المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه محجن محجن أبو بسر الديلي · حديث 17450
696 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن زيد بن أسلم عن بشر بن محجن الديلي عن أبيه قال Y أتيت النبي صلى الله عليه و سلم وقد صليت في أهلي فأقيمت الصلاة فجلست فلما صلى قال : ألست مسلما ؟ قلت : نعم قال : ما منعك أن تصلي مع الناس قال : كنت صليت في أهلي قال : فصل مع الناس وان كنت قد صليت في أهلك كذا رواه سفيان عن زيد بن أسلم عن بشر بن محجن ووهم فيه انما هو بسر بن محجن هكذا رواه مالك وأصحاب زيد بن أسلم
حضرت بسر بن محجن الدیلی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ میں گھر میں نماز پڑھ چکا تھا‘ جب نماز کے لیے اقامت ہوئی تو میں بیٹھ گیا‘ جب نماز پڑھی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ میں نے عرض کی: میں مسلمان ہوں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کیا رکاوٹ تھی؟ میں نے عرض کی : میں گھر میں نماز پڑھ چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک ہو جاؤ اگرچہ تم گھر میں نماز پڑھ چکے ہو۔ سفیان نے زید بن اسلم سے‘ وہ بشر بن محجن سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔امام مالک اور آپ کے اصحاب زید بن اسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
أَبِيهِ ← بِشْرِ بْنِ مِحْجَنٍ الدِّيلِيِّ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17450
