Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 608 - سلمة أبو عمرو بن سلمة الجرمي · حديث 6368

6353 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالدالحراني حدثني أبي ثنا زهير ثنا عاصم الأحول عن عمرو بن سلمة قال Y جاء نفر من الحي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فسمعوه يقول : ليؤمكم أكثركم قرآنا ففدموني بين أيديهم وأنا غلام فكنت أؤمهم في بردة موصولة فكان فيها فتق فكنت إذا سجدت خرجت استي فقالوا لأبي : ألا تغطي عنا استه وكنت أرغبهم في تعليم القرآن قال زهير : فلم يزل إمام قومه في الصلاة وعلى جنائزهم

حضرت مسعر جرمی فرماتے ہیں: میں نے حضرت عمر و بن سلمہ سے سنا کہ ان کے والد گرامی اور ان کی قوم کے چند آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے‘ جب لوگوں کی اکثریت نے اسلام قبول کیا‘ قرآن سیکھا اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: ہمیں نماز کون پڑھائے گا ؟ یا کہا: ہمارے لیے نماز کون پڑھائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں نماز وہ پڑھائے جس نے قرآن زیادہ حاصل کیا یا جمع کیا ہو۔ پس وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے تو انہوں نے ان سے پوچھا‘ پس انہوں نے کسی کو نہ پایا جس نے مجھ سے زیادہ قرآن جمع کیا ہو‘ حالانکہ میں لڑکا تھا‘ مجھ پر ایک کپڑا ہوتا تھا۔ پس انہوں نے اپنے سامنے مجھے آگے کیا تو میں نے ان کو نماز پڑھائی‘ یا راوی کا بیان ہے کہ میں نے ان کے لیے نماز پڑھائی۔ پس اس دن تک میں پکا امام ہوں اور وہ ان کو ان کی مسجد میں بھی نماز پڑھاتے اور ان کے جنازے بھی وہی پڑھاتے تھے۔

عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← زُهَيْرٍ ← أَبِي ← محمد بن عمرو بن خالدالحراني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6368

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 608 - سلمة أبو عمرو بن سلمة الجرمي · حديث 6369

6354 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا يحيى بن سعيد حدثني مسعر الجرمي قال سمعت عمرو بن سلمة Y أن أباه وأناسا من قومه قدموا على رسول الله صلى الله عليه و سلم حين أسلم الناس وتعلموا القرآن وقضوا حوائجهم ثم سألوا النبي صلى الله عليه و سلم من يصلي بنا أو من يصلي لنا ؟ قال : يصلي بكم - أو يصلي لكم - أكثركم أخذا - أو قال أكثركم جمعا - للقرآن فرجعوا إلى قومهم فسألوهم فلم يجدوا أحدا جمع أكثر مما جمعت وأنا غلام علي شملة فقدموني بين أيديهم فصليت بهم أو قال فصليت لهم فلم أزل إمام جرم إلى يومي هذا وكان يؤمهم في مسجدهم ويصلي على جنائزهم

حضرت عمرو بن سلمہ فرماتے ہیں: میں لڑکا تھا‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے آنے والے قافلوں سے کچھ نہ کچھ حاصل کر لیا کرتا تھا‘ پس میں ان سے قرآن پڑھتا‘ پس انہوں نے ہی مجھے خبر دی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں سے امام وہ بنے جس نے قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو‘ پس میں ان کی امامت کرواتا تھا۔

عمرو بن سلمة أن أباه ← مسعر الجرمي ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6369

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 608 - سلمة أبو عمرو بن سلمة الجرمي · حديث 6370

6355 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا يزيد بن زريع عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن عمرو بن سلمة قال Y كنت غلاما وكنت أتلقى الركبان من عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فاستقرئهم فأخبروني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ليؤمكم أكثركم قرآنا فكنت أؤمهم

