المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ ضباعة بنت الزبير بن عبد المطلب امرأة المقداد عن المقداد · حديث 17366
612 - حدثنا ابراهيم بن دحيم الدمشقي ثنا أبي ثنا ابن أبي فديك حدثني موسى بن يعقوب الزمعي عن عمته قريبة بنت عبد الله عن أمها كريمة بنت المقداد عن ضباعة بنت الزبير أنها أخبرته قالت Y ذهب المقداد لحاجته فدخل خربة فاذا الجرذ يخرج دينارا دينارا حتى أخرج سبعة عشر دينارا ثم أخرج طرف خرقة خضراء قال المقداد : فقمت فمددت طرف الخرقة فوجدت فيها دينارا فكانت ثمانية عشر دينارا فذهب بها المقداد واستأذن على النبي صلى الله عليه و سلم فلما دخل على النبي صلى الله عليه و سلم أخبره خبرها وقال : خذ صدقتها يا رسول الله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : هل أهويت بيدك الى الجحر ؟ قال المقداد : لا والذي بعثك بالحق فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد ذلك للمقداد : بارك الله لك فيها
حضرت ضباعہ بنت زبیر فرماتی ہیں کہ حضرت مقداد قضائے حاجت کیلئے گئے‘ وہ ایک کھنڈر میں داخل ہوئے‘ اچانک ایک بڑا چوہا بل سے ایک ایک دینار نکالنے لگا حتٰی کہ اس نے سترہ دینار نکالے پھر اس (چوہے) نے سبر کپڑے کا کنارہ (ٹکڑا) نکالا۔ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اٹھ کر کپڑے کے کنارے (کو پکڑ کر) کھینچا تو اس میں ایک دینار پایا‘ وہ اٹھارہ دینار بن گئے۔ پس حضرت مقداد ان کو لے کر چلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حاضری کی اجازت مانگی‘ پس جب اجازت ملنے پر اندر داخل ہوئے تو اس بات کی خبر دیا ور عرض کی: اے اللہ کے رسول ! اس کی زکوٰۃ وصول فرمالیں! پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اپنا ہاتھ بل کی طرف کیا؟ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے عرض کی نہیں! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے‘ اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت مقداد کو فرمایا: (ان میں زکوٰۃ نہیں ہے) اللہ آپ کو ان میں برکت دے۔
ضباعة بنت الزبير ← أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ، ← عمته قريبة بنت عبد الله ← مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمِ الدِّمَشْقِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17366
