننا‘ یا مجھے حضرت عبدالرحمٰن نے بتایا کہ حضرت ابن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں نے کہا کہ لوگ ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے ڈرتے ہیں‘ آپ نے فرمایا: وہ جھوٹ بولتے ہیں‘ وہ جہاد کرتے ہوئے مرا ہے‘ اس کے لیے دُگنا ثواب ہے اور آپ نے اپنی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا۔
مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ ← عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6243
