Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سلمة 601 - سلمة بن عمرو بن الأكوع الأسلمي من أخباره · حديث 6231

6216 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرج ثنا يحيى بن بكير قال : Y توفي سلمة بن الأكوع - ويكنى أبا العبا س - و أبو سعيد الخدري رضي الله عنه كلاهما سنة أربع وسبعين ويقال توفي سلمة بن الأكوع وسنه ثمانون سنة

حضرت عثمان بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر‘ ابو سعید الخدری‘ جابر بن عبداللہ‘ ابو اُسید الساعدی‘ انس بن مالک‘ رافع بن خدیج اور سلمہ بن اکوع کو دیکھا کہ وہ مونچھیں کم کرواتے‘ بغلوں کے بال اکھاڑتے اور ناخن کاٹتے تھے۔

يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أبو الزنباع روح بن الفرج

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6231

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سلمة 601 - سلمة بن عمرو بن الأكوع الأسلمي من أخباره · حديث 6232

6217 - حدثنا الحسن بن علي المعمري ثنا إسحاق بن موسى الأنصاري ثنا عاصم بن عبد العزيز الأشجعي ثنا عثمان بن عبد الله بن رافع Y أنه رأى عبد الله بن عمر و أبا سعيد الخدري و جابر بن عبد الله و أبا أ سيد الساعدي و أنس بن مالك و رافع بن خديج و سلمة بن الأكوع يحفون الشوارب حفا وينتفون الآباط وبقصون الأظفار

حضرت یزید بن ابو عبید فرماتے ہیں کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک کپڑے میں نماز پڑھتے تھے۔

عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَشْجَعِيُّ ← إسحاق بن موسیٰ الأنصاري ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6232

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سلمة 601 - سلمة بن عمرو بن الأكوع الأسلمي من أخباره · حديث 6233

6218 - حدثنا محمد بن يونس العصفري ثنا نصر بن علي ثنا حماد ابن مسعدة عن يزيد بن أبي عبيد عن سلمة بن الأكوع Y أنه كان يصلي في ثوب واحد

حضرت یزید‘ حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ پانی گرم کروا کر وضو فرمایا کرتے تھے۔

سلمة بن الأكوع أنه كان يصلي في ثوب واحد ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← حماد ابن مسعدة ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْعُصْفُرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6233

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سلمة 601 - سلمة بن عمرو بن الأكوع الأسلمي من أخباره · حديث 6234

6219 - حدثنا محمد بن يونس ثنا نصر بن علي ثنا حماد بن مسعدة عن يزيد عن سلمة Y أنه كان يسخن له الماء فيتوضأ

حضرت یزید بن ابو عبید فرماتے ہیں کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب وضو کرتے‘ تو کستوری لے کر اپنے ہاتھ پر ملتے‘ پھر اپنی داڑھی مبارک کو لگاتے تھے۔

سلمة أنه كان يسخن له الماء فيتوضأ ← يَزِيدُ: ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6234

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سلمة 601 - سلمة بن عمرو بن الأكوع الأسلمي من أخباره · حديث 6235

6220 - حدثنا محمد بن هشام المستملي ثنا علي بن المديني ثنا حميد بن مسعدة ثنا يزيد بن أبي عبيد Y أن سلمة بن الأكوع كان إذا توضأ يأخذ المسك فيديفه في يده ثم يمسح لجيته

حضرت یزید فرماتے ہیں کہ حضرت سلمہ رضی اللہ نہ نماز چاشت پڑھتے تھے۔

حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6235

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سلمة 601 - سلمة بن عمرو بن الأكوع الأسلمي من أخباره · حديث 6236

6221 - حدثنا محمد بن يونس ثنا نصر بن علي أنا حماد بن مسعدة عن يزيد قال : Y كان سلمة يصلي الضحى

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں وحشی جانور شکار کرتا اور اس کا گوشت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدیہ کرتا تھا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نہ پایا تو آپ نے فرمایا: سلمہ کہاں تھا؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم دور شکار کرنے گئے تھے‘ میں شکار کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو مقام عقیق پر شکار کرے گا‘ میں تجھ سے سبقت لے جاؤں گا‘ جب تو جائے گا اور میں تجھے ملوں گا‘ جب تو آئے گا کیونکہ میں مقام تحقیق کو پسند کرتا ہوں۔

كان سلمة يصلي الضحى ← يَزِيدُ: ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6236

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سلمة بن الاكوع أبوسلمة بن عبد الرحمن عن سلمة بن الأكوع · حديث 6237

