Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ منذر بن عمرو الانصاري ثم الساعدي استشهد يوم بئر معونة وكان أمير السرية · حديث 17594

840 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة بن الزبير قال Y ثم غزوة المنذر بن عمرو أخي بني ساعدة الى بئر معونة وبعث معهم المطلب السلمي ليدلهم على الطريق فبعث أعداء الله الى عامر بن الطفيل يستمدونه فأمدهم على المسلمين فقتل المنذر بن عمرو و أصحابه الا عمرو بن أمية الضمري فانهم أسروه فاستحيوه حتى قدموا به مكة فهو دفن خبيب بن عدي و عرض المشركون على عروة بن الصلت يوم بئر معونة أن يؤمنوه فأبى فقتلوه فذكر لنا أن المسلمين قالوا يوم بئر معونة حين أحاط بهم العدو : اللهم ان لا نجد من يبلغ عنا رسولك غيرك اللهم فاقرأ عليه منا السلام وأخبره خبرنا

حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ بئر معونہ کے مقام پر بنو ساعدہ کے ایک فرد منذر بن عمرو کا غزوہ ہوا‘ ان کو راستہ بتانے کیلئے ان کے ساتھ حضرت مطلب سلمی کو بھیجا گیا‘ اللہ کے دشمنوں نے عامر بن طفیل سے جا کر مدد مانگی‘ اس نے مسلمانوں کے خلاف اس کی مدد کی‘ پس حضرت منذر بن عمرو اور اس کے ساتھی قتل ہوئے‘ مگر حضرت عمر بن امیہ ضمری (بچ گئے)‘ کیونکہ انہوں نے ان کو قید کر لیا اور زندہ رکھا حتٰی کہ مکہ لائے‘ پس آپ نے حبیب بن عدی کو دفن کیا بئر معونہ کے دن‘ مشرکین نے حضرت عروہ بن صلت کے سامنے یہ بات پیش کی کہ وہ آپ کو امن دیتے ہیں‘ لیکن آپ نے انکار کر دیا تو انہوں نے قتل کر دیا۔ پس ہمارے لیے ذکر ہو کہ بئر معونہ کے دن مسلمانوں نے کہا جب دشمن نے ان کا احاطہ کر لیا: اے اللہ! ہم نہیں پاتے تیرے سوا کوئی جو تیرے رسول تک ہماری خبر پہنچائے‘ اے اللہ ! ہماری طرف سے ان کو سلام کہنا اور ہماری خبر دینا۔

ثم غزوة المنذر بن عمرو أخي بني ساعدة الى بئر معونة ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17594

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ منذر بن عمرو الانصاري ثم الساعدي استشهد يوم بئر معونة وكان أمير السرية · حديث 17595

841 - حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن اسحاق قال Y أقام رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد أحد بقية شوال وذا القعدة وذا الحجة وولى تلك الحجة المشركون والمحرم ثم بعث أصحاب بئر معونة في صفر على رأس أربعة أشهر من أحد فكان من حديثهم كما حدثني [ أبي ] اسحاق بن يسار عن المغيرة بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام و عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم وغيرهم من أهل العلم قالوا : قدم أبو براء [ عامر ] بن خالد بن جعفر ملاعب الأسنة على رسول الله صلى الله عليه و سلم [ المدينة ] فعرض عليه الاسلام فلم يسلم ولم يبعد من الاسلام فقال : يا محمد لو بعثت رجالا من اصحابك الى أهل نجد فدعوهم الى الايمان رجوت ان يستجيبوا لك فابعثهم فليدعوا الناس الى أمرك فبعث رسول الله صلى الله عليه و سلم المنذر بن عمرو أخا بني ساعدة بن كعب بن الخزرج المعنق ليموت في اربعين رجلا من المسلمين من خيارهم منهم الحارث بن الصمة و حرام بن ملحان أخو بني عدي بن النجار و عروة بن أسماء بن الصلت السلمي ونافع بن بديل بن ورقاء الخراعي وعامر بن فهيرة مولى أبي بكر ورجال مسمون من خيار المسلمين فساروا حتى نزلوا بئر معونة - وهي بين أرض بني عامر وحرة بني سليم كلا البلدين منها قريب وهي من سليم أقرب - فلما نزلوها بعثوا حرام بن ملحان بكتاب رسول الله صلى الله عليه و سلم الى عامر بن الطفيل فلما أتاهم لم ينظر في كتابه الى أن عدا على الرجل فقتله ثم استصرخ عليهم بني عامر فأبوا أن يجيبوه الى ما دعاهم وقالوا : لن نخفر أبا براء وقد عقد لهم عقدا وجوارا فاستصرخ عليهم قبائل بني سليم عصية ورعلا وذكوانا فأجابوه الى ذلك فخرجوا حتى غشوا القوم فأحاطوا بهم في رحالهم فلما رأوهم أخذوا أسيافهم ثم قاتلوهم حتى قتلوا عن آخرهم الا كعب بن زيد أخا بني دينار بن النجار فانهم تركوه فيه رمق فارتث من بين القتلى فعاش حتى قتل يوم الخندق فكان في سرح القوم عمرو بن أمية الضمري ورجل من الانصار أحد بني عمرو بن عوف فلم ينبئهما بمصاب أخوتهما الا الطير تحوم على العسكر فقال : والله ان لهذه الطير لشأنا فأقبلا لينظرا فاذا القوم في دمائهم فاذا الخيل التي أصابتهم واقفة فقال الانصاري لعمرو بن أمية ما ترى ؟ قال : أرى أن نلحق برسول الله صلى الله عليه و سلم فنخبره الخبر فقال الانصاري : لكني ما كنت أرغب بنفسي عن موطن قتل فيه المنذر بن عمرو وما كنت لتخبرني عنه الرجال ثم قاتل القوم حتى قتل وأخذ عمرو بن أمية أسيرا فلما أخبرهم أنه من خضر اطلقه عامر بن الطفيل وجز ناصيته وأعتقه عن رقبة زعم أنها كانت على أمه فخرج عمرو بن أمية حتى اذا كان بالقرقرة من صدر قناة أقبل رجلان من بني عامر حتى نزلا معه في ظل هو فيه وكان للعامريين عقد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم وجوار فلم يعلم به عمرو بن أمية وقد سألهما حين نزلا من أنتما ؟ قالا : من بني عامر فأمهلهما حتى اذا ناما عدا عليهما فقتلهما وهو يرى أنه أصاب بهما ثأره من بني عامر لما أصابوا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما قدم عمرو بن أمية على رسول الله صلى الله عليه و سلم أخبره الخبر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لئن قتلت قتيلين لأدينهما ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذا عمل أبي براء قد كنت لها كارها متخوفا فبلغ ذلك أبا براء فشق عليه اخفار عامر اياه وما أصيب من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في سببه وجواره وقال حسان بن ثابت يحرض بني أبي براء على عامر بن الطفيل : ( بني أم البنين ألم يرعكم ... وأنتم من ذوائب أهل نجد ) ( تهكم عامر بأبي براء ... ليخفره وما خطأ كعمد ) ( ألا أخبر ربيعة ذا المساعي ... فما أحدثت في الحدثان بعدي ) ( أبوك أبو الحروب أبو براء ... وخالك ماجد حكم بن سعد ) فحمل ربيعة بن عامر على عامر بن الطفيل فطعنه بالرمح فوقع في فخذه وأشواه ووقع عن فرسه فقال : هذا عمل أبي براء ان أمت فدمي لعمي فلا يتبعن به وان أعش فسأرى رأيي فيما أتى الي

حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ اُحد کے بعد شوال کے‘ ذی القعدہ اور ذی الحجہ کے ماہ ٹھہرے اور مشرکین اس حجت کے مالک بنے (یعنی انہوں نے یہ حجت بنائی) اور محرم کا مہینہ بھی‘ پھر آپ نے بئر معونہ کے اصحاب کو ایک سفر پر بھیجا‘ جو غزوہ اُحد کے چار ماہ بعد کا واقعہ ہے۔ حضرات مغیرہ بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام‘ عبداللہ بن ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم اور ان کے علاوہ علمائے کرام فرماتے ہیں: ابو براء بن مالک بن جعفر زبانوں کا ماہر‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مدینے آیا۔ پس آپ نے اس پر اسلام پیش کیا اور اسلام کی طرف دعوت دی‘ لیکن اس نے اسلام قبول نہ کیا اور اسلام سے دُور بھی نہ ہوا۔ عرض کی : اے محمد ! اگر آپ اپنے صحابہ کرام میں سے چند آ دمی‘ نجدیوں کی طرف روانہ فرمائیں اور وہ جا کر انہیں ایمان کی طرف بلائیں تو مجھے امید ہے کہ وہ آپ کی دعوت کو قبول کریں گے‘پس آپ ضرور ان کو بھیجیں تاکہ وہ لوگوں کو آپ کے کام کی طرف دعوت دیں۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت منذر بن عمر و معنق کو بھیجا جن کا تعلق قبیلہ بنو ساعدہ بن کعب بن خزرج سے تھا‘ خیار اُمت میں مسلمانوں کے چالیس آدمی بھی جن کی معیت میں وہ شہید ہوئے‘ ان کے ساتھ روانہ کیے۔ ان میں حضرت حارث بن صمّہ کا نام آتا ہے‘ حرام بن ملحان بنو عدی بن نجار سے‘ عروہ بن اسماء بن صلق سلمی‘ نافع بن بدیل بن ورقاء خزاعی ہیں‘ حضرت ابو بکر کے غلام حضرت عامر بن فہیرہ ہیں‘ بہترین مسلمانوں کے چند اور لوگ بھی تھے۔ پس وہ چل کر بئر معونہ پہنچے (وہ بنو عامر کی زمین اور بنو سلیم کے حرّہ کے درمیان ہے) دونوں علاقے اسے قریب لگتے ہیں لیکن یہ بنو سلیم کے زیادہ قریب ہے۔ جب یہ سب حضرات اس مقام پر اترے تو انہوں نے حضرت حرام بن ملحان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط دے کر عامر بن طفیل کی طرف بھیجا۔ پس جب یہ قاصد وہاں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ خط میں کیا لکھا ہوا ہے‘ ان پر حملہ کر کے ان کو شہید کر دیا‘ پھر ان کے خلاف بنو عامر سے مدد طلب کی گئی تو انہوں نے اس چیز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا جس کی طرف انہیں دعوت دی گئی۔ اور کہا: ہم ابو براء سے کیا گیا وعدہ ہرگز نہیں توڑیں گے جبکہ وہ ان سے پڑوسی ہونے کے حوالے سے پختہ وعدہ کیے ہوئے تھے۔ پس بنو سلیم کے قبیلوں سے مدد کی پکار کی گئی‘ جن میں عصیہ‘ رعل اور ذکوان تھے تو انہوں نے اسے بسرو چشم قبول کیا‘ وہ بھر پور انداز میں نکلے اور ایسے نکلے کہ قوم پر چھا گئے۔ ان کی سواریوں سمیت ان کے اردگرد گھیرا ڈال لیا۔ جب انہوں نے بھی ان کو دیکھا تو اپنی تلواریں پکڑ لیں پھر لڑنا شروع کر دیا‘ حتٰی کہ سارے کے سارے قتل ہو‘ مگر حضرت کعب بن زید جن کا تعلق بنو دینار بن نجار سے تھا‘ وہ بچ گئے۔ پس انہوں نے ان کو جب چھوڑ اتو ان میں زندگی کی رمق باقی تھی۔ پس ان کو میدان جنگ سے کے درمیان سے باہر منتقل کر لیا گیا۔ پس یہ زندہ رہے حتٰی کہ خندق کے دن شہید ہوئے۔ قوم میں سے باقی رہ جانے والوں میں عمرو بن امیہ ضمری اور بنو عمرو بن عوف قبیلے کا ایک انصاری آدمی تھا۔ پس ان دونوں کو اپنے بھائیوں کے شہید ہونے کا اس وقت پتہ چلا جب انہوں نے دیکھا کہ لشکر کے اوپر پرندے اڑ رہے ہیں۔ کہا: ان پرندوں کے اڑنے میں بھی کوئی خاص حکمت ہے‘ آگے ہوئے تاکہ دیکھیں کہ ماجرا کیا ہے؟ دیکھا تو قوم خون میں لت پت ہے‘ جن گھوڑوں پر وہ اس وقت سوار تھے وہ وفاداری کا ثبوت دینے کیلئے پاس کھڑے تھے۔ انصاری بھائی نے عمرو بن امیہ کو کہا: تیرا کیا خیال ہے؟ (لڑنا چا ہیے یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلنا چاہیے؟ اس نے کہا: میرا خیال ہے اب ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جانا چاہیے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جا کر ساری خبر دے سکیں۔لیکن انصاری صحابی نے کہا: میں تو اپنے آپ کو اس جگہ سے جدا کرنا پسند نہیں کرتا جس جگہ حضرت منذر بن عمرو جیسی ہستیوں کو تہ تیغ کر دیا گیا ہے اور نہ اس حق میں ہوں کہ لوگ مجھے اس کے بارے میں بتائیں۔ پھر قوم سے لڑنا شروع کر دیا حتٰی کہ شہید ہوئے لیکن حضرت عمرو بن امیہ کو قیدی بنا لیا گیا۔ پس جب حضرت عمرو نے ان کو بتایا کہ ان کا تعلق قبیلہ بنو مضر سے ہے تو عامر بن طفیل نے انہیں آزاد کر دیا اور اس کی پیشانی کے ٹکڑے کیے۔ پس ایک گردن کو اس گمان سے آزاد کیا کہ اس کی ماں پر اس کا آزاد کرنا لازم تھا۔ پس حضرت عمرو بن امیہ وہاں سے نکلے حتٰی کہ جب قرقرہ کے مقام پر تھے تو قناۃ کی طرف سے آتے ہوئے دو آدمی انہیں ملے جن کا تعلق بنو عامر سے تھا۔ جس سائے میں وہ آرام کر رہے تھے‘ ان دو آدمیوں نے بھی وہیں پڑاؤ ڈالا جبکہ عامر یوں کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ معاہدہ تھا‘ جس کا حضرت عمرو کو پتہ نہیں تھا۔ جب وہ دونوں آدمی وہاں آئے تو حضرت عمرو نے ان سے پوچھ لیا کہ تم کس قبیلے سے ہو؟ انہوں نے کہا: ہمارا تعلق بنو عامر سے ہے۔ پس آپ نے ان کے سونے کا انتظار کیا‘ جب وہ سو گئے تو حضرت عمرو نے ان دونوں پر حملہ کر کے انہیں ہمیشہ کی نیند سلا دیا۔ حضرت عمرو نے خیال کیا کہ آپ نے ان دونوں کو مار کر بنو عامر سے بدلہ لے لیا ہے‘ کیونکہ انہوں نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قتل عام کیا۔ پس جب حضرت عمرو بن امیہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ کر خبر دی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو نے دو آدمیوں کوقتل کیا ہے تو مجھے ان دو آ دمیوں کی دیت ضرور دینا پڑے گی۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ابو براء کا عمل ہے‘ جس کو میں ناپسند کرنے والا اور ڈرنے والا ہوں۔ یہ بات حضرت ابو براء کو پہنچی تو ان پر بنو عامر کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا گیا وعدہ توڑنا گراں گزرا اور جو ان کے سبب اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مصیبت پیش آئی۔حضرت حسان بن ثابت نے ابو براء کو عامر بن طفیل کے خلاف ابھارتے ہوئے فرمایا : اے اُم البنین کے بیٹو! کیا اس نے تمہیں نہیں ڈرایا جبکہ تم اہل نجد کے بڑے سرداروں میں سے ہو۔ عامر کا ابو براء کے ساتھ تکبرانہ طرزِ عمل تاکہ وہ اس کی حفاظت کرے جبکہ خطاء‘ عمد کی مانند نہیں ہوتی ہے‘ خبردار! میری طرف سے مساعی والے بنو ربیعہ کو پہنچا دو۔ پس تو نے میرے بعد دو حادثوں میں جو حادثہ کیا ہے‘ تیرا باپ جنگوں والا ابو براء ہے‘ اور تیرا خالو ماجد حکم بن سعد ہے۔ پس ربیعہ بن عامر نے عامر بن طفیل پر حملہ کیا‘ اسے نیزہ مارا جو اس کی ران میں لگا اور اسے جدا کر دیا اور وہ اپنے گھوڑے سے نیچے آ گرا۔ کہا: یہ ابو براء کا کام ہے۔ پس اگر میں مر جاؤں تو میرا خون میرے چچا کیلئے ہے۔ پس اس کا پیچھا نہ کیا جائے اور اگر میں زندہ رہا تو میں اپنی رائے قائم کروں گا‘ جو میرے ذہن میں آئے گی (اس کے مطابق عمل کروں گا)۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17595

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه مروان مروان بن الحكم بن العاص بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف · حديث 17596

842 - حدثنا اسحاق بن ابراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري أخبرني عروة بن الزبير عن المسور بن مخرمة و مروان بن الحكم قالا Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه من الحديبية في بعض عشرة ومائة من أصحابه حتى اذا كانوا بذي الحليفة فلد رسول الله صلى الله عليه و سلم الهدي وأشعر ثم أحرم بالعمرة

حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہا کہتے ہیں : حدیبیہ کے مقام سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نکلے جن کی تعداد ایک دس سے کچھ زیادہ تھی‘ حتٰی کہ جب ذوالحلیفہ کے مقام پر آئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے جانوروں کو قلا دے پہنائے اور نشان زدہ کیا‘ پھر عمرہ شریف کا احرام باندھ لیا۔

المسور بن مخرمة و مروان بن الحكم ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17596

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ مروان بن قيس الأسدي · حديث 17597

843 - حدثنا محمد بن عبدوس بن كامل السراج و محمد بن الحسن بن مكرم قالا ثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأموي حدثني أبي ثنا عمران بن يحيى الأسدي قال Y سمعت عمي مروان بن قيس وقد أخذ الرعية عن أهله في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله أن أبي توفي وقد جعل عليه أن يمشي الى مكة وأن ينحر بدنة ولم يترك مالا فهل يقضي عنه أن نمشي عنه وأن نقضي عنه بدنة من مالي ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم اقض عنه وانحر وامش أرأيت لو كان على أبيك دين لرجل فقضيت عنه من مالك أليس يرجع الرجل راضيا ؟ والله أحق أن يرضى

حضرت عمران بن یحییٰ اسدی فرماتے ہیں: (میں نے اپنے چچا حضرت مروان بن قیس سے سنا‘ جبکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اپنے اہل کے محافظ تھے) فرماتے ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی آیا‘ اس نے عرض کی : میرا باپ فوت ہو گیا تھا اور یہ کہ وہ ایک اونٹ کی قربانی کریں انہوں نے اپنے پیچھے کوئی مال نہیں چھوڑا‘ کیا میں ان کی طرف سے پورا کروں کہ ان کی طرف سے پیدل چلا جاؤں اور اپنے مال میں ان کیلئے قربانی کروں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی طرف سے پورا کر‘ قربانی بھی کر اور مکہ تک چل کر بھی جا۔ تیرا کیا خیال ہے اگر تیرے والد گرامی پر کسی آدمی کا قرض ہوتا تو کیا تو اس کی طرف اپنے مال میں سے پورا کرتا اور کیا وہ آدمی راضی ہو کر واپس نہ جاتا ؟ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس کو راضی کیا جائے۔

جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ← أهله في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عمي مروان بن قيس وقد أخذ الرعية ← عمران بن يحيى الأسدي ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← محمد بن عبدوس بن كامل السراج و محمد بن الحسن بن مكرم

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17597

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه مرزوق مرزوق الصقيل · حديث 17598

844 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي و الحسين بن اسحاق التستري قالا ثنا هشام بن عمار ثنا محمد بن حمير حدثني أبو الحكم الصقيل حدثني مرزوق الصقيل Y أنه صقل سيف رسول الله صلى الله عليه و سلم ذا الفقار وكانت له قبيعة من فضة وحلق في قيده وبكرة في وسطه من فضة

حضرت مرزوق الصيقل رضی اللہ عنہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار ذوالفقار کو صاف کرتا تھا‘ اس کی مٹھی چاندی کی تھی اور اس کی قید میں چلے تھے اور اس کے درمیان میں چاندی کی چرخی تھی۔

أبو الحكم الصقيل ← مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أحمد بن المعلى الدمشقي و الحسين بن اسحاق التستري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17598

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه منكدر [ منكدر ] أبو محمد التيمي تيم قريش · حديث 17599

845 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا حريث بن السائب ثنا محمد بن المنكدر عن أبيه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم Y من طاف حول البيت أسبوعا لا يلغو فيه كان كعدل رقبة يعتقها

حضرت محمد بن منکدر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک ہفتہ کعبہ کا طواف کیا اور اس میں کوئی لغوبات نہیں کی تو اس کو ایک غلام آزاد کر نے کا ثواب ملے گا۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← حُرَيْثٌ بْنِ السَّائِبَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17599

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه منكدر [ منكدر ] أبو محمد التيمي تيم قريش · حديث 17600

846 - حدثنا محمد بن شعيب الاصبهاني ثنا حفص بن عمر المهرقاني ثنا القاسم بن الحكم العرني ثنا عبد الله بن عمرو بن مرة الجملي ثنا محمد بن سوقة عن محمد بن المنكدر عن أبيه Y عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه خرج ذات ليلة وقد أخر صلاة العشاء حتى ذهب من الليل هنيهة أو ساعة والناس ينتظرون في المسجد فقال : ما تنتظرون ؟ قالوا : ننتظر الصلاة قال : أما أنكم في صلاة ما انتظرتموها - ثم قال - أما انها صلاة لم يصلها أحد ممن كان قبلكم من الأمم ثم رفع رأسه الى السماء فقال : النجوم أمان السماء فان طمست النجوم أتى السماء ما يوعدون وأنا أمان أصحابي فاذا قبضت أتى أصحابي ما يوعدون وأصحابي أمان أمتي فاذا قبض أصحابي أتى أمتي ما يوعدون يا بلال أقم

حضرت محمد بن منکدر اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات نکلے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز مؤخر کر دی تھی حتٰی کہ رات میں سے کچھ دیر یا ایک گھڑی گزر چکی تھی اور لوگ مسجد میں آپ کا انتظار کر رہے تھے۔ فرمایا: تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ صحابہ نے عرض کی : نماز کے منتظر ہیں۔فرمایا: جب تک تم نماز کے انتظار میں ہوتے ہو‘ اتنی دیر نماز میں ہوتے ہو۔ پھر فرمایا: بے شک یہ ایسی نماز ہے جو تم سے پہلی امتوں میں سے کسی نے نہیں پڑھی پھر آسمان کی طرف اپنا سر اٹھا کر فرمایا: ستارے‘ آسمان کیلئے امان ہیں‘ پس اگر ستارے ختم ہو جائیں تو آسان پر وہ آ جائے جس کا لوگوں سے وعدہ کیا جاتا ہے (یعنی قیامت) میں اپنے صحابہ کیلئے امان ہوں‘ پس جب میر اوصال ہو جائے گا تو میرے صحابہ پر وہ آ جائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے‘ پس جب میرے صحابہ کی روحیں قبض کر لی جائیں گی تو میری امت پر وہ آ جائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے‘ اے بلال! اقامت کہو۔

نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ. ← «مَا تَنْتَظِرُونَ؟» ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← عبد الله بن عمرو بن مرة الجملي ← الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمِهْرِقَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17600

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه مثعب مثعب عير منسوب · حديث 17601

847 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا عبيد بن يعيش ثنا يحيى بن يعلى عن أشعث بن أبي الشعثاء عن مثعب قال Y كان غزو مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يكن أحد منهم الا وله راحلته يعتقب عليها غيري قال : فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم ينزل ثم يقول لي : اركب [ فأقول ان بي قوة حتى يفعل ذلك مرتين أو ثلاثا ] فيقول : [ ما أنت الا مثعب قال : فكان من أحب أسمائي الي قال : فكنت أسافر ] مع رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه فيصوم بعضهم وبفطر بعضهم فلم يعب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم

حضرت مثعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ایک غزوہ تھا‘ پس صحابہ کرام میں سے ہر ایک کے پاس اپنی سواری تھی‘ جس پر بطور تعاون انہوں نے میرے علاوہ کسی نہ کسی کو سوار کر لیا تھا (میں پیدل ہی چل پڑا)۔ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری سے اتر آتے اور مجھ سے فرماتے: تم سوار ہو جاؤ! پس میں عرض کرتا: بے شک میں طاقت والا آدمی ہوں حتٰی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو یا تین بار اسی طرح کرتے‘ اس کے بعد فرماتے: تو مثعب (پر نالہ‘ حوض میں پانی کی گزرگاہ) ہی ہے ناں۔ فرماتے ہیں: مجھے میرے ناموں میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ یہی نام تھا۔ فرماتے ہیں: میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں سفر کیا کرتا تھا‘ صحابہ کرام بھی ساتھ ہوتے‘ پس ان میں سے کچھ روزہ رکھ لیتے اور کچھ نہ رکھتے‘ پس روزہ رکھنے والے‘ نہ رکھنے والوں کو اور نہ رکھنے والے‘ روزہ رکھنے والوں پر کبھی عیب نہ لگایا کرتے تھے۔

مُثْعِبٍ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← يحيى بن يعلى ← عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17601

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه مصعب مصعب بن عمير القرشي ثم العدوي وهو مصعب بن عمير بن هاشم بن عبد مناف بن عبد الدار بن قصى من المهاجرين الأول استشهد يوم أحد من أخباره · حديث 17602

848 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عبد الله بن رجاء أنا اسرائيل عن أبي اسحاق عن البراء قال Y وكان أول من قدم علينا من المهاجرين مصعب بن عمير أحد بني عبد الدار بن قصي فقلت له ما فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : هو مكانه وأصحابه على أثري

حضرت براء فرماتے ہیں کہ بنی عبدالدار بن قصی میں سے ہیں‘ سب سے پہلے ہجرت کر کے جو آئے وہ مصعب بن عمیر ہیں‘ میں نے آپ سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کیا ہے؟ مصعب نے فرمایا: اپنی جگہ اور صحابہ کرام آپ نے پیچھے۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17602

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه مصعب مصعب بن عمير القرشي ثم العدوي وهو مصعب بن عمير بن هاشم بن عبد مناف بن عبد الدار بن قصى من المهاجرين الأول استشهد يوم أحد من أخباره · حديث 17603

849 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الاسود عن عروة قال Y فلما حضر الموسم حج نفر من الانصار من بني مالك بن النجار منهم معاذ بن عفراء و أسعد بن زرارة ومن بني زريق رافع بن مالك و ذكوان بن عبد قيس ومن بني عبد الأشهل أبو الهيثم بن التيهان ومن بني عمرو بن عوف عويم بن ساعدة فأتاهم رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبرهم خبره الذي اصطفاه الله من نبوته وكرامته وقرأ عليهم القرآن فلما سمعوا قوله أنصتوا واطمأنت أنفسهم الى دعوته وعرفوا ما كانوا يسمعون من أهل الكتاب من ذكرهم اياه بصفته وما يدعوهم اليه فصدقوه وآمنوا به وكانوا من أسباب الخير ثم قالوا له : قد علمت الذي بين الأوس والخزرج من الدماء ونحن نحب ما أرشد الله به أمرك ونحن لله ولك مجتهدون وانا نشير عليك بما ترى فامكث على اسم الله حتى نرجع الى قومنا فنخبرهم بشأنك وندعوهم الى الله ورسوله فلعل الله يصلح بيننا ويجمع أمرنا فانا اليوم متباعدون متباغضون وان تقدم علينا اليوم ولم نصطلح لم يكن لنا جماعة عليك ولكن نواعدك الموسم من العام المقبل فرضي رسول الله صلى الله عليه و سلم الذي قالوا فرجعوا الى قومهم فدعوهم سرا وأخبروهم برسول الله صلى الله عليه و سلم والذي بعثه الله به ودعا اليه بالقرآن حتى قل دار من دور الانصار الا أسلم فيها ناس لا محالة ثم بعثوا الى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن ابعث الينا رجلا من قبلك فيدعو الناس بكتاب الله فانه أدنى أن يتبع فبعث اليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم مصعب بن عمير أخا بني عبد الدار فنزل في بني غنم على أسعد بن زرارة فجعل يدعو الناس سرا ويفشو الاسلام ويكثر أهله وهم في ذلك مستخفون بدعائهم ثم ان أسعد بن زرارة أقبل هو و مصعب بن عمير حتى أتيا بئر مرى أو قريبا منها فجلسنا هنالك وبعثنا الى رهط من أهل الارض فأتوهم مستخفين فبينما مصعب بن عمير يحدثهم ويقص عليهم القرآن أخبر بهم سعد بن معاذ فأتاهم في لأمته معه الرمح حتى وقف عليهم فقال : علام يأتينا في دورنا بهذا الوحيد الفريد الطريح الغريب يسفه ضعفاءنا بالباطل ويدعوهم اليه ؟ لاأراكم بعدها بشيء من جوارنا فرجعوا ثم انهم عادوا الثانية ببئر مرى أو قريبا منها فأخبر بهم سعد بن معاذ الثانية فواعدهم بوعيد دون الوعيد الاول فلما رأى أسعد منه لينا قال : يا ابن خالة اسمع من قوله فان سمعت منكرا فاردده يا هذا منه وان سمعت خيرا فأجب اليه فقال : ماذا يقول ؟ فقرأ عليهم مصعب بن عمير { حم * والكتاب المبين * إنا جعلناه قرآنا عربيا لعلكم تعقلون } فقال سعد بن معاذ : وما أسمع الا ما أعرف فرجع وقد هداه الله ولم يظهرلهم الاسلام حتى رجع الى قومه فدعا بني عبد الأشهل الى الاسلام وأظهر اسلامه وقال : من شك فيه من صغير أو كبير أو ذكر أو أنثى فليأتنا بأهدى منه نأخذ به فو الله لقد جاء أمر لتحزن فيه الرقاب فأسلمت بنو عبد الأشهل عند اسلام سعد ودعائه الا من لا يذكر فكانت أول دور من دور الانصار أسلمت بأسرها ثم أن بني النجار أخرجوا مصعب بن عمير واشتدوا على أسعد بن زرارة فانتقل مصعب بن عمير الى سعد بن معاذ فلم يزل عنده يدعو ويهدي الله على يديه حتى قل دار من دور الانصار الا أسلم فيها ناس لا محالة وأسلم أشرافهم وأسلم عمرو بن الجموح وكسرت أصنامهم فكان المسلمون أعز أهلها وصلح أمرهم ورجع مصعب بن عمير الى رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان يدعى المقريء

حضرت عروہ فرماتے ہیں : پس جب حج کا موسم آیا تو انصار کے ایک گروہ نے حج کیا جن کا تعلق بنو مالک بن ؟ نجار سے تھا‘ ان میں سے معاذ بن عفراء اور اسعد بن زرارہ تھے‘ بنو رزیق سے رافع بن مالک اور ذکوان بن عبد قیس‘ بنو عبداشہل سے ابو الہیثم بن تیہان‘ بنو عمرو بن عوف سے عویم بن ساعدہ تھے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پاس آ کر ان کو وہ خبر دی جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت و کرامت سے انتخاب فرمایا اور ان پر قرآن کی تلاوت فرمائی‘ پس جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول: ’’انصتوا‘‘ (خاموش رہو) سنا اور آپ کی دعوت سے ان کے دل مطمئن ہو گئے اور انہوں نے پہچان لیا‘ جو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر اہل کتاب سے سنتے تھے اور جس کی طرف وہ ان کو بلاتے تھے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی اور ایمان لے آئے اور وہ خیر کے اسباب سے تھے۔ پھر انہوں نے عرض کی : اوس اور خزرج کے درمیان جو خون کی لڑائی ہے‘ وہ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے‘ ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اس چیز کو پسند کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور آپ کو حکم دیا‘ ہم اللہ کیلئے اور آپ کے حکم کی خاطر محنت کرنے والے ہیں‘ ہم آپ کو وہی مشورہ دیں گے جو آپ کی خواہش ہے۔ اللہ کا نام لے کر ٹھہر جاؤ (تو آپ کی مرضی) یہاں تک کہ ہم اپنی قوم کی طرف واپس جا کر انہیں خبر دار کریں کہ آپ کا کام کیا ہے اور انہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بلائیں۔ امید ہے کہ اللہ ہمارے درمیان صلح کے اسباب پیدا کر دے گا اور ہم میں اجتماعیت کا عنصر نمایاں ہو گا‘ بے شک آج ہم ایک دوسرے سے دُور ایک دوسرے سے بغض رکھنے والے ہیں۔ اگر آج آپ ہمارے پاس تشریف لائیں (تو آپ کی مرضی) جبکہ حال یہ ہے کہ ہم میں صلح نہیں ہے‘ ہمارے پاس ایسی جماعت نہیں ہے جو آپ کی حفاظت کرے لیکن ہم آپ سے پختہ وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ سال موسم حج میں ہم ضرور آئیں گے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا جو ان لوگوں نے عرض کی۔ پس وہ لوگ اپنی قوم کی طرف لوٹ کر گئے‘ نجی طور پر انہیں دعوت دی اور انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہستی کا پتہ بتایا اور اس چیز سے آگاہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دے کر بھیجا ہے اور قرآن کی آیات پڑھ کر آپ کی طرف بلایا‘ یہاں تک کہ انصار کے گھروں میں سے کم ہی کوئی گھر تھا جس میں چند لوگ مسلمان نہ ہوئے ہوں لازمی طور پر‘ پھر انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بڑے کھلے دل سے پیغام بھیجا کہ آپ ہماری طرف اپنے میں سے ایک مبلغ بھیجیں جو اللہ کی کتاب کے ذریعے لوگوں کو دعوت اسلام دے کیونکہ زیادہ قریب ہے کہ اس کی اتباع کی جائے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لم نے قبیلہ بنو عبددار میں سے حضرت مصعب بن عمیر کو بھیجا‘ انہوں نے بنو غنم قبیلہ میں حضرت اسعد بن زرارہ کے گھر پڑاؤ ڈالا۔ لوگوں کو پوشیدہ طور پر دعوت دی‘ اسلام کو عام کرنے کا سبب بنے۔ اہل اسلام کی کثرت ہو گئی‘ اس وقت وہ اپنی دعوت کو چھپائے ہوئے تھے۔ پھر حضرت اسعد بن زرارہ اور حضرت مصعب بن عمیر چل کر بئر مزی تک یا اس کے قریب تک آئے۔ پس وہ خود وہاں بیٹھ گئے اور ایک گروہ کی طرف پیغام بھیجا‘ وہ چھپتے چھپاتے آئے‘ اسی دوران کہ حضرت مصعب بن عمیر انہیں حدیثیں سنا رہے تھے اور ان کے سامنے قرآنی قصے بیان کر رہے تھے تو ان کی خبر سعد بن معاذ کو ہوئی‘ وہ زرہ پہن کر اور نیزہ لے کر آئے یہاں تک کہ ان کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے‘ کہنے لگے: تم کس بات پر ہمارے گھروں میں اس اکیلے آدمی کو لائے ہو جو کہ دُور کا مسافر ہے‘ جو باطل کے ذریعے ہمارے کمز ور لوگوں کو بیوقوف بناتا ہے اور باطل کی طرف انہیں دعوت دیتا ہے؟ آئندہ اپنے پڑوس میں کسی جگہ میں تمہیں نہ دیکھوں‘ پس وہ واپس چلے گئے۔ ایک بار پھر وہ حضرات بئر مزی یا اس کے قریب تشریف لائے۔سعد بن معاذ کو دوبارہ خبر ہو گئی‘ انہوں نے آ کر دوبارہ پہلی دھمکی سے کم دھمکی دی۔ پس جب حضرت اسعد نے ان کی طرف سے نرمی کو ملاحظہ فرمایا تو کہنے لگے: اے خالہ کے بیٹے! میری بات غور سے سنو! اگر بری بات سنو تو اسے ردّ کر سکتے ہو اور اگر اچھی بات سنو تو اسے ضرور قبول کرو۔اس نے کہا: کہو‘ کیا کہنا چاہتے ہو؟ پس حضرت مصعب بن عمیر نے قرآن کی آیت ان کے سامنے تلاوت کی : ”حم ! کتاب مبین کی قسم! ہم نے قرآن عربی زبان میں بنایا تاکہ تم سمجھو‘‘۔ پس حضرت سعد بن معاذ نے کہا: میں وہی سنوں گا جسے میں پہچانوں گا۔ پس وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت کی دولت سے سرفراز کر دیا تھا‘ لیکن (کسی حکمت کے تحت) انہوں نے ان کے سامنے اپنے اسلام کا اظہار نہ کیا یہاں تک کہ وہ اپنی قوم میں آئے۔ انہوں نے بنو عبداشہل قبیلہ کو اسلام کی دعوت دی‘ اس وقت اپنے اسلام کو ظاہر کیا اور کہا: جس آدمی کو اس میں شک ہو خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا‘ مرد ہو یا عورت تو وہ اس سے زیادہ والی چیز لائے تاکہ ہم اس کو حاصل کریں‘ قسم بخدا تحقیق ایک ایسا امر آیا ہے تاکہ اس میں غلام بھی متاثر ہوں۔ پس حضرت سعد کے اسلام لانے اور اسلام کی طرف دعوت دینے کے سبب بنو عبداشہل بھی ایمان لائے‘ مگر وہی جس کا ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ پس انصار کے گھروں میں سے یہ پہلا گھر تھا جو سارے کا سارا مسلمان ہوا‘ پھر قبیلہ بنو نجار نے حضرت مصعب بن عمیر کو نکالا اور حضرت اسعد بن زرارہ کے خلاف بہت سخت رویہ اختیار کیا‘ پس حضرت مصعب بن عمیر‘ حضرت سعد بن معاذ کے ہاں منتقل ہو گئے‘ پس وہ ان کے پاس رہ کر مسلسل دعوت اسلام دیتے رہے‘ ان کے ہاتھوں پر (بہت لوگوں کو) اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا رہا یہاں تک کہ انصار کے گھروں میں سے کم ہی کوئی گھر تھا جس میں چند لوگ مسلمان نہ ہوئے ہوں لازمی طور پر‘ ان کے اشرافیہ مشرف باسلام ہوئے۔ حضرت عمرو بن جموح اسلام لائے‘ انہوں نے اپنے بت توڑ دیئے‘ پس ان کے پاس رہنے والوں میں مسلمان‘ سب سے زیادہ عزت والے ہو گئے‘ ان کا معاملہ درست ہو گیا اور حضرت مصعب بن عمیر‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آئے‘ انہیں مقرء کے نام سے پکارا جاتا تھا۔

عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17603

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه مصعب مصعب بن عمير القرشي ثم العدوي وهو مصعب بن عمير بن هاشم بن عبد مناف بن عبد الدار بن قصى من المهاجرين الأول استشهد يوم أحد من أخباره · حديث 17604

850 - حثدنا عمرو بن حفص السدوسي ثنا أبو بلال الاشعري ثنا يحيى بن العلاء عن عبد الأعلى بن عبد الله بن أبي فروة عن فطن بن وهب عن عبد الله بن عمير قال Y مر رسول الله صلى الله عليه و سلم على مصعب بن عمير حين رجع من أحد فوقف عليه وعلى أصحابه فقال : أشهد أنكم أحياء عند الله فردوهم وصلوا عليهم فوا الذي نفس محمد بيده لا يسلم عليهم الا ردواعليه الى يوم القيامة

حضرت عبداللہ بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے‘ جس وقت اُحد سے واپس آئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں کے پاس ٹھہرے‘ فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اللہ کے ہاں زندہ ہو‘ ان کو واپس بھیجا گیا‘ ان کی نماز جنازہ پڑھی‘ فرمایا: وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! قیامت کے دن تک جو کوئی ان کو سلام کرے گا‘ یہ اس کے سلام کا جواب دیں گے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← فطن بن وهب ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، ← يحيى بن العلاء ← أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ← حثدنا عمرو بن حفص السدوسي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17604

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ مصعب الأسلمي · حديث 17605

851 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا شيبان بن فروخ ثنا جرير بن حازم سمعت عبد الملك بن عمير يحدث عن مصعب الاسلمي قال Y انطلق غلام منا فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أني سائلك سؤالا قال : وما هو ؟ قال : أسألك أن تجعلني من تشفع له يوم القيامة ؟ قال : من أمرك بها أو من علمك بهذا أو من ذلك على هذا ؟ قال : ما أمرني بهذا أحد الا نفسي قال : فانك ممن أشفع له يوم القيامة فذهب الغلام حدلان ليخبر أهله فلما ولى قال : ردوا علي الغلام فردوه كئيبا مخافة أن يكون قد حدث فيه شيء قال : أعني على نفسك بكثرة السجود

حضرت مصعب اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم میں سے ایک جوان چل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا‘ عرض کی: میں آپ سے ایک سوال کروں گا‘ فرمایا: وہ کیا ہے؟ عرض کی: میں آپ سے یہ مانگتا ہوں کہ آپ مجھے ان لوگوں میں سے بنا دیں جن کی آپ قیامت کے دن شفاعت فرمائیں گے‘ فرمایا: تجھے اس کا حکم کس نے دیا؟ یا فرمایا: تجھے یہ سوال کس نے سکھایا؟ یا فرمایا: کس آدمی نے اس چیز پر تیری راہنمائی کی؟ عرض کی : میرے دل کے علاوہ کسی نے مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا۔ فرمایا: یقیناً تو ان لوگوں سے ہے جو قیامت کے دن میری سفارش حاصل کریں گے۔ پس وہ جوان چلا گیا اس حال میں کہ وہ بہت خوش تھا تاکہ اپنے گھر والوں کو اس کی خبر دے۔ پس جب اس نے پیٹھ پھیری۔ فرمایا: اس جوان کو دوبارہ میرے پاس لے آؤ۔ پس صحابہ اس جوان کو واپس لائے اس حال میں کہ وہ پریشان تھا اور اس بات سے ڈر رہا تھا کہ کہیں اس میں کوئی تبدیلی نہ ہو گئی ہو‘ (جب وہ آیا تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے اوپر سجدوں کی کثرت سے میری مدد کر۔

وَمَا هُوَ؟ ← أني سائلك سؤالا ← انطلق غلام منا فأتى النبي صلى الله عليه و سلم ← مصعب الاسلمي ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17605

chevron_left Previous
1…676869…89
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter