المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه مطلب مطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب بن هشام بن عبد مناف ويقال عبد المطلب والصواب المطلب ومات بدمشق وكان يسكن بها فتوفي سنة احدى وستين · حديث 17426
672 - حدثنا ابراهيم بن سويد الشبامي ثنا عبد الرزاق أنا الثوري عن يزيد بن أبي زياد عن عبد الله بن الحارث عن المطلب بن أبي وداعة ( ح ) وحدثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي ثنا أبي علي بن عاصم عن يزيد بن أبي زياد [ عن عبد الله بن الحارث ] عن المطلب بن ربيعة قال Y كنت عند النبي صلى الله عليه و سلم فدخل العباس بن عبد المطلب وهو مغضب فقال : يا رسول الله ما لنا ولقريش اذا تلاقوا بينهم تلاقوا بوجوه مبشرة واذا لقونا لقونا بغير ذلك ؟ قال : فغضب النبي صلى الله عليه و سلم حتى احمروجهه قال : لا يدخل قلب رجل الايمان حتى يحبكم لله ورسوله عم الرجل صنو أبيه
حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھا‘ حضرت عباس بن عبدالمطلب غصے کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے۔عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہمارے لیے اور قریش کیلئے کیا ہے؟ جب وہ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں‘ تو خوشی والے چہرے کے ساتھ ملتے ہیں اور جب ہم سے (مجھ سے یا میرے بیٹوں سے) ملتے ہیں تو اس طرح نہیں ملتے۔ راوی کا بیان ہے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے ہوئے حتٰی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ فرمایا: کسی آدمی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو گا یہاں تک کہ وہ تم سے (اے عباس!) اللہ اور اس کے رسول کی رضا کیلئے محبت نہ کرے‘ آدمی کا چچا‘ اس کے باپ کی مثل ہوتا ہے۔
المطلب بن ربيعة ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← أبي علي بن عاصم ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ الشِّبَامِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17426
