المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 608 - سلمة أبو عمرو بن سلمة الجرمي · حديث 6368
6353 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالدالحراني حدثني أبي ثنا زهير ثنا عاصم الأحول عن عمرو بن سلمة قال Y جاء نفر من الحي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فسمعوه يقول : ليؤمكم أكثركم قرآنا ففدموني بين أيديهم وأنا غلام فكنت أؤمهم في بردة موصولة فكان فيها فتق فكنت إذا سجدت خرجت استي فقالوا لأبي : ألا تغطي عنا استه وكنت أرغبهم في تعليم القرآن قال زهير : فلم يزل إمام قومه في الصلاة وعلى جنائزهم
حضرت مسعر جرمی فرماتے ہیں: میں نے حضرت عمر و بن سلمہ سے سنا کہ ان کے والد گرامی اور ان کی قوم کے چند آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے‘ جب لوگوں کی اکثریت نے اسلام قبول کیا‘ قرآن سیکھا اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: ہمیں نماز کون پڑھائے گا ؟ یا کہا: ہمارے لیے نماز کون پڑھائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں نماز وہ پڑھائے جس نے قرآن زیادہ حاصل کیا یا جمع کیا ہو۔ پس وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے تو انہوں نے ان سے پوچھا‘ پس انہوں نے کسی کو نہ پایا جس نے مجھ سے زیادہ قرآن جمع کیا ہو‘ حالانکہ میں لڑکا تھا‘ مجھ پر ایک کپڑا ہوتا تھا۔ پس انہوں نے اپنے سامنے مجھے آگے کیا تو میں نے ان کو نماز پڑھائی‘ یا راوی کا بیان ہے کہ میں نے ان کے لیے نماز پڑھائی۔ پس اس دن تک میں پکا امام ہوں اور وہ ان کو ان کی مسجد میں بھی نماز پڑھاتے اور ان کے جنازے بھی وہی پڑھاتے تھے۔
عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← زُهَيْرٍ ← أَبِي ← محمد بن عمرو بن خالدالحراني
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6368
