Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ عبادة بن نسي عن عبد الرحمن بن غنم عن معاد · حديث 16886

131 - حدثنا موسى بن حازم الاصبهاني ثنا محمد بن بكير الحضرمي ثنا رشدين بن سعد عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن عبادة بن نسي عن عبد الرحمن بن غنم الاشعري قال Y لما افتتح شرحبيل بن حسنة قنسرين أصاب بها بقرا وغنما فقسمها بين الناس وبقيت بقايا فأدخل ثمنها في المغانم قال ابن غنم فحدثت به معاذا فقال : ان رسول الله صلى الله عليه و سلم قسم بيننا ماشية خيبر فبقيت منها بقايا فباعها فأدخل ثمنها في المقاسم

حضرت عبدالرحمٰن بن غنم اشعری فرماتے ہیں کہ جب حضرت شرحبیل بن حسنہ نے قنسرین کو فتح کیا تو ان کو گائے اور بکریاں مال غنیمت کے طور پر ملیں‘ آپ نے انہیں لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا‘ کچھ باقی رہ گئیں تو ان کی قیمت مال غنیمت میں رکھی۔ ابن غنم فرماتے ہیں: یہ حدیث میں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے بیان کی‘ انہوں نے فرمایا: بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے درمیان خیبر کے مویشی تقسیم کیے‘ ان میں سے کچھ باقی رہ گئے تو انہیں بیچ دیا اور ان کی قیمت مال غنیمت میں رکھ دی۔

عبد الرحمن بن غنم الأشعري، ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← رشدين بن سعد ← مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ← موسى بن حازم الأصبهاني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16886

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ عبادة بن نسي عن عبد الرحمن بن غنم عن معاد · حديث 16887

132 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا ابن لهيعة عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن عتبة بن حميد عن عبادة بن نسي عن عبد الرحمن بن غنم عن معاذ بن جبل قال Y مر بي النبي صلى الله عليه و سلم وأنا أسلخ شاة فقال لي : يا معاذ هات أو أرني فدسعها دسعتين بين اللحم والجلد ثم قال : يا معاذ هكذا ثم مضى الى الصلاة

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے حالانکہ میں بکری کی (کھال اتار رہا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے معاذ! میرے پاس آؤ! یا فرمایا: مجھے دکھاؤ! پس آپ نے گوشت اور جلد کے درمیان سے دو بار الگ کر کے دور کیا‘ پھر فرمایا: اے معاذ! اس طرح۔ پھر نماز کی طرف تشریف لے گئے۔

«يَا مُعَاذُ هَكَذَا» ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ ← لِي: يَا مُعَاذُ، هَاتِ أَوْ أَرِنِي فَدَسَعَهَا دَسْعَتَيْنِ بَيْنَ اللَّحْمِ وَالْجِلْدِ، ثُمَّ ← أَسْلُخُ شَاةً ← مر بي النبي صلى الله عليه و سلم ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16887

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ عبادة بن نسي عن عبد الرحمن بن غنم عن معاد · حديث 16888

133 - حدثنا ابراهيم بن هاشم البغوي ثنا هارون بن معروف ثنا محمد بن سلمة الحراني أبنا بكر بن حنيس عن أبي عبد الرحمن عن عبادة بن نسي عن عبد الرحمن بن غنم قال Y سألت معاذ بن جبل أتسوك وأنت صائم ؟ قال : نعم قلت : أي النهار أتسوك ؟ قال : أي النهار شئت ان شئت غدوة وان شئت عشية قلت : فان الناس يكرهونه عشية قال : ولم ؟ قلت يقولون : ان رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك فقال : سبحان الله لقد أمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم بالسواك حين أمرهم وهو يعلم أنه لا بد أن يكون بفم الصائم خلوف وان استاك وما كان بالذي يأمرهم أن ينتنوا أفواههم عمدا ما في ذلك من الخير شيء بل فيه شر الا من ابتلي ببلاء لا يجد منه بدا قلت : والغبار في سبيل الله أيضا كذلك انما يؤجر فيه من اضطر اليه ولم يجد عنه محيصا ؟ قال : نعم واما من ألقى نفسه في البلاء عمدا فما له من ذلك من أجر

حضرت عبدالرحمٰنٰ بن غنم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ مسواک کر رہے ہیں حالانکہ آپ روزے سے ہیں؟ فرمایا: ہاں! میں نے عرض کی : دن کے کس حصے میں مسواک کیا جا سکتا ہے؟ فرمایا: جس حصے میں آپ چاہیں‘ اگر پہلے وقت چاہیں تو اس وقت‘ اگر دوسرے وقت چاہیں تو اس وقت کریں۔ میں نے عرض کی : دوسرے لوگ اسے مکروہ بتاتے ہیں۔ فرمایا: کس وجہ سے؟ میں نے عرض کی : وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ کے نزدیک کستوری سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ فرمایا: سبحان اللہ! تحقیق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسواک کرنے کا حکم دیا‘ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم تھا کہ ضروری ہے کہ روزہ دار کے منہ میں بُو ہو‘ اگرچہ وہ مسواک کرے۔ جو حکم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دیں‘ اس کی بات الگ ہے لیکن اگر وہ جان بوجھ کر منہ کی بُو ختم کریں تو اس کا حکم الگ ہے۔ اس میں کوئی بھلائی نہیں بلکہ برائی ہے مگر جس آدمی کو کسی آزمائش میں مبتلا کیا گیا جس کے بغیر اسے چارہ نہیں ہے۔ میں نے عرض کی : اللہ کی راہ میں غبار (کھانے) کا بھی یہی حکم ہے؟ اس میں اجر ہے‘ جو مجبور ہو اور اس سے چھٹکارا نہ پا سکے؟ فرمایا: ہاں! لیکن وہ آدمی جو جان بوجھ کر اپنے آپ کو آزمائش میں مبتلا کرے تو اس کیلئے کوئی اجر نہ ہو گا۔

أَيَّ النَّهَارِ شِئْتَ، ← نَعَمْ. قُلْتُ: أَيَّ النَّهَارِ أَتَسَوَّكُ؟ ← سألت معاذ بن جبل أتسوك وأنت صائم ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← محمد بن سلمة الحراني أبنا بكر بن حنيس ← هَارُونُ بن معروف ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16888

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ عبادة بن نسي عن عبد الرحمن بن غنم عن معاد · حديث 16889

134 - حدثنا ابراهيم بن محمد بن عرق الحمصي ثنا محمد بن مصفى ثنا بسر عن مطرف بن مازن عن اسحاق بن عبد الله عن أبي الحكم الدمشقي عن عبادة بن نسي عن عبد الرحمن بن غنم عن معاذ بن جبل قال Y انما أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بالوضوء مما غيرت النار بغسل اليدين والفم للتنظيف وليس بواجب

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ پر پکی ہوئی شی کھانے کے بعد وضو کرنے کا حکم دیا‘ یعنی دونوں ہاتھ اور منہ صاف کرنے کا‘ یہ واجب نہیں ہے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← أَبِي الْحَكَمِ الدِّمَشْقِيِّ، ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، ← بسر ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16889

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ عبادة بن نسي عن عبد الرحمن بن غنم عن معاد · حديث 16890

135 - حدثنا عبد الوهاب بن رواحة الرامهرمزي ثنا أبو كريب ثنا رشد ين بن سعد عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن عتبة بن حميد عن عبادة بن نسي عن عبد الرحمن بن غنم ثنا أبو عبيدة بن الجراح و معاذ بن جبل Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : المرأة الحبلى اذا قتلت عمدا لا تقتل حتى تضع ذا بطنها وحتى تكفل وان زنت لا : ترجم حتى تضع ذا بطنها وحتى تكفل

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حاملہ عورت جب کسی کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا‘ جب تک وہ حمل کو نہ جن لے اور بچہ کی کفالت نہ کر لے‘ جب عورت زنا کرے تو اس کو رجم نہیں کیا جائے گا جب تک حمل نہ جن لے اور بچہ ٹھیک ہو جائے۔

أبو عبيدة بن الجراح و معاذ بن جبل ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← رشد ين بن سعد ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ رَوَاحَةَ الرَّامَهُرْمُزِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16890

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ اسماعيل بن عبيد الله بن أبي المهاجر عن عبد الرحمن بن غنم · حديث 16891

136 - حدثنا أحمد بن محمد بن هاشم البعلبكي ثنا أبي ( ح ) وحدثنا ابراهيم بن متويه الاصبهاني ثنا محمد بن هاشم البعلبكي ثنا سويد بن عبد العزيز عن عبد الله بن عبد الرحمن عن اسماعيل بن عبيد الله ثنا عبد الرحمن بن غنم عن معاذ بن جبل Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ القرآن وعمل بما فيه ومات في الجماعة بعثه الله يوم القيامة مع السفرة والحكام ومن قرأ القرآن وهو ينفلت منه ولا يدعه فله أجره مرتين ومن كان حريصا عليه ولا يستطيعه ولا يدعه بعثه الله يوم القيامة مع أشراف أهله وفضلوا على الخلائق كما فضلت النسور على سائر الطيور وكما فضلت عين في مرج على ما حولها ثم ينادي مناد أين الذين كانوا لا يلهيهم رعية الانعام عن تلاوة كتابي ؟ فيقومون فيلبس أحدهم تاج الكرامة ويعطى الفوز بيمينه والخلد بشماله فان كان أبواه مسلمين كسيا حلة خيرا من الدنيا وما فيها فيقولان : أنى هذه لنا ؟ فيقال بما كان ولدكما يقرأ القرآن

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے قرآن پڑھا‘ اس میں موجود احکام پر عمل کیا اور اہل سنت و جماعت کے عقیدے پر فوت ہوا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں اور نیک صالح حکمرانوں کے ساتھ اٹھائے گا‘ جو قرآن پڑھ کر اس سے پھر جاتا ہے اور اسے چھوڑتا نہیں تو اس کیلئے دو بار اجر ہے اور جو اس پر حریص ہو حالانکہ اس کی طاقت نہ رکھتا ہو اور اسے نہ چھوڑے تو وہ قیامت کے دن قرآن والے بزرگ ترین لوگوں میں سے اٹھایا جائے گا اور تمام مخلوقات پر اسے فضیلت دی جائے گی جیسے باز کو تمام پرندوں پر فضیلت ہے اور جس طرح چراگاہ میں چشمہ کو اپنے اردگرد پر فضیلت ہے۔ پھر منادی نداء دے گا: وہ لوگ کہاں ہیں کہ جن کو مال مویشی چرانا بھی میری کتاب کی تلاوت سے غافل نہیں کر سکتا تھا ؟ پس وہ کھڑے ہوں گے تو ان میں سے ہر ایک کو کرامت کا تاج پہنایا جائے گا‘ کامیابی کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں اور جنت خُلد اسے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی‘ اگر اس کے والدین مسلمان ہوں گے تو ان کو ایسا لباس پہنایا جائے گا جو دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا‘ پس اس کے والدین پوچھیں گے: ہمارے لیے یہ کہاں سے آیا ہے؟ کہا جائے گا؟ یہ بدلہ ہے اس کا جو تمہاری اولاد قرآن کی تلاوت کرتی تھی۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ1 اللَّهِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكَيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَتَّوَيْهٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16891

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ أيوب بن كريز عن عبد الرحمن بن غنم · حديث 16892

137 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا سعيد بن سليمان الواسطي ( ح ) وحدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا حجاج بن ابراهيم الازرق [ قالا ] ثنا مبارك بن سعيد أخو سفيان بن سعيد ثنا سعيد بن مسروق عن أيوب بن كريز عن عبد الرحمن بن غنم عن معاذ بن جبل قال Y بينا نحن ركب مع النبي صلى الله عليه و سلم اذ تقدمت راحلته ثم راحلتي لحقت راحلته حتى ظننت أن راحلته قد عرفت وطء راحلتي حتى نطحت ركبتي ركبتيه قلت : يا رسول الله اني أريد أن أسألك مرارا ويمنعني مكان هذه الآية : { يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم } قال : ما هو يا معاذ ؟ قلت : العمل الذي يدخل الجنة ويتجنبني من النار قال : قد سألت عظيما وانه ليسير شهادة أن لا اله الا الله وأني رسول الله وأقام الصلاة وايتاء الزكاة وحج البيت وصوم رمضان ثم قال : ألا أخبرك برأس هذا الامر وعموده وذروته الجهاد ثم قال : الصيام جنة والصدقة تكفر الخاطايا ثم قال : ألا أنبئك بما هو أملك بالناس عن ذلك ؟ فأخذ لسانه فوضعه بين اصبعين من أصابعه فقلت : يا رسول الله أكلما نتكلم به يكتب علينا ؟ قال : ثكلتك أمك وهل يكب الناس على مناخرهم في النار الا حصائد ألسنتهم ؟ انك لم تزل سالما ما سكت فاذا تكلمت كتب لك أو عليك

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ہم ایک قافلہ تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری آگے تھی‘ پھر میری سواری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری سے ملی ہوئی تھی حتٰی کہ میں نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری نے میری سواری کے پاؤں کے نشان پہچان لیے حتٰی کہ میرے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں سے جا ملے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں چاہتا ہوں کہ آپ بار بارسوال کرو لیکن یہ آیت اپنی جگہ مجھے روکتی ہے :”اے ایمان والو! نہ سوال کرو ایسی چیزوں کے بارے میں کہ اگر ان کو تمہارے لیے ظاہر کر دیا جائے تو تمہیں تکلیف دے‘‘۔ فرمایا: اے معاذ! کیا ہے؟ میں نے عرض کی : ایسا عمل جو جنگ میں داخلہ دلوائے اور جہنم سے مجھے دور کرے۔فرمایا: تو نے سوال تو بہت بڑا کیا لیکن ہے آسان۔ لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا اور میرے رسول ہونے کی نماز قائم کرنا‘ زکوٰۃ ادا کرنا‘ حج بیت اللہ کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ پھر فرمایا: کیا میں تجھے اس امر کی سردار کی خبر نہ دوں‘ اس کے ستون اور اس کی چوٹی کی بھی‘ وہ جہاد ہے۔ پھر فرمایا: روزہ ڈھال ہے‘ صدقہ غلطیوں کو مٹا دیتا ہے۔ پھر فرمایا: کیا میں تجھے آگاہ نہ کروں اس حوالے سے جولوگوں کے حق میں جو ہر اور خلاصہ ہے؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان کو پکڑ کر اپنی دو انگلیوں کے درمیان رکھا۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہر وہ بات جو ہم کرتے ہیں‘ وہ لکھی جاتی ہے؟ فرمایا: تیری ماں تجھ پہ روئے! کیا لوگ اپنی زبانوں کی کمائی کی وجہ سے اوندھے منہ دوزخ میں نہیں ڈالے جائیں گے؟ بے شک جب تک تو خاموش رہے‘ سلامتی والا ہے‘ جب تو نے کلام کیا تو وہ تیرے حق میں یا خلاف لکھا جائے گا۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← أَيُّوبَ بْنِ كَرِيزٍ، ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخُو سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ ← حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16892

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ عمران بن مسلم عن عبد الرحمن بن غنم · حديث 16893

138 - حدثنا زكريا بن يحيى الساجي ثنا محمد بن موسى الحرشي ثنا محبوب بن الحسن ثنا الخصيب بن جحدر عن عمران بن مسلم عن عبد الرحمن بن غنم عن معاذ بن جبل Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : المرء مع من أحب

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے محبت کرتا ہو گا۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ← الخصيب بن جحدر ← محبوب بن الحسن ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرْشِيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16893

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ النعمان بن نعيم عن عبد الرحمن بن غنم · حديث 16894

139 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا صالح بن عبد الله الترمذي ثنا محبوب بن الحسن القرشي عن الخصيب بن جحدر عن النعمان بن نعيم عن عبد الرحمن بن غنم عن معاذ بن جبل قال Y كان النبي صلى الله عليه و سلم اذا كان في صلاته رفع يديه قبالة أذنيه فاذا كبر أرسلهما ثم سكت وربما رأيته يضع يمينه على يساره فاذا فرغ من فاتحة الكتاب سكت فاذا ختم السورة سكت ثم يرفع يديه قبالة أذنيه ويكبر ويركع وكنا لا نركع حتى نراه راكعا ثم يستوي قائما من ركوعه حتى يأخذ كل عضو مكانه ثم يرفع يديه قبالة أذنيه ويكبر ويخر ساجدا وكان يمكن جبهته وأنفه من الارض ثم يقوم كأنه السهم لا يعتمد على يديه وكان اذا جلس في آخر صلاته اعتمد على فخذه اليسرى ويده المنى على فخذه اليمنى ويشير باصبعه اذا دعا وكان اذا سلم أسرع القيام

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز میں ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے کانوں کے برابر اٹھاتے‘ پس جب تکبیر کہتے تو ان دونوں کو چھوڑ دیتے پھر خاموش ہو جاتے اور کئی بار میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں پر رکھتے۔ پس جب سورۂ فاتحہ پڑھ کر فارغ ہوتے تو خاموشی اختیار کرتے‘ پس جب سورت ختم کرتے تو بھی خاموش ہوتے‘ پھر اپنے ہاتھوں کو کانوں کے برابر اٹھاتے‘ تکبیر کہہ کر رکوع کرتے‘ ہم جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رکوع میں نہ دیکھ لیتے‘ رکوع نہیں کرتے پھر رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوتے حتٰی کہ ہر عضو اپنی جگہ سکون حاصل کر لیتا‘ پھر اپنے ہاتھوں کو کانوں کے برابر اٹھاتے‘ تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جاتے‘ اپنی جبین اور ناک زمین پر ٹکا دیتے پھر کھڑے ہوتے‘ گویا سیدھے ہاتھوں پر سہارا نہ لیتے اور جب اپنی نماز کے آخر میں قعدہ کرتے تو بائیں ران پر سہارا لیتے اور دایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے‘ جب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے اور جب سلام پھیر لیتے تو جلدی کھڑے ہو جاتے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← النعمان بن نعيم ← الخصيب بن جحدر ← محبوب بن الحسن القرشي ← صَالِحُ بْنُ عَبْد اللَّه التِّرْمِذِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16894

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ الزهري عن عبد الرحمن بن غنم · حديث 16895

140 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة و أحمد بن يزيد الحوطيان قالا ثنا أبو مغيرة ثنا عبد الرحمن بن يزيد بن تميم حدثني الزهري عن عبد الرحمن بن غنم عن معاذ بن جبل Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ركب على حمار له يقال له يعفور ورسنه من ليف فقال : اركب يا معاذ قلت : سر يا رسول الله قال : اركب فأردفني خلفه فصرع بنا الحمار فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم يضحك ثم ركب الثانية فقال : اركب فركبت فسار بنا الحمار ما شاء الله قال وأخلف بيده فضرب بها ظهري بسوط كان معه أو عصا فقال : يا معاذ بن أم معاذ هل تدري ما حق الله على الناس ؟ قلت : الله ورسوله أعلم قال : فان حق الله على العباد أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئا ثم سار ما شاء الله ثم أخلف بيده فضرب ظهري فقال : يا معاذ بن أم معاذ تدري ما حق العباد على الله اذا فعلوا ذلك ؟ قلت : الله ورسوله أعلم قال : فان حق العباد على الله أن يدخلهم الجنة اذا فعلوا ذلك

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے یعفور نامی دراز گوش پر سوار ہوئے‘ اس کی رسّی کھجور کے پتوں کی تھی۔ فرمایا: اے معاذ! سوار ہو۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! آپ چلیں! فرمایا: سوار ہو جا! میں آپ کے پیچھے سوار ہوا۔ دراز گوش نے ہمیں گرا دیا‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنستے ہوئے کھڑے ہوئے‘ پھر دوبارہ سوار ہوئے‘ فرمایا: سوار ہو! میں سوار ہوا‘ پس جو اللہ نے چاہا‘ دراز گوش ہمیں لے کر چلا۔ راوی کا بیان ہے: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے کر کے اپنے کوڑے یا عصا کے ساتھ جو آپ کے پاس تھا‘ میری پیٹھ پر مار کر کہا: اے معاذ بن اُم معاذ! کیا تو جانتا ہے کہ لوگوں پر اللہ کا حق کیا ہے؟ میں نے عرض کی : اللہ ورسولہ اعلم ! فرمایا: بندوں پر اللہ کاحق یہ ہے کہ اس کی عبادت اس طرح کریں کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں پھر جتنا اللہ نے چاہا‘ آپ چلے پھر اپنا ہاتھ پیچھے کر کے میری پیٹھ پر مار کر فرمایا: اے معاذ بن اُم معاذ! تجھے معلوم ہے کہ جب لوگ یہ کام کر لیں تو اللہ پر بندوں کا حق کیا ہے؟ میں نے عرض کی: اللہ ورسولہ اعلم ! فرمایا: اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ وہ انہیں جنت میں داخل کرے جب یہ کام کر لیں۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ، ← أبو مغيرة ← أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة و أحمد بن يزيد الحوطيان

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16895

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ الزهري عن عبد الرحمن بن غنم · حديث 16896

141 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة و أبو زيد الحوطيان قالا ثنا أبو المغيرة ثنا عبد الرحمن بن يزيد بن تميم حدثني الزهري عن عبد الرحمن بن غنم الاشعري حدثني معاذ بن جبل قال Y بينما أن مع رسول الله صلى الله عليه و سلم اذ غزا تبوكا فأدلج ذات ليلة وأدلجنا معه ثم صلى الصبح وصلينا معه ثم اغتدا وغدونا معه فسار رسول الله صلى الله عليه و سلم فتفرقت الرفاق والابل تأكل على أفواهها وعليه رداء نجراني فلمحت عيني حلقة ناقة رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو نائم وأنا أحسب أنه سينزل عليه فبينا أنا كذلك تنادلت ناقتي رنة فأفسدتها فالتوى فرسنها ففزعت ناقة رسول الله صلى الله عليه و سلم من قرعها واستيقظ النبي صلى الله عليه و سلم فالتفت فأبصرني فقال : يا معاذ قلت : نعم يا رسول الله قال : ادن فدنوت فقال ذلك ثلاث مرات فدنوت حتى تحالت الراحلتان فقال معاذ : في نفسه كلمة قد آخذتني وأمرضتني لم أسألك عنها ولم أسمع أحدا يسألك عنها قال : سلني يا معاذ قلت : حدثني يا رسول الله عن عمل يدخلني الجنة قال : بخ بخ قد سألت عن أمر عظيم الا أنه يسير تشهد أن لا اله الا الله وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤدي الزكاة وتعبد الله وحده ثم أقبلت عليه أسأله قلت : يا رسول الله أي الاعمال أفضل الصلاة بعد الصلاة ؟ قال : لا ونعم ما هي قلت : يا رسول الله الزكاة بعد الزكاة المفروضة ؟ قال : لا ونعم ما هي قلت : يا رسول الله فالصيام بعد الصيام المفروض ؟ قال : لا ونعم ما هو قال : ألا أخبرك يا معاذ برأس هذا الامر وقوامه وذروة السنام منه ؟ قلت : نعم يا رسول الله قال : رأس هذا الامر تشهد أن لا اله الا الله وأن محمدا عبده ورسوله وأن قوامه اقامة الصلاة وايتاء الزكاة وأن ذروة السنام منه الجهاد في سبيل الله والذي نفسي بيده ما تغبرت قدما عبد قط ولا وجهه في عمل أفضل عند الله بعد فذكر الحديث

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسی دوران کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں تھا‘ جب آپ نے تبوک کا غزوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات اور ہم نے بھی آپ کی معیت میں‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھی‘ پھر صبح صبح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہوئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی صبح چلے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے‘ دوست جدا ہوئے اور اونٹوں نے اپنے منہ پر کھانا شروع کر دیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک نجرانی چادر تھی‘ پس میری آنکھ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کا کڑا دیکھ لیا‘ اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے‘ میں نے گمان کیا کہ آپ ابھی پڑاؤ ڈالیں گے۔ میں اسی حالت پر تھا کہ میری اونٹنی نے اسی طرح جھپٹ لے کر آواز نکالی‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توجہ فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھے لیا‘ فرمایا: اے معاذ! میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہاں ! فرمایا: قریب ہوا میں قریب ہوا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہ بات فرمائی‘ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوا حتٰی کہ دونوں سواریاں برابر آ گئیں۔حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے دل میں ایک بات ہے‘ اس نے مجھے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور مجھے بیمار کر دیا ہے‘ کیا آپ سے اس بارے میں سوال نہ کروں؟ (آج تک) میں نے نہیں سنا کہ کسی نے آپ سے اس بارے سوال کیا ہو؟ فرمایا: اے معاذ! مجھ سے پوچھو! میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کرے۔ فرمایا: واہ واہ! تو نے بہت بڑے کام کے بارے سوال کیا مگر (جس پر اللہ آسان کرے‘ اس کیلئے) آسان ہے‘ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا معبود برحق نہیں اور حضرت محمد‘ اللہ کے رسول ہیں‘ نماز قائم کر‘ زکوٰۃ دے اورا کیلے اللہ کی عبادت کر۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے کی خاطر آگے ہوا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ (کیا) نماز فرض کے بعد‘ نمازنفل۔ فرمایا نہیں ! کتنی اچھی ہے یہ۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا زکوٰۃ فرض کے بعد‘ نفلی صدقہ ہے؟ فرمایا: نہیں ! یہ بہت اچھا ہے۔ میں نے عرض کی: فرض روزہ کے بعد نفل روزہ۔ فرمایا: نہیں! یہ بھی (اپنی جگہ) بہت اچھا ہے۔فرمایا: اے معاذ! کیا میں تجھے اس کے سر اور پائے کی خبر نہ دوں اور اس کے کوہان کی چوٹی کا پتہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہاں! فرمایا: اس امر کا سر ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں‘ اور اس کے پائے یہ ہیں کہ نماز قائم کرنا‘ زکوٰۃ دینا‘ اس کے کوہان کی چوٹی جہاد فی سبیل اللہ ہے‘ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! نہیں غبار آلود ہوئے کبھی بندے کے پاؤں اور چہرہ‘ کسی عمل میں جو اللہ کے نزدیک زیادہ فضیلت والا ہو‘ اس کے بعد وہی حدیث بیان کی۔

بَيْنَمَا ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عبد الرحمن بن غنم الأشعري، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← احمد بن عبد الوهاب بن نجدة و أبو زيد الحوطيان

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16896

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ الزهري عن عبد الرحمن بن غنم · حديث 16897

142 - حدثنا علي بن سعيد الرازي ثنا ابراهيم بن هارون بن المغيرة الرازي ثنا أبي ثنا عمرو بن أبي قيس عن سعد بن خالد عن الزهري عن عبد الرحمن بن غنم قال Y استعمل عمر بن الخطاب على الشام معاذ بن جبل فكتب اليه أن اعط الناس أعطياتهم واغز بهم فبينا هو يعطي الناس وذلك في آخر الزمان جا رجل من أهل الرستاق فقال : يا معاذ مر لي بعطائي فاني رجل من أهل الرستاق من مكان كذا وكذا فلعلي آوي الى أهلي قبل الليل قال : لا والله لا أعطيك حتى أعطي هؤلاء يعني أهل المدينة سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الانبياء كلهم يدخلون الجنة قبل سليمان بن داود بأربعين عاما وان فقراء المسلمين يدخلون الجنة قبل أغنيائهم بأربعين عاما وان صالح العبيد يدخلون الجنة قبل الآخرين بأربعين عاما وان أهل المدن يدخلون الجنة قبل أهل الرستاق بأربعين عاما بفضل المدائن والجماعات والجمعات وحلق الذكر واذا كان بلاء خصوا به دونهم

حضرت عبدالرحمٰن بن غنم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو شام کا عامل بنا دیا‘ پس ان کی طرف خط میں لکھا کہ لوگوں کو عطیات دو‘ ان کو ساتھ لے کر جہاد کرو۔ اسی دوران کہ وہ لوگوں کو عطا فرما رہے تھے (اور یہ آخری زمانہ میں ہو گا) رستاق سے ایک آدمی آیا‘ اس نے کہا: اے معاذ! میرے لیے عطیہ کا حکم جاری کر‘ میں دیہات والوں میں سے ہوں‘ فلاں فلاں جگہ سے آیا ہوں‘ (اگر آپ جلدی دے دیں تو) ممکن ہے میں رات آنے سے پہلے اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ جاؤں۔ فرمایا: نہیں! بخدا! میں تجھے نہ دوں گا حتٰی کہ ان سب کو دے لوں یعنی مدینہ والوں کو۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا کہ آپ فرما رہے تھے: تمام انبیاء حضرت سلیمان بن داؤد سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے‘ مسلمانوں میں سے غریب لوگ‘ امیروں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے‘ اللہ کے نیک بندے دوسروں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے اور شہروں والے دیہات والوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے‘ شہروں اور جماعتوں کی فضیلت کی وجہ سے‘ نیز جملے پڑھنے اور ذکر کے حلقوں والی فضیلت جو انہیں حاصل ہے‘ اور جب آزمائش کی باری آئے تو دوسروں کے مقابلے میں انہیں خاص کیا جاتا ہے۔

استعمل عمر بن الخطاب على الشام معاذ بن جبل ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سعد بن خالد ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← أَبِي ← ابراهيم بن هارون بن المغيرة الرازي ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16897

chevron_left Previous
1…8910…89
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter