المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ جبير بن نفير عن المقداد بن الأسود · حديث 17354
600 - حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح ثنا نعيم بن حماد ( ح ) وحدثنا الحسين بن اسحاق التستري ثنا يحيى الحماني قالا ثنا ابن المبارك عن صفوان بن عمرو حدثني عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه قال Y جلسنا الى المقداد بن الاسود يوما فمر به رجل واستمعت فقال : طوبى لهاتين العينين التين رأتا رسول الله صلى الله عليه و سلم والله لوددت أن رأينا ما رأيت وشهدنا ما شهدت فأقبل اليه فقال : ما يحمل الرجل أن يتمنى محضرا غيبه الله عنه لا يدري لو شهده كيف يكون فيه والله لقد حضر رسول الله صلى الله عليه و سلم أقوام كبهم الله على مناخرهم في جهنم لم يجيبوه ولم يصدقوه ألا يحرم الله أحدكم ألا تعرفون الآء ربكم مصدقين لما جاء به نبيكم صلى الله عليه و سلم قد كفيتم البلاء لغيركم والله لقد بعث النبي صلى الله عليه و سلم على أشد حال بعث نبي من الأنبياء في فترة وجاهلية ما يرون أن دينا أفض من عبادة الاوثان فجاء بفرقان فرق بين الحق والباطل وفرق بين الوالد وولده حتى ان كان الرجل يرى والده أو ولده وأخاه كافرا قد فتح الله له قفل قلبه بالايمان ليعلم انه قد هلك من دخل النار فلا تسرعينه وهو يعلم أن حميمه في النار وأنها التي قال الله عز و جل { ربنا هب لنا من أزواجنا وذرياتنا قرة أعين }
حضرت جبیر بن نفیل فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے‘ پس ان کے پاس سے ایک آدمی گزر‘ میں نے غور سے سنا‘ اس نے کہا: ان دو آنکھوں کو مبارک ہو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئیں‘ قسم بخدا! میں نے خواہش کی کہ ہم نے دیکھا ہوتا جو آپ نے دیکھا اور ہم حاضر ہوئے ہوتے جہاں آپ حاضر ہوئے۔ پس وہ میری طرف متوجہ ہوئے‘ فرمایا: اس آدمی کو کس چیز نے اس بات پر ابھارا کہ وہ ایسی جگہ حاضر ہونے کی تمنا کرے جس کو اللہ نے اس سے غائب رکھا جبکہ وہ نہیں جانتا کہ اگر وہ وہاں حاضر ہوتا تو اس کا کیا حال ہوتا؟ قسم بخدا! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کئی ایسی قومیں حاضر ہوئیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اوندھے منہ جہنم رسید فر ما دیا نہ تو انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت قبول کرنا نصیب ہوا نہ آپ کی تصدیق کر سکے۔ خبردار! اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کومحروم کرے؟ کیا تم اپنے رب کی نعمتوں کو پہچانتے ہو اس حال میں کہ تم تصدیق کرنے والے ہو‘ ہر اس بات کی جو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے‘ تحقیق تمہارے غیر کی آزمائش نے تمہیں کفایت کیا‘ بخدا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان تمام حالتوں سے سخت حالت میں مبعوث کیا گیا جس میں نبیوں میں سے کسی نبی کو بھیجا گیا زمانہ فترت و جاہلیت کی حالت میں‘ ایسی حالت جس میں لوگ بتوں کی عبادت کو سب سے افضل دین خیال کرتے تھے‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی کتاب لائے جس نے خوب فرق کیا‘ اور والد اور بیٹے کے درمیان جدائی ڈالی حتٰی کہ اگر کوئی آدمی اپنے والد‘ بیٹے یا بھائی کو کافر دیکھتا‘ ایسا آدمی جس کے دل کا تالا اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ کھول دیا تاکہ وہ جانے کہ ہلاکت‘ اس کا مقدر ہے جو دوزخ میں داخل ہوا‘ پس اس کی آنکھ کو خوش نہیں کیا جاتا اس حال میں کہ وہ جانتا ہے کہ اس جگری آگ میں ہے اور بے شک یہی ہے جو اللہ نے فرمایا: ”اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بیویوں اور ذریت سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما‘‘۔
جلسنا الى المقداد بن الاسود يوما فمر به رجل واستمعت ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← يحيى الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17354
