Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ مسعود بن الأسود العدوي · حديث 17546

792 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أحمد بن خالد الوهبي ثنا محمد بن اسحاق عن محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة عن أمه عائشة بنت مسعود بن الأسود عن أبيها قال Y لما سرقت المرأة القطيفة سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم أعظمنا ذلك وكانت من قريش فجئنا الى النبي صلى الله عليه و سلم فكلمناه فقلنا يا رسول الله نفديها بأربعين أوقية فقال النبي صلى الله عليه و سلم : تطهر خير لها فلما سمعناها لين قول رسول الله صلى الله عليه و سلم انطلقنا الى أسامة بن زيد وكلمناه فقلنا اشفع لنا الى رسول الله صلى الله عليه و سلم في شأن هذه المرأة ونفديها بأربعين أوقية فلما رأى ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم قام فينا خطيبا فقال : يا أيها الناس ما اكثاركم في حد من حدود الله وقع على أمة من اماء الله فو الذي نفسي بيده لو أن فاطمة بنت محمد قرفت بما نزلت به هذه لقطعت يدها فيئس الناس فقطع يدها

حضرت مسعود بن اسود فرماتے ہیں کہ جب عورت نے قطیفہ (کمبل یا جھالر والی چادر) چوری کی تو میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہم نے اسے عظیم کہا‘ اس کا تعلق قریش سے تھا‘ پس ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کلام کی‘ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم چالیس اوقیہ چاندی فدیہ دیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پاک کیا جائے گا جو اس کیلئے بہتر ہے‘ پس جب ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نرمی والا قول سنا تو ہم حضرت اسامہ بن زید کے پاس گئے‘ ہم نے ان سے بات کی اور کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اس عورت کے حوالے سے ہماری سفارش کرو‘ ہم چالیس اوقیہ چاندی بطور فدیہ پیش کریں گے‘ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ نے ہم میں کھڑے ہو کر خطبہ دیا‘ فرمایا: اے لوگو! اللہ کی حدوں میں سے ایک حد میں تمہارا کیا اصرار ہے‘ جو اللہ کی بندیوں میں سے ایک بندی پر واقع ہوئی ہے؟ قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر حضرت فاطمہ بنت محمد بھی چوری کی مرتکب ہوتی (بفرض محال) تو اس کے بدلے جو اس پر نازل ہوئی ہے تو میں اس کا بھی ضرور ہاتھ کاٹتا۔ پس یہ بات سن کر لوگ مایوس ہو گئے تو اس عورت کا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کٹوا دیا۔

لَمَّا سَرَقَتِ الْمَرْأَةُ الْقَطِيفَةَ ← أَبِيهَا ← أُمِّهِ عَائِشَةَ بِنْتِ مَسْعُودِ بْنِ الأَسْوَدِ ← محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17546

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ مسعود بن الأسود العدوي · حديث 17547

793 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي أحمد بن خالد الوهبي ثنا محمد بن اسحاق ( ح ) وحدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) وحدثنا الحسين بن اسحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة قالا ثنا عبد الله بن نمير ( ح ) وحدثنا محمد بن عبدوس بن كامل ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا أبي كلهم عن محمد بن اسحاق عن محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانه عن أمه عائشة بنت مسعود بن الأسود عن أبيها مسعود قال Y لما سرقت المرأة تلك القطيفة من بيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وأمر بقطعها أعظمنا ذلك وكانت امرأة من قريش فجئنا الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فكلمناه فقلنا نحن نفديها بأربعين أوقية فقال : تطهر خير لها فلما سمعنا لين قول رسول الله صلى الله عليه و سلم أتينا أسامة بن زيد فقلنا له كم نتكلم رسول الله صلى الله عليه و سلم في شأن هذه المرأة ونحن نفديها بأربعين أوقية فلما رأى ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم قام خطيبا فقال : يا أيها الناس ما اكثاركم علي في حد من حدود الله وقع على أمة من اماء الله والذي نفسي بيده لو كانت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم نزلت بالذي نزلت هذه المرأة لأقمت عليها الحد

حضرت مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پس جب اس عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے وہ جھالر والی چادر چوری کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم جاری کیا تو ہم نے اسے بڑا جانا‘ عورت قریشی تھی‘ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آ کر بات کی‘ ہم نے عرض کی: ہم چالیس اوقیہ چاندی فدیہ دیتے ہیں۔فرمایا: اسے پاک کرنا اس کیلئے بہتر ہے۔ پس جب ہم نے سنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نرمی سے بات کی ہے تو ہم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے‘ ہم نے ان سے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہم اس عورت کے بارے میں کتنی بات کریں حالانکہ ہم چالیس اوقیہ چاندی فدیہ پیش کر نے کو تیار ہیں۔ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ صورت حال دیکھی تو خطبہ دینے کیلئے اٹھے‘ فرمایا: اے لوگو! تم میرے ساتھ بار بار کلام کر رہے ہو‘ اللہ کی حدوں میں سے ایک حد میں جو اللہ کی کنیزوں میں سے ایک کنیز پر لاگو ہوئی ہے‘ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! (بفرض محال) اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ بھی یہ کام کرتی جو اس عورت نے کیا ہے تو ضرور میں اس پر بھی حد قائم کرتا۔

أَبِيهَا مَسْعُودٍ ← أُمِّهِ عَائِشَةَ بِنْتِ مَسْعُودِ بْنِ الأَسْوَدِ ← محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي کُلُّهُمْ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدُوسَ بْنِ كَامِلٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي أحمد بن خالد الوهبي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17547

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ مسعود بن خالد الخزاعي · حديث 17548

794 - حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا أبو مالك بن أبي فارة الخزاعي حدثني أبي أبو فارة عن أبيه الوليد عن جده مسعود بن خالد قال Y بعثت الى رسول الله صلى الله عليه و سلم [ شاة ] ثم ذهبت في حاجة فرد اليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم شطرها فرجعت الى أم خناس زوجته فاذا عندها لحم فقلت : يا أم خناس ما هذا اللحم ؟ قالت : هذا اللحم رده الينا خليلك صلى الله عليه و سلم من الشاة التي بعثت بها اليه قال : ما لك لا تطعمه عيالك منذ غدوة ؟ قالت : هذا سؤرهم وكلهم قد أطعمت وكانوا يذبحون الشاتين والثلاثة ولا تجزيء عنهم

حضرت مسعود بن خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بکری بھیجی‘ پھر میں اپنی ضرورت کے لیے گیا‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا حصہ ان کی طرف بھیجا‘ میں ان کی بیوی اُم خناس کے پاس آیا‘ اس کے پاس گوشت تھا‘ میں نے کہا: اے اُم خناس! یہ کون سا گوشت ہے؟ اس نے کہا: یہ گوشت ہمارے پاس آپ کے دوست نے بھیجا ہے‘ جو تو نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بکری کا بھیجا۔ میں نے کہا: صبح سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو کھلایا نہیں ہے۔ اُم خناس نے کہا: یہ ان کا جوٹھا ہے‘ میں نے سب کو کھلایا ہے۔ حالانکہ عام طور پر وہ دو یا تین بکریاں ذبح کیا کرتے تھے اور انہیں کفایت نہ کرتی تھیں۔

جده مسعود بن خالد ← أَبِيهِ الْوَلِيدِ ← أَبِي أَبُو فَارَةَ، ← أبو مالك بن أبي فارة الخزاعي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17548

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه مسروق مسروق بن وائل الحضرمي · حديث 17549

795 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا كثير بن عبيد الحذاء ثنا بقية بن الوليد عن عتبة بن أبي عتبة عن سليمان بن عمرو عن الضحاك بن النعمان بن سعد أن مسروق بن وائل Y قدم على رسول الله صلى الله عليه و سلم بالمدينة بالعقيق فأسلم وحسن اسلامه قال : يا رسول الله أني أحب ان تبعث الى قومي رجلا يدعوهم الى الاسلام وأن تكتب لنا كتابا الى قومي عسى الله أن يهديهم بها فقال معاوية : أكتب له بسم الله الرحمن الرحيم الى الأفناد من حضرموت باقام الصلاة وايتاء الزكاة والصدقة على السعة والتيمه في السيوب الخمس وفي البعل العشر لا خلاط ولا وراط ولا شفار ولا شناق ولا جنب ولا جلب ولا يجمع بين بعيرين في عقال من أحبي فقد أربي وكل مسكر حرام وبعث اليهم زياد بن لبيد الانصاري أما الخلاط فلا تجمع الماشية وأما الوراط فلا يقومها بالقيمة وأما الشفار فيزوج الرجل ابنته وينكح الآخر ابنته بلا مهر والشناق أن يعقلها في مباركها والأجباء أن تباع الثمرة قبل أن تؤمن عليها العاهة

حضرت ضحاک بن نعمان بن سعد سے مروی ہے کہ حضرت مسروق بن وائل مدینہ میں عقیق کے مقام پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہوئے اور اچھی طرح اسلام قبول کیا‘ عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں پسند کرتا ہوں کہ آپ میری قوم کی طرف ایک مبلغ بھیجیں جو ان کو اسلام کی طرف دعوت دے اور یہ کہ آپ ہمیں میری قوم کی طرف ایک خط لکھ دیں‘ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت کی راہ پر چلا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاویہ کوفر مایا : ان کیلئے خط لکھو: اللہ کے نام سے شروع جو انتہائی مہربان‘ ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے! حضر موت کے بڑے بڑے لوگوں کی طرف کہ وہ نماز قئم کریں‘ زکوٰۃ ادا کریں‘ کمائی اور غلام پر صدقہ دیں‘ دھاتوں (اور کانوں) میں خمس ادا کریں‘ خچروں میں دسواں حصہ دیں‘ نہ ملنا ملانا ہے‘ نہ پوشیدگی ہے‘ نہ تبادلہ کی شادی ہے (یعنی نکاح شغار ممنوع ہے)‘ نہ مالی تاوان ہے‘ نہ گھر سوار اپنے پہلو میں دوسرا گھوڑا رکھ سکتا ہے‘ نہ زیادہ نفع کمانا ہے‘ ایک ڈھینگے میں دو اونٹ میں باندھے جائیں‘ جس نے (شرعی اصولوں مدنظر رکھے بغیر) مال جمع کیا‘ اس نے سود کھایا‘ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ ان کی طرف حضرت زیاد بن لبید انصاری کو بھیجا‘ بہرحال خلاط کا معنی ہے : مویشی جمع نہ کیے جائیں‘ اور وراط کا معنی ہے: ان کی قیمت مقرر نہیں کی جا سکتی۔ شغار کا معنی ہے: ایک آدمی دوسرے کی بیٹی سے نکاح کرے اور دوسرا اس کی بیٹی (یا بہن) سے نکاح بغیر مہر کے کرے۔شناق کا معنی ہے: اونٹوں کو ایک تھان پر باندھنا۔ اجاء کا معنی ہے کہ پھل بیچے جائیں ان کے پکنے سے پہلے۔

سليمان بن عمرو ← عتبة بن أبي عتبة ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَذَّاءُ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17549

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه مخمر مخمر بن حيدة القشيري · حديث 17550

796 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي و الحسين بن اسحاق التستري قالا ثنا هشام بن عمار ثنا اسماعيل بن عياش ثنا سليمان بن سليم الكناني عن حكيم بن معاوية عن عمه مخمر بن حيدة Y قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا شؤم وقد يكون اليمن في ثلاث في المرأة والفرس والدار

حضرت مخمر بن حیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: نحوست تین چیزوں میں ہوسکتی ہے: عورت (یعنی شوہر کی نافرمان ہو)‘ گھوڑے (جو کہ سرکش ہوں)‘ گھر میں (کہ تنگ ہو یا برا پڑوسی ہو)۔

لا شؤم وقد يكون اليمن في ثلاث في المرأة والفرس والدار ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَمِّهِ مِخْمَرِ بْنِ حَيْدَةَ، ← حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ سَلِيمٍ الْكِنَانِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أحمد بن المعلى الدمشقي و الحسين بن اسحاق التستري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17550

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه مخمر مخمر بن حيدة القشيري · حديث 17551

797 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو ثنا أبو الجماهر محمد بن عثمان ثنا سعيد بن بشير عن قتادة عن حكيم بن معاوية عن عمه مخمر بن حيدة قال Y قلت يا رسول الله أني أغيب الشهر عن الماء ومعي أهلي فأصيب منهم ؟ قال : نعم قلت : يا رسول الله أني أغيب أشهرا قال : وان غبت ثلاثين سنة

حضرت مخمر بن حیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یارسول اللہ! مجھے ایک ماہ تک پانی نہیں ملتا ہے اور میری بیوی میرے ساتھ ہوتی ہے‘ تو میں اس سے جماع کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! مجھے ایک ماہ تک پانی نہیں ملتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ تیس سال تک نہ ملے۔

قُلْتُ ← عَمِّهِ مِخْمَرِ بْنِ حَيْدَةَ، ← حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← أَبُو الْجُمَاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17551

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه مازن مازن بن الغضوبة الأزدي · حديث 17552

798 - حدثنا محمد بن عاصم الاصبهاني ثنا علي بن حرب الموصلي ثنا حصين بن كثير حدثني جدي كثير بن يحيى عن عبد الرحمن بن نجدة الحمصي عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبيه صالح بن المتوكل قال سمعت مازن بن الغضوبة Y يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : عليكم بالصدق فأنه يهدي الى الجنة

حضرت مازن بن الغضوبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ؟ کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم پر سچ بولنا لازم ہے کیونکہ سچ جنت کی طرف لے جانے والاعمل ہے۔

عليكم بالصدق فأنه يهدي الى الجنة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← مَازِنَ بْنَ الْغَضُوبَةِ، ← أَبِيهِ صَالِحِ بْنِ الْمُتَوَكِّلِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَجْدَةَ الْحِمْصِيِّ، ← جدي كثير بن يحيى ← حصين بن كثير ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمُوصِلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17552

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه مازن مازن بن الغضوبة الأزدي · حديث 17553

799 - حدثنا موسى بن جمهور التنيسي السممسار ثنا علي بن حرب الموصلي ثنا هشام بن محمد بن السائب الكلبي عن أبيه عن عبد الله العماني عن مازن بن الغضوبة قال Y كنت أسدن صنما يقال له باحر بسمائل قرية بعمان فعترنا ذات يوم [ عنده ] عتيرة - وهي الذبيحة - فسمعت صوتا من الصنم يقول : يا مازن اسمع تسر ظهر خير وبطن شر بعث نبي من مضر بدين الله الكبر الكبر فدع نحيتا من حجر تسلم من سقر قال : ففزعت لذلك فقلت ان هذا لعجب ثم عترت بعد أيام عتيرة فسمعت صوتا من الصنم يقول : أقبل الي أقبل تسمع ما لا تجهل هذا نبي مرسل جاء بحق منزل فآمن به كي تعدل عن حر نار تشعل وقودها بالجندل فقلت : ان هذا لعجب وانه لخير يراد بي فبينا نحن كذلك اذ قدم رجل من الحجاز قلنا : ما الخبر وراءك ؟ قال : ظهر رجل يقال له أحمد يقول لمن أتاه : أجيبوا داعي الله قلت : هذا نبأ ما قد سمعت فسرت الى الصنم فكسرته أجذاذا وركبت راحلتي فقدمت على رسول الله صلى الله عليه و سلم فشرح لي الاسلام فأسلمت وقلت : ( كسرت باحرا جذاذا وكان لنا ... ربا نطيف به غميا بضلال ) ( بالهاشمي هدينا من ضلالته ... ولم يكن دينه مني على بال ) ( يا راكبا بلغن عمرا واخوته ... أني لمن قال ربي ناجر قال ) يعني عمرو بن الصلت واخوته بني خطامة قال مازن : فقلت : يا رسول الله أني امرؤ مولع بالرب وبشرب الخمر وبالهلوك قال ابن الكلبي : والهلوك الفاجرة من النساء وألحت علينا السنون فأذهبت الأهوال وأهزلن الذراري والعيال وليس لي ولد فادع الله أن يذهب عني ما أجد ويأتينا بالحياء ويهب لي ولدا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : اللهم ابدله بالطرب قراءة القرآن وبالحرام الحلال وبالعهر عفة الفرج وبالخمر رياء لا اثم فيه وائته بالحياء وهب له ولدا قال مازن : فأذهب الله عني ما كنت أجد وأتانا بالحياء [ وتعلمت شطر القرآن ] وخصب عمان وحججت حجا [ حججا ] ووهب الله لي حيان بن مازن وأنشأت أقول : ( اليك رسول الله خبت مطيتي ... تجوب الفيافي من عمان الى العرج ) ( لتشفع لي يا خير من وطأ العصى ... فيغفر لي ربي فأرجع بالفلج ) ( الى معشر خالفت في الله دينهم ... فلا رأيهم رأيي ولا شرجهم شرجي ) ( وكنت امرءا بالرغب والخمر مولعا ... شبابى حتى آذن الجسم بالنهج ) ( فبدلني بالخمر خوفا وخشيه ... وبالعهر احصانا فأحصن لي فرجي ) ( فاصبحت همي في الجهاد ونيتي ... فلله ما صومي ولله ما حجي ) فلما قدمت على قومي أنبوني وشتموني وأمروا شاعرا له فهجاني فقلت : ان رددت عليه فانما الهجو لنفسي فاعتزلتهم الى ساحل البحر وقلت : ( بغضكم عندنا مرمدا فيه ... وبغضكم عندنا يا قومنا لئن ) ( فلا يعطن الدهر أن نشب معايبكم ... وكلكم يبدو عيينا فطن ) ( شاعرنا معجم عنكم وشاعركم ... في حربنا مبلغ في شتمنا لسن ) ( ما في القلوب عليكم فاعلموا وغر ... وفي صدوركم البغضاء والاجن ) فأتتني منهم أزفلة عظيمة فقالوا : يا ابن عم عبنا عليك أمرا وكرهناه لك فان أبيت فشأنك ودينك فارجع فأقم أمورنا فكنت القيم بأمورهم فرجعت معهم ثم هداهم الله بعد الى الاسلام

حضرت مازن بن غضوبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک بت کی خدمت کیا کرتا تھا‘ اس کا نام ’’باحر‘‘ تھا اور وہ سمائل کے مقام پر تھا(سمائل‘ عمان میں ایک گاؤں ہے) ہم نے اس کے پاس ایک دن ایک جانور ذبح کیا (عتیرہ کا معنی ذبیحہ ہے) تو میں نے بت سے آواز سنی جو کہہ رہا تھا: اے مازن ! سن خوش ہو جائے گا‘ بھلائی ظاہر ہوئی ہے اور شر اس سے کوسوں دور ہے‘ بنو مضر قبیلے سے ایک عظیم الشان نبی ظاہر ہوا ہے‘ اللہ کبیر کا دین لے کر آیا ہے‘ پھر سے بت بنانے کو چھوڑ‘ جہنم سے محفوظ ہو جائے گا۔ فرماتے ہیں: میں اس وجہ سے گھبرایا‘ میں نے دل میں کہا: یہ بڑی عجیب بات ہے‘ پھر چند دنوں بعد میں نے ایک بت بنایا‘ میں نے بت سے آواز سنی کہ وہ کہہ رہا تھا : میری طرف متوجہ ہو! میری طرف متوجہ ہو! تو وہ بات سنے گا جس سے تو جاہل نہیں ہے یہ اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا نبی ہے‘ نازل کردہ حق لے کر آیا ہے ان پر ایمان لا تاکہ دوزخ کی گرمی سے چھٹکارا حاصل کرے جو شعلہ زن ہے‘ اس کا ایندھن پھر ہیں۔ میں نے کہا: بے شک یہ بات بڑی عجیب ہے‘ بے شک اس میں میری بھلائی مقصود ہے۔ ہم اسی حالت پر تھے کہ حجاز مقدس سے ایک آدمی آیا‘ ہم نے پوچھا: تیرے پیچھے کیا نئی خبریں ہیں؟ اس نے بتایا: ایک عظیم آدمی ظاہر ہوا ہے‘ اس کا اسم گرامی احمد ہے جو ان کے پاس حاضری کی سعادت حاصل کرتا ہے‘ اس سے فرماتے ہیں: اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرو۔ میں نے کہا: یہ وہی خبر ہے جو میں نے سنی ہے۔ پس میں چل کر بت کی طرف اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا‘ اپنی سوار پر سوار ہوا اور سیدھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا‘ آپ نے اسلام کیلئے میرا سینہ کھول دیا‘ پس میں اسلام لایا اور میں نے کہا: ” میں نے باحر بت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جبکہ پہلے وہ ہمارا رب تھا‘ بظاہر صاف تھالیکن گمراہی کی وجہ سے اندھا تھا‘ اس کا سبب ہاشمی کی ہستی بنی‘ ہمیں گمراہی سے ہدایت بخشی گئی جبکہ ان کے دین کو میری ضرورت نہ تھی (مجھے ہی ضرورت تھی) اے سوار! عمرو اور اس کے بھائیوں کو یہ بات پہنچا دے کہ بے شک جو باحر کو میرا رب کہے‘ میں اس سے ناراض ہوں‘‘ ۔ اس سے مراد عمرو بن صلت اور اس کے بھائی بنو خطامہ ہیں۔حضرت مازن فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! بے شک میں عیش و طرب کا محب ہوں اور شراب پینے والا ہوں اور ھلوک ہوں۔ حضرت ابن کلبی نے فرمایا : ھلوک کا معنی ہے : عورتوں سے فسق و فجور کرنے والا‘ اور ہمارے اوپر سال بارش برسنے کی طرح مسلسل آتے رہے تو انہوں نے خود اور ڈر دور کر دیئے‘ بچوں اور اہل وعیال کو کمزور کر دیا‘ میرا کوئی بچہ نہیں ہے‘ پس آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھ سے وہ مصیبت دور کرے جو میں پاتا ہوں‘ ہمارے پاس وہ حیا لائے اور مجھے اولاد سے نوازے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! اس کی عیش و طرب کی حالت بدل دے‘ اس کی جگہ یہ قرآن پڑھے‘ حرام کے بدلے حلال کھائے‘ زنا کے بدلے فرج کی پاکیزگی دے‘ شراب کے بدلے ایسی سیرابی جس میں گناہ نہ ہو‘ اسے حیا دے‘ اسے اولاد دے۔ حضرت مازن فرماتے ہیں: اللہ نے مجھ سے وہ ساری بُری باتیں دور کر دیں جو میں پاتا تھا‘ ہمیں حیا مل گیا‘ میں نے قرآن کا کچھ حصہ سیکھ لیا‘ عمان سرسبز ہو گیا‘ میں نے کئی حج کیے‘ اللہ نے مجھے بیٹا ”حیان بن مازن‘‘ عطا کیا۔ میں کہنے لگا: ’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لازم پکڑ لے‘ میری سواری دوڑی‘ اس نے عثمان سے عرج تک فاصلہ طے کر ڈالے‘ تاکہ آپ سفارش کریں‘ اے وہ ہستی جو ان سب سے بہتر ہے جنہوں نے کنکریوں پر پاؤں رکھے (روندا)‘ میرا رب مجھے بخش دے اور میں مقصد حاصل کر کے والس جاؤں‘ ایسے گروہ کی طرف‘ اللہ کی رضا کیلئے‘ میں نے جن کے دین کی مخالفت کی ہے‘ ان کی رائے (نظریہ) میری رائے نہیں ہے اور ان کی جماعت‘ میری جماعت نہیں ہے‘ میں ایک ایسا آدمی تھا جو رغبت اور شراب کا پانی (محب) تھا‘ میری جوانی اسی میں غرق تھی یہاں تک کہ جسم (بت) نے سیدھے راستے سے آگاہ کیا‘ شراب کے بدلے مجھے خوف و خشیت ملی‘ زنا کے بدلے پاکدامنی ملی‘ (اے اللہ !) میری شرمگاہ کو پاک رکھنا‘ صبح میرا ارادہ جہاد کر نے کا ہے اور میری نیت پختہ ہے‘ میرے روزے اور میرے حج سب اللہ وحدہ‘ لاشریک کیلئے ہیں‘‘۔ پس جب میں اپنی قوم کے پاس آیا تو انہوں نے ملامت کی اور مجھے گالیاں دیں‘ انہوں نے اپنے شعر کو کہا کہ وہ میری برائی بیان کرے۔ میں نے کہا: اگر میں اس کا جواب دوں تو میری اپنی مذمت ہو گی‘ میں ان سے جدا ہو کر ساحل سمندر پر چلا گیا اور میں نے کہا: ”ہمارے نزدیک تمہارا بغض وعناد‘ شیریں اور میٹھا ہے‘ اے ہماری قوم! تمہاری ناپسندیدگی‘ ہمارے نزدیک تباہ و برباد ہے‘ پس زمانہ مجھے تکلیف نہ دے گا کہ وہ تمہارے عیبوں میں پھنس جائے (اٹک جائے) اور تم میں سے ہر ایک ہمارے عیب بڑی فطانت سے ظاہر کرتا ہے‘ ہمارا شاعر تم سے گونگا اور تمہارا شاعر ہماری جنگ کے بارے میں ہمیں پہنچنے والی تکلیف بیان کرنے میں زبان کھولنے والا ہے‘ جو کچھ دلوں میں ہے اس کا وبال تم پر ہے‘ پس جان لو! وہ کینہ ہے اور جو تمہارے سینوں میں ہے وہ بغض وعناد ہے‘‘۔ پس ان میں سے بڑی جماعت میرے پاس آئے‘ انہوں نے کہا: اے چچا کے بیٹے ! تیری وجہ سے ہم نے ایک آدمی کو عیب دار کیا اور صرف تیری وجہ سے اسے ناپسند کیا۔ پس اگر تو انکاری ہے تو تیرا معاملہ اور تیرا دین ہے۔ اب واپس آ کر ہمارے کام سر انجام دے۔ پس میں ان کے معاملات سنوارنے والا تھا۔ پس میں ان کے ساتھ واپس ہوا‘ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام لانے کی ہدایت دی۔

مَازِنَ بْنَ الْغَضُوبَةِ، ← عبد الله العماني ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمُوصِلِيُّ، ← موسى بن جمهور التنيسي السممسار

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17553

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ مازن بن خيثمة و هبيل السكونيان · حديث 17554

800 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ثنا ابو اليمان الحكم بن نافع ثنا اسماعيل بن عياش عن صفوان بن عمرو عن عمرو بن قيس بن ثور بن مازن Y أن جده مازن بن خيثمة و هبيل بن كعب أحد بني مازن بعثهما معاذ بن جبل يوم نزل بين السكون والسكاسك وقاتل حتى أسلم الناس وافدين الى رسول الله صلى الله عليه و سلم بين السكون والسكاسك

حضرت عمرو بن قیس بن ثور بن مازن فرماتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت مازن بن خیثمہ اور ھبیل بن کعب جو بنی مازن میں سے ایک ہیں‘ دونوں کو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بھیجا‘ جس دن حضرت معاذ‘ سکون اور سکاسک والوں کے درمیان اترے‘ ان سے لڑے یہاں تک کہ لوگ اسلام لائے‘ وفد کی صورت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ پس آپ نے ’’سکون اور سکاسک‘‘ کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔

صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17554

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه معبد معبد الجذامي · حديث 17555

801 - حدثنا محمد بن داود التوزي ثنا الحسن بن حماد البجلي سجادة ثنا يحيى بن سعيد الاموي عن محمد بن اسحاق عن حميد بن مازن عن نعجة بن زيد الجذامي عن أبيه قال Y وفد رفاعة بن زيد الجذامي على رسول الله صلى الله عليه و سلم فكتب له كتابا فيه : بسم الله الرحمن الرحيم هذا كتاب من محمد رسول الله لرفاعة بن زيد أني بعثته الى قومه عامة ومن دخل فيهم يدعوهم الى الله والى رسوله فمن آمن ففي حزب الله وفي حزب رسوله صلى الله عليه و سلم ومن أدبر فله أمان شهرين فلما قدم على قومه أجابوه ثم سار حتى نزل الحرة حرة الرجلاء ثم لم يلبث أن أقبل دحية الكلبي من عند قريظة حين بعثه رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى اذا كان بواد من أوديتهم يقال له شنان ومعه تجارة له أغار عليه الهنيد بن عويص و أبوه العويص الضبعي بطن من جذام وأصابوا كل شيء معه ثم ان نفرا من قوم رفاعة نفروا اليه فأقبل اليه فيمن أقبل النعمان بن أبي جعال حتى لقوهم فاقتتلوا ورمى قرة بن أشقر الضلعي النعمان بن أبي جعال بحجر فأصاب كعبه ودماه وقال : أنا ابن أثالة ثم رماه النعمان بن أبي جعال بسهم فأصاب ركبته وقال : أنا ابن أقالة وقد كان حسان بن ملة الضبي صحب معه دحية الكلبي قبل ذلك فعلمه أم الكتاب واستنقذوا ما في أيديهم فردوه على دحية ثم ان دحية قدم على النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره خبرهم واستسقاه دم الهنيد و أبيه عويص وذلك الذي هاج زيد و جذام فبعث رسول الله صلى الله عليه و سلم زيد بن حارثة وبعث معه جيشا وقد توجهت غطفان وجذام ووائل ومن كان من سلمان وسعد بن هديل حين جاءهم رفاعة بكتاب النبي صلى الله عليه و سلم فنزل الحرة حرة الرجلاء ورفاعة بكراع الغميم ومعه فارس من بني الضبيب وسائر بني الضبيب بوادى مدارق من ناحية الحرة

حضرت زید جذامی فرماتے ہیں کہ رفاعہ بن زید وفد لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کیلئے ایک خط لکھا‘ جس میں تھا: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ! یہ خط‘ اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے حضرت رفاعہ بن زید کیلئے ہے‘ میں اسے اس کی ساری قوم کی طرف بھیج رہا ہوں اور جو ان کی قوم میں داخل ہے‘ پس جو ایمان لایا وہ اللہ کے گروہ اور اس کے رسول کے گروہ میں شمار ہو گا‘ جس نے پیٹھ پھیری تو اسے دو ماہ کی امان ہے۔ پس جب وہ اپنی قوم میں آئے تو ان کی قوم نے ان کے پیغام کو قبول کیا‘ پھر چل کر حرہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ حرہ سے مراد حرۂ رجلاء ہے۔ پھر زیادہ دیر نہیں ٹھہرے تھے کہ بنو قریظہ کی طرف سے حضرت دحیہ کلبی تشریف لائیے‘ جب انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیجا‘ یہاں تک کہ جب وہ ان کی وادیوں میں سے ایک وادی میں تھے جس کا نام شنان تھا‘ ان کے پاس سامان تجارت تھا تو ھنید بن عويص اور اس کے باپ عویص ضبعی نے ان پر حملہ کر دیا۔ یہ بنو جذام قبیلہ کی ایک شاخ ہے۔ اور جو کچھ ان کے پاس تھا‘ وہ سب کچھ لے لیا۔ پھر رفاعہ کی قوم سے ایک گروہ چل کر ان کے پاس آیا تو وہ ان کی طرف ان لوگوں کے ساتھ مل کر متوجہ ہوئے جن میں نعمان بن ابو جعال متوجہ ہوئے‘ حتٰی کہ وہ ان سے ملے‘ ان سے لڑائی کی۔ قرہ بن اشعر ضلعی نے حضرت نعمان بن ابو جعال کو پتھر مارا جو ان کے ٹخنے پر لگا جس سے خون کا فوارہ نکلا‘ اور کہا: میں ابن اثالہ ہوں۔ پھر حضرت نعمان بن ابو جعال نے اسے تیر پھینکا‘ وہ اس کے گھٹنے پر لگا اور فرمایا: میں ابن اقالہ ہوں۔ حضرت حسان بن ملہ ضبی اس سے پہلے حضرت دحیہ کلبی کی سنگت اختیار کر چکے تھے‘ پس انہوں نے اسے اُم الکتاب (سورۂ فاتحہ) سکھائی‘ جو کچھ ان کے قبضے میں تھا وہ پیش کیا۔ پس انہوں نے وہ حضرت دحیہ کلبی کو لوٹا دیا۔ پھر حضرت دحیہ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ان کی ساری بات عرض کی۔ آپ نے ھنید اور اس کے باپ عویص کے خون کا مطالبہ کیا‘ اس کی وجہ بھی کہ حضرت زید اور حضرت جذام جوش میں تھے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ کو بھیجا اور ان کے ساتھ ایک لشکر روانہ کیا۔ غطفان جذام اور وائل متوجہ ہو چکے تھے اور وہ لوگ جن کا تعلق بنو سلمان سے تھا‘ حضرت سعد بن ہذیل بھی۔ جب حضرت رفاعہ ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط لے کر آئے اور حرہ یعنی حرۂ رجلاء کے مقام پر اترے۔ رفاعہ‘ کراع الغمیم پر اترے اور ان کے ساتھ بنو ضبیب کے لوگ تھے‘ وہ حرہ کے ایک کنارے ”وادی مدارق“ میں اترے۔

أَبِيهِ ← نَعْجَةَ بْنِ زَيْدٍ الْجُذَامِيِّ ← حُمَيْدِ بْنِ مَازِنٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْبَجَلِيُّ سَجَّادَةٌ ← محمد بن داود التوزي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17555

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ معبد بن هوذة الانصاري · حديث 17556

802 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا علي بن ثابت عن عبد الرحمن بن النعمان بن معبد بن هوذة الانصاري عن أبيه عن جده Y رفعه الى النبي صلى الله عليه و سلم أمر بالاثمد المسروح عند النوم وقال : ليتقه الصائم

حضرت معبد بن ھوزه انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوتے وقت اثمد سرمہ لگانے کا حکم دیا اور فرمایا: روزہ دار اس سے بچے۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17556

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ معبد القرشي · حديث 17557

803 - حدثنا سحاق بن ابراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن اسرائيل عن سماك بن حرب عن معبد القرشي قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم بقديد فأتاه رجل فقال له النبي صلى الله عليه و سلم Y أطعمت اليوم شيئا ليوم عاشوراء ؟ فقال : لا الا أني شربت ماء قال : فلا تطعم شيئا حتى تغرب الشمس واءمرن من وراءك أن يصوموا هذا اليوم

حضرت معبد القرشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام قدید پر تھے کہ آپ کی بارگاہ میں ایک آدمی آیا‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: آج عاشوراء کے دن تم نے کی کھلایا ہے؟ اس نے عرض کی: کچھ نہیں کھایا ہے‘ ہاں صرف میں نے پانی پیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج کے غروب ہونے تک تم کچھ نہ کھانا اور اپنے بعد والوں کو اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دو۔

لَا، إِلَّا أَنِّي شَرِبْتُ مَاءً ← له النبي صلى الله عليه و سلم أطعمت اليوم شيئا ليوم عاشوراء ← كان النبي صلى الله عليه و سلم بقديد فأتاه رجل ← مَعْبَدٍ الْقُرَشِيِّ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← سحاق بن ابراهيم الدبري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17557

chevron_left Previous
1…636465…89
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter