المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ سويد بن سرحان عن المغيرة · حديث 17762
1008 - حدثنا فضيل بن محمد الملطي ثنا أبو نعيم ( ح ) وحدثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي ( ح ) وحدثنا أحمد بن علي الأبار ثنا أبو الوليد الطيالسي قالوا ثنا عبيد الله بن اياد بن لقيط عن سويد بن سرحان عن المغيرة بن شعبة Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أكل طعاما فأقيمت الصلاة فقام وقد كان توضأ قبل ذلك فأتيته بماء يتوضأ فانتهرني فساءني ذلك والله فشكوت الى عمر فقال : يا رسول الله ان المغيرة بن شعبة قد شق عليه انتهارك اياه وخشي أن يكون في نفسك عليه شيء فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس في نفسي عليه شيء الا خير ولكنه أتاني بماء لأتوضأ وانما أكلت طعاما ولو فعلت فعل الناس بعدي
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھایا‘ پس نماز کھڑی ہو گئی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے‘ آپ اس (کھانا کھانے) سے پہلے وضو فرما چکے تھے۔ میں پانی لایا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جھڑک دیا جس سے مجھے تکلیف ہوئی۔ قسم بخدا! اس کے بعد میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس شکایت کی تو انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! حضرت مغیرہ بن شعبہ کو آپ کے جھڑکنے کی وجہ سے تکلیف ہوئی ہے اور انہوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ کہیں آپ ان سے ناراض ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے دل میں ان کے حوالے سے بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں ہے‘ بات صرف اتنی ہے کہ وہ میرے پاس پانی لائے تاکہ میں وضو کروں‘ میں نے کھانا ہی تو کھایا تھا‘ (وضو توڑنے والا تو کوئی کام نہ ہوا تھا) اگر میں وضو کرتا تو میرے بعد لوگ‘ اسے اپنے اوپر لازم کر لیتے (اور ہمیشہ وضو کرتے جو ان پر گراں ہوتا)۔
الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← سُوَيْد بْنِ سَرْحَانَ ← عُبَیْدُ اللہِ بْنُ اِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17762