حضرت سلمہ بن نفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ اچانک آپ کے پاس ایک مانگنے والا آیا‘ اس نے کہا: کیا آپ کے پاس آسمان سے کھانا آتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں! میرے پاس دیگچی سمیت کھانا لایا گیا‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! اس میں سے آپ کے پاس بچا ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے عرض کی : اس کے ساتھ کیا کیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: آسمان کی طرف اٹھایا گیا ہے‘ میری طرف وحی کی جاتی ہے‘ میں تم میں تھوڑی دیر ٹھہرنے والا ہوں‘ تم میرے بعد تھوڑی دیر رہو گے‘ تم کہو گے کب کب ؟ پھر آؤ گے گروہ در گروہ‘ قیامت سے پہلے سخت موت ہو گی‘ اس کے بعد زلزلوں کے کئی سال ہوں گے۔

عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6370

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 659 - سلمة بن نفيل السكوني ثم التراغمي · حديث 6373

6358 - حدثنا أبو زرعة ثنا أبو اليمان ثنا إسماعيل بن عياش عن الوليد بن عبد الرحمن ( ح ) وحدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن يوسف ثنا عبد الله بن صالح الحمصي حدثنى إبراهيم بن سليمان الأفطس عن الوليد بن عبد الرحمن الجرشي عن جبير بن نفير حدثنى سلمة بن نفيل السكوني قال Y دنوت من رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى كادت ركبتاي تمسان فخذه فقلت : يا رسول الله تركت الخيل وألقي السلاح وزعم أقوام أن لا قتال فقال : كذبوا الآن جاء القتال لا تزال من أمتي أمة قائمة على الحق ظاهرة على الناس يزيغ الله قلوب قوم قاتلوهم لينالوا منهم وقال وهو مول ظهره إلى اليمن : إني أجد نفس الرحمن من هاهنا ولقد أوحي إلي مكفوت غير ملبث وتتبعوني أفنادا والخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة وأهلها معانون عليها

حضرت سلمہ بن نفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کے گھر کی طاقت ملک شام میں ہو گی۔

سَلَمَةُ بْنُ نُفَيْلٍ السَّكُونِيُّ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَفْطَسُ ← عبد الله بن صالح الحمصي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← أَبُو زُرْعَةَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6373

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 659 - سلمة بن نفيل السكوني ثم التراغمي · حديث 6374

6359 - حدثنا ورد بن أحمد بن لبيد البيروتي حدثنا صفوان بن صالح ثنا الوليد بن مسلم ثنا محمد بن مهاجر أن الوليد بن عبد الرحمن حدثه عن جبير بن نفير عن سلمة بن نفيل قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عقر دار الاسلام بالشام

حضرت سلمہ بن نفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے‘ اچانک آپ کے پاس ایک آدمی آیا‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گھوڑے باندھے گئے ہیں اور اسلحہ رکھا گیا‘ لوگ خیال کرتے ہیں کہ جہاد نہیں ہے‘ جنگ ختم ہو گئی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: جھوٹ بولتے ہیں‘ ابھی جہاد آ رہا ہے‘ میری اُمت سے کچھ لوگ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے‘ ان کی مخالفت کرنے والا ان کا نقصان نہیں کرے گا‘ اللہ عزوجل لوگوں کے دل ان کی طرف پھیر دے گا تاکہ ان سے انہیں رزق دے‘ وہ قیامت کے قیام تک لڑیں گے‘ گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت کے دن تک بھلائی ہی ہے‘ جہاد رہے گا یہاں تک کہ یاجوج ماجوج نکلے گی۔

سلَمَةَ بن نفيل" ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← محمد بن مهاجر أن الوليد بن عبد الرحمن ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← وَرْدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ لَبِيدٍ الْبَيْرُوتِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6374

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 659 - سلمة بن نفيل السكوني ثم التراغمي · حديث 6375

6360 - حدثنا أحمد بن يحيى بن حمزة الدمشقي حدثني أبي عن أبيه حدثني نصر بن علقمة يرد الحديث إلى جبير بن نفير عن سلمة بن نفيل قال Y بينما أنا جالس عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاءه رجل فقال : يا رسول الله إن الخيل قد سيبت ووضع السلاح وزعم أقوام أن لا قتال وأن قد وضعت الحرب أوزارها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كذبوا فالآن جاء القتال ولا تزال طائفة من أمتي يقاتلون في سبيل الله لا يضرهم من خالفهم يزيغ الله قلوب قوم ليرزقهم منهم ويقاتلون حتى تقوم الساعة ولا يزال الخيل معقودا في نواصيها الخير حتى تقوم الساعة ولا تضع الحرب أوزارها حتى يخرج يأجوج ومأجوج

حضرت سلمہ بن نفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک نو جوان آیا‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا‘ اسنے بلند آواز میں عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے بتائیں گے کہ جس نے کوئی برائی نہیں چھوڑی ہے اور گناہ کیا ہے اور بڑا گناہ کوئی بھی نہیں چھوڑا۔ وہ کیا اگر اس کی خطاؤں کو مدینہ والوں پر تقسیم کیا جائے‘ ان کو ڈھانپ لے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اسلام لایا ہے‘ یا فرمایا: کیا تو مسلمان ہے؟ اس نے عرض کی : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا: جاؤ! اللہ عزوجل تیرے سارے گناہ نیکیوں سے بدل دے گا‘ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرا دھوکہ اور میرے گناہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیرے دھوکے اور گناہ ختم ہو گئے‘ تین مرتبہ۔ وہ نو جوان چلا گیا‘ وہ پڑھ رہا تھا : اللہ بہت بڑا ہے‘ میں مسلسل اس سے سنتا رہا‘ وہ اللہ اکبر پڑھ رہا تھا‘ حتٰی کہ وہ مجھ سے چھپ گیا یا مجھ سے پوشیدہ ہو گیا۔

بَيْنَمَا ← سلَمَةَ بن نفيل" ← نَصْرِ بْنِ عَلْقَمَةَ، يَرُدُّ الْحَدِيثَ إِلَى جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6375

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 659 - سلمة بن نفيل السكوني ثم التراغمي · حديث 6376

6361 - حدثنا عبد الله بن سعد بن يحيى الرقي ثنا أبو فروة يزيد بن محمد بن يزيد بن سنان حدثني أبي ثنا ياسين الزيات عن أبي سلمة الحمصي عن يحيى بن جابر عن سلمة بن نفيل قال Y جاء شاب فقام بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال بأعلى صوته : يا رسول الله أرأيت من لم يدع سيئة إلا عملها ولا خطيئة إلا ركبها ولا أشرف له سهم فما فوقه إلا اقتطعه بيمينه ومن لو قسمت خطاياه على أهل المدينة لغمرتهم فقال النبي صلى الله عليه و سلم في : أسلمت أو أنت مسلم ؟ قال : أما أنا فأشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اذهب ققد بدل الله سيئاتك حسنات قال : يا رسول الله وغدراتي وفجراتي ؟ قال : وغدراتك وفجرانك ثلاثا فولى الشاب وهو يقول : الله أكبر فلم أزل أسمعه يكبر حتى توارى عني أو خفى عنى

حضرت عبدالملک بن ابو بکر فرماتے ہیں کہ وہ عیاش بن ابو ربیعہ اور سلمہ بن ہشام اور ولید بن ولید بن مغیرہ مشرکوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئے‘ عیاش اور سلمہ دونوں ضامن تھے‘ اونٹ پر ایک دوسرے کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے‘ ولید ان دونوں کو لے گیا‘ ولید کی انگلی زخمی ہوئی‘ اس نے کہا: ایک ہی انگلی اللہ کی راہ میں زخمی ہوئی ہے‘ تو اس نے کہا: تو تو ایک انگلی ہی ہے جو زخمی ہوئی ہے اور جو تیرے ساتھ ہوا‘ اللہ کی راہ میں ہوا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم ہوا ان کی طرف نکلنے کا‘ ان کی شان کا لوگوں کو علم ہونے سے پہلے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی‘ آپ نے پہلی رکعت میں رکوع کیا‘ جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو آپ نے سجدہ کرنے سے پہلے دعا کی: اے اللہ ! عیاش بن ابو ربیعہ کو نجات دے‘ اے اللہ ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے‘ اے اللہ! ولید کو نجات دے‘ اے اللہ! کمزور ایمان والوں کو نجات دے‘ اے اللہ! قبیلہ مضر والوں پر سختی کر‘ ان پر ایسے ہی قحط سالی نازل کر جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں قحط سالی بھیجی تھی۔

بأعلى صوته ← جاء شاب فقام بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سلَمَةَ بن نفيل" ← يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ ← أَبِي سَلَمَةَ الْحِمْصِيِّ ← يَاسِينَ الزَّيَّاتِ، ← أَبِي ← أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ يَحْيَى الرَّقِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6376

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 612 - سلمة بن هشام بن المغيرة المخزومي · حديث 6377

6362 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن ابن جريج أخبرني عبد الملك بن أبي بكر قال Y فر عياش بن أبي ربيعة و سلمة بن هثام و الوليد بن الوليد بن المغيرة من المشركين إلى النبي صلى الله عليه و سلم و عياش و سلمة متكفلان مرتدفان على بعير و الوليد يسوق بهما فكلمت إصبع الوليد فقال : ( هل أنت إلا إصبع دميت ... وفي سبيل الله مالقيت ) فعلم النبي صلى الله عليه و سلم بمخرجهم إليه وشأنهم قبل أن يعلم الناس فصلى الصبح فركع أول ركعة منهما فلما رفع رأسه دعا لهم قبل أن يسجد فقال : اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة اللهم أنج سلمة بن هشام اللهم أنج الوليد اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين اللهم اشدد وطأتك على مضر واجعلها عليهم سنين كسني يوسف

حضرت عمیر یعلیٰ اور سلمہ‘ اُمیہ کے بیٹے دونوں روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوۂ تبوک میں نکلے‘ ہمارے ساتھ مکہ والوں کا ایک ساتھی تھا‘ ایک آدمی سے لڑا‘ اس آدمی نے اس کا ہاتھ کاٹا‘ اس کومٹی میں ڈالا‘ اس کے آگے والے دانت گر گئے‘ وہ آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تاکہ دیت مانگے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے پاس جاتا ہے‘ اس کو جانور کی طرح کاٹتا ہے‘ پھر دیت مانگتا ہے‘ اس کے لیے کوئی حق نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت باطل کر دی۔

عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6377

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 613 - سلمة بن أمية أخو يعلى بن أمية بن خلف الجمحي · حديث 6378

6363 - حدثنا محمد بن يونس العصفري البصري ثنا إسحاق بن إبراهيم الشهيد ثنا أبو خالد الأحمر ثنا محمد بن إسحاق عن عطاء بن أبي رباح عن صفوان بن عبد الله بن صفوان عن عميه يعلى و سلمة ابني أمية قالا Y خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة تبوك ومعنا صاحب لنا من أهل مكة فقاتل رجلا فعض الرجل ذراعه فجذبها من فيه فسقطت ثنيتاه فذهب إلى النبي صلى الله عليه و سلم ليسأله العقل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ينطلق أحدكم إلى أخيه فيعضه عضة الفحل أوكما يعض الفحل ثم يأتي ليسأل العقل لا حق لها فأبطلها الله صلى الله عليه و سلم

حضرت سلمہ بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ ان کے گھر والے اور ان کی اولاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے‘ آپ سے اجازت مانگی‘ آپ کے پاس حاضر ہوئے‘ آپ نے فرمایا: یہ کون ہیں؟ آپ سے عرض کی گئی: یہ قبیلہ عنزہ کا وفد ہے‘ آپ نے فرمایا: خوش آمدید! خوش آمدید! خوش آمدید! قبیلہ عنزہ والا بہتر قبیلہ ہے‘ ان پر بغاوت کی جائے گی‘ ان کی مدد کی جائے گی‘ قوم شعیب کو خوش آمدید اور موسیٰ کی دونوں بہنیں‘ اے سلمہ! اپنی ضرورت مانگو! حضرت سلمہ نے عرض کی : میں آپ کے پاس آیا ہوں‘ مجھ پر کیا فرض ہے؟ اونٹوں اور بکریوں اور گائیوں میں؟ آپ نے بتایا‘ پھر آپ کے قریب ہو کر بیٹھا‘ پھر آپ نے جانے کی اجازت مانگی‘ آپ نے فرمایا: جاؤ! کھڑا ہونے لگا تو آپ نے دعا کی :’’اللّٰھم ارزق عنزة كفافاً الىٰ آخرہٖ“۔

عميه يعلى و سلمة ابني أمية ← صَفْوَانَ بْنِ عَبْد اللَّه بْنِ صَفْوَانَ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّهِيدُ ← محمد بن يونس العصفري البصري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6378

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 614 - سلمة بن سعد العنزي · حديث 6379

6364 - حدثنا أبو خلفية ثنا الحسين بن محمد بن سعيد الكرابيسي المعروف بشعبة وكان يجالس علي بن المديني ثنا حفص بن سلمة بن حفص بن المسيب بن شببان بن قيس عن قيس بن سلمة عن سلمة بن سعد Y أنه وفد إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم هو وجماعة من أهل بيته وولده فاستاذنوا عليه فدخلوا فقال : من هؤلاء ؟ قيل له : هذا وفد عنزة فقال : بخ بخ بخ نعم الحي عنزة مبغى عليهم منصورون مرحبا بقوم شعيب وأختان موسى سل يا سلمة عن حاجتك قال : جئت أسألك عما افترضت علي في الإبل والغنم والعنز فأخبره ثم جلس عنده قريبا ثم استأذنه في الانصراف فقال له : انصرف فما غدا أن قام فقال : اللهم ارزق عنزة كفافا لا قوت ولا إسراف

حضرت سلامہ بن قیصر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کی رضا کے لیے ایک روزہ رکھا‘ اللہ عزوجل اس کو جہنم سے اتنا دور کر دے گا جتنا ایک کوا اڑنا شروع کرے‘ اس حال میں کہ وہ ابھی انڈے سے نکلا ہو‘ اڑتا رہے‘ اڑتا رہے حتٰی کہ وہ مر جائے اس حال میں کہ وہ بوڑھا ہو گیا ہو۔

سلمة بن سعد ← قَيْسِ بْنِ سَلَمَةَ، ← حفص بن سلمة بن حفص بن المسيب بن شببان بن قيس ← كان يجالس علي بن المديني ← الحسين بن محمد بن سعيد الكرابيسي المعروف بشعبة ← أبو خلفية

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6379

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سلامة 616 - سلامة بن قيصر الحضرمي · حديث 6380

6365 - حدثنا بكر بن سهل الدمياطي ثنا عبد الله بن يوسف و شعيب بن يحيى التجيبي ( ح ) وحدثنا أبو الزنباع روح بن الفرج المصري ثنا سعيد بن عفير ( ح ) وحدثنا المقدام بن داود ثنا أسد بن موسى قالوا ثنا ابن لهيعة ثنا زبان بن فايد عن لهيعة بن عقبة عن عمرو بن ربيعة الحضرمي قال سمعت سلامة بن قيصر يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول Y من صام يوما ابتغاء وجه الله بعده الله من جهنم بعد غراب طار وهو فرخ حتى مات هرما

حضرت نعیم بن ابو ہند فرماتے ہیں کہ حضرت سالم بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اصحاب صفہ میں سے تھے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سلامة بن قيصر ← عَمْرو بْنِ رَبِيعَةَ الْحَضْرَمِيِّ، ← لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ، ← زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ← عبد الله بن يوسف و شعيب بن يحيى التجيبي ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6380

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سالم 617 - سالم بن عبيد الأشجعي · حديث 6381

6366 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عبد الحميد بن بيان الواسطي ثنا إسحاق الأزرق عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن نعيم بن أبي هند عن سالم بن عبيد Y وكان من أصحاب الصفة

حضرت سالم بن عبید فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرض وصال میں آپ پر مدہوشی طاری ہو گئی‘ اس کے بعد آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا: نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! فرمایا : حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دو اور حضرت ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: میرے باپ نرم دل ہیں‘ پس اگر آپ کسی اور کو حکم دیں تو وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مدہوشی طاری ہوئی‘ اس کے بعد افاقہ ہوا تو فرمایا: کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ عرض کی: جی ہاں ! فرمایا : بلال کو کہو کہ اذان دے اور ابو بکر کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : میرے باپ نرم دل آدمی ہیں‘ پس اگر آپ کسی اور کو حکم دیں کہ وہ نماز پڑھائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدہوش ہوئے‘ اس کے بعد افاقہ ہوا تو فرمایا: کیا نماز قائم ہو گئی؟ میں نے عرض کی : جی ہاں! فرمایا: مجھے سہارا دینے والا کوئی آدمی لے آؤ۔ پس حضرت بریدہ اور ایک دوسرا آدمی آیا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں پر سہارا لے کر مسجد میں تشریف لائے‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مسجد میں) داخل ہوئے جبکہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے‘ پس حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو روکا‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو گئے پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے: میں ایسے آدمی کی بات سننے کا سزا وار نہیں جو کہے: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے ہیں ورنہ میں اس کی گردن اتار دوں گا۔ پس انہوں نے میرے بازوؤں کو پکڑ کر مجھ پر سہارا لیا اور چلنا شروع کر دیا حتٰی کہ ہم آئے‘ فرمایا: کھلے کھلے ہو جاؤ! انہوں نے ان کے لیے جگہ چھوڑی‘ پس آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھک کر کھڑے ہوئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہاتھ لگایا اور کہا: ’’انک میتٌ وانھم میتون‘‘ لوگوں نے عرض کی : اے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیارے صحابی! کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں! پس لوگوں نے اسی طرح یقین کیا جس طرح انہوں نے فرمایا۔ لوگوں نے عرض کی: اے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی! کیا آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز یا درود پڑھیں گے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ! لوگوں نے عرض کی: کیسے پڑھیں گے؟ فرمایا: پہلے گروہ داخل ہو گا‘ پس وہ تکبیر کہہ کر دعا کریں گے اور درود پڑھیں‘ پھر واپس آ جائیں گے اور اس کے بعد دوسرا گروہ جائے گا یہاں تک کہ فارغ ہو جائیں۔ انہوں نے عرض کی : اے صحابی رسول! کیا آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دفن بھی کریں گے؟ فرمایا: جی ہاں! انہوں نے عرض کی : کہاں دفن کریں گے؟ فرمایا: اسی جگہ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض ہوئی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نبی کی روح پاکیزہ ٹکڑے پر قبض فرماتا ہے‘ پس انہوں نے اسی طرح یقین کیا جس طرح آپ نے فرمایا۔ پھر آپ نے کھڑے ہو کر فرمایا: تمہارے پاس تمہارے صاحب ہیں۔ پس آپ نے ان کو غسل دینے کا حکم دیا اور تشریف لے گئے۔ مہاجر مشورہ کرنے کیلئے جمع ہو گئے‘ پس انہوں نے کہا: پہلے اپنے انصاری بھائیوں کی طرف جاؤ کیونکہ اس معاملے میں وہ بھی حصہ دار ہیں۔ پس وہ گئے تو انصاریوں میں سے ایک آدمی نے کہا: ایک امیر ہم سے اور ایک امیر تم سے ہو گا‘ پس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: یہ لوگ مجھے بتائیں کہ اس کیلئے یہ تین کون ہیں؟’’ثاننی اثنین اذ ھما فی الغار‘‘ یہ دو کون ہیں؟ ’’اذ یقول لصاحبہ لا تحزن‘‘ ان کا صاحب کون ہے؟ ’’ اللہ معنا“ پس انہوں نے حضرت ابو بکر کا ہاتھ پکڑا‘ اس پر ہاتھ مارا (بیعت کی) اور لوگوں سے فرمایا: تم سب اس کی بیعت کرو‘ پس ان کی بیعت کی‘ انتہائی خوبصورت اور جمیل بیت تھی۔

سالم بن عبيد وكان من أصحاب الصفة ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6381

chevron_left Previous
1…111213…73
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter