المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ مسعود بن الأسود العدوي · حديث 17546
792 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أحمد بن خالد الوهبي ثنا محمد بن اسحاق عن محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة عن أمه عائشة بنت مسعود بن الأسود عن أبيها قال Y لما سرقت المرأة القطيفة سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم أعظمنا ذلك وكانت من قريش فجئنا الى النبي صلى الله عليه و سلم فكلمناه فقلنا يا رسول الله نفديها بأربعين أوقية فقال النبي صلى الله عليه و سلم : تطهر خير لها فلما سمعناها لين قول رسول الله صلى الله عليه و سلم انطلقنا الى أسامة بن زيد وكلمناه فقلنا اشفع لنا الى رسول الله صلى الله عليه و سلم في شأن هذه المرأة ونفديها بأربعين أوقية فلما رأى ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم قام فينا خطيبا فقال : يا أيها الناس ما اكثاركم في حد من حدود الله وقع على أمة من اماء الله فو الذي نفسي بيده لو أن فاطمة بنت محمد قرفت بما نزلت به هذه لقطعت يدها فيئس الناس فقطع يدها
حضرت مسعود بن اسود فرماتے ہیں کہ جب عورت نے قطیفہ (کمبل یا جھالر والی چادر) چوری کی تو میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہم نے اسے عظیم کہا‘ اس کا تعلق قریش سے تھا‘ پس ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کلام کی‘ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم چالیس اوقیہ چاندی فدیہ دیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پاک کیا جائے گا جو اس کیلئے بہتر ہے‘ پس جب ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نرمی والا قول سنا تو ہم حضرت اسامہ بن زید کے پاس گئے‘ ہم نے ان سے بات کی اور کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اس عورت کے حوالے سے ہماری سفارش کرو‘ ہم چالیس اوقیہ چاندی بطور فدیہ پیش کریں گے‘ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ نے ہم میں کھڑے ہو کر خطبہ دیا‘ فرمایا: اے لوگو! اللہ کی حدوں میں سے ایک حد میں تمہارا کیا اصرار ہے‘ جو اللہ کی بندیوں میں سے ایک بندی پر واقع ہوئی ہے؟ قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر حضرت فاطمہ بنت محمد بھی چوری کی مرتکب ہوتی (بفرض محال) تو اس کے بدلے جو اس پر نازل ہوئی ہے تو میں اس کا بھی ضرور ہاتھ کاٹتا۔ پس یہ بات سن کر لوگ مایوس ہو گئے تو اس عورت کا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کٹوا دیا۔
لَمَّا سَرَقَتِ الْمَرْأَةُ الْقَطِيفَةَ ← أَبِيهَا ← أُمِّهِ عَائِشَةَ بِنْتِ مَسْعُودِ بْنِ الأَسْوَدِ ← محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17546
