المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ خالد بن معدان عن المقدام · حديث 17390
636 - حدثنا ابراهيم بن محمد بن عرق الحمصي ثنا محمد بن مصفى ثنا بقية عن بحير بن سعد عن خالد بن معدان قال : وفد المقدام بن معدي كرب و عمرو بن الأسود رجل من الأسد من أهل قنسرين من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم الى معاوية رحمه الله فقال معاوية للمقدام Y أما علمت أن الحسن بن علي توفي ؟ قال : فاسترجع المقدام فقال له معاوية : أتراها مصيبة ؟ قال : ولم لا أراها مصيبة وقد وضعه رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجره فقال : هذا مني و حسين من علي فقال للاسدي ما تقول أنت ؟ فقال : جمرة أطفأها الله فقال المقدام : أما أنا فلا أبرح حتى أغيظك اليوم واسمعك ما تكره ثم قال : ان أنا صدقت فصدقني وان أنا كذبت فكذبني فقال : افعل فقال : أنشدك الله هل سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى عن لبس الذهب ؟ قال : نعم [ قال ] : وأنشدك بالله هل تعلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن جلود السباع والركوع عليها ؟ قال : نعم قال : فوالله لقد رأيت هذا كله في بيتك يا معاوية : قد عرفت أني لن أنجو منه اليوم يا مقدام قال خالد : وأمر له معاوية بمال ولم يأمر لصاحبه وفرض لابنه قال : ففرقها المقدام على أصحابه ولم يعط الأسدي شيئا مما أخذ فبلغ ذلك معاوية فقال : أما المقدام فرجل كريم بسيط يديه وأما الأسدي فرجل حسن الامساك لنفسه
حضرت خالد بن معدان فرماتے ہیں کہ حضرت مقدام بن معدی کرب اور حضرت عمرو بن اسود‘ قنسرین والوں میں سے ایک آدمی تھے جن کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ سے تھا‘ وفد لے کر حضرت معاویہ کے پاس آئے‘ حضرت معاویہ نے حضرت مقدام کیلئے فرمایا: بہرحال کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضرت حسین بن علی فوت ہو گئے؟ راوی کا کہنا ہے کہ حضرت مقدام نے اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھا‘ تو حضرت معاویہ نے ان سے کہا: کیا آپ اسے مصیبت خیال کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں اسے مصیبت خیال کیوں نہ کروں! جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنی جھولی میں بٹھایا اور فرمایا: یہ مجھ سے ہیں اور حضرت حسین‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہیں۔ انہوں نے بنو اسد قبیلے سے تعلق رکھنے والے آدمی سے کہا: آپ کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا: ایک انگارہ تھا جس کو اللہ نے بجھا دیا۔ پس حضرت مقدام نے کہا: میں تو آج کا دن یہیں رہوں گا اور آج پورا دن مجھے غصہ دلاؤں گا اور تجھے سناؤں گا‘ ایسی باتیں جو تجھے ناپسند ہوں گی۔ پھر فرمایا: اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کرنا اور اگر جھوٹ کہوں تو مجھے جھٹلا دینا‘ فرمایا: میں ایسا کروں گا‘ فرمایا: میں تجھے اللہ کا واسطہ دیتا ہوں‘ کیا تو نے اللہ کے رسول کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونا پہننے سے منع کیا؟ کہا: ہاں! فرمایا: میں تجھے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تو جانتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا؟ کہا: ہاں! فرمایا: میں تجھے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تو جانتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں کے چمڑے اور ان پر سوار ہونے سے منع فرمایا ؟ کہا: ہاں ! فرمایا: بخدا! تحقیق میں بے بچشم خود تیرے گھر میں یہ سب کچھ دیکھا ہے‘ اے معاویہ! پس حضرت معاویہ نے فرمایا: مجھے پتہ چل گیا ہے کہ آج کے دن میں ان باتوں سے چھٹکارا نہیں پا سکتا ہوں‘ اے مقدام ! راوی حدیث حضرت خالد کہتے ہیں : حضرت معاویہ نے ان کیلئے مال ہدیہ کرنے کا حکم دیا لیکن ان کے ساتھی کیلئے نہیں دیا اور ان کے بیٹے کیلئے وظیفہ مقرر کیا۔ راوی کا بیان ہے: پس حضرت مقدام نے اسے اپنے دوستوں پر تقسیم کر دیا لیکن اسدی کو اس میں سے کچھ نہ دیا جو آپ نے لیا۔ پس جب یہ بات حضرت معاویہ کو معلوم ہوئی تو فرمایا: بہرحال حضرت مقدام تو سخی اور کھلے ہاتھ والے آدمی ہیں لیکن اسدی تو وہ آدمی ہے جو بڑے اچھے طریقے سے مال اپنے لیے روک کے رکھتا ہے۔
خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17390