6222 - حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح حدثنا نعيم بن حماد ( ح ) وحدثنا أحمد بن إبراهيم بن عنبر المصري ثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي قالا ثنا محمد بن طلحة التيمي ثنا موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث ابن خالد التيمى عن أ بيه عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن سلمة بن الأكوع قال Y كنت أرمي الوحش أصيدها و أهدي لحومها إلى رسول الله عليه وسلم ففقدني رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : سمة أين تكون ؟ فقلت : نبعد عن الصيد يا رسول الله فإنما أصيد بصدور قناة من نحو بيت فقال : أما لو كنت تصيد بالعقيق لسبقتك إذا ذهبت وتلقيتك إذا جئت فإني أحب العقيق

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں غلام تھا جس کا نام یسار تھا‘ آپ نے اس کو دیکھا وہ نماز اچھی پڑھتا ہے‘ آپ نے اس کو آزادکر دیا اور اس کو حرہ کے مقام پر اونٹنیوں میں بھیجا‘ وہ وہاں تھا‘ یمن سے قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگوں نے اسلام لانے کا اظہار کیا‘ وہ آپ کے پاس آئے‘ وہ بیمار ہو گئے‘ ان کے پیٹ بڑے ہو گئے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حضرت یسار کی طرف بھیجا‘ وہ اونٹوں کا دودھ پیتے رہے‘ حتٰی کہ ان کے پیٹ ٹھیک ہو گئے‘ پھر وہ یسار پر چڑھ دوڑے اور آپ کو قتل کیا‘ کانٹے ان کی آنکھوں میں ڈالے‘ پھر اونٹ بھی ہا تک کر لے گئے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف صحابہ کرام کو گھوڑوں پر بھیجا‘ ان کا امیر کرز بن جابر فہری تھا‘ وہ اس کو ملے‘ ان کو لے کر آئے‘ ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے‘ ان کی آنکھوں میں گرم تاریں پھیری گئیں۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَ بِیْہِ ← موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث ابن خالد التيمى ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَنْبَرٍ الْمِصْرِيُّ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6237

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سلمة بن الاكوع أبوسلمة بن عبد الرحمن عن سلمة بن الأكوع · حديث 6238

6223 - حدثنا مصعب بن إبراهيم بن حمزة الزبيري ثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا محمد بن الوليد المدني قالا ثنا محمد بن طلحه التيمي عن موسى بن محمد بن إبراهيم التيمي عن أبيه عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن سلمة بن الأكوع قال Y كان للنبي صلى الله عليه و سلم غلام يقال له يسار فنظر إليه يحسن الصلاة فأعتقه وبعثه في لقاح له بالحرة وكان بها فأظهر قوم الإسلام من عرينة من اليمن وجاؤوا وهم مرضى موعوكون وقد عظمت بطونهم فبعث بهم النبي صلى الله عليه و سلم إلى يسار وكانوا يشربون من ألبان الإبل حتى انطوت بطونهم ثم عدوا على يسار فذبحوه وجعلوا الشوك في عينيه ثم طردوا الإبل فبعث النبي صلى الله عليه و سلم في آثارهم خيلا من المسلمين أميرهم كرز بن جابر الفهري فلحقهم فجاء بهم فقطع أيديهم وأرجلهم وسمل أعينهم

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہاڑ کے کونے میں کنواں فروخت کیا اور اس کے بعد اونٹ ذبح کیا‘ لوگوں کو کھلایا‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے طلحہ! تو سخی ہے۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، ← محمد بن الوليد المدني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6238

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سلمة بن الاكوع أبوسلمة بن عبد الرحمن عن سلمة بن الأكوع · حديث 6239

6224 - حدثنا إبراهيم بن دحيم الدمشقي حدثني أبي ثنا محمد ابن طلحة التيمي ثنا موسى بن محمد بن إبراهيم عن أبيه عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن سلمة بن الأكوع قال : Y ابتاع طلحة بن عبيد الله رضي الله عنه بئرا بناحية الجبل فنحر جزورا فأطعم الناس فقال رسول صلى الله عليه و سلم : أنت يا طلحة الفياض

حضرت عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جب خیبر کا دن تھا تو میرے بھائی بہت زیادہ لڑے‘ ان کی تلوار ان کو لگی‘ اس کی وجہ سے مر گئے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے اس کے متعلق کہا‘ اس کے متعلق باتیں کرنے لگے کہ یہ آدمی اپنے اسلحہ کے ساتھ مرا ہے۔ بعض نے اس کے متعلق کچھ اور باتیں کیں۔ حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس آئے‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں‘ میں آپ کے سامنے اشعار پڑھوں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےمجھے اجازت دی‘ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: مجھے معلوم ہے جو آپ نے کہنا ہے۔ میں نے کہا: ’’اللہ کی قسم ! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ایسا نہ پاتے‘ نہ ہم تصدیق کرتے اور نہ نماز پڑھتے‘ ہم پر سکونت نازل فرما اور لوٹتے وقت قدموں کو ثابت رکھ‘ مشرکوں نے ہم پر بغاوت کی‘‘۔ جب میں نے اشعار پڑھ لیے تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کس نے کہا؟ میں نے عرض کی : میرے بھائی نے کہے ہیں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: اللہ اس پر رحم کرے! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! لوگ اس پر نماز جنازہ پڑھنے سے ڈرتے ہیں‘ کہتے ہیں کہ یہ اپنے اسلحہ سے مرا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاد کرتے مرا ہے۔حضرت ابن شہاب نے فرمایا: میں نے ابن سلمہ بن اکوع سے سنا ہے: اپنے باپ کی طرح بننا‘ یا مجھے حضرت عبدالرحمٰن نے بتایا کہ حضرت ابن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: جب میں نے کہا کہ لوگ ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے ڈرتے ہیں‘ آپ نے فرمایا: وہ جھوٹ بولتے ہیں‘ وہ جہاد کرتے ہوئے مرا ہے‘ اس کے لیے دُگنا ثواب ہے اور آپ نے اپنی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا۔

«ابْتَاعَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بِئْرًا بِنَاحِيَةِ الْجَبَلِ، فَنَحَرَ جَزُورًا، فَأَطْعَمَ النَّاسَ، ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← محمد ابن طلحة التيمي ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمِ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6239

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن سلمة بن الأكوع · حديث 6240

6225 - حدثنا هارون بن كامل المصري ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث حدثني يونس عن ابن شهاب أخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك أن سلمة بن الأكوع قال : Y لما كان يوم خيبر قاتل أخي قتالا شديدا فارتد إليه سيفه فقتله فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك وشكوا فيه : رجل مات بسلاحه وشكوا في بعض أمره قال سلمة : فقفل رسول الله صلى الله عليه و سلم من خيبر فقلت : يا رسول الله ائذن لي أن أرجز بك فأذن له رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : أعلم ما تقول فقلت : ( والله لولا الله ما اهتدينا ... ولا تصدقنا ولا صلينا ) ( فأنزلن سكينة علينا ... وثبت الأقدام إن لاقينا ) ( والمشركون قد بغوا علينا ) فلما قضيت رجزي قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال هذا ؟ قلت : قالها أخي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يرحمه الله قلت : يا رسول الله فو الله إن أناسا ليهابون الصلاة عليه يقولون رجل مات بسلاحه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مات جاهدا مجاهدا قال ابن شهاب : ثم سألت ابن سلمة بن الأكوع فحدثني عن أبيه مثل الذي حدثني عبد الرحمن غير أن ابن سلمة قال مع ذلك : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم قلت : يهابون الصلاة عليه قال : كذبوا مات جاهدا مجاهدا فله أجره مرتين وقال باصبعه

بے شک حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جب خیبر کا دن تھا تو میرے بھائی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں سخت جنگ کی‘ پس ان کی تلوار پلٹ کر ان کو لگ گئی جس نے ان کوقتل کر دیا۔ پھر اسی کی مانند حدیث ذکر کی۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6240

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن سلمة بن الأكوع · حديث 6241

6226 - حدثنا إسماعيل بن الحسن الخفان المصري ثنا أحمد بن صالح ثنا ابن وهب أخبرني يونس عن ابن شهاب حدثني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك أن سلمة بن الأكوع قال : Y لما كان يوم خيبر قاتل أخي قتالا شديدا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فارتد عليه سيفه فقتله ثم ذكر نحوه

حضرت عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جب خیبر کا دن تھا تو میرے بھائی بہت زیادہ لڑے‘ ان کی تلوار ان کو لگی‘ اس کی وجہ سے مر گئے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے اس کے متعلق کہا‘ اس کے متعلق باتیں کرنے لگے کہ یہ آدمی اپنے اسلحہ کے ساتھ مرا ہے۔بعض نے اس کے متعلق کچھ اور باتیں کیں۔ حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس آئے‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں‘ میں آپ کے سامنے اشعار پڑھوں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےمجھے اجازت دی‘ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جان لو! جو آپ نے کہنا ہے۔ میں نے کہا: ’’اللہ کی قسم ! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ایسا نہ پاتے‘ نہ ہم تصدیق کرتے اور نہ نماز پڑھتے‘‘۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے سچ کہا۔ ”ہم پر سکونت نازل فرما اور لوٹتے وقت قدموں کو ثابت رکھ ‘ مشرکوں نے ہم پر بغاوت کی‘ انہوں ں نے کہا: کفر کرو‘ لیکن ہم نے کہا: ہم نے انکار کیا‘ بے شک انہوں نے ہم پر بغاوت کی‘ جب انہوں نے فتنہ کا ارادہ کیا تو ہم نے انکار کیا‘‘ ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: اللہ اس پر رحم کرے! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! اللہ کی قسم ! لوگ اس پر نماز جنازہ پڑھنے سے ڈرتے ہیں‘ کہتے ہیں کہ یہ اپنے اسلحہ سے مرا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جہاد کرتے مرا ہے۔ حضرت ابن شہاب نے فرمایا: میں نے ابن سلمہ بن اکوع سے سوال کیا‘ پس انہوں نے اپنے باپ کی طرح مجھے بتایا جس طرح مجھے حضرت عبدالرحمٰن نے بتایا سوائے اس کے کہ حضرت ابن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس کے ساتھ فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: جب میں نے کہا کہ لوگ ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے ڈرتے ہیں‘ آپ نے فرمایا: وہ جھوٹ بولتے ہیں‘ وہ جہاد کرتے ہوئے مرا ہے‘ اس کے لیے دُگنا ثواب ہے اور آپ نے اپنی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← إسماعيل بن الحسن الخفان المصري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6241

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن سلمة بن الأكوع · حديث 6242

6227 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي حدثنا عبد الله بن صالح ثنا الليث حدثني عبد الرحمن بن خالد بن مسافر عن ابن شهاب عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك الأنصاري أن سلمة بن الأكوع قال : Y لما كان يوم خيبر قاتل أخي قتالا شديدا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فارتد عليه سيفه فقتله فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك : هذا رجل مات بسلاحه فشكوا في بعض أمره قال سلمة : فلما قفل رسول الله صلى الله عليه و سلم من خيبر قلت له : ائذن لي يا رسول الله أرجز بك فأذن لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : أعلم ما تقول فقلت : ( والله لولا الله ما اهتدينا ... وما تصدقنا ولا صلينا ) فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم صدقت ( فأنزلن سكينة علينا ... وثبت الأقدام إن لاقينا ) ( والمشركون قد بغوا علينا ... قالوا اكفروا قلنا لهم أبينا ) ( إن الذين قد بغوا علينا ... إذا أرادوا فتنة أبينا ) فلما قضيت رجزي قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال هذا ؟ قال : قلت : قالها أخي يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يرحمة الله قلت : يا رسول الله إن أناسا ليهابون الصلاة عليه ويقولون : رجل مات بسلاحه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مات جاهدا مجاهدا قال ابن شهاب : ثم سالت عن ذلك ابن سلمة بن الأكوع فحدثني عن أبيه مثل الذي حدثني عنه عبد الرحمن غير أن ابن سلمة قال مع ذلك : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم حين قلت : إنهم يهابون الصلاة عليه قد شكوا في شأنه : كذبوا مات جاهدا مجاهدا فله أجران اثنان

حضرت عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن ما لک سے روایت ہے کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : جب خیبر کا دن تھا تو میرا بھائی بہت زیادہ لڑا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں‘ ان کی تلوار ان کو لگی‘ اس کی وجہ سے مر گئے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے اس کے متعلق کہا‘ اس کے متعلق باتیں کرنے لگے کہ یہ آدمی اپنے اسلحہ کے ساتھ مرا ہے۔بعض نے اس کے متعلق کچھ اور باتیں کیں۔ حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے۔ فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس آئے‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں‘ میں آپ کے سامنے اشعار پڑھوں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےمجھے اجازت دی‘ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : جان لو! جو آپ نے کہنا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ایسا نہ پاتے‘ نہ ہم تصدیق کرتے اور نماز پڑھتے‘ ہم پر سکونت نازل فرما اور لوٹتے وقت قدموں کو ثابت رکھ‘ مشرکوں نے ہم پر بغاوت کی۔ جب میں نے اشعار پڑھ لیے تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ کس نے کہا ہے؟ میں نے عرض کی : میرے بھائی نے کہے ہیں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم ! لوگ اس پر نماز جنازہ پڑھنے سے ڈرتے ہیں‘ کہتے ہیں کہ یہ اپنے اسلحہ سے مرا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاد کرتے ہوئے مرا ہے۔ حضرت محمد بن مسلم زہری نے فرمایا: میں نے ابن سلمہ بن اکوع سے سوال کیا‘ پس انہوں نے مجھے اپنے باپ سے بیان کیا جیسے مجھے حضرت عبدالرحمٰن نے بتایا سوائے اس کے کہ حضرت ابن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں نے کہا کہ لوگ ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے ڈرتے ہیں‘ آپ نے فرمایا: وہ جھوٹ بولتے ہیں‘ وہ جہاد کرتے ہوئے مرا ہے‘ اس کے لیے دُگنا ثواب ہے اور آپ نے اپنی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6242

chevron_left Previous
1234…73
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter