المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ منذر بن عمرو الانصاري ثم الساعدي استشهد يوم بئر معونة وكان أمير السرية · حديث 17594
840 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة بن الزبير قال Y ثم غزوة المنذر بن عمرو أخي بني ساعدة الى بئر معونة وبعث معهم المطلب السلمي ليدلهم على الطريق فبعث أعداء الله الى عامر بن الطفيل يستمدونه فأمدهم على المسلمين فقتل المنذر بن عمرو و أصحابه الا عمرو بن أمية الضمري فانهم أسروه فاستحيوه حتى قدموا به مكة فهو دفن خبيب بن عدي و عرض المشركون على عروة بن الصلت يوم بئر معونة أن يؤمنوه فأبى فقتلوه فذكر لنا أن المسلمين قالوا يوم بئر معونة حين أحاط بهم العدو : اللهم ان لا نجد من يبلغ عنا رسولك غيرك اللهم فاقرأ عليه منا السلام وأخبره خبرنا
حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ بئر معونہ کے مقام پر بنو ساعدہ کے ایک فرد منذر بن عمرو کا غزوہ ہوا‘ ان کو راستہ بتانے کیلئے ان کے ساتھ حضرت مطلب سلمی کو بھیجا گیا‘ اللہ کے دشمنوں نے عامر بن طفیل سے جا کر مدد مانگی‘ اس نے مسلمانوں کے خلاف اس کی مدد کی‘ پس حضرت منذر بن عمرو اور اس کے ساتھی قتل ہوئے‘ مگر حضرت عمر بن امیہ ضمری (بچ گئے)‘ کیونکہ انہوں نے ان کو قید کر لیا اور زندہ رکھا حتٰی کہ مکہ لائے‘ پس آپ نے حبیب بن عدی کو دفن کیا بئر معونہ کے دن‘ مشرکین نے حضرت عروہ بن صلت کے سامنے یہ بات پیش کی کہ وہ آپ کو امن دیتے ہیں‘ لیکن آپ نے انکار کر دیا تو انہوں نے قتل کر دیا۔ پس ہمارے لیے ذکر ہو کہ بئر معونہ کے دن مسلمانوں نے کہا جب دشمن نے ان کا احاطہ کر لیا: اے اللہ! ہم نہیں پاتے تیرے سوا کوئی جو تیرے رسول تک ہماری خبر پہنچائے‘ اے اللہ ! ہماری طرف سے ان کو سلام کہنا اور ہماری خبر دینا۔
ثم غزوة المنذر بن عمرو أخي بني ساعدة الى بئر معونة ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17594
